الف: حق کس کے ساتھ ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
ولايت کي واضح سند، حديث غدير
ب : پيمان برا دريتين پر معني حديثيں

  حق کس کے ساتھ ہے؟

زوجات پيغمبراسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)، حضرت ام سلميٰ اور حضرت عائشہ کہتي ہيں کہ ہم نے پيغمبر اسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمايا: ”علي مع الحق و الحق مع علي يفترقا حتي يردا علي الحوض “
علي حق کے ساتھ ہيں اور حق علي (علیه السلام ) کے ساتھ ہے ،اور يہ ہرگز ايک دوسرے سے جدا نہيں ہوسکتے جب تک کہ حوض کوثر پر ميرے پاس نہ پہونچ جائيں ۔
يہ حديث اہل سنت کي بہت سي مشہور کتابوں ميں موجود ہے ۔ علامہ اميني نے ان کتابوں کا ذکر ا لغدير کي تيسري جلد ميں کيا ہے [1]
اہل سنت کے مشہور مفسر قران، فخر رازي نے تفسير کبير ميں سورہ حمد کي تفسير کے تحت لکھا ہے کہ ” حضرت علي (عليہ السلام) بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھتے تھے ۔اور يہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ جو دين ميں علي (عليہ السلام) کي اقتدا کرتا ہے وہ ہدايت يافتہ ہے ۔ اور اس کي دليل پيغمبر (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کي يہ حديث ہے کہ آپ نے فرمايا:
” اللہم ادرلحق مع علي حيث دار“ اے اللہ حق کو ادھر موڑ دے جدھر علي مڑے [2] قابل توجہ ہے يہ حديث جو يہ کہہ رہي ہے کہ علي (عليہ السلام) کي ذات حق کا مرکز ہے ۔

[27] اس حديث کو محمد بن ابي بکر ، ابوذر و ابوسعيد خدري و ديگر حضرات نے پيغمبر سے نقل کيا ہے (الغدير جب ۳ ).
[28] تفسير کبير ج/ ۱ ص/ ۲۰۵.
ب : پيمان برا دريتين پر معني حديثيں
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma