آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی خصوصیات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی خصوصیات

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: عالم کشف وشہود میں آپ کا بلند و بالا مقام صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ آپ حضرت موسی بن جعفر (ع) کی بیٹی اور آٹھویں امام علی رضا علیہ السلام کی بہن ہیں ،بلکہ آپ کی یہ منزلت اس معرفت کی وجہ سے ہے جو آپ کے اندر پائی جاتی تھی ۔
کلمات کلیدی:

حضرت فاطمہ معصومہ

حضرت فاطمہ معصومہ (س) ، امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی دختر نیک اختر ہیں جن کی ولادت مدینہ منورہ میں پہلی ذی قعدہ ١٧٣ ہجری کو واقع ہوئی ، خاندان رسالت میں ایسی بیٹی کی ولادت ہوئی جن کے آنے کی بشارت امام صادق علیہ السلام نے دی تھی ۔لہذا حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی ولادت با سعادت کے موقع پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے آپ کی بے نظیر شخصیت کی بعض خصوصیات کو بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں ۔

حضرت معصومہ علیہا السلام کی علمی قدر و منزلت

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت فاطمہ معصومہ (س) بے حد کمالات کا سرچشمہ ہیں اور آپ کی نسبت تین معصوم اماموں سے دی گئی ہے اور خاندان پیغمبر اکرم (ص) میں آپ کا بہت زیادہ احترام ہے ، خاص طور سے حضرت موسی بن جعفر(ع) ، علی بن موسی اور محمد بن علی کے نزدیک آپ کی قدر و منزلت بہت زیادہ تھی ، لہذا آپ کی شان و منزلت کو پہچاننا بہت ضروری ہے ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کریمہ اہل بیت (س) کی شان و منزلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : حضرت معصومہ (س) کا مقام و مرتبہ علمی لحاظ سے بھی بہت بڑا تھا ،امام موسی کاظم علیہ السلام کے زمانہ میں کچھ شیعہ مدینہ میں داخل ہوئے تاکہ امام موسی کاظم سے کچھ سوال دریافت کریں ،لیکن امام علیہ السلام سفر پر گئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے وہ سوالات امام کے گھر والوں کو دیدئیے تاکہ جب دوسری مرتبہ آئیں تو ان کے جوابات حاصل کرلیں ،پھر جب اپنے وطن واپس جانے لگے تو خدا حافظی کے لئے امام علیہ السلام کے گھر پہنچے ۔ حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام نے ان کے سوالوں کے جوابات لکھ کر ان کو دیدئیے ۔ وہ لوگ خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جارہے تھے، اتفاقی طور پر انہوں نے راستہ میں امام موسی کاظم علیہ السلام سے ملاقات کی اور امام علیہ السلام کوپورا واقعہ سنایا ، امام نے ان جوابات کا مطالعہ کیا ،حضرت معصومہ علیہا السلام کے تمام جوابات صحیح تھے ،امام نے تین مرتبہ فرمایا : ''فداھا ابوھا'' ۔ اس کا باپ اس پر قربان ہوجائے ۔ کیونکہ اس وقت حضرت معصومہ علیہا السلام کی عمر بہت کم تھی ، یہ بات آپ کی عظمت اور علم و معرفت کو اچھی طرح بیان کر رہی ہے (١) ۔ (٢) ۔

حضرت معصومہ (س) کی معنوی اور قدسی قدر و منزلت

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے حضرت معصومہ (س) کی معنوی قدر و منزلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : عالم کشف وشہود میں آپ کا بلند و بالا مقام صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ آپ حضرت موسی بن جعفر (ع) کی بیٹی اور آٹھویں امام علی رضا علیہ السلام کی بہن ہیں ، بلکہ آپ کی یہ منزلت اس معرفت کی وجہ سے ہے جو آپ کے اندر پائی جاتی تھی(٣) ۔

معظم لہ نے حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی معنوی قدر و منزلت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : حضرت معصومہ (س) کی جلالت کے بارے میں بہت سی روایات موجود ہیں ۔ مرحوم محدث قمی فرماتے ہیں : شہر قم کے ایک بزرگ شخص جن کا نام ''سعد'' تھا ، امام علی بن موسی الرضا (ع) کی خدمت میں پہنچے ،امام علیہ السلام نے فرمایا : ''سعد عندکم لنا قبر، قلت : جعلت فداک قبر فاطمة بنت موسی؟ قال : نعم من زارھا عارفا بحقھا فلہ الجنة ...'' (٤) ۔

امام رضا علیہ السلام نے سعد سے فرمایا : اے سعد ! تمہارے شہر میں ہم میں سے ایک کی قبر ہے ،میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہوجائوں ، آپ حضرت فاطمہ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام کی قبر کے بارے میں معلوم کر رہے ہیں ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : جی ہاں ، جو بھی علم و معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے اس پر جنت واجب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسین (ع) ، فاطمہ معصومہ (س) اور دوسرے معصومین کے متعلق روایات میں جو علم و معرفت کی بحث ہوئی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ حضرت معصومہ (س) کے والد،بھائی اور اجداد ، واجب الاطاعت ہیں اور جب ہمیں اس بات کا علم ہوجائے اور ہم ان کے تمام احکام پر عمل پیرا ہوجائیں تو اس کا نتیجہ جنت ہے (٥) ۔

حضرت معصومہ (س) کا سلسلہ نسب

سلسلہ نسب ایک دوسری خصوصیت ہے جو معظم لہ کے اقوال میں بیان ہوئی ہے ، انہوں نے اس متعلق ایک جگہ فرمایا ہے : ہم جس وقت حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا سلسلہ نسب دیکھتے ہیں تو وہ نو معصوموں تک پہنچتا ہے اور یہ آپ کا بہت ہی بڑا مقام و مرتبہ ہے (٦) ۔

زیارت حضرت معصومہ علیہا السلام کی حقیقت

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں زیارت حضرت فاطمہ معصومہ (س) کا مقام اس قدر بلند و بالا ہے کہ معظم لہ نے ایک جگہ فرمایا : آپ کی جلالت اور قدر و منزلت کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ کے زیارت نامہ میں بہت سی مخصوص تعبیرات بیان ہوئی ہیں ۔

زیارت حضرت معصومہ علیہا السلام کا ثواب

معظم لہ نے زیارت حضرت معصومہ علیہا السلام کے آثار وبرکات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : کامل الزیارات کے مولف نے حضرت معصومہ علیہا السلام کے والد اور بھائی سے نقل کرتے ہوئے امام جواد علیہ السلام کی ایک روایت میں اس طرح نقل کیا ہے :

'' مَنْ زارَ عَمَّتى‏ بِقُمْ فَلَهُ الْجَنَّةُ '' ۔ جوشخص بھی میری پھوپھی (حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام) کے مرقد کی شہر قم میں زیارت کرے ،اس پر جنت واجب ہے (٧)۔

زیارت کے بدلہ میں جنت

معظم لہ نے حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے متعلق پیغمبر اکرم کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : رسول اکرم فرماتے ہیں کہ میری ایک پارہ جگر شہر قم میں مدفون ہوگی اور جو بھی اس کی زیارت کے لئے جائے گا اس پر جنت واجب ہوگی ، ''میری پارہ جگر'' کی تعبیر دوسری جگہ حضرت فاطمہ زہرا (س) علیہا السلام کے لئے بیان ہوئی ہے ۔

اس بناء پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے ''میری لخت جگر'' کا لفظ صرف حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اور حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کے لئے جاری ہوا ہے اور یقینا جو بھی پیغمبر (ص) کی لخت جگر کی اس جگہ پر زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوگی ۔

 قم میں شیعیت کا عروج حضرت معصومہ (س) کا مرہون منت ہے

شیعوں کے عظیم الشان مرجع تقلید اور قرآن کریم کے مفسر نے ایک دوسری جگہ پر فرمایا :  حضرت معصومہ (س) کے وجود سے شہر قم شیعوں کا مرکز بن گیا اور یہاں پر شیعوں کو بہت ہی قدرت اور عزت حاصل ہوئی ،ہجرت کی پہلی صدی کے اوایل میں اس زمین پر شیعہ آباد ہونے لگے اور پھر آہستہ آہستہ اس شہر میں شیعہ آباد ہوگئے اور یہ شہر مکتب اہل بیت کی پیروی کرنے والوں کے لئے پناہ گاہ بن گیا ۔

اس مدت میں شہر قم ، آل علی کی جسمانی اور روحانی اولاد کے استقبال کے لئے آمادہ ہوگیااور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے جوبھی اس سرزمین کی طرف آتا تھا ،قم کے لوگ اس کا بہت اچھا استقبال کرتے تھے اور وہ بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ اپنے دشمنوں سے دور رہ کر قم میں زندگی بسر کرتے تھے۔

اسی بنیاد پر بہت سے جلیل القدر سادات اورمعصوم اماموں کی اولادیں اس جگہ آئیں جن میں سے ایک امام موسی کاظم علیہ السلام کی بیٹی حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام ہیں (٨) ۔

لہذا ٢٠١ ہجری قمری میں حضرت معصومہ علیہا السلام اپنے بھائی کی زیارت کرنے کیلئے مدینہ سے خراسان کی طرف روانہ ہوئیں اور جس وقت شہر ''ساوہ'' پہنچی تو بیمار ہوگئیں اور چونکہ آپ کو معلوم تھا کہ قم میں شیعہ لوگ رہتے ہیں اس لئے اپنے خادم سے فرمایا : مجھے قم لے چلو ، دوسری طرف جب قم کے لوگوں نے آپ کے قم میں داخل ہونے کی خبر سنی تو انہوں نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو دعوت دی اور سعد اشعری کے بیٹے آپ کی خدمت میں پہنچے اور ان کو قم میں لے آئے اور بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ ان کا استقبال کیا ، اگر چہ کچھ ہی دنوں کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا ،لیکن قم میں آپ کے وجود ،آپ کے مرقد مطہر ، نیز امام زادوں ، راویان احادیث ،کوفہ اور دوسرے شہروں سے علماء کی آمد کی وجہ سے قم ، شیعوں کو بہت ہی مستحکم اور وسیع مرکز بن گیا (٩) ۔

نورحضرت معصومہ (س) کے سایہ میں حوزہ علمیہ قم کا مستحکم ہونا

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کریمہ اہل بیت (س) کے آثار وبرکات کی وضاحت کرتے ہوئے آپ کے وجود سے روز بروز حوزہ علمیہ کی ترقی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : شہر قم میں حضرت معصومہ کے تشریف لانے کی وجہ سے تاریخ قم میں ایک نیا باب کھل گیا اور آپ کی وجہ سے بہت علمائ، دانشور اور طلاب اس شہر کی طرف مجذوب ہوئے ، جس سے قم کو بہت زیادہ برکت نصیب ہوئی ،جن میں سے ایک علمی مراکزکا استحکام ہے (١٠) ۔

لہذا حضرت معصومہ (س) کے قم میں آنے کی وجہ سے حوزہ علمیہ روز بروز ترقی کرتا گیا اور یہ شہر بہت سے بزرگ علماء ،طلاب ، روایوں اور ائمہ علیہم السلام کے شاگردوں کی رفت و آمد کا وسیلہ بن گیا (١١) ۔

آخری بات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں قم کے افتخارات میں سے ایک افتخار یہ ہے کہ حضرت معصومہ قم اور امام رضا علیہ السلام کی ولادت کی مناسبت سے دس دن تک بہت زیادہ جشن و محافل و مجالس قائم کی جاتی ہیں جس کو ''دہ کرامت'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ دس دن حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی ولادت سے شروع ہوتے ہیں اور امام رضا علیہ السلام کی ولادت پر ختم ہوجاتے ہیں (١٢) ۔

کیونکہ آج شیعوں اور ایران کے مخالفین دیکھ لیں اور جان لیں کہ اس شہر کے لوگوں کے نزدیک اہل بیت عصمت و طہارت سے عشق کس قدر زیادہ ہے اور اس مکتب کے ماننے والے کبھی بھی انوار الہی اہل بیت سے اپنے عشق و محبت کو کم نہیں ہونے دیں گے (١٣) ۔

یقینا ان دس دنوں میں اہل بیت عصمت و طہارت کی معرفت اور شناخت کے عنوان سے مختلف پروگرام منعقد ہوتے ہیںکیونکہ حضرت معصومہ (س) اور امام رضاعلیہ السلام کی ولادت سے متعلق جشن منا نا وہابیوں کے اندھے اور پوری دنیا میں اہل بیت کے پیغام کو نورانی کرنے کا سبب بن جاتا ہے (١٤) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١ ۔  حضرت معصومہ فاطمہ دوم ، صفحہ ١٦٦ ۔

٢ ۔  ہمراہ زائرین قم و جمکران ، صفحہ ٦٠ تا ٦١ ۔

٣ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٦/٣/١٣٨٩) ۔

٤ ۔  بحار الانوار ، جلد ٤٨ ، صفحہ ٣١٧ ۔

٥ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٥/١٠/١٣٨١) ۔

٦۔  حرم مطہر حضرت معصومہ قم میں ''دہ کرامت کے آغاز پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٦/٦/١٣٩٢) ۔

٧ ۔  ہمراہ زائرین قم و جمکران ، صفحہ ٦٢ ۔

٨ ۔  ہمراہ زائرین قم و جمکران ، صفحہ ٢٥۔

٩ ۔  ہمراہ زائرین قم و جمکران ، صفحہ ٤٠ ۔

١٠ ۔  ہمراہ زائرین قم و جمکران ، صفحہ ٢٦ ۔

١١ ۔  ہمراہ زائرین قم و جمکران ، صفحہ ٤٠ ۔

١٢ ۔  حرم مطہر حضرت معصومہ قم میں ''دہ کرامت کے آغاز پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٦/٦/١٣٩٢) ۔

١٣ ۔  حرم مطہر حضرت معصومہ قم میں ''دہ کرامت کے آغاز پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٦/٦/١٣٩٢) ۔

١٤ ۔  حرم مطہر حضرت معصومہ قم میں ''دہ کرامت کے آغاز پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٦/٦/١٣٩٢) ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:49:34 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 655