حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (چوتھی فصل)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (چوتھی فصل)

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: : اس گروہ کی تعلیمات میں جو باتیں بیان ہوتی ہیں وہ ایسی ناموزوں عبارتیں ہیں جن کی کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے اور فقط خیال پردازی ہے ،یہ قرآن مجید کی آیات سے واضح طور پر مخالف ہیں ۔
کلمات کلیدی:

معاد شناسی میں واضح غلطیاں

١ ۔  عقیدہ تناسخ کی طرف مائل ہونا

علمی لحاظ سے تناسخ کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اس بات کا قائل ہوجائے کہ جس وقت انسان مرجاتا ہے تو اس کی روح دوبارہ کسی بچہ کے جسم میں چلی جاتی ہے اور اس طرح وہ کئی طرح کی زندگی بسر کرتا ہے ۔

یہ عقیدہ ایک طرف تو معاد کے انکار کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ انسان اپنے پہلے اعمال کا نتیجہ نئی زندگی میں دیکھ سکتا ہے اور دوسری طرف یہ قرآن مجید کی آیات کے برخلاف ہے ۔

قرآن مجید نے سورہ بقرہ کی ٢٨ ویں آیت میں واضح طور پر کہا ہے : ''کَیْفَ تَکْفُرُونَ بِاللَّہِ وَ کُنْتُمْ أَمْواتاً فَأَحْیاکُمْ ثُمَّ یُمیتُکُمْ ثُمَّ یُحْییکُمْ ثُمَّ ِلَیْہِ تُرْجَعُونَ''( آخر تم لوگ کس طرح کفر اختیار کرتے ہو جب کہ تم بے جان تھے اور خدا نے تمہیں زندگی دی ہے اور پھرموت بھی دے گا اور پھر زندہ بھی کرے گا اور پھر اس کی بارگاہ میں پلٹا کر لے جائے جاؤگے) ۔ اس آیت میں بہت ہی وضاحت کے ساتھ انسان کے لئے دو موت اور زندگی کو ذکر کیا گیا ہے ،اس سے پہلے خاک تھے ، پھر خلق ہوئے اور دوبارہ پھرخاک بن جائیں گے اور پھر قیامت میں زندہ کئے جائیں گے ۔

سورہ غافر کی ١١ ویں آیت میں ذکر ہوا ہے کہ انسان کو صرف دو موت اور دو زندگی دی گئی ہیں ، اس دنیا میں آنے سے پہلے مردہ تھا ، پھر زندہ ہوا اور پھر دوبارہ مر جائے گا اور قیامت میں زندہ ہوجائے گا ''رَبَّنا أَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ أَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ'' (وہ لوگ کہیں گے پروردگار تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندگی عطا کی) ۔

اس بناء پر اس دنیا میں مکرر زندگی کا اعتقاد رکھنا قرآن کریم کی تعلیمات کے برخلاف ہے جبکہ عرفان حلقہ کے ٹھیکیدار وں نے کتاب انسان و معرفت میں انسانوں کی پہلی زندگی کو قبول کرلیا ہے اور کہا ہے :

حقیقت میں انسان اس دنیا میں زمان ومکان کے ساتھ متولد ہوتا ہے اور اپنے مخصوص کمالات کو پہلی زندگی سے اس زندگی میں لاتا ہے (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٦٧) ۔

اس تعبیر کو دوسری جگہ پر اس طرح بیان کیا ہے :

انسان پہلے دوسری دنیا میں زندگی بسر کرتا تھا اور اس میں اس کے پاس کچھ کمالات تھے اوراب وہ ان کو اس دنیا میں لے کر آیا ہے ۔

یہ وہی بات ہے جس کو عقیدہ تناسخ کے ماننے والے بیان کرتے ہیں ۔

٢ ۔  جسمانی معاد کا انکار

قرآن مجید بہت ہی صراحت کے ساتھ متعدد آیات میں فرماتا ہے : انسان کی روح کے علاوہ اس کا جسم بھی قیامت میں واپس پلٹے گا اور اسی کو جسمانی معاد کے عنوان سے تعبیر کرتے ہیں ،اس کی واضح آیات سورہ یس کی آخری آیتیں ہیں ،خداوند عالم فرماتا ہے : ''وَ ضَرَبَ لَنا مَثَلاً وَ نَسِیَ خَلْقَہُ قالَ مَنْ یُحْیِ الْعِظامَ وَ ہِیَ رَمیم ، قُلْ یُحْییہَا الَّذی أَنْشَأَہا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلیم'' ۔( اور ہمارے لئے مثل بیان کرتا ہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے ، آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی زندہ بھی کرے گا اور وہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ہے ) ۔

اس کے علاوہ قرآن مجید میں بہت سی آیات موجود ہیں جو اسی معاد کو بیان کرتی ہیں اور وہ جسم و روح دونوں کا پلٹنا ہے ،جبکہ کتاب انسان و معرفت کا مولف (صفحہ ٢٩٢ پر) صریح طور پر جسمانی معاد کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے :

اس بات کی توقع نہیں رکھنا چاہئے کہ قیامت میں اوراس کے بعد کے مراحل طے کرنے کے بعد جسم فیزیکی اور اس سے مشابہ جسم موجود ہوگا ۔

لیکن ایک آشکار تناقض میں ٢٩٣ صفحہ پر لکھتا ہے :

دوسری طرف جنگ و مجادلہ اور موازی دنیائوں سے روبرو ہوتے وقت لوگ اپنے زمانہ پر تسلط حاصل کرنے کے ذریعہ مختلف مقامات میں چلے جاتے ہیں منجملہ ان دنیائوں میں جن میں زمان و مکان ہوتا ہے اور ان میں فیزیکی جسم بھی ہوتا ہے ۔لہذا اس نظریہ کی بنیاد پر بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاد میں فیزیکی جسم موجود ہوگا !

٣ ۔  ایک آشکار تحریف میں جہنم

قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم کے غصہ اورناراضگی کی جگہ جہنم ہے ،وہ اسی کتاب انسان و معرفت کے صفحہ ٢٩٤ پر لکھتا ہے :

جہنم دشمنی اور کینہ توزی کی جگہ نہیں ہے اور اس کو تشکیل دینے کی بنیاد ''عشق و محبت'' ہے ۔

اور صفحہ ٢٩٦ پر کہتا ہے :

جہنم کی آگ حسرت ہے جو احساس تنہائی کے ساتھ مل جائے گی ، یہ احساس تنہائی ، نفس واحد کی اتحاد سے دور ہونے کی وجہ سے ہے اور جہنم سے خارج ہونے تک ایسا ہی رہے گا ۔

 ٤ ۔  اہل بہشت کی خلاقیت اور خدائی کرنا

قرآن مجید ''اعدت للمتقین'' کی تعبیر کے ساتھ کہتا ہے کہ بہشت ،پرہیزگاروں کے لئے بنائی گئی ہے اور وہ بہشت کو خدا کی مخلوق بیان کرتا ہے ۔

وہ اپنی دوسری غلط بات میں بیان کرتا ہے :

انسان خود بہشت کے خالق ہیں اور انسان وہاں پر خدائی کام انجام دیتے ہیں ۔

اسی کتاب کے صفحہ ٣٠٤ پر لکھتا ہے :

نفس کا روح اللہ کو حاصل کرلینے سے جو کہ اللہ کی مقدس صفت ہے ، وسیع مخلوقات کو خلق کرنے کا امکان فراہم کرتا ہے ... اسی وجہ سے اس مرحلہ میں ہر انسان اپنی مخصوص بہشت بنائے گا ... ہم موجودہ زندگی میں اپنے ذہن کی خلاقیت کی طاقت کا تجربہ کرتے ہیں ، خلق ذہنی کا یہ تجربہ ہر چیز کا تصور کرلیتا ہے ، بہشت میں یہ تجربہ بہت وسیع ہے ، کیونکہ وہاں پر ہم جس چیز کو بھی اپنے ذہن سے باہر خلق کرنا چاہیں ، خلق کرسکتے ہیں اور جس جگہ پر ہم خلق ہوئے ہیں وہی زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ صفات الہی کے خزانہ کو حاصل کرنے اوراس مرحلہ میں تخلیق کا امکان ایسی خصوصیات ہیں جن کی بنیاد پر ہم دنیا کو خلق کرسکتے ہیں اور خدا کے خلیفہ شمار ہوسکتے ہیں ۔

اس گروہ کی تعلیمات میں جو باتیں بیان ہوتی ہیں وہ ایسی ناموزوں عبارتیں ہیں جن کی کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے اور فقط خیال پردازی ہے ،یہ قرآن مجید کی آیات سے واضح طور پر مخالف ہیں ،جیساکہ اوپر بیان ہوا ہے ۔

ہم خداوندعالم سے دعا کرتے ہیں کہ سب کو راہ مستقیم کی ہدایت فرمائے ۔

منابع و مآخذ:
تحقیقی از پژوہشکدہ عرفان ہای نو ظہور
حوالہ جات:
null
تاریخ انتشار: « 5/28/2016 5:24:51 AM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 676