غدير خم کا منظر

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
ولايت کي واضح سند، حديث غدير
غدير خم ميں پيغمبر کا خطبہحديث غدير

غدير خم کا منظر :

۱۰ ھجري کے آخري ماہ (ذي الحجہ) ميں حجة الوداع کے مراسم تمام ہوئے اور مسلمانوں نے رسول اکرم سے حج کے اعمال سيکھے ۔ حج کے بعد رسول اکرم نے مدينہ جانے کي غرض سے مکہ کوچھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ،قافلہ کوکوچ کا حکم ديا ۔جب يہ قافلہ جحفہ( ۱) سے تين ميل کے فاصلے پر رابغ [2] نامي سرزمين پر پہونچا تو غدير خم کے نقطہ پر جبرئيل امين وحي لے کر نازل ہوئے اور رسول اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم )کو اس آيت کے ذريعہ خطاب کيا <يا ايہا الرسول بلغ ماانزل اليک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ يعصمک من الناس [3] اے رسول! اس پيغام کو پہونچا ديجئے جو آپ کے پروردگار کي طرف سے آپ پر نازل ہو چکا ہے اور اگر آپ نے ايسا نہ کيا توگويا رسالت کا کوئي کام انجام نہيں ديا؛ اللہ آپ کو لوگوں کے شرسے محفوظ رکھے گا ۔
آيت کے اندازسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے کوئی ايسا عظيم کام رسول اکرم (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ) کے سپرد کيا ہے ،جو پوري رسالت کے ابلاغ کے برابر ہے اور دشمنوں کي مايوسي کا سبب بھي ہے ۔اس سے بڑھ کر عظيم کام اور کيا ہوسکتا ہے کہ ايک لاکھ سے زيادہ افراد کے سامنے حضرت علي (عليہ السلام) کو خلافت و وصيات و جانشيني کے منصب پر معين کريں؟
لہٰذا قافلہ کو رکنے کا حکم ديا گيا ،جولوگ آگے نکل گئے تھے وہ پيچھے کي طرف پلٹے اور جو پيچھے رہ گئے تھے وہ آکر قافلہ سے مل گئے ۔ ظہر کا وقت تھا اورگرمي اپنے شباب پرتھي؛ حالت يہ تھي کہ کچھ لوگ اپني عبا کا ايک حصہ سر پر اور دوسرا حصہ پيروں کے نيچے دبائے ہوئے تھے ۔ پيغمبر کے لئے ايک درخت پر چادر ڈال کر سائبان تيار کيا گيا اور آپ (صلی الله علیه و آله وسلم) نے اونٹوں کے کجاوں سے بنے ہوئے منبر کي بلندي پر کھڑے ہو کر، بلند و رسا آواز ميں ايک خطبہ ارشاد فرمايا جس کا خلاصہ يہ ہے ۔

[1] يہ جگہ احرام کے ميقات کي ہے اور ماضي ميں يہاں سے عراق،مصر اور مدينہ کے راستے جدا ہو جاتے تھے ۔
[2] رابغ اب بھي مکہ اور مدينہ کے بيچ ميں واقع ہے ۔
[3] سورہ مائدہ آيہ/ ۶۷.
غدير خم ميں پيغمبر کا خطبہحديث غدير
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma