حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (دوسری فصل)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (دوسری فصل)

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: : کیا حضرت آدم کے لئے خداوندعالم سے زیادہ شیطان مہربان تھا جو ان کو نا معلوم بہشت سے معلوم بہشت کی طرف لے گیا ؟
کلمات کلیدی:

حلقہ معرفت میں حضرت آدم اور شیطان کی عجیب و غریب زندگی

قرآن مجید بہت ہی صراحت کے ساتھ فرماتا ہے : حضرت آدم جنت میں تھے اور خداوندعالم نے ان کو ممنوعہ درخت کے پاس جانے سے منع کیا تھا ، لیکن انہوں نے شیطانی وسوسہ کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم و ستم کیا اور اس درخت کا پھل کھا لیا ، جس کی وجہ سے ان کا بہشتی لباس اتار لیا گیا اور پھر جب ان کو علم ہوا تو انہوں نے خدا کی بارگاہ میں توبہ کی اور خداوند عالم نے ان کو معاف کردیا ،لیکن بہشت سے نکال دئیے گئے ۔

مندرجہ ذیل آیت میں غور و فکر کریں :

''وَ اِذْ قُلْنا لِلْمَلائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا ِلاَّ ِبْلیسَ أَبی وَ اسْتَکْبَرَ وَ کانَ مِنَ الْکافِرینَ وَ قُلْنا یا آدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّةَ وَ کُلا مِنْہا رَغَداً حَیْثُ شِئْتُما وَ لا تَقْرَبا هذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونا مِنَ الظَّالِمینَ ، فَأَزَلَّہُمَا الشَّیْطانُ عَنْہا فَأَخْرَجَہُما مِمَّا کانا فیہِ وَ قُلْنَا اهبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوّ وَ لَکُمْ فِی الْأَرْضِ مُسْتَقَرّ وَ مَتاع اِلی حینٍ ، فَتَلَقَّی آدَمُ مِنْ رَبِّہِ کَلِماتٍ فَتابَ عَلَیْہِ اِنَّہُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحیمُ'' ۔(سورہ بقرہ ، آیت ٣٤ تا ٣٧) ۔

اور یاد کرو وہ موقع جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم علیہ السّلام کے لئے سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کرلیا. اس نے انکار اور غرور سے کام لیا اور کافرین میں ہوگیا اور ہم نے کہا کہ اے آدم علیہ السّلام! اب تم اپنی زوجہ کے ساتھ جنّت میں ساکن ہوجاؤ اور جہاں چاہو آرام سے کھاؤ، صرف اس درخت کے قریب نہ جانا کہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے ہوجاؤگے ، تب شیطان نے انہیں فریب دینے کی کوشش کی اور انہیں ان نعمتوں سے باہر نکال لیا اور ہم نے کہا کہ اب تم سب زمین پر اترجاؤ وہاں ایک دوسرے کی دشمنی ہوگی اور وہیں تمہارا مرکز ہوگا اور ایک خاص وقت تک کے لئے عیش زندگانی رہے گی ۔پھر آدم علیہ السّلام نے پروردگار سے کلمات کی تعلیم حاصل کی اور ان کی برکت سے خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے ۔

 

لیکن حلقہ معرفت کہتا ہے : بہشت میں حضرت آدم کو علم نہیں تھا اور ممنوعہ درخت کا پھل کھانے کی وجہ سے جنت سے نکال دئیے گئے اور پھر معلوم بہشت کی طرف روانہ ہوگئے اور اس راستہ میں شیطان نے ان کی مدد کی ۔

مندرجہ ذیل جملات میں غور و فکر کریں جن کو کتاب ''انسان اور معرفت'' میں ذکر کیا گیا ہے :

اس درخت کو دیکھنے سے آدم کو معلوم ہوگیا کہ اس کی طرف جانے سے وہ ایسے مرحلوں میں داخل ہوجائیں گے جن کے ذریعہ آگاہی اور کمال تک پہنچ سکتے ہیں ۔ (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٠٤) ۔

انہوں نے ایک قطبی دنیا کی نعمتوں سے ہاتھ اٹھا لیا اوراس درخت سے نزدیک ہونے کے ذریعہ (دو قطبی دنیا میں روانہ ہونے کیلئے ) یہ راستہ اختیار کیا تاکہ معلوم بہشت میں ان کا حاضر ہونا بالقوة تھا اوروہ ابھی تک اس کو حاصل نہیں کرسکے تھے (انسان و معرفت ، صفحہ٢٠٣ و ٢٠٤) ۔

وہ نامعلوم بہشت میں بھی ہمیشہ باقی رہ سکتے تھے ، یا اس درخت سے نزدیک ہونے کے ذریعہ اس دنیا کے پرتلاطم راستہ پر گامزن ہوسکتے تھے جو ان کوعلم و آگاہی دیتا ۔ (انسان و معرفت ،صفحہ ٢٥٥) ۔

اس کشمکش میں آدم نے اس درخت کے پھل کو کھانا منتخب کیا ۔ یعنی انہوں نے دو قطبی دنیا میں روانہ ہونے کا آغاز کردیا تاکہ اس کے رنج و غم کو برداشت کرنے کے بعد اپنے وجود کے گوہر کو آشکار کرسکیں اور اپنے کمال کو عملی مرحلہ میں پہنچانے کے بعد اپنے پروردگار کی طرف واپس پلٹ جائیں اور معلوم بہشت میں زندگی بسر کرکے خلقت کی عظمت کو ظاہر کرسکیں ۔ (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٥٦) ۔

درخت کے نزدیک ہونے کے ذریعہ وہاں سے روانگی کا آغاز ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے نامعلوم بہشت سے خارج ہوجاتے ہیں اور پھل کھانے کے بعد زندگی کے تجربے حاصل کرلئے اور معلوم بہشت تک پہنچ گئے ۔ (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٥٦) ۔

اب ہم اچھی طرح سمجھ گئے کہ اس کتاب کے مولف درخت ممنوعہ کو درخت آگاہی سمجھتے ہیں ( جیسا کہ سفر پیدایش توریت میں ذکر ہوا ہے ، جی ہاں موجودہ توریت میں بھی درخت ممنوعہ کو درخت علم و آگاہی بیان کیا گیا ہے ) ۔

یہاں پر یہ سوالات پیش آتے ہیں :

١ ۔  کیا خداوند عالم نے آدم کو علم و آگاہی سے منع کیا تھا اور اس کو آدم کا گناہ شمار کیا تھا؟ جب کہ قرآن کریم صاف صاف لفظوں میں کہتا ہے : خدا وندعالم نے علم اسماء کے نام سے ایک عظیم علم حضرت آدم کو عطا کیا جس کی وجہ سے حضرت آدم کو تمام فرشتوں پر فضیلت حاصل ہوئی ۔ '' و علم آدم الاسماء کلھا'' ۔

٢ ۔  کیا حضرت آدم کے لئے خداوندعالم سے زیادہ مہربان شیطان تھا جو ان کو نامعلوم بہشت سے معلوم بہشت کی طرف لے گیا ؟

٣ ۔  کیا حقیقت میں معلوم بہشت ، ممنوعہ درخت ہے اور اس کا پھل کھانا ظلم ہے اور اس سے توبہ کرنا چاہئے تاکہ خداوندعالم اس کے لطف میں ان کی توبہ کو قبول کرلے ؟

تعجب ہے ا ن لوگوں پر جو کہتے ہیں کہ عرفان کاذب میں قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات کے خلاف کچھ نہیں ہے ؟

منابع و مآخذ:
تحقیقی از پژوہشکدہ عرفان ہای نو ظہور
حوالہ جات:
null
تاریخ انتشار: « 5/28/2016 5:23:07 AM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 620