پانچويں دليل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
ولايت کي واضح سند، حديث غدير
چھٹي دليلچوتھي دليل

پانچويں دليل :

پيغمبر اسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )نے اپنے خطبے کے شروع ميں، اپني رحلت کے بارے ميں فرمايا کہ :” اني اوشک ان ادعيٰ فاجيب“يعني قريب ہے کہ ميں دعوت حق پر لبيک کہوں [23] يہ جملہ اس بات کا عکاس ہے کہ پيغمبر اپنے بعد کے لئے کوئي انتظام کرنا چاہتے ہيں، تاکہ رحلت کے بعد پيدا ہونے والا خلا پر ہو سکے، اور جس سے يہ خلا پر ہو سکتا ہے وہ ايسے لائق وعالم جانشين کا تعين ہے جو رسول اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کي رحلت کے بعدتمام امور کي باگڈور اپنے ہاتھوں ميں سنبھال لے ۔اس کے علاوہ کوئي دوسر ي صورت نظر نہيں آتي ۔
جب بھي ہم ولايت کي تفسير خلافت کے علاوہ کسي دوسري چيز سے کريں گے تو پيغمبر اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کے جملوں ميں پايا جانے والا منطقي ربط ختم جائے گا، جبکہ وہ سب سے زيادہ فصيح و بليغ کلام کرنے والے ہيں ۔ مسئلہ ولايت کے لئے اس سے زيادہ روشن اور کيا ہو قرينہ ہو سکتا ہے ۔

[1] الغدير ج/ ۱ ،ص/ ۲۶ ، ۲۷ ، ۳۰ ، ۳۲ ، ۳۳۳،۳۴ ، ۳۶،۴۷ اور ۲۷۶ پر اس مطلب کو اہل سنت کي کتابوں سے نقل کيا ہے جيسے صحيح ترمذي ج/ ۲ ص/ ۲۹۸ ، الفصول المہمہ ابن صباغ ص/ ۲۵ ،المناقب الثلاثہ حافظ ابن فتوح / ۱۹ ،البدايہ والنہايہ ابن کثير ج/ ۵ ص/ ۲۰۹ و ج/ ۷ ص/ ۳۴۸ ،الصواعق المحرقہ ص/ ۲۵ ،مجمع الزوائد ہيتمي ج/ ۹ ص/ ۱۶۵.
چھٹي دليلچوتھي دليل
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma