حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (تیسری فصل)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (تیسری فصل)

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: یہ خیالات کس قدر شرک آلود اور غیر معتبر ہیں جن کو عرفان کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، جبکہ اس عرفان کی تمام باتیں قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات اور فلسفہ کی محکم دلیلوں کے برخلاف ہیں ۔
کلمات کلیدی:

شرک آلود باتیں

حلقہ معرفت کی بنیاد رکھنے والا (طاہری) اپنی کتاب کے صفحہ ٢٠٤ پر اس طرح لکھتا ہے :

جی ہاں ! میں (یعنی خداوندعالم) تم (یعنی انسانوں ) تک پہنچ جائوں گا اور اپنی تمام چیزوں کو اپنے معشوق (انسان) کے قدموں میں ڈال دوں گا اور اس طرح وہ تمہارے لئے بہشت ہوگی ، وہ پہلی بہشت نہیں جو نامعلوم تھی بلکہ معلوم بہشت ہوگی ۔

ایسی بہشت جس کو تم اپنے علم و آگاہی اور اپنے میل و رغبت اور طور طریقہ سے بنائو گے ۔ اس تجربہ کو حاصل کرنے کے بعد سمجھ جائو گے کہ تمام چیزوں کو تمہارے ''عاشق'' نے تمہارے اختیار میں دی ہیں اور تمہیں جو طاقت دی گئی ہے اس کے ذریعہ بہت سی دنیا خلق کرسکتے ہو اور ایسی چیزوں پر سایہ ڈال سکتے ہو جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور بہ جلد تمہیں یہ یقین ہوجائے گا کہ تمہارے پاس بھی خدا والی طاقت موجود ہے ۔

اس وقت جب تم اس طرح کے خدا ہوجائو گے تو پھر تم میرے ساتھ کیا کرو گے ؟

شاید اگر تم پوری کہانی کو سمجھ جائو گے تم مجھ عاشق کیلئے گریہ کرو گے !

تم میں سے بعض لوگ جب ا پنی خدائی قدرت کا اطمینان حاصل کرلیں گے اور مجھ سے بے نیازی کا احساس ہونے لگ جائے گا تو کہو گے اب جبکہ ہم خدا ہیں اوراس سے بے نیاز ہیں تو پھر اپنے لئے کیوں خدائی نہ کریں ؟

فقط کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو خدائے واحد کی قدرت کا انتخاب کرکے میری طرف آئیں گے اور میری وحدت کو حاصل کرلیں گے ، لیکن ایک خدا اور بہت سے خدا آخری آزمایش ہوگی اور تم کس کا انتخاب کرو گے ؟

کتاب ''انسان و معرفت'' کے صفحہ ٢٦٣ کے بعد انسان کے لئے تین مرحلہ بیان کئے ہیں، مرحلہ ''الہ'' ، مرحلہ ''رب'' اور مرحلہ ''ملک'' ۔ اس کے بعد کہا ہے:

ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی آدم کے وجود سے الگ نہیں تھا ،ان میں سے ہر ایک اس کے وجود کے ابعاد میں سے ایک بعد ہے جو اس میں اپنا کردار دا کرتے ہیں ۔

انسانوں کی کثرت نے اپنی حرکت کو ''الہ'' سے آغاز کیا ہے اور ''رب'' پر ختم کریں گے ۔ پورے راستہ میں ''رب'' کی تربیت کو قبول کرنے سے ان کے صحیح حرکت کا آغاز ہوتا ہے اورراستہ کے اختتام پر ''رب'' کے ساتھ ان کا اتحاد اچانک ہوتا ہے ۔

ایک مرتبہ پھر مذکورہ جملوں کا غور سے مطالعہ کریں ، ان ناموزوں اور دلیل کے بغیر باتوں کا خلاصہ اس طرح ہے :

١ ۔  پہلا انسان مقام الوہیت تک پہنچ جاتا ہے ۔

٢ ۔  اس کے بعد مقام ربوبیت کو حاصل کرلیتا ہے ۔

٣ ۔  اور پھر مقام ملک تک پہنچ جاتا ہے ۔

٤ ۔  خداوندعالم انسانوں کا ''بے قرار عاشق '' ہے اور انسان اس کے معشوق ہیں اوراگر انسان تمام باتوں سے باخبر ہوجائے تو شاید اس عاشق یعنی خدا کے حال پر گریہ کرے گا ۔

٥ ۔  خداوندعالم اپنی رحمانیت کی وجہ سے انسان کو اپنی خدایی کے صفات عطا کردیتا ہے ، یہاں تک کہ انسان اور دوسری دنیا بناتے ہیں ۔

٦ ۔  آخرکار خداوندعالم انسان کو اختیار دیدیتا ہے کہ وہ دوسری دنیا خلق کریں اور پھر ان میں خدایی کے کام انجام دیں (اور دو قطبی دنیا میں زندگی بسر کریں) ۔ یا وحدت سے متصل ہوجائیں اور ایک قطبی دنیا میں خداوندعالم کی خدائی کے پرچم تلے چلے جائیں ۔

٧ ۔  اگر پہلے راستہ کو قبول کرلے تو پھر ایک کے بعد دوسرے مرحلہ کو طے کرنے پ مجبور ہے اور آخرکار ایسی جگہ پہنچ جائے گا کہ اپنی خدائی سے ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہوجائے گا اور تمام دنیائوں کے خدا سے ملحق ہوجائے گا ۔

ہمارا سوال یہ ہے :

یہ خیالات کس قدر شرک آلود اور غیر معتبر ہیں جن کو عرفان کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، جبکہ اس عرفان کی تمام باتیں قرآن مجید  اور اسلام کی تعلیمات اور فلسفہ کی محکم دلیلوں کے برخلاف ہیں ۔

پہلی بات یہ ہے کہ مقام الوہیت (الہ ہونا) پروردگار عالم کی ذات سے مخصوص ہے''وَ ہُوَ الَّذی فِی السَّماء ِ ِلہ وَ فِی الْأَرْضِ ِلہ '' ۔ ( اور وہی وہ ہے جو آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا ہے) ۔ (سورہ زخرف ، آیت ٨٤ ۔

دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کا مقام ربوبیت بھی خداوندعالم کی ذات سے مخصوص ہے ، صرف سورہ حمد ہی میں ''رب العالمین'' نہیں پڑھتے بلکہ بلکہ قرآن مجید کی دوسری بہت سی آیات میں رب العالمین کا عنوان خداوندعالم کے اوصاف میں ذکر ہوا ہے ۔

خصوصا سورہ انعام کی ١٦٤ ویں آیت میں پڑھتے ہیں : ''قُلْ أَ غَیْرَ اللَّہِ أَبْغی رَبًّا وَ ہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْئ'' ۔ (کہہ دیجئے کہ کیا میں خدا کے علاوہ کوئی اور رب تلاش کروں جب کہ وہی ہر شے کا پالنے والا ہے ) ۔

تیسری بات یہ ہے کہ سبھی کو خداوندعالم کا بے قرار عاشق ہونا چاہئے ، خداوندعالم ، انسانوں کا بے قرار عاشق نہیں ہے ، قرآن مجید کہتا ہے : ''وَ الَّذینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ '' ۔ (جب کہ ایمان والوں کی تمام تر محبت خدا سے ہوتی ہے) (سورہ بقرہ ، آیت ١٦٥) ۔

چوتھی بات یہ ہے کہ کیا خدائی کے صفات بخشش کے قابل ہیں جنہیں خداوندعالم دوسرے لوگوں کو بخش دیتا ہے تاکہ وہ ان صفات کے ذریعہ دوسری دنیائوں کو خلق کرسکیں ؟

پانچویں بات یہ ہے کہ خداوندعالم کا انسان کو اس بات پر اختیار دینا کہ چاہے اپنے لئے خدائی کرے اور دوسر دنیا بنائیں ، یا خداوندعالم کی خدائی سے ملحق ہوجائیں ، اس بات کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟

یہ تمام باتیں شرک آلود ہیں اوران کی کوئی دلیل نہیں ہے اور یہ سب قرآن مجید اور اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہیں ۔

تعجب اس بات پر ہے کہ بعض لوگ بغیر مطالعہ کے ایسی باتیں کہتے ہیں ، ہم نے حلقہ عرفان میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ہے ، واقعا تعجب کی بات ہے !

منابع و مآخذ:
تحقیقی از پژوہشکدہ عرفان ہای نوظہور 
حوالہ جات:
null
تاریخ انتشار: « 5/28/2016 5:24:04 AM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 721