حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں مکتب امام صادق (علیہ السلام) کی نشانیاں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں مکتب امام صادق (علیہ السلام) کی نشانیاں

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: جو لوگ اسلامی نظم و ضبط کو جنگ اور اقتصادی پابندی کے ذریعہ تسلیم ہونے پر مجبور نہیں کرسکے وہ اب شبہات اور اعتراضات کے ذریعہ جوانوں میں نفوذ کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں یعنی عصر امام صادق علیہ السلام کے تمام شرایط یہاں بھی واضح طور پر نظر آرہے ہیں ۔
کلمات کلیدی:

فقہ جعفری کے بانی اور موسس حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی شہادت کے موقع پر آپ کے چاہنے والوں اور تمام مسلمانوں کے لئے امام صادق (ع) کے علمی اور فکری اہم گوشوں کی تحقیق کرنا بہت ضروری ہے ۔

لہذا مکتب جعفری کے موسس ہونے کے عنوان سے آپ کی علمی اور فکری کارکردگی اور اسلامی معاشرہ سے شبہات کو ختم کرنے میں آپ کے بے نظیر کردار کی تحلیل اور تحقیق نے ہمیں اس بات پر مجبور کردیا کہ ہم عظیم الشان مرجع عالی قدر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے قیمتی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کے بعض اہم زاویوں کی تحقیق کریں ۔

لہذا اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے وہ اقوال ہیں جو ابھی تک منتشر نہیں ہوئے ہیں، معظم لہ نے ٢٥ شوال ١٤٣٥ ھ کو امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی شہادت کے موقع پر آٹھویں امام حضرت علی رضا (علیہ السلام) کے صحن جامع رضوی میں ایک تقریر کی تھی لہذا ہم اس سال امام کی شہادت کے موقع پر آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بیانات کو منتشر کر رہے ہیں ۔

رئیس مذہب کا عنوان امام صادق علیہ السلام کے ساتھ کیوں بیان کیا جاتا ہے ؟

اپنی بات کے آغاز پر اس اہم مسئلہ کو بیان کرنا ضروری ہے کہ رئیس مذہب کا عنوان امام صادق علیہ السلام کے ساتھ کیوں لگا ہوا ہے ؟ اصولی طور پر یہ عنوان چھٹے امام کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ رئیس مذہب امام علی بن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں اور دوسرے معنی میں خود خاتم الانبیاء رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ آنحضرت (ص) نے حضرت علی (ع) کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا : '' یا علی انت و شیعتک ھم الفائزون'' ۔ یا علی ! تم اور تمہارے شیعہ ہی قیامت کے روز کامیاب و کامران ہیں ۔

اس بناء پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کو شیعہ کا لقب عنایت فرمایا ، یہ بات شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں بیان ہوئی ہے ۔

اسی طرح یہ بات بھی ضروری ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے خانہ نشین ہونے کی وجہ سے بہت کم احکام نشر کئے اور اپنی پانچ سالہ حکومت میں بھی اکثر وبیشتر مشکلات، مخالفتوں اور جنگوں میں مشغول رہے ۔

حضرت علی علیہ السلام کے بعد امام حسن علیہ السلام او رامام حسین علیہ السلام کے زمانہ میں بنی امیہ نے اپنا شکنجہ کس رکھا تھا جس کی وجہ سے حسنین علیہما السلام کو بھی نشر احکام کا موقع نہیں مل سکا ۔

امام سجاد علیہ السلام کے زمانہ میں یہ شکنجہ بہت شدید تھا اور نوبت یہ پہنچ گئی تھی کہ دشمنان اہل بیت نے حکم صادر کردیا تھا کہ شیعیان علی کو قتل کردیا جائے ،لہذا کسی میں یہ کہنے کی جرائت نہیں تھی کہ ہم علی کے چاہنے والے ہیں، یا کوئی بھی امام سجاد (ع) کے پاس جانے کی جرائت نہیں کرتا تھا ، اگر کسی کا نام علی تھا تو وہ اپنا نام چھپانے کی کوشش کرتا تھا ، یہ ماحول احکام کو نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔

 

امام صادق علیہ السلام اور علوم کو منتشر کرنے کا اہتمام

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امام باقر علیہ السلام کی امامت کے آغاز میں بنی امیہ کی حکومت متزلزل ہو رہی تھی ،بنی امیہ اپنے اختلافات کو ختم کرنے میں مشغول تھے ، جس کی وجہ سے امام علیہ السلام کو کچھ آزادی نصیب ہوئی ، امام باقر علیہ السلام نے علم و دانش اور احکام کو نشر کرنے کا چراغ روشن کردیا ، جو لوگ جہالت، گمراہی اور تاریکی میں تھے وہ اس نورانی چراغ کو دیکھ کر آپ کی طرف دوڑنے لگے اوریہ مسئلہ امام صادق علیہ السلام کے زمانہ میں اپنے عروج و کمال تک پہنچ گیا ۔

اور ایک دن وہ آیا جب آپ کی یونیورسٹی سے چار ہزار طالب علم ، دین اور احکام دین کو حاصل کرکے باہر نکلے ،ان لوگوں نے عقاید،معارف، فقہ، اخلاق ، تفسیر اور دوسرے تمام علوم میں آپ کے بیانات سے استفادہ کیا اور سب جگہ پر یعنی مدینہ، کوفہ او رمکہ میں امام صادق علیہ السلام کے علمی مکتب کی گفتگو ہوتی تھی ۔

راوی کہتا ہے ، میں مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں موجود تھا ، میں نے دیکھا کہ نو سو لوگ جمع ہیں جو آپس میں بحث و گفتگو کر رہے ہیں اوروہ سب کہہ رہے ہیں ''قال الصادق ''.... ''قال الصادق '' .... اوراس طرح آپ کے ذریعہ علم و دانش منتشر ہوگیا ،لہذا اگر آپ کو رئیس مذہب کہا جاتا ہے تو اس کی دلیل علوم کومنتشر کرنا ہے ۔

ابوزہرہ نے کتاب'' الامام الجعفرالصادق'' میں ایک روایت نقل کی ہے جو اس مضمون سے بہت زیادہ نزدیک ہے ،منصور دوانیقی نے جب امام صادق علیہ السلام کی علمی شہرت کو دیکھا تو گھبرا گیا اور سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہی علمی شہر بنی امیہ کی حکومت کے زوال کا سبب نہ بن جائے لہذا اس نے کہا کہ عالم کا جواب عالم کے ذریعہ دیا جائے ۔

لیکن منصور دوانیقی اپنے زمانہ کا سب سے بڑا عالم ابوحنیفہ کوسمجھتا تھا ، اس نے ابوحنیفہ کو بلایا اور کہا کہ میں نے تمہارے لئے ایک اہم دستور العمل تیار کیا ہے، لہذا تم چالیس اہم مسائل تیار کرو اور میں امام صادق علیہ السلام کو دعودت دوں گا اور پھر تم وہ چالیس مسئلہ ان سے معلوم کرنا تاکہ ہم سب جگہ یہ پروپگنڈہ کرسکیں کہ امام صادق سے بھی بڑا عالم موجود ہے ۔

 ابوحنیفہ (مذہب حنفی کے راہنما) نے کہا : میں نے جعفر بن محمد سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ہے ،لہذا تم نے مجھے بہت سخت کام دیدیا ہے ، میں اس شخص کے علم کو جانتا ہوں، اگر میں ان پر غلبہ حاصل کرنا چاہوں تویہ آسان کام نہیں ہے ۔

منصور دوانیقی نے امام صادق علیہ السلام کو بلایا اوربہت ہی عزت و احترام کے ساتھ اپنے پاس بٹھایا اور کہا ، ابوحنیفہ کا شمار عراق کے فقہاء میں ہوتا ہے ،اس کے پاس کچھ مسائل ہیں کیا آپ ان مسائل کو بیان کرنے کی اجازت دیتے ہیں ؟ ، ابوحنیفہ اپنے سوال پیش کرتے رہے ، لیکن امام کے جواب ان سوالوں سے بہتر تھے ۔

ابوحنیفہ نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : پھر منصور نے میری طرف رخ کیا اور کہا : اے ابوحنیفہ ! اپنے سوالات کو بیان کرو۔ میں نے بھی اپنے سوال پیش کئے اور وہ مجھے جواب دیتے تھے او رکہتے تھے : اس کا جواب تمہارے نزدیک یہ ہے اوراہل مدینہ یہ کہتے ہیں اور ہمارا نظریہ یہ ہے ۔ ان کا نظریہ کبھی مدینہ کے علماء سے موافق ہوتا تھا اور کبھی ہم سب سے الگ ہوتا تھا ، یہاں تک کہ میں نے وہ چالیس مسئلہ پوچھ لئے اور وہ اسی طرح جواب دیتے رہے ۔

اس کے بعد ابوحنیفہ کہتے ہیں : کیا ہم نہیں کہتے ہیں کہ عالم ترین شخص وہ ہے جو سب لوگوں سے زیادہ مختلف اقوال سے آگاہ ہو (اس بناء پر جعفر بن محمد تمام لوگوں سے زیادہ عالم تھے ) (١) ۔ (٢) ۔

جب امام صادق علیہ السلام نے ان تمام مسائل کا اچھی طرح جواب دیدیا تو منصور کے دل میں آپ کی طرف سے بغض و کینہ بھر گیا اور اس نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیاکیونکہ وہ اس وقت اپنے آپ کیلئے خطرہ محسوس کر رہا تھا ۔

تشیع کی حفاظت ،امام صادق علیہ السلام کے مکتب کی بنیادی خصوصیت

یہ بات بھی واضح ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اسلام اور مکتب تشیع کی دوسری دو اہم خدمتیں انجام دی ہیں اور اگر آپ کو رئیس مذہب کہا جاتا ہے تو ان دونوں خدمات کا اس میں اہم کردار پایا جاتا ہے ۔

اول :  ہم جانتے ہیں کہ اس زمانہ میں اسلام بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا ، اس زمانہ کے تمام ممالک اسلام کے پرچم تلے جمع ہوگئے تھے ، لہذا چونکہ یہ نئے مسلمان، مختلف مذاہب اور قوموں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے عقاید و رسومات بھی الگ تھیں ، لہذا مسلمانوں کے درمیان انحرافی تعلیمات داخل ہوگئیں ۔

عیسائیوں،زرتشتیوں ، فلاسفہ یونان اور روم نے بہت سے مسائل کو اسلامی معاشرہ میں داخل کردیا ،یہاں تک کہ مادی مکاتب کے ماننے والے بھی اپنے عقاید کو علی الاعلان اسلامی معاشرہ میں بیان کرتے تھے ، امام صادق علیہ السلام نے اس زمانہ میں ان التقاطی اور نو ظہور افکار و نظریات کا مقابلہ کیا اور اسلام اصیل کو تمام لوگوں کے سامنے پیش کیا اور آپ نے عملی طور پر بھی اسلام معاشرہ میں پیدا ہونے والے نئے شبہات کا اچھی طرح جواب دیا ۔

دوم :   اسلام میں نفوذ کرنے والوں کا خطرہ بہت زیادہ تھا کیونکہ دشمن دیکھ رہا تھا کہ اسلام کے خلاف پروپگینڈہ کرنے کا یہ سنہرا موقع ہے ،لہذا وہ اپنے آپ سے کہتے تھے کہ اگر ہم اسلامی حکومت کوساقط نہیں کرسکتے تو کم سے کم اسلامی عقاید کو اندر سے ختم کرسکتے ہیں اور مسلمانوں کو اسلام سے دور کرسکتے ہیں ،نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ امام صادق علیہ السلام کے صحابی مفضل بن عمر کہتے ہیں : میں نے مسجد نبوی میں آنحضرت (ص) کی قبر کے پاس ابن ابی العوجا مادی کو دیکھا جو مادی گری (خدا اور دین کے انکار) کی تبلیغ کر رہا تھا ، میں نزدیک گیا اور اس کو اس کام سے منع کیا ،اس نے جواب میں کہا کہ مجھے لگتا ہے تم امام صادق کے صحابی ہو ، تمہارا امام میرے ساتھ اس طرح گفتگو نہیں کرتا اور مجھ سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتا بلکہ میرے سوالوں کا جواب اس طرح دیتا ہے کہ میں حیران و پریشان ہوجاتا ہوں ۔

 مفضل کہتے ہیں ، جیسے ہی میں نے یہ جملہ سنا ، امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا : یابن رسول اللہ ، اسلام خطرہ میں ہے ، قبر پیغمبر (ص) کے پاس مادی گری اور خدا کا انکار ؟ ! آپ نے فرمایا : کل صبح طلوع آفتاب کے وقت میرے پاس آئو تاکہ خدا شناسی کے دلائل تمہارے سامنے بیان کروں ،مفضل کہتے ہیں ،صبح سے ظہر تک آسمان، زمین، ستاروں، حیوانات، دریا ، پہاڑ اور بیابانوں کے متعلق خدا شناسی کے دلائل بیان کرتے رہے ، یہاں تک کہ اذان ظہر ہوگئی ،آپ نے فرمایا : جائو ا ور کل صبح اول وقت آنا ، دوسرے دن میں پھر گیا اور ظہر تک آب خدا شناسی کے دلائل بیان کرتے رہے ، لیکن یہ معارف اور تعلیمات ختم نہیں ہوتی تھی اور میں چار دن تک اسی طرح استفادہ کرتا رہا ۔

یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہمارے پاس توحید مفضل کے نام سے ایک کتاب ہے جس میں امام صادق علیہ السلام کی چار رزوہ تعلیمات کا مجموعہ ہے ،یعنی امام علیہ السلام دشمنوں کے پروپگینڈہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور ان کا مقابلہ کیا ، لہذا اس طرح آپ رئیس مذہب ہیں اور پھر کیوں نہ رئیس مذہب ہوں ؟

جعفری یونیورسٹی ،مذہب تشیع کی حفاظت میں بنیادی خصوصیت

دوسری اہم بات یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے علمی مکتب اور علم و دانش کی جد وجہد میں معرفت کرنا حاصل کرنا ضروری ہے ، آپ کے شاگردوں میں سے ہر شاگرد ایک علم میں ماہر تھا ، لہذا امام صادق (علیہ السلام) نے اپنے علم کے ذریعہ اپنے ہر شاگرد کو ایک خاص علم سے مخصوص کردیا ۔

روایت کا مضمون یہ ہے کہ ایک شامی نے امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ کر عرض کیا کہ قرآن کے متعلق کچھ سوالات ہیں، آپ ان کے جوابات عنایت فرمادیجئے ، آپ کے اصحاب چاروں طرف بیٹھے ہوئے تھے ، امام نے فرمایا :  اے حمران ، قرآن کے متعلق اس شخص کے سوالوں کے جوابات دیدو ۔ اس شخص نے کہا : میں آپ کے جوابات سننا چاہتا ہوں ، امام نے فرمایا : اس کا جواب میرا جواب ہے ،اگر تم نے اس پر غلبہ حاصل کرلیا تو گویا مجھ پر غلبہ حاصل کرلیا، لہذا اس شامی شخص نے سوال کرنے شروع کئے اور اس قدر سوال کئے کہ وہ خود تھک گیا ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا : تم نے حمران کو کیسا پایا ؟ اس شامی شخص نے عرض کیا : قرآنی مباحث میں بہت زیادہ ماہر اور قوی پایا ہے ۔

اس شامی نے کہا : ادبیات سے متعلق کچھ سوال کرنے ہیں ، امام نے فرمایا : میرے صحابی ابان بن تغلب ، ادبیات میں بہت ماہر ہیں ، تم سوال کرو ، وہ جواب دیں گے ۔

امام نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اور بھی سوال موجود ہیں ؟ اس نے کہا ،جی ہاں فقہ کے متعلق سوال کرنے ہیں ، فرمایا : زرارہ فقیہ ہے ،انہوں نے میرے مکتب میں فقہ حاصل کی ہے ، اس نے زرارہ سے فقہی سوال کئے اور ان کے جوابات سے قانع ہوگیا ۔

اپنے سوالات کو جاری رکھتے ہوئے اس شامی شخص نے کہا : عقاید کے متعلق بھی سوال درپیش ہیں ، امام نے فرمایا : وہ شخص جس کو تم دیکھ رہے ہو ؟ اس کا نام ''مومن طاق'' ہے ، وہ عقایداور علم کلام میں ماہر ہیں ، تمہیں جو سوال کرنا ہو ، ان سے پوچھو ، اس نے سوال کئے اور قانع ہوگیا ۔

اس کے بعد اس شامی شخص نے کہا : آپ کے اصحاب تمام موضوعات میں ماہر ہیں ۔

اس بناء پر مکتب امام صادق (علیہ السلام) بہت ہی جامع اور بزرگ تھا ، لہذا اس وقت تفسیر، عقاید، فقہ اور اصول وغیرہ میں جو بھی کتاب نظر آتی ہے اس میں جگہ جگہ قال الباقر (علیہ السلام) اور قال الصادق (علیہ السلام) نظر آتا ہے ۔

ان دونوں اماموں کی حدیثیں بہت زیادہ ہم تک پہنچی ہیں اسی وجہ سے ان کو رئیس مذہب کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام کے علم و دانش کا مکتب بہت زیادہ وسیع ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر امام باقر اور امام صادق علیہما السلام اور ان کے بعد امام رضا علیہ السلام ، دشمنوں کے شبہات اور اعتراضات کا جواب نہ دیتے اور اسلام سے دفاع نہ کرتے تو یقینا اسلام متزلزل ہوجاتا ۔

لہذا ان بزرگ اماموں نے بنی عباس کے سامنے علی الاعلان قیام نہیں کیا جس طرح زید بن علی، یحیی بن زید اور دوسرے بعض لوگوں کے قیام کی طرح انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن انہوں نے علمی قیام کیا اور اسلام کو نجات دلائی ۔

جابر بن حیان بھی اسلامی دانشور اور عالم متبحر ہیں جن کو آج مغرب میں علم شیمی کے موجد کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے ۔

آج جو علم شیمی پایا جاتا ہے وہ جابر بن حیان کی کتابوں کا نتیجہ ہے ۔

جابر بن حیان نے دوسری ہجری قمری میں امام صادق علیہ السلام جیسے راہنمائوں کے درمیان پرورش حاصل کی (٣) ، جابر بن حیان بہت ہی افتخار کے ساتھ کہتے تھے ،میں امام صادق علیہ السلام کا شاگرد ہوں ۔

(مذہب مالکی کے راہنما) مالک بن انس نے امام صادق علیہ السلام کے متعلق کہا ہے : میں ان کے پاس بہت زیادہ جاتا تھا اور آپ کو فقط تین حالتوں میں دیکھتا تھا : یا آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے ، یا روزہ سے ہوتے تھے اور یا قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہتے تھے ۔ (اس زمانہ میں ) علم ، عبادت اور پرہیزگاری کے لحاظ سے جعفر بن محمد سے برتر کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور کسی کان نے نہیں سنا اور کسی بھی انسان کے دل میں یہ چیز نہیں آئی (٤) ۔

ابوحنیفہ کہتے ہیں : ''لولا السنتان لھلک النعمان '' ۔ اگر دو سال (امام صادق علیہ السلام کے علم سے استفادہ نہ کرتا) نہ ہوتے تو نعمان (ابوحنیفہ کا نام ہے) ہلاک ہوجاتا (٥) ۔

آخری بات :

اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے مکتب نے ہمیں پیغام دیا ہے ، ہمارے آج کے حالات اس زمانہ کے حالات کی طرح ہیں ۔

غربی میڈیا امت اسلامی کے عقاید اور افکار کو ختم کرنے کیلئے دنیا کے گوشہ گوشہ سے شبہات اور اعتراضات کو بیان کرتے ہیں ، لیکن ان میں جرائت نہیں ہے کیونکہ جو لوگ اسلامی نظم و ضبط کو جنگ اور اقتصادی پابندی وغیرہ کے ذریعہ تسلیم ہونے پر مجبور نہیں کرسکے وہ اب شبہات اور اعتراضات کے ذریعہ جوانوں میں نفوذ کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں یعنی عصر امام صادق علیہ السلام کے تمام شرایط یہاں بھی واضح طور پر نظر آرہے ہیں ۔

لہذا یہاںپر امام صادق علیہ السلام کے خالص مکتب سے استفادہ کرنا چاہئے ، اسی بناء پر تمام علماء اور دانشوروں کو خصوصا حوزہ علمیہ کے اساتید کو چاہئے کہ اسلامی مختلف علوم و فنون سے آشنائی حاصل کریں اور مخالفین کے شبہات او راعتراضات کا جواب دیں اور معاشرہ کے جوانوں کو فکری اور عقیدتی لحاظ سے متزلزل نہ ہونے دیں ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ظالم و جابر عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے حکم سے امام صادق علیہ السلام کو١٤٨ ہجری میں جس وقت آپ کی عمر ٦٥ سال تھی ، زہر کے ذریعہ شہید کیا گیا ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١۔  سیر اعلام النبلاء ، جلد ٦ ، صفحہ ٢٥٨ ۔

٢ ۔  دائرة المعارف ، فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ١٠٢ ۔

٣ ۔  اسلام و آزادی بردگان ، صفحہ ٤٢ ۔

٤ ۔  دائرة المعارف ، فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ١٠٢ ۔

٥ ۔  دائرة المعارف ، فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ١٠٢ ۔

 

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:46:06 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 736