حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (پہلی فصل(

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حلقہ معرفت کو اچھی طرح پہچانیں (پہلی فصل(

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: : آج کے زمانہ میں حلقہ معرفت کے عنوان سے جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ سب منحرف تعلیمات ہیں اور دین مبین اسلام کے اصول و فروع سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
کلمات کلیدی:

حال ہی میں ایران کی عدالت سے حلقہ معرفت کے مسئول کی شدید مذمت کی گئی ہے جس کی وجہ سے بعض لوگ اس کی حمایت کے لئے کھڑے ہوگئے ہیں اور کہتے ہیں : وہ جوکچھ بھی کہتا ہے وہ حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں اور ہم نے اس کی پیروی کرکے اسلام کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے ، جبکہ ہم کئی سال سے اس کے افکار کی تحقیق کررہے ہیںاور اس کے انحرافی عقاید اچھی طرح واضح ہیں، لہذا یہاں پر اس کے انحرافی عقاید کو اس کی کتابوں سے واضح طور پر بیان کریں گے ۔

 آج کے زمانہ میں حلقہ معرفت کے عنوان سے جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ سب منحرف تعلیمات ہیں اور دین مبین اسلام کے اصول و فروع کے برعکس ہیں ، حلقہ معرفت کے بعض انحرافی موضوعات مندرجہ ذیل ہیں :

شیطان شناسی (شیطان پرستی)

حلقہ معرفت میں شیطان کا بہت زیادہ احترام کیا گیا ہے اور وہ خدا کے کاموں کو انجام دیتا ہے، وہ انسان کا سب سے پہلا معلم ہے ،خداوندعالم کے فرمان کا مطیع اور موحد ہے !

١۔  ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خداوندعالم نے ابلیس سے درخواست کی تھی کہ آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرے ! اس وجہ سے شیطان کا گناہ یہ تھا کہ وہ خداوندعالم کے حکم کو بجالایا تھا ۔ (کتاب موجودات غیر ارگانیک ، صفحہ ١٤ و ١٥ ۔ کتاب انسان معرفت ، صفحہ ٢٤٥) ۔

٢ ۔  اس عرفان میں ابلیس کا ملک کے عنوان سے تعارف کرایا گیا ہے جس نے دو قطبی دنیا کے لئے قانون تضاد کو ایجاد کیا ہے (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٤٧) ۔

٣ ۔  شیطان، انسان کا سب سے پہلا استاد او رمعلم ہے کیونکہ اس نے انسان کو علم و آگاہی کے درخت کی طرف راہنمائی کی اور نامعلوم بہشت سے معلوم بہشت کی طرف بھیجا (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٠٤ ۔ موجودات غیر ارگانیک ، صفحہ ١٥) ۔

جبکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں شیطان کو حضرت آدم پر سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے اور پروردگار عالم کی ذات پاک پر اعتراض کرنے کی وجہ سے معلون کہا گیا ہے اور اس کو جنت سے نکالا گیا ہے ۔

سورہ حجر کی ٣٢ تا ٣٥ ویں آیات میں فرماتا ہے : ''قالَ یا اِبْلیسُ ما لَکَ أَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدینَ ، قالَ لَمْ أَکُنْ لِأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہُ مِنْ صَلْصالٍ مِنْ حَمٍَ مَسْنُونٍ ، قالَ فَاخْرُجْ مِنْہا فَاِنَّکَ رَجیم ، وَ اِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَةَ اِلی یَوْمِ الدِّینِ '' ۔ اللہ نے کہا کہ اے ابلیس! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تو سجدہ گزاروں میں شامل نہ ہوسکا ، اس نے کہا کہ میں ایسے بشر کو سجدہ نہیں کرسکتا جسے تو نے سیاہی مائل خشک مٹی سے پیدا کیا ہے ، ارشاد ہوا کہ تو یہاں (فرشتوں کی صف )سے نکل جا کیونکہ تو(ہماری بارگاہ سے) مردود ہے اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت ہے ۔

اور سورہ اعراف کی ١٨ ویںآیت میں فرماتا ہے : ''قالَ اخْرُجْ مِنْہا مَذْؤُماً مَدْحُوراً لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمَعینَ'' ۔ فرمایا کہ یہاں سے نکل جا تو ذلیل اور مردود ہے اب جو بھی تیرا اتباع کرے گا میں تم سب سے جہّنم کو بھردوں گا ۔

سورہ ص کی ٧٣ تا ٧٨ ویں آیات میں فرماتا ہے : ''فَسَجَدَ الْمَلائِکَةُ کُلُّہُمْ أَجْمَعُونَ ، ِلاَّ ِبْلیسَ اسْتَکْبَرَ وَ کانَ مِنَ الْکافِرینَ ، قالَ یا اِبْلیسُ ما مَنَعَکَ أَنْ تَسْجُدَ لِما خَلَقْتُ بِیَدَیَّ أَسْتَکْبَرْتَ أَمْ کُنْتَ مِنَ الْعالینَ ، قالَ أَنَا خَیْر مِنْہُ خَلَقْتَنی مِنْ نارٍ وَ خَلَقْتَہُ مِنْ طینٍ ، قالَ فَاخْرُجْ مِنْہا فَِنَّکَ رَجیم ، وَ اِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتی اِلی یَوْمِ الدِّین'' ۔تو تمام ملائکہ نے سجدہ کرلیا ، علاوہ ابلیس کے کہ وہ اکڑ گیا اور کافروں میں ہوگیا، تو خدا نے کہا اے ابلیس تیرے لئے کیا شے مانع ہوئی کہ تو اسے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دست قدرت سے بنایا ہے تو نے غرور اختیار کیا یا تو واقعا بلند لوگوں میں سے ہے؟! اس نے کہا کہ میں ان سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور انہیں خاک سے پیدا کیا ہے ، ارشاد ہوا کہ یہاں سے نکل جا تو مردود ہے اور یقینا تیرے اوپر قیامت کے دن تک میری لعنت ہے ۔

اس کے علاوہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں حضرت آدم کو شیطان کے وسوسہ اور فریب کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کیا جس کی وجہ سے ان کو بہشت سے نکالا گیا اور وہ معلم نہیں تھا بلکہ گمراہ کرنے والا تھا اور اسی کی وجہ سے حضرت آدم اللہ کی بہت سی نعمتوں سے محروم ہوگئے ۔

جوکچھ ہم نے اس کی کتاب سے ذکر کیا ہے کیا وہ سب قرآن کی ان آیات کے مطابق ہے ؟ بعض دھوکہ کھانے والے کس طرح کہتے ہیں کہ اس کی باتیں حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں ، یا اس کی پیروی کرکے اسلام کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے ، اسلام اور قرآن مجید کو پہچاننے کے معنی یہی ہیں ؟

یہاں پر ہم اس کی کتاب کی عبارتوں کو بعینہ نقل کررہے ہیں :

ان کام کرنے والوں کے درمیان فقط ا بلیس ایسا ہے جس کا کام اس دنیا کے باقی رہنے تک باقی رہے گا ، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ جب تک یہ دنیا باقی ہے وہ حضرت آدم کو سجدہ نہیں کرے گا ۔(موجودات غیر ارگانیک ، صفحہ ١٤) ۔

 سجدہ نہ کرنا خداوندعالم کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے ۔ (موجودات غیر ارگانیک ، صفحہ ١٤) ۔

ابلیس نے آدم کو سجدہ کرنے کے حکم کی پرواہ نہیں کی اوراس وظیفہ کو انجام دیا ۔ (موجودات غیر ارگانیک ، صفحہ ١٤) ۔

لہذا سجدہ کے حکم کی پیروی نہ کرنا ظاہری طور پر نافرمانی ہے اور اگر نافرمانی نہیں تھی تو پھر تضاد بھی نہیں تھا ، لیکن اس کے باوجود یہ فرمانبرداری ہے ، کیونکہ خداوندعالم نے اس کو پہلے سے معین کردیا تھا ۔ (موجودات غیر ارگانیک ، صفحہ ١٥) ۔

اسی وجہ سے خداوندعالم نے ابلیس کو حکم دیا تھا کہ آدم کو سجدہ کرنے کے حکم کی پرواہ نہ کرنا اور اس نے بھی خدا کے اس حکم کو قبول کرلیا اور ایسا فرشتہ بن گیا جس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا اور آدم کے راستہ کے اختتام تک وہ آدم کو سجدہ نہیں کرے گا (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٤٧) ۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ آدم کو ابلیس کا سجدہ نہ کرنا خداوندعالم کے منصوبہ سے خارج نہیں ہے اور اس شخص نے دو قطبی دنیا کے وجود میں آنے اور انسان کے امتحان کے کام کو آسان بنایا ہے (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٤٧) ۔

اس درخت کو دیکھنے سے آدم کو معلوم ہوگیا کہ اس کی طرف جانے سے وہ ایسے مرحلوں میں داخل ہوجائیں گے جن کے ذریعہ آگاہی اور کمال تک پہنچ سکتے ہیں ۔ (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٠٤) ۔

اس بناء پر جس جگہ پر آدم نے درخت سے نزدیک ہونے کو انتخاب کیا وہ ان کے تنزلی راستہ کا آغاز تھا (انسان و معرفت ، صفحہ ٢٠٤) ۔

منابع و مآخذ:
تحقیقی از پژوہشکدہ عرفان ہای نو ظہور 
حوالہ جات:
null
تاریخ انتشار: « 5/28/2016 5:21:54 AM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 633