حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں امام رضا علیہ السلام کی علمی سیرت کی تحقیق

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں امام رضا علیہ السلام کی علمی سیرت کی تحقیق

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: : امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے مناظرات کا مسئلہ تاریخی اور گزشتہ زمانہ سے متعلق نہیں ہے بلکہ حریم اسلام اور مکتب اہل بیت کی حفاظت کے لحاظ سے موجودہ اور آنے والے زمانہ کیلئے بہت اہم اور ضروری مسئلہ ہے ۔
کلمات کلیدی:

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نسل گرامی سے شیعوں کے آٹھویں امام اور پیغمبر اکرم (ص) کے آٹھویں جانشین کی ولادت باسعادت کے ایام ہیں ، امام رضا علیہ السلام کی ١١ ذی قعدہ ١٥٨ ہجری کو مدینہ منورہ میں ولادت ہوئی ۔ یقینا ائمہ معصومین علیہ السلام کی سیرت ،سیاسی اور اجتماعی شرایط کے لحاظ سے بہت اہم ہے جن کو بیان کرنا معاشرہ کی مشکلات کودور کرنے کیلئے بہت ضروری ہے ، لہذا امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے روز یہ موقع نصیب ہوا کہ ہم آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے آراء و نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے امام رضا علیہ السلام کی علمی سیرت میں موجود اہم ترین خصوصیات کو مخاطبین کے سامنے پیش کریں :

مقدمہ

یقینا امام رضا علیہ السلام کی زندگی کے مختلف پہلو پائے جاتے ہیں جن میں سب سے اہم علمی، ثقافتی اور حریم عقاید اسلامی کی حفاظت ہے کیونکہ اس زمانہ میں مختلف فرقے اور مکاتب فکر ، اسلام کے اصول و فروع پر حملہ کرتے رہتے تھے اور آپ اس کا دفاع فرماتے تھے ۔ آپ کے اس علمی پہلو کی تحقیق موجودہ حالات و شرایط میں بہت ضروری ہیں اور ان کی تحقیق کے ذریعہ بہت سے مشکلات حل ہوجائیں گی (١) ۔

حکومت بنی عباس کے وجود میں آنے کا سبب

پہلے مرحلہ میں کہنا چاہئے کہ ایرانیوں کے انقلاب اور خراسان میں ابومسلم کی سرکردگی میں مجاہدین کی شجاعت نے امویوں کے شجرہ خبیثہ کو جو کہ (اجتثت من فوق الارض ما لھا من قرار) (٢) کا مصداق ہے ، جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور اس کے اوراق کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا (٣) بنی امیہ کے ختم ہونے کے بعد بنی عباس کا نمبر آیا جو ''الرضا لآل محمد '' کے نعرہ کے ساتھ بنی امیہ کے خلاف وجود میں آیا(٤) (٥) ۔

لیکن بنی عباس نے بہت جلد اپنی نقاب اُلٹ دی اور جب انہوں نے اپنے آپ کو مستحکم دیکھ لیاتو انہوں نے بھی بنی امیہ کے جیسی استبدادی حکومت اور ظلم و بربریت کو دہرانا شروع کردیا ، یہاں تک کہ بہت سے جرائم میں وہ بنی امیہ سے بھی آگے بڑھ گئے (٦) (٧) ۔

لیکن مسلمان بہت جلد ان کی حقیقت کو سمجھ گئے (٨) اور ان کے خلاف دوبارہ انقلاب بپا ہونے لگا اور اسی جگہ یعنی خراسان میں دوبارہ انقلاب کی تیاریاں شروع ہوگئیں (٩) ۔

مامون اور دشمنی اہل بیت (٨(

یہاں تک کہ مامون کی نوبت آگئی اور چونکہ وہ بہت قوی سیاست مدار تھا اور بہت ہی زیادہ ہوشیار وچالاک تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت بے رحم اور قسی القلب تھا ،لہذا اس نے انقلابوں پر تقدم حاصل کرنے کیلئے اپنی حکومت کا پایہ تخت تبدیل کردیا اور بغداد سے خراسان منتقل ہوگیا تاکہ دھمکی اور لالچ کے ذریعہ انقلاب کے اس اہم مرکز کو ختم کردے اور نزدیک سے ان حالات کو کنٹرول کرسکے (١٠) (١١) ۔

دوسری طرف وہ جانتا تھا کہ اس زمانہ میں سب لوگوں کی نظریں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی طرف لگی ہوئی ہیں اور اس بزرگ انقلاب کی وہی رہبری کرسکتے ہیں ،لہذا لوگوں کے مقدمات فراہم کرنے اور امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے پاس جمع ہونے سے پہلے اس نے امام علیہ السلام کو خراسان آنے پر مجبور کردیا ، ظاہری طور پر اس نے آپ کو بہت ہی احترام اور ولایت عہدی کے عنوان سے بلایا ،لیکن باطنی طورپر وہ آپ کو نظر بند کرنا چاہتا تھا (١٢ ، ١٣) ۔

جی ہاں ! اسلام کی علم سے دوستی (١٤) اور دوسروں کی علمی کتابوں کا ترجمہ یعنی یونان، مصر، ہندوستان اور روم کی کتابیں ، اسلام کی جدید زبان میں منتقل ہورہی تھیں،یہ سب چیزیں اس بات کا سبب بنیں کہ اسلامی معاشرہ میں علمی انقلابات بہت تیزی سے پھیلنے لگے (١٥) ۔

لیکن جو چیزپریشانی کا سبب تھی وہ ہے کہ ان مترجمین کے درمیان کچھ لوگ ایسے تھے جواپنے مذہب کے علاوہ دوسرے مذاہب سے بہت زیادہ تعصب رکھتے تھے ، جیسے زردشتی، صائبی، نسطوری، رومی اور ہندوستان کے برہمن جو دوسروں کے علمی آثار کو یونانی، فارسی، سریانی، ہندی اور انگریزی زبان سے عربی میں ترجمہ کرتے تھے ، یقینا یہ لوگ اپنے کام میں حُسن نیت نہیں رکھتے تھے اور ان میں سے بعض لوگ اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ پانی کو آلودہ کرکے مچھلی پکڑ لیںاور اس گرم بازار میں دوسرے علوم کو اسلام میں منتقل کرکے اپنے فاسد اور زہریلے عقاید کو نشر کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے خرافی عقاید، انحرافی اور غیر اسلامی افکارکو ان کتابوں کے ذریعہ اسلام میں داخل کردیا اور بہت تیزی کے ساتھ جوانوں اور سادہ دل لوگوں کے ذہنوں میں یہ عقاید و افکار نافذ ہوگئے (١٦) (١٧) ۔

لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مامون کی طرف سے بعض علمی مناظرات قائم کرنے، مختلف اہداف کے تحت علمی مسائل کا جواب دینے کے لئے امام رضا علیہ السلام کو دعوت دینے کی وجہ سے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی فکری اور تہذیبی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ گئی تھی ، ان کاموں سے مامون کا ہدف یہ تھا کہ وہ علم و دانش کی طرفداری کرتے ہوئے ایک امتیاز حاصل کرلے (١٨) اور اجتماعی و سیاسی (١٩) مشکلات کے سامنے لوگوں کو ایک طرح سے ان کاموں میں الجھا دے اور ساتھ ہی ساتھ اسلامی معاشرہ کے علماء اور متفکرین کو اپنی طرف متوجہ کرلے تاکہ اس کی حکومت کی بنیاد مستحکم ہوجائے (٢٠) ۔ لیکن امام علیہ السلام (٢١) جوکہ اس زمانہ اور اس ماحول میں زندگی بسر کررہے تھے ، ان خطرناک حالات سے اچھی طرح آگاہ تھے ، لہذا آپ نے ایک اہم اور فکری انقلاب ایجاد کیا اور ان تمام خطرناک امواج کے سامنے اسلامی معاشرہ کی اصلیت کو باقی رکھا اور آخرکار اپنے وجود سے اس کشتی کو خطرناک گرداب اور انحرافی التقاط سے نجات دلائی (٢٢) (٢٣) ۔

 امامت کی اہانت کیلئے علمی جلسات منعقد کرنا

ہم جانتے ہیں کہ مامون نے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام پر ولایت عہدی کو تحمیل کرنے کے بعد اپنے عہدہ کی حفاظت اور مقام خلافت کو ثابت کرنے کی غرض سے جس کا واقعہ بہت مفصل ہے ، امام علیہ السلام کو مدینہ سے طوس کی طرف دعوت دی اور امام علیہ السلام کے خراسان میں داخل ہونے کے بعد بحث و مناظرے کے بہت سے جلسات (٢٤) منعقد کئے اور اس زمانہ کے بزرگ علماء کو چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان ، ان جلسوں میں دعوت دی ۔

یقینا اس دعوت کا ظاہری مقصد امام علیہ السلام کے عہدے کو مختلف علوم اور مکاتب فکر میں ثابت کرنا تھا ، لیکن اس ظاہری مقصد کے پیچھے کیا چھپا ہوا تھا (٢٥) اس کو مندرجہ ذیل امور میں بیان کرسکتے ہیں ۔

تخریب و تحقیر امامت

١ ۔  مامون کا اس کے علاوہ کوئی ہدف نہیں تھا کہ وہ اپنے خام خیال میں امام علیہ السلام کے مرتبہ کو لوگوں کے سامنے خصوصا ان ایرانیوں کے سامنے کم کردے جو اہل بیت عصمت و طہارت علیم السلام سے بہت زیادہ عشق و محبت کرتے تھے (٢٦) ۔

٢ ۔  وہ چاہتا تھا کہ آٹھویں امام کے بلند وبالا مقام و مرتبہ کو فقط علم میں منحصر کردے اور آہستہ آہستہ ان کو سیاسی مسائل سے دور کردے اور سب کے سامنے یہ واضح کردے کہ امام علیہ السلام فقط ایک عالم ہیں اور سیاسی مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اس طرح دین کو سیاست سے الگ کردیا جائے (٢٧) ۔

٣ ۔  مامون چاہتا تھا کہ اپنے سیاسی کاموں کو آسانی کے ساتھ انجام دے اور یہ مباحث اس کی حکومت کی کمزوری کو چھپا دیں (٢٨) ۔

امام رضا (ع) کے علمی مناظرات کی حقیقت میں غور وفکر

اگر چہ امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے مناظرات بہت زیادہ ہیں ،لیکن ان میں سے سات مناظرے بہت اہم ہیں ۔

١ ۔  جاثلیق کے ساتھ مناظرہ (٢٩) ، (٣٠) ۔

٢ ۔  راس الجالوت کے ساتھ مناظرہ (٣١) ۔

٣ ۔  ہربز اکبر کے ساتھ مناظرہ (٣٢) ۔

٤ ۔  عمران صابی کے ساتھ مناظرہ (٣٣) ۔

یہ چاروں مناظرے ایک مجلس میں مامون اور دوسرے علماء کے سامنے منعقد ہوئے ۔

٥ ۔  سلیمان مروزی کے ساتھ مناظرہ (٣٤) جو کہ ایک مجلس میں مامون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے منعقد ہوا (٣٥) ۔

٦ ۔  علی بن محمد جھم کے ساتھ مناظرہ (٣٦) ۔

٧ ۔  بصرہ میں مختلف مذاہب کے راہنمائوں سے مناظرہ ۔

ان تمام مناظرات کے مطالب بہت اہم ہیں ، یہاں تک کہ ١٢٠٠ سال گزرنے کے بعد آج بھی یہ مناظرے بہت واضح، راہ گشا اور عبرت آموز ہیں(٣٧)، لہذا ہم یہاں پر خلاصہ کے طور پر بیان کرتے ہیں :

(عیسائی عالم) جاثلیق کے ساتھ مناظرہ

جس وقت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام مامون کے دربار میں پہنچے تو مامون نے اپنے مخصوص وزیر فضل بن سہل(٣٨) کو حکم دیا کہ مختلف مذاہب کے بزرگ راہنمائوں (٣٩) جیسے (عیسائی عالم) جاثلیق، (یہودی عالم دین ) راس الجالوت ، زرتشتی اور صائبین راہنمائوں، نسطاس رومی اور علم کلام کے دوسرے بزرگ علماء کو دعوت دے تاکہ وہ بھی امام علیہ السلام کی باتوں کو غور سے سنیں اور امام علیہ السلام ان کی باتوں کوسنیں (٤٠) ۔

مامون کی مجلس میں امام علیہ السلام اور دوسرے مذاہب کے علماء کے داخل ہونے کے بعد امام علیہ السلام نے اپنی بات شروع کی اور فرمایا : اے نصرانی ! تمہاری انجیل سے تمہارے عقیدہ کے مطابق تمہارے سامنے استدلال پیش کرتا ہوں .... (٤١) ۔

جاثلیق نے پوچھا ، عیسی بن مریم کے حواریوں کے متعلق خبر دیجئے کہ وہ کتنے لوگ تھے ، اسی طرح علمائے انجیل کتنے لوگ تھے ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : تم نے آگاہ شخص سے سوال کیا ہے ۔ پھر فرمایا : عیسی بن مریم کے حواریوں کی تعداد بارہ تھی اور ان سب میں سب سے افضل و اعلی ''لوقا'' تھا، لیکن نصاری کے بزرگ علماء تین تھے : یوحنائے اکبر، سرزمین باخ پر زندگی بسر کرتے تھے، دوسرا یوحنا قرقیسا میں اور یوحنائے دیلمی ، رجاز میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنی امت کے پیغمبر اور اہل بیت کے نام اسی کے پاس تھے اور اسی نے امت عیسی اور بنی اسرائیل کو یہ بشارت دی تھی (٤٢) ۔

اس دوران امام علیہ السلام نے (یہودیوں کے راہنماء) راس الجالوت ، صائبین، زرتشتی اور نصرانی عالم (٤٣) سے اپنے جواب کی تائید دریافت کی اور آخیر میں جاثلیق نے اقرار کیا کہ جو کچھ انجیل سے آپ نے نقل کیا ہے ہم اس کا اعتراف کرتے ہیں (٤٤) ۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے انجیل کے متعلق کچھ سوالات کئے اور پہلی انجیل کے ختم ہوجانے اور اس کی جگہ مرقس، لوقا، یوحنا اور متی کے ذریعہ لکھی گئی کتاب (عیسائیوں کے ہاتھوں میں موجودہ انجیل) کے بارے میں بیان کیا اور جاثلیق کے کلام میں تناقض کو بھی بیان کیا (٤٥) ۔

امام رضا علیہ السلام نے دوسرے مذاہب کے علماء سے بھی سوالات و جوابات کئے اور سب کے جوابات دئیے ۔

(مادی دانشور) عمران صابی سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

اسی طرح عمران صابی سے مناظرہ کی طرف بھی اشارہ کیا جاسکتا ہے جس کی اہمیت بہت زیادہ ہے ، کیونکہ یہ مناظرہ خدا شناسی کے باب میں ا ور خداوندعالم کی ذات اور صفات سے متعلق شبہات میں منعقد ہوا تھا جس کا امام علیہ السلام نے بہت اچھی طرح جواب دیا (٤٦) ۔

اسی طرح امام علیہ السلام نے اس مناظرہ میں ''ابداع'' ، ''مشیت'' اور ''ارادہ'' کے مفاہیم کی تشریح کی کیونکہ یہ ایک ہی حقیقت کے تین عنوان ہیں اور عالم ہستی میں پہلے ابداع کو بیان کیا اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امام علیہ السلام نے پہلے ابداع کو ''حروف البائ'' کا مسئلہ بیان کیا کہ تمام کلمات انہی سے وجود میں آتے ہیں اور ان حروف کے الگ الگ کوئی معنی نہیں ہیں (٤٧) ۔

عمران امام علیہ السلام سے اس کی زیادہ تفصیل معلوم کرتا تھا اور امام علیہ السلام اس کی وضاحت فرماتے تھے ،یہاں تک کہ امام علیہ السلام نے فرمایا : اے عمران  کیا تم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے ؟ عمران سب کے سامنے کہتا تھا : جی ہاں، اچھی طرح سمجھ گیا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ خداوندعالم ایسا ہی ہے جیسے آپ نے بیان کیا ہے اور اس کی وحدانیت کو ثابت کیا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ،اس کے بندہ ہیں جن کو ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے ۔پھر قبلہ کی طرف سجدہ میں گر گیا اور مسلمان ہوگیا ۔ یہاں پر تمام حاضرین کو بہت تعجب ہوا (٤٨) ۔

بصرہ میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں سے مناظرہ

ایک مفصل روایت کے مطابق جس کو قطب راوندی نے کتاب الخرائج میں ذکر کیا ہے ، جس وقت بصرہ میں فتنہ و فساد بہت زیادہ بڑھ گیا اور مختلف فرقوں اور مذاہب کے ماننے والوں نے وہاں پر اپنی کارکردگی کا مرکز قائم کردیا تو امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام اس فتنہ کی آگ کو خاموش کرنے کیلئے بصرہ تشریف لائے اور مختلف قوموں اور گروہوں کے ساتھ بحث و گفتگو کی اور ان سب کو ایک مجلس میں آنے کی دعوت دی ، عیسائی بزرگ علماء سے لے کر یہودی اور دوسرے تمام علماء کو دعوت دی ۔ پھر انجیل کی ان تمام مختلف فصلوں کو ذکر کیا جن میں انبیاء کی بشارت ذکر ہوئی ہے ، یہاں تک کہ توریت اور زبور کی مختلف بشارتوں کو ذکر کیا ۔

پھر اس مجلس میں موجود تمام لوگوں کی طرف رخ کرکے کہا : اے لوگو ! کیا جو شخص اپنے مخالفوں سے ان کی کتاب و شریعت اور آئین کے مطابق احتجاج و استدلال (٤٩) کرتا ہے وہ سب سے زیادہ انصاف کرنے والا نہیں ہے ؟ سب نے عرض کیا : جی ہاں ۔

فرمایا : یہ بات جان لو کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد امام فقط وہ ہے جو ان کے کاموں کو جاری رکھے اور مقام امامت صرف اس شخص کے لئے زیبا ہے جو مختلف مذاہب کے ماننے والوں سے خود ان کی کتابوں سے استدلال کرے ۔ عیسائیوں کو انجیل سے ، یہودیوں کو توریت سے اور مسلمانوں کو قرآن کریم سے قانع کرے اور تمام زبانوں کا جاننے والے ہو اورہر قوم سے اس کی زبان میں بات کرے اور ان تمام باتوں کے علاوہ متقی و پرہیزگار اور ہر عیب سے پاک و پاکیزہ ہو ۔ اسی طرح عدالت سے کام لیتا ہو ، حکیم، مہربان، در گذر کرنے والا، سچا، مشفق، نیک، امین او رمدبر ہو (٥٠) ۔ اور اس طرح امام علیہ السلام نے اہل بصرہ پر اپنی حجت تمام کردی اور حریم اسلام کی حفاظت میں اپنی ذمہ داری کو پورا کیا (٥١) ۔

آخری بات : (امام رضا (ع) کی علمی سیرت ، درس و عبرت اور پیغام)

١ ۔  اجمالی طور پر یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ تمام ادیان کے ماننے والوں کے ساتھ امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ توحیداور نبوت کے ملاک و معیار پر متمرکز تھا ، عیسی کی الوہیت کے عقیدہ کو باطل کرنا، یہودیوں کے بزرگ عالم راس الجالوت کے ساتھ مناظرہ میں''فارقلیطا'' کی تعبیر کے ذریعہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت کی گواہی دینا، زرتشتیوں کے ساتھ مناظرہ میں اعتدال و انصاف اور خداوندعالم کی وحدانیت کو بیان کرنا ، سلیمان مروزی (علم کلام کے عالم) سے مناظرہ میں علم الہی، امام کے سمیع و بصیراور خداوندعالم کے ارادہ اور فعل کو بیان کرنا ، خدا کی توحید کو ثابت کرنااور افعال خداوند عالم میں ''بداء'' جیسی سنتوں کو بیان کرنا ایسے مسائل ہیں جو آپ کی علمی سیرت میں نظر آتے ہیں (٥٢) ۔

٢ ۔  امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے مناظرے تاریخی اور گذشتہ مسائل سے متعلق نہیں ہے بلکہ حریم اسلام اورمکتب اسلام کی حفاظت کے لحاظ سے موجودہ اور ہر زمانہ کے معاشرہ کے لئے بہت اہم نمونہ عمل ہے (٥٣) ۔

٣۔  اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ اس زمانہ میں ایک دوسرے سے مرتبط ہونے کیلئے وسائل اس قدر وسیع نہیں تھے لیکن امام علیہ السلام نے مامون کے دربار میں مناظروں کے جلسہ منعقد کرکے اس زمانہ میں ایک دوسرے سے مرتبط ہونے کے موثرترین وسائل سے استفادہ کیا ،کیونکہ ان جلسوں کی خبریں اس وقت کے خاص ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اسلامی ملکوں میں منتشر ہوتی تھیں ۔ امام علیہ السلام اس طرح سے مامون کی تخریبی سازشوں کو ختم کردیا اوراس کے منصوبوں کو ناکام بنادیا اور اس زمانہ میں اسلامی معاشرہ کو مختلف انحرافوں سے محفوظ رکھا (٥٤) ۔

٤ ۔  مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امام علیہ السلام کی ملاقات متعدد لحاظ سے ہمارے لئے درس عبرت ہے ، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ بہت ہی سلیقہ اور منطق کے ساتھ پیش آئیں تاکہ مسلمانوں کے اوپر جنگ نہ تھونپی جائے ، ان کواسلحہ نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ منطق و استدلال سے آگے بڑھنا چاہئے (٥٥) ۔

٥ ۔  منطق اسلام کی قدرت اس قدر زیادہ ہے کہ اسے دوسرے مذاہب کی منطق و استدلال کی کوئی پرواہ نہیں ہے اوریہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام میں ان کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عقاید کو منتشر کریں اوراپنے جوابات کو ہم سے آکر دریافت کریں ۔ یہاں تک کہ جو لوگ خداوند عالم اور ا نبیاء پر پر ایمان نہیں رکھتے تھے ان کو بحث کرنے کی آزادی دی جاتی تھی (٥٦) ۔

٦ ۔  علمائے اسلام کو ہر زمانہ میں تمام مکاتب و مذاہب سے آگاہ ہونا چاہئے اور ان کی منطق کے ذریعہ ان کے ساتھ بحث و گفتگو کرنا چاہئے اور آئین اسلام کی برتری کو ہر دوسرے مکتب پر ثابت کرنا چاہئے (٥٧) ۔

٧ ۔  علمائے اسلام کو پوری دنیا میں موجود میڈیا کے تمام وسائل سے اچھی طرح استفادہ کرنا چاہئے ، اسلام اور تعلیمات قرآن کی آواز کو پوری دنیا کے کانوں تک پہنچانا چاہئے (٥٨) ۔

اس مقالہ کے اختتام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی علمی تعلیمات و معارف کو حاصل کرنے کیلئے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی گرانبہا کتاب ''مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر'' میں مراجعہ فرمائیں ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٧ ۔

٢ ۔  سورہ ابراہیم ، آیت ٢٦ ۔

٣ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ١٤۔

٤ ۔  تاریخ التمدن الاسلامی ، جلد ١ ، صفحہ ١٢٥ ۔

٥ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ١٥۔

٦ ۔  بنی عباس نے جو ظلم وستم ڈھائے ہیں وہ بنی امیہ نے کبھی نہیں کئے ۔ ایک شاعر کہتا ہے : تاللہ ما فعل امی فیھم۔۔ معشار ما فعلت بنوالباس ۔ خدا کی قسم ! بنی امیہ نے علویوں پر بنی عباس کے ظلم و ستم کا دسواں حصہ بھی ظلم نہیں کیا ( شرح میمیة ابوفراس ، صفحہ ١١٩) ۔

٧ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ١٥۔

٨ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ١٧۔

٩ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ١٨۔

١٠ ۔  کہا جاتا ہے : مامون نے اپنے بہت سے سپاہی ، خاندان ابوطالب کے پاس (جو کہ مدینہ میں رہنے تھے) بھیجا اور انہی میں امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام بھی تھے ، وہ سپاہی ان کے پورے خاندان کو مدینہ سے خراسان کی طرف لے کر روانہ ہوئے ، مامون نے حکم دیا تھا کہ ان کو بصرہ کے راستہ سے لے کر آنا ، جو شخص ان کو مدینہ سے لے کر آیا اس کا نام ''جلودی'' تھا ، وہ ان کو لے کر خراسان میں مامون کے پاس آیا اور مامون نے ان کو ایک الگ گھر میں رکھا اور حضرت رضا علیہ السلام کو ایک الگ گھر دیا اور ان کا بہت زیادہ احترام کیا (الارشاد ، صفحہ ٢٩٠) ۔

١١ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ١٨۔

١٢ ۔  مامون نے امام کوخلافت عطا کرنے کی پیشنہاد بیان کی ۔ امام علیہ السلام نے بہت ہی شدت کے ساتھ اس کو قبول کرنے سے انکار کیا ۔ مامون نے کہا : پھر میں آپ کو اپنا ولیعہد بناتا ہوں ، امام علیہ السلام نے فرمایا : مجھے اس کام سے بھی معاف کر ۔ . فقال له المأمون كلاما فيه كالتهديد له على الامتناع عليه و قال فى كلامه: ان عمر بن الخطاب جعل الشورى فى ست احدهم جدك امير المؤمنين على بن ابى طالب عليه السلام و شرط فيمن خالف منهم ان يضرب عنقه و لابد من قبولك ما اريده منك، فانى لا اجد محيصاً عنه ۔ مامون نے دھمکی دینے والی بات کہی اور اپنی باتوں کے درمیان کہا : عمر بن خطاب نے خلافت کو چھے لوگوں کی شوری میں رکھا ،جن میں سے ایک آپ کے جد امجد امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے اور شرط رکھی کہ ان چھے میں سے جو بھی مخالفت کرے اس کو قتل کردیا جائے اورآپ مجبورا اس راستہ کو انتخاب کریں جو میں چاہتا ہوں ، میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے (الارشاد ، صفحہ ٢٩٠) ۔

١٣ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ١٩۔

١٤ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٢٠۔

١٥ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٢٠۔

١٦ ۔  مصر کے نابینا دانشور ڈاکٹر طہ حسین نے مسلمانوں کا دوسروں کی تہذیب خصوصا یونانی تہذیب سے آشنا ہونے کی تاثیر کے متعلق لکھا ہے : اور پھر دوسری تمام تہذیبوں خصوصا یونانی تہذیب سے آشنا ہوگئے ، ان سب نے مسلمانوں پر اپنا گہرااثر چھوڑا اور اس کو اپنے دین سے دفاع کرنے کیلئے وسیلہ قرار دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور انسان کی قاصر عقل کو سب چیزوں پر مسلط کردیا اور انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ معرفت کا سرچشمہ عقل ہے اور آہستہ آہستہ اپنے آپ کو سرچشمہ وحی سے بے نیاز سمجھنے لگے ، عقل پر حد سے زیادہ ایمان رکھنے کی وجہ سے یہ لوگ حق سے بہت دور ہوگئے، اسی غلطی کی وجہ سے اختلافات کے دروازے ان کی طرف کھل گئے اور ہر قوم اپنے غلط استدلال سے تمسک کرنے لگی اور ان کے فرقوں کی تعداد ستر سے زیادہ ہوگئی (آئین ا سلام ، صفحہ ٢٦٦ ) ۔

١٧ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ٢٧۔

١٨ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٢٣۔

١٩ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٢٣۔

٢٠ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٢٤۔

٢١ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٢٧۔

٢٢ ۔  کیونکہ بہت سی فلسفی اور علمی کتابیں ،یونانی اور سریانی زبان سے عربی زبان میں ترجمہ ہوئی تھیں اور لوگ عقلی و استدلالی علوم کی طرف متوجہ ہوگئے تھے ، اس کے علاوہ خلیفہ عباسی مامون (١٩٥ تا ٢١٨ ھ) معتزلی مذہب تھا اورمذاہب میں عقلی استدلال کو پسند کرتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس زمانہ میں عقلی اور استدلالی بحثیں کامل طور پر رائج ہوگئی ۔

٢٣ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٢٨۔

٢٤۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٢٩ ۔

٢٥ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٠ ۔

٢٦ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٠ ۔

٢٧ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٤ ۔

٢٨ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٣٤۔

٢٩ ۔  جاثلیق (ثاء اور لام پر زیر کے ساتھ) ، یونانی لفظ ہے اوراس کے معنی رئیس اسقف اور عیسائی راہنما کے ہیں اور ایسا لقب ہے جو نصاری کے بزرگ علماء کو دیا جاتا تھا اورکسی خاص شخص کا نام نہیں ہے (المنجد) اور شاید یہ معرب کاتولیک ہو ۔

٣٠ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٣٦۔

٣١ ۔  یہودیوں کے بزرگ اور عالم کا لقب ''راس الجالوت '' ہے ( یہ بھی کسی کا خاص نہیں ہے)۔

٣٢ ۔  ''ہربز'' اکبر یا ''ھیربد'' اکبر ایسا لقب ہے جو زردشتیوں سے مخصوص ہے اوراس کے معنی مذہبی بزرگ راہنما، زردشتی قاضی اور آتشکدہ کے خادم کے ہیں ۔

٣٣ ۔  عمران صابی جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ مذہب صابئین سے دفاع کرتا تھا (صابئین وہ گروہ ہے جو ستارہ کی پرستش کرتے ہیں لہذا کبھی کبھی ان کو ''ستارہ پرست'' بھی کہتے ہیں ، پہلے ان کا مرکز عراق میں شہر ''حران'' تھا ، پھر یہ لوگ عراق اور خوزستان کے دوسرے علاقوں میں چلے گئے ۔یہ لوگ اپنے عقاید کے مطابق اکثر و بیشتر بڑی نہروں کے پاس زندگی بسر کرتے ہیں اور آج بھی ان کے بہت سے گروہ اہواز اور دوسرے علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔

٣٤ ۔  مامون کی حکومت کے دوران خراسان میں علم کلام کا سب سے مشہورعالم'' سلیمان مروزی '' تھا اور مامون اس کا بہت زیادہ احترام کرتا تھا ۔

٣٥ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٣٧ ۔

٣٦ ۔  علی بن محمد جھم ،اہل بیت علیہم السلام کا دشمن اور ناصبی تھا ۔ مرحوم صدوق نے علی بن محمد جھم سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام علی رضا علیہ السلام سے محبت کرتا تھا ، لیکن شیخ صدوق نے اسی روایت کے ذیل میں فرمایا ہے : ھذا الحدیث غریب من طرق علی بن محمد بن الجھم مع نصبہ و بغضہ و عداوتہ لاھل البیت علیہم السلام (عیون اخبار الرضا ، جلد ١ ، صفحہ ١٩٥ تا ٢٠٤ ) ۔

صاحب جامع الرواة نے بھی یہی بات ان کی سوانح حیات میں ذکر کی ہے (جامع الروا ، جلد ١ ، صفحہ ٥٩٦ تا ٥٩٧) ۔ فضل بن سھل ١٥٤ تا ٢٠٢ ھ ) ۔

٣٧ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٣٨۔

٣٨ ۔  فضل بن سہل (١٥٤ تا ٢٠٢ ھ) ، مامون کا مشہور وزیر ہے جو بچپنے ہی میں دربار خلافت میں چلا گیا تھا اور ١٩٠ ہجری میں مامون کے ذریعہ دین مجوس سے مسلمان ہوگیا ۔ وہ ''ذوالریاستین'' کے لقب سے مشہور تھا ، یہ شخص سیاست باز اور جنگجو تھا اور ٢٠٢ ہجری میں شہر سرخس کے ہمام میں قتل کردیا گیا (وفیات الاعیان ، جلد ١ ، صفحہ ٤١٣) ۔ بعض مورخین کے عقیدہ ہے کہ علی بن موسی الرضا علیہ السلام کو ولی عہد بنانے کیلئے فضل بن سہل ہی نے مامون کو مجبور کیا تھا یعنی ایرانیوں نے اپنے سیاسی اور اجتماعی فشار کے تحت فضل بن سہل کے ذریعہ مامون کو مجبور کیا کہ وہ امام رضا کو ولی عہد بنائے (تاریخ بیہقی ، صفحہ ١٤١ ) لیکن موجودہ قرائن سے یہ بات ثابت نہیں ہے ۔

٣٩ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٣٨۔

٤٠ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩ ۔

٤١ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٤٤۔

٤٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٧ ۔

٤٣ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٣٩ ۔

٤٤ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٠ ۔

٤٥ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥١ ۔

٤٦ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٣ ۔

٤٧ ۔  یہ تعبیر ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خداوندعالم نے سب سے پہلے عالم کو تشکیل دینے والے اصلی مواد ''الفبای عالم'' کو ایجاد کیا ہو ، یہ مواد الگ سے کسی نظام کو بیان نہیں کررہا ہے ، لیکن ان کی ترکیب سے دوسری مختلف موجودات وجود میں آتی ہیں ، جس طرح حروف ابجد کو ترکیب دینے سے مختلف لغات وجود میں آتی ہیں ۔

٤٨ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٦٤۔

٤٩ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٩٣۔

٥٠ ۔  الخرائج و الجرائح ، صفحہ ٢٠٤ تا ٢٠٦ (خلاصہ کے ساتھ) ۔

٥١ ۔  مناظرات تاریخی امام رضا علیہ السلام با پیروان مذاہب و مکاتب دیگر ، صفحہ ٩٤۔

٥٢ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٣٦ و ٩٧ ۔

٥٣ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٦٤ ۔

٥٤ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ٩٥ ۔

٥٥ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٩٦ ۔

٥٦ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٩٦۔

٥٧ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٩٧ ۔

٥٨ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٩٧ ۔

٥٩ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٩٧ ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:47:21 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 867