حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں واقعہ غدیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ولایت حضرت علی علیہ السلام کی خصوصیات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں واقعہ غدیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ولایت حضرت علی علیہ السلام کی خصوصیات

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: ولایت تمام چیزوں سے زیادہ اہم ہے ،کیونکہ امام علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اسلام کی دوسری بنیادی خصوصیات کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ دار ولایت ہے ۔
کلمات کلیدی:

امام معصوم (علیہ السلام) کی حاکمیت، ولایت اور امامت کیلئے ''غدیر '' ایک اہم اور تاریخی واقعہ ہے جس کی بنیاد اسلام اصیل کو جاری و ساری رکھنے کیلئے دسویں ہجری قمری میں ١٨ ذی الحجہ کورکھی گئی ،لہذا ''ولایت'' کی معرفت کی گہرائی اور غدیری تہذیب میںامام معصوم علیہ السلام کی پیروی دو ایسی خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے غدیر میں غور وفکر کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے واقعہ غدیر کے پیش نظر، ولایت کے تمام پہلوئوں پر بحث کی گئی ہے ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے کلام میں غدیر خم کا اجمالی پس منظر

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عمر کے آخری حصہ میں حجة الوداع کے تمام مناسک، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی موجودگی میں بہت ہی شان و شوکت کے ساتھ انجام پائے ۔ اس سفر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ صرف مدینہ ہی کے لوگ نہیں تھے بلکہ جزیرة ا لعرب کے مختلف علاقوں کے مسلمان بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ اس تاریخی افتخار کو حاصل کرنے کیلئے تشریف لائے تھے ۔

ہجرت کے دسویں سال جمعرات کے دن جب عید قربان کو پورے آٹھ دن گزر چکے تھے ، اچانک پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ''غدیر خم'' کے خشک اور تپتے ہوئے صحرا میں اپنے ساتھیوں کو رکنے کے حکم دیا ۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے سب کو خبردار کیا کہ سب لوگ ایک نئے الہی پیغام کو سننے کیلئے تیار ہوجائیں ... لہذا اونٹوں کے کجائووں کا منبر بنایا گیا اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) منبر کے اوپر تشریف لے گئے اور سب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد و ثنا بیان کی اوراپنے آپ کو خدا کے حوالہ کیا ، پھر لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس طرح فرمایا : میں بہت جلد خداوندعالم کی دعوت پر لبیک کہنے والا ہوں ، میں تمہارے درمیان سے جانے والا ہوں ، میں مسئول ہوں اور تم بھی مسئول ہو ، تم میرے بارے میں کس طرح شہادت دیتے ہو ؟ (١) ۔

لوگوں نے بلند آواز سے کہا : ''نشھد انک قد بلغت و نصحت و جھدت فجزاک اللہ خیرا '': ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے رسالت کی ذمہ داری کو پورا کیا اور خیرخواہی کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور ہماری ہدایت کی راہ میں اپنی پوری سعی و کوشش کی ، خداوندعالم آپ کو جزائے خیر دے (٢) ۔

پھر فرمایا : کیا تم خدا کی وحدانیت ، میری رسالت ، قیامت کی حقانیت اور اس دن مُردوں کو زندہ کرنے کی گواہی دیتے ہو ؟ ! سب نے ایک ساتھ کہا : جی ہاں ! ہم گواہی دیتے ہیں ، فرمایا : خدایا ! گواہ رہنا ! ...(٣) ۔

پھر دوسری مرتبہ فرمایا : اے لوگو ! کیا تم میری آواز سن رہے ہو ؟ ... سب نے کہا : جی ہاں ، اور پھر اس کے بعد پورے صحرا میں خاموشی چھا گئی اور ہوا کے زمزمہ کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : ... اب ان دو گرانقدر چیزوں کے بارے میں غور و فکر کرو جن کو میں تمہارے درمیان چھوڑے جارہا ہوں ،تم ان کے ساتھ کیا کرو گے ؟ اس مجمع میں ایک شخص نے بلند آواز سے کہا ، یا رسول اللہ ! وہ دو گرانقدر چیزیں کیا ہیں ؟

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بلافاصلہ فرمایا : اول ثقل اکبر ، کتاب خدا ہے جس کا ایک سرا ، خداوندعالم کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں ہے ، اس کو اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑنا ورنہ گمراہ ہوجائو گے ۔ اور دوسری گرانقدر یادگار میرا خاندان ہے اور خداوندلطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے ملاقات کریں گے، ان دونوں سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجائو گے اور ان دونوں سے پیچھے بھی نہ رہ جانا ورنہ ہلاک ہوجائو گے (٤) ۔

اچانک لوگوں نے دیکھاکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اپنے اطراف میں ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں ،گویا کہ کسی کو تلاش کر رہے ہیں اور جیسے ہی ان کی نظریں حضرت علی علیہ السلام پر پڑیں تو جھک کر ان کے ہاتھ کو پکڑ کر اتنا بلند کیا کہ دونوں کے بغلوں کی سفیدی نمودار ہوگئی اور سب لوگوں نے ان کو دیکھ لیا اور پہچان لیا کہ یہ اسلام کا وہی سردار ہے جو کبھی شکست نہیں کھاتا ۔ یہاں پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی آواز اور بلند ہوگئی ، پھر فرمایا :'' ایھا الناس ! من اولی الناس بالمومنین من (٥) انفسھم '' ۔ سب نے کہا :  خدا اور اس کا پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آگاہ تر ہیں، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : خدا، میرا مولی و رہبر ہے اور میں مومنین کا مولی اور رہبر ہوں اور ان کی بانسبت ان سے زیادہ سزاوار ہوں، (اور ان کے ارادہ پر میرا ارادہ مقدم ہے) پھر فرمایا : ''فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ '' جس جس کا میں مولی اور رہبر ہوں اس کے یہ علی مولی اور رہبر ہیں۔ اور اس بات کو تین مرتبہ اور بعض راویوں کے مطابق چار مرتبہ دھرایا ... ۔

... پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا خطبہ تمام ہوگیا ،پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ، علی علیہ السلام اور لوگوں کے سروں اور چہروں سے پسینہ بہہ رہا تھا اور ابھی لوگوں کی صفیں متفرق نہیں ہوئی تھیں کہ امین وحی نازل ہوئے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی '' الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي '' ۔ آج آپ کے دین کو کامل اور آپ کے اوپر نعمتوں کو تمام کردیا ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ ا کبر، اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی و الولایة لعلی من بعدی '' : خداوندعالم بزرگ ہے ، خداوندعالم بزرگ ہے ، وہی خدا جس نے اپنے آئین کو کامل کیا اور اپنی نعمتوں کو ہمارے اوپر تمام کیا اور میری نبوت اورمیرے بعد علی علیہ السلام کی ولایت پر راضی و خشنود ہوگیا ... مشہور و معروف حدیث غدیر کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش کیا جو اہل تسنن ا ور شیعہ کی کتابوں میںذکر ہوا ہے (٦) ۔

واقعہ غدیر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اہم ترین رسالت ،ولایت کو پہنچانا تھا ۔

اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ واقعہ غدیر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو ایک سیاسی مسئلہ پر مامور کیا گیا تھا اور بعض لوگوں نے اس کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی تھی اور وہ اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے (٧) ۔

لہذا جب ان تمام پہلوئوں پر نظر ڈالتے ہیں اور انصاف سے کام لیتے ہوئے اس کا مطالعہ کرتے ہیں اور تعصب و لجاجت سے دوری اختیار کرتے ہوئے قضاوت کرتے ہیں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اوراپنی جانشینی کے مسئلہ کو بیان کیا ہے (٨) ۔

جی ہاں ! جس مسئلہ کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی عمر شریف کے آخری حصہ تک رسمی طور پر بیان نہیں کیا تھا اور جو مسئلہ خاتم الانبیاء کی رسالت ونبوت کے ہمطراز تھا اور بعض لوگوں نے اس کا مقابلہ کرنے کی قسم بھی کھا رکھی تھی اور خداوندعالم نے اس ماموریت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لی تھی ، یہ اہم اور تاریخی مسئلہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کا مسئلہ تھا ،اگر چہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ولایت علی علیہ السلام کو متعدد بار پہلے بھی بیان کیا تھا لیکن رسمی طور پر پوری دنیا کے مسلمانوں کے سامنے بیان نہیں کیا تھا ، یہی وجہ تھی کہ آنحضرت (ص) نے اس عظیم اور بزرگ ماموریت کو حجة الوداع سے واپسی پر غدیر خم کے میدان میں بہت اچھی طرح انجام دیا اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے جانشین کے عنوان سے حضرت علی علیہ السلام کا تعارف کرکے اپنی رسالت کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا (٩) ۔

اسلام میں ابلاغ ولایت کی ضرورت

یہ بات بھی واضح ہے کہ نماز ، روزہ ، حج اور زکات کا دار و مدار ''ولایت'' کے اوپر ہے اور تمام عبادات اسی ولایت کے سایہ میں عملی جامہ پہنتی ہیں ، یعنی اسلام کی ولایت اور حاکمیت کے بغیر یہ قوانین کاغذ پر نقش ونگار ہیں اور ڈاکٹر کے ایسے نسخہ کی طرح ہیں جن پر عمل کئے بغیر شفا حاصل نہیں ہوتی (١٠) ۔

لہذا ولایت کے معنی ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے جانشینوں کے ذریعہ قانون اسلام کو عملی جامہ پہنانا ہے ،اس بناء پر ولایت کا مقام و مرتبہ نماز، روزہ ، حج اورزکات سے بلند و بالا ہے ، جس کا نتیجہ حکومت اسلامی ہے ، یہ ایسی ولایت ہے جو غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کی ولایت سے وجود میں آئی ہے (١١) ۔

ان تمام تفاسیر سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ولایت دوسری تمام عبادتوں سے اہم کیوں ہے ،اس لئے کہ امام علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اسلام کی دوسری بنیادی خصوصیات کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ دار ولایت ہے ۔اگر اسلامی حکومت تشکیل نہ پائے تو نماز،روزہ ، خمس ، حج اور زکات کے قائم ہونے اور ان کے جاری ہونے کا امکان باقی نہیں رہے گا ۔ اس بناء پر ولایت صرف عشق و محبت اور توسل کا نام نہیں ہے بلکہ انبیاء الہی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی طرف سے اسلامی حکومت کے پروگراموں کو قبول کرنے کا نام ہے ، لہذا پوری تاریخ میں انبیاء میں سے جس نبی کو بھی حکومت بنانے کی قدرت ملی ، اس نے حکومت تشکیل دی ہے ، حضرت دائود ، سلیمان ،موسی علیہم السلام اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بھی حکومت تشکیل دی ہے اور اگر حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علیہماالسلام جیسے انبیاء نے حکومت تشکیل نہیں دی تو ان کے پاس وقت یا کافی مقدار میں اس کے امکانات نہیں تھے (١٢) ۔

ولایت کا اجراء ہونا لوگوں کے شریک ہونے پر مشروط ہے

بعض جاہلوں نے لکھا ہے : اس ملموس حقیقت کو سب درک کرتے ہیں کہ جس کو بھی لوگوں کی اکثریت، حکومت داری کے لئے انتخاب کرے اور اس کی مدد کرے وہی حاکم ہوتا ہے ، کیونکہ معاشرہ کی اصلی طاقت لوگ ہیں ... عام لوگ ہی ولایت کو کسی کے حوالہ کرتے ہیں اور اس کی حاکمیت کو حقیقت بخشتے ہیں ، جبکہ یہ نظریہ توحیدی طرز تفکر سے ہماہنگ نہیں ہے (١٣) ۔

ہم کہتے ہیں کہ توحید نظریہ اس کے برخلاف ہے اور کہتا ہے : خداوندعالم جس کو چاہتا ہے ولایت عطا کرتا ہے اور اس کی حاکمیت کو حقیقت بخشتا ہے اور اگر اس سلسلہ میں لوگوں کا کوئی حق ہے تو وہ بھی اسی کی اجازت اور حکم سے ہوتا ہے (١٤) ۔

لہذا اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امرحکومت میں لوگوں کی شرکت ، حاکموں کو قدرت و طاقت عطا کرتی ہے اور ان کی شرکت کے بغیر حکمراں کوئی کام انجام نہیں دے سکتے ، جیسا کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے خطبہ شقشقیہ میں فرمایا ہے : '' اما وَالَّذى فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَءَ النَّسَمَةَ لَوْلا حُضُورُ الْحاضِرِ وَ قيامُ الحُجَّةِ بِوُجُودِ النّاصِرِ وَ ما اخَذَ اللَّهُ عَلَى الْعُلماءِ الّا يُقارُّوا عَلى كِظَّةِ ظالِمٍ وَ لا سَغَبَ مَظْلُومٍ لَالْقَيْتُ حَبْلَها عَلى غارِبِها (١٥) ۔ اس جملہ سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ خداوندعالم کی طرف سے منصوب شدہ ولی پر بھی لوگوں کی حمایت ، اتمام حجت کا سبب ہوتی ہے (١٦) ۔

یقینا امام علی علیہ السلام کی ولایت ، خداوندعالم کی طرف سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ذریعہ ثابت ہوئی ہے اور یہ ولایت خارج میں درجہ کمال تک پہنچی ہے ،بعض جاہل لوگوں کے وہم و گمان کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ یہ خلافت بالقوة پائی جاتی تھی ، لیکن اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے لوگوں کی حمایت کی ضرورت تھی اور ان کے بغیر خارج میں نہیں پائی جاسکتی (١٧) ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ متواتر حدیث غدیر اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مشہور و معروف جملہ ''من کنت مولاہ فعلی مولاہ '' نے جو کہ تمام کتابوں میں ذکر ہوا ہے ، ولایت حضرت علی علیہ السلام کی شناخت میں بہت سے حقایق کو واضح کردیا ہے (١٨) ۔

اگر چہ اہل تسنن کے بہت سے علماء کا اصرار ہے کہ ''مولی'' کو یہاں پر ''دوست ، یار اور یاور'' کے معنی میں تفسیر کیا جائے ، کیونکہ ''مولی'' کے ایک مشہور معنی یہی ہیں ، ہم بھی قبول کرتے ہیں کہ ''مولی'' کے ایک معنی دوست، یار اور یاور کے ہیں ، لیکن یہاں پر متعدد قرائن مو جود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث غدیر میں ''مولی'' کے معنی ''ولی'' ،''سرپرست'' اور ''رہبر'' کے ہیں ، ہم یہاں پر ان قرائن کو خلاصہ کے طور پر بیان کرتے ہیں (١٩) ۔

١۔  تمام مومنین کے ساتھ علی علیہ السلام سے دوستی کا مسئلہ چھپا ہوا نہیں تھا جس کو اس قدر بیان کرنے اور تاکید کرنے کی ضرورت ہو اوراس عظیم قافلہ کو تپتے ہوئے صحرا میں روکنے ،خطبہ دینے ا ور پے در پے اعتراف لینے کی ضرورت نہیں تھی (٢٠) ۔

قرآن کریم بہت ہی صراحت کے ساتھ کہتا ہے : ''انما المومنون اخوة'' (٢١) مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک دوسری جگہ پر فرماتا ہے : ''والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض'' (٢٢) مومنین مرد اور مومنہ عورتیں ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں (٢٣) ۔

اسلامی اخوت اور مسلمانوں کی ایک دوسرے سے دوستی بہت ہی بدیہی اور اسلامی مسئلہ ہے جو اسلام کے آغاز سے موجود تھا اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے متعدد بار اس کی تاکید فرمائی تھی ، اس کے علاوہ اخوت کا مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ اس قدر سخت لہجہ میں حکم دیا جاتا اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کو بیان کرنے میں خطرہ کا احساس کرتے (٢٤) ۔

٢ ۔  جملہ ''الست اولی بکم من انفسکم'' ۔ کیا میں تمہاری با نسبت تم سے زیادہ اولی اور سزاوار نہیں ہوں '' ! جو کہ اس روایت کے بہت سے متون میں ذکر ہوا ہے ، ایک سادہ دوستی کے ساتھ متناسب نہیں ہے ، بلکہ یہ جملہ کہتا ہے :  جو اولویت اوراختیار تمہارے سلسلہ میں مجھے حاصل ہے اور میں تمہارا سرپرست اور راہنما ہوں ،وہی تمام چیزیں علی علیہ السلام کے لئے بھی ثابت ہیں ۔ اوراس جملہ کے لئے ہم نے جو تفسیر بیان کی ہے اس کے علاوہ دوسری تمام تفسیریں انصاف اور حقیقت سے دور ہیں ، خاص طور سے اس تعبیر ''بکم من انفسکم'' تم سے تمہاری با نسبت اولی ہوں ، کو مدنظر رکھتے ہوئے غلط ہیں (٢٥) ۔

٣ ۔  اس تاریخی واقعہ میں لوگوں کی طرف سے علی علیہ السلام کو جو مبارکباد دی گئی ہے ، خاص طور سے ''عمر'' اور ''ابوبکر'' نے جو مبارکباد دی ہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ نصب خلافت کے علاوہ کچھ نہیں تھا جس میں مبارکباد دینے کی ضرورت تھی ، کیونکہ دوستی کا اعلان ، عام طور سے تمام مسلمانوں کے لئے ثابت ہے اور مبارکباد کی ضرورت نہیں ہے (٢٦) ۔

واقعہ غدیر کو مدنظر رکھتے ہوئے اہل سنت کی کتابوں میں ولایت علی علیہ السلام کی حقیقت

امام احمد کی ''مسند'' میں ذکر ہوا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خطبہ کے بعد ''عمر'' نے حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا : '' هَنيئاً يَا بْنَ أَبي طالِبٍ أَصْبَحْتَ وَ أَمْسَيْتَ مَوْلى‏ كُلِّ مُؤمِنٍ وَ مُؤمِنَةٍ '' ۔ مبارک ہو تمہیں اے ابوطالب کے بیٹے ! تم صبح و شام ہر مومن مرد و عورت کے مولی ہو (٢٧) ۔

اسی طرح وہ جملہ جو فخر رازی نے اس آیت '' يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ '' کے ذیل میں ذکر کیا ہے ، عمر نے کہا : '' هَنيئاً لَكَ أَصْبَحْتَ مَوْلاىَ وَ مَوْلى‏ كُلِّ مُؤمِنِ وَ مُؤمِنَةٍ '' ۔ اس طرح عمر نے اس کو اپنا اور تمام مومنین کا مولی شمار کیا ہے (٢٨) ۔

تاریخ بغداد میں مذکورہ جملہ اس طرح بیان ہوا ہے : '' بَخّ بَخّ لَكَ يا بْنَ أَبي طالِبٍ! أَصْبَحْتَ مَوْلاىَ وَ مَوْلى‏ كُلِّ مُسْلِمٍ '' (٢٩) ۔ مبارک ہو ،مبارک ہو آپ کو اے ابوطالب کے بیٹے ! آج سے تم میرے اور ہر مسلمان کے مولی ہوگئے ہو (٣٠) ۔

اور کتاب ''فیض القدیر'' و ''الصواعق المحرقہ'' میں ذکر ہوا ہے کہ عمر اور ابوبکر دونوں نے علی علیہ السلام کو یہ مبارکباد دی اور کہا : '' أَمْسَيْتَ يَا بْنَ أَبي طالِبٍ مَوْلا كُلِّ مُؤمِنٍ وَ مُؤمِنَةٍ '' (٣١) ۔ (٣٢) ۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ مومنین کی ایک دوسرے سے دوستی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور اس کے لئے اس قدر اہتمام کی ضرورت نہیں تھی اور یہ معنائے خلافت کے علاوہ کسی دوسرے امر سے سازگار نہیں ہے (٣٣) ۔

واقعہ غدیر میں حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے متعلق قرآنی غور و فکر

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ سورہ مائدہ کا ایک اہم حصہ آیات ولایت پر مشتمل ہے ، کیونکہ یہ سورہ ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عمر کے آخری حصہ میں نازل ہوا ہے اور دوسری طرف ولایت و جانشینی کا مسئلہ بھی آنحضرت (ص) کی عمر کے آخری حصہ میں بیان ہوا ہے ، لہذا اس سورہ میں متعدد آیات ،مسئلہ ولایت پر مشتمل ہیں (٣٤) ۔

اس طرح سورہ مائدہ کی ٥٥ ویں آیت 'ا'ِنَّما وَلِیُّکُمُ اللَّہُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذینَ آمَنُوا الَّذینَ یُقیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکاةَ وَ ہُمْ راکِعُونَ''  ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں ۔ ولایت امیرالمومنین علی علیہ السلام پر بہت ہی واضح طور پر دلالت کرتی ہے (٣٥) ۔

پورے قرآن مجید میں لفظ''ولی''، اکثر استعمالات کے برخلاف سورہ مائدہ کی ٥٥ویں آیت میں سرپرست اور صاحب ا ختیار کے معنی میں ذکر ہوا ہے، دوست اور یار و مددگار کے معنی میں نہیں ہے (٣٦) ۔ کیونکہ :

اولا :  ''انما '' جو کہ آیت کے شروع میں بیان ہوا ہے ، حصر پر دلالت کرتا ہے ۔ یعنی فقط یہ تین گروہ مومنین کے ولی ہیں ، ان تینوں کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ، جبکہ اگر ولی ، دوست کے معنی میں ہوتا تو حصر کے کوئی معنی نہیں تھے کیونکہ اس صورت میں واضح ہے کہ مذکورہ ان تین گروہوں کے علاوہ کوئی اور بھی مومنین کا یار و مددگار ہے ، اس کے علاوہ اگر ولی کے معنی یار و مددگار کے ہوتے تو ''الذین آمنوا '' کیلئے اتنی قیدیں ذکر نہ ہوتیں ،جو حالت نماز میںزکات دیتے ہیں ۔ کیونکہ تمام مومنین نماز کی حالت کے علاوہ بھی اور بے نمازی مومن بھی ایک دوسرے کے مددگار ہیں ، اس بناء کلمہ ''انما'' سے جو کہ حصر پر دلالت کرتا ہے اور متعدد قیود جو کہ ''الذین آمنوا'' کے سلسلہ میں ذکر ہوئی ہیں ، استفادہ ہوتا ہے کہ اس آیت میں ولایت کے معنی دوستی اورنصرت کے نہیں ہیں بلکہ سرپرستی اور صاحب اختیار کے ہیں ۔ خداوندعالم ،پیغمبر اکرم اور مومنین (تمام ان شرایط کے ساتھ جوآیت میں ذکر ہوئے ہیں) تمہارے ولی، صاحب اختیار اور سرپرست ہیں (٣٧) ۔

ثانیا :  سورہ مائدہ کی ٥٦ ویں آیت ہمارے مدعی پر بہترین قرینہ اور دلیل ہے ، خداوندعالم اس آیت میں فرماتا ہے : ''وَ مَنْ یَتَوَلَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ الَّذینَ آمَنُوا فَِانَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغالِبُونَ'' ۔  اور جو بھی اللہ ،رسول اور صاحبانِ ایمان کو اپنا سرپرست بنائے گا تو اللہ کی ہی حزب (جماعت) غالب آنے والی ہے(٣٨) ۔

ایک تشکیل یافتہ قوم کو حزب کہتے ہیں ، ایک حزب کی کامیابی کے معنی ان کا کسی قیام اور اجتماعی حرکت پر کامیابی اورغلبہ حاصل کرنے کے ہیں ، اس بناء پر اس آیت سے جو کہ اپنے سے پہلے والی آیت سے مرتبط ہے اور ظاہرا ایک ساتھ نازل ہوئی ہیں ، استفادہ ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت میں بیان شدہ ولایت ایک سیاسی اور حکومتی ولایت ہے (٣٩) ۔

اس بناء پر آیت کے معنی اس طرح ہیں : جو بھی خدا و پیغمبر کی حکومت اور ''الذین آمنوا '' کی حکومت کو قبول کرلے تو وہ حزب اور قوم کامیاب ہے ۔

نتیجہ یہ ہے کہ آیة ولایت کے کلمہ کلمہ اور جملہ جملہ میں غور وفکر کرنے اور اس آیت کی تفسیر میں بہت سی روایت سے چشم پوشی کرتے ہوئے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس آیت میں ولی ، امام ، پیشوا اور راہنما کے معنی میں ہے اور جو بھی خداو پیغمبر اور ''الذین آمنوا '' کی حکومت کو ان شرایط کے ساتھ قبول کرے جو آیت میں ذکر ہوئے ہیں تو وہ کامیاب و کامران ہوگا (٤٠) ۔

ثالثا :  ''الذین آمنوا .... راکعون'' کے مصداق (٤١) کے متعلق کہنا چاہئے کہ تمام راویوں، مفسرین، علماء شیعہ اور اہل تسنن میں سے کسی ایک نے بھی علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور شخص کو اس آیت کا مصداق نہیں بتایا ہے ۔ اس بناء پر تمام مسلمان علماء کا اس بات پر اجماع اوراتفاق ہے کہ علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی دوسرا اس آیت کامصداق نہیں ہے ، دوسری طرف جملہ ''والذین آمنوا ...'' کا کم سے کم ایک مصداق ضرور ہے اور یقینا وہ شخص علی بن ابی طالب علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہے (٤٢) ۔

اس بناء پر جس طرح امیرالمومنین علی علیہ السلام لوکوں کی بیعت سے پہلے ولی خدا تھے ، جیسا کہ آیہ ولایت '' انَّما وَليُّكُمْ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلوةَ وَ يُؤْتونَ الزَّكاة وَ هُمْ راكِعُونَ '' (٤٣) میں صریح طور پر بیان ہوا ہے ،اس ولایت کو خدا نے علی علیہ السلام کو دی تھی ، متواتر حدیث غدیر کے مطابق '' مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَهذا عَلِىُّ مَوْلاهُ '' پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے غدیر خم میں خداوندعالم کی طرف سے ان کو رسمی طور پر اس مقام کے لئے منصوب کردیا (٤٤) ۔

واقعہ غدیر خم اور ولایت علی علیہ السلام کے سایہ میں اکمال دین

اس آیت '' الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً...'' (٤٥) کی بہترین تفسیر واقعہ غدیر خم اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ولایت اور جانشینی کا مسئلہ ہے ،بلکہ سب سے زیادہ صحیح تفسیر یہی ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد منافقین مایوس ہوگئے اور ان کی امیدیں ختم ہوگئیں (٤٦) ۔

اسی طرح جن روایتوں نے واقعہ غدیر خم کو بیان کیا ہے وہ اسلامی مشہور منابع و مآخذ میں نقل ہوئی ہیں ، شیعہ اورا ہل تسنن کی مشہور کتابوں میں صریح طور پر یہ بات نقل ہوئی ہے کہ مذکورہ آیت غدیر خم کے دن ، ولایت علی علیہ السلام کو پہنچانے کے بعد نازل ہوئی ہے (٤٧) ، جیسے :

١ ۔  اہل تسنن کے مشہور عالم ابن جریر طبری نے کتاب ولایت میں مشہور صحابی زید بن ارقم سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے دن علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے (٤٨) ۔

٢ ۔  حافظ ابونعیم اصفہانی نے کتاب ''مانزل من القرآن فی علی '' میں (مشہور صحابی)ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے غدیر خم میں علی علیہ السلام کا ولایت کے عنوان سے لوگوں کے سامنے تعارف کرایا اور ابھی لوگ متفرق نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت ''الیوم اکملت لکم ...'' نازل ہوئی ، اس وقت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی و بالولایةلعلی (ع) من بعدی ، ثم قال من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ'' ۔ اللہ اکبر ، تکمیل دین، اتمام نعمت پروردگار اور اللہ کا میری رسالت اور میرے بعد علی علیہ السلام کی رسالت سے راضی ہونے پر ، پھر فرمایا : جس کا میں مولی ہوں اس کے یہ علی بھی مولی ہیں ، خدایا ! جو ان کو دوست رکھے تو بھی انہیں دوست رکھ اور جو ان کو دشمن رکھے ، تو بھی اسے اپنا دشمن قرار دے اور جو بھی اس کی مدد کرے ، تو بھی اس کی مدد کر اور جو بھی اس کی مدد نہ کرے تو بھی اس کی مدد نہ کر (٤٩) ۔

٣ ۔  اسی طرح مرحوم علامہ سید شرف ا لدین نے کتاب المراجعات میں اس طرح لکھا ہے : سورہ مائدہ کی تیسری آیت، عید غدیر کے دن نازل ہوئی ہے اور امام باقر(ع) اورامام صادق (ع) کی صحیح حدیث میں بھی یہی نقل ہوا ہے، اہل تسنن نے اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے چھے حدیث مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں (٥٠) و (٥١) ۔

آیة اکمال الدین میں ''الیوم'' کی حقیقت

اول :  آج کے دن کفار مایوس اورنا امید ہوگئے ۔

دوم :  آج کے دن ، دین کامل ہوگیا ۔

سوم :  آج کے دن خداوندعالم نے اپنی نعمت کو مسلمانوں پر تمام کردی۔

چہارم :  آج کے دن خداوندعالم اس بات پر راضی ہوگیا کہ دین اسلام ہی لوگوں کا دین رہے (٥٢) ۔

اس مسئلہ میں مرحوم طبرسی کے قول پر تکیہ کیا جاسکتا ہے کہ اس عظیم دن سے مراد جس دن کفار ناامید ہوگئے اور خدا راضی ہوگیا اور خداوندعالم کا دین اور نعمت تمام ہوگئی ، دسویں ہجرت کی اٹھارہ ذی الحجہ ہے جس کو روز عید سعید غدیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، جس دن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے خداوندعالم کے حکم کو انجام دیتے ہوئے علی بن ابی طالب (علیہما السلام) کو اپنی جانشینی کے لئے منصوب کیا اور رسمی طور پر مسلمانوں کے سامنے آپ کی خلافت کا اعلان کیا(٥٣) ۔

نتیجہ یہ ہے کہ جو روایتیںذکر ہوئی ہیں اور دوسری بہت سے روایتیں جن کو اختصار کی وجہ سے ذکر نہیں کی ہیں ، ان تمام روایتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیہ اکمال دین ، غدیر کے متعلق نازل ہوئی ہے اور یہ امیرالمومنین علی علیہ السلام کی امامت، ولایت او رخلافت پر واضح طور پر گواہ ہیں(٥٤) ۔

اس بناء پر کہنا پڑے گا کہ آیة تبلیغ (٥٥) ''یا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَ اِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَہُ وَ اللَّہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللَّہَ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکافِرینَ '' ۔  (اے پیغمبر ! آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ (یہ کام) نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے(احتمالی) شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے) ، واضح طور امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ولایت اور جانشینی پر منطبق ہے اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو ثابت کرنے میں قرآنی اور روایی مآخذ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے اور یہ سب منابع و مآخذ اس قدر زیادہ ہیں کہ اس مختصر مقالہ میں نہیں آسکتے ۔

آخری بات

ان تمام تفاسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے یقینا ولایت سے مراد ، سرپرستی اور امامت کا مسئلہ ہے ، دوستی کا مسئلہ نہیں ہے ، اسی وجہ سے ہمیں امید ہے کہ ولایت علی علیہ السلام کا مسئلہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے حلقہ اتصال ہوسکتا ہے اور آپ کی ولایت کے سایہ میں اسلام کے دشمنوں سے مقابلہ کرسکتے ہیں اور ان کے شر کواسلام سے دور کرسکتے ہیں (٥٦) ۔

 اسی طرح یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عید غدیر وہی عید ولایت اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کا پیغمبر اکرم (ص) کی جانشینی کے لئے منصوب ہونا ہے اور اسی کو عیدالاکبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے (٥٧) ۔ لہذا لوگوں کو چاہئے کہ اس عیدکو بہت اہمیت دیں ،یقینا خداوندعالم کی طرف سے ہمیں بہت سی برکتیں مل سکتی ہیں (٥٨) ۔

اس بناء پر عیدغدیر کے پروگراموں کو پہلے سے زیادہ اچھے طریقہ سے منانا چاہئے اور اس کا ثواب اپنے مرحومین خصوصا حادثہ منی میں جاں بحق ہونے والوں کو ہدیہ کریں ، اس طرح مرحومین اور غدیر دونوں کا احترام کیا جاسکتا ہے اور غدیر کے پروگراموں میں کمی نہیں آنا چاہئے کیونکہ دشمن کی خواہش یہی ہے (٥٩) ۔

ہمیں امید ہے کہ غدیر اور صاحب غدیر کی برکت سے خداوندعالم تمام اسلامی ممالک سے اشرار کے شر کو دور کردے گا (٦٠) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١ ۔  خلاصہ تفسیر نمونہ ، جلد ١ ،صفحہ ٥٣٦ ۔

٢۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٥ ۔  خلاصہ تفسیر نمونہ ، جلد ١ ،صفحہ ٥٣٧ ۔

٦ ۔  خلاصہ تفسیر نمونہ ، جلد ١ ،صفحہ ٥٣٩ ۔

٧ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٣٠ ۔

٨۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٣٠ ۔

٩۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٣٠ ۔

١٠ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٧١ ۔

١١ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٧١ ۔

١٢ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٨٧ ۔

١٣ ۔  پیام قرآن ، جلد ١٠ ، صفحہ ٣٦ ۔

١٤ ۔  پیام قرآن ، جلد ١٠ ، صفحہ ٣٦ ۔

١٥ ۔  نہج البلاغہ ، خطبہ ٣ ۔

١٦ ۔  پیام قرآن ، جلد ١٠ ، صفحہ ٣٩ ۔

١٧ ۔  پیام قرآن ، جلد ١٠ ، صفحہ ٣٩ ۔

١٨ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٢ ۔

١٩ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٢ ۔

٢٠ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٣ ۔

٢١ ۔  سورہ حجرات ، آیت ١٠ ۔

٢٢ ۔  سورہ توبہ ، آیت ٧١ ۔

٢٣۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٣ ۔

٢٤۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٣ ۔

٢٥۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٣ ۔

٢٦ ۔  پیام قرآن ، جلد ٩ ،صفحہ ١٨٥ ۔

٢٧ ۔  مسند احمد ، جلد ٤ ،صفحہ ٢٨١ (طبق نقل فضائل الخمسہ ، جلد ١ ، صفحہ ٤٣٢ ۔

٢٨ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٤ ۔

٢٩ ۔  تاریخ بغداد ،جلد ٧ ، صفحہ ٢٩٠ ۔

٣٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣١ ۔  فیض القدیر ، جلد ٦ ، صفحہ ٢٧١ ۔ الصواعق المحرقہ ، صفحہ ١٠٧ ۔

٣٢۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٤ ۔

٣٣۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٤٤ ۔

٣٤۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٨٠۔

٣٥۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٨٠ ۔

٣٦ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٧۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٨٠ ۔

٣٨۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٨٠ ۔

٩ ٣۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٨٠ ۔

٤٠۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٨١ ۔

٤١ ۔  سورہ مائدہ ، آیت٥٥ ۔

٤٢۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٨٢ ۔

٤٣ ۔  سورہ مائدہ ، آیت ٥٥ ۔

٤٤ ۔  پیام قرآن ، جلد ١٠ ، صفحہ ٤٠ ۔

٤٥ ۔  سورہ مائدہ ، آیت ٣ ۔

٤٦۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٥٨ ۔

٤٧ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٤ ، صفحہ ٢٦٦ ۔

٤٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤٩ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٤ ،صفحہ ٢٦٦ ۔

٥٠ ۔  المراجعات ط چہارم ،صفحہ ٣٨ ۔

٥١ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٤ ، صفحہ ٢٦٧ ۔

٥٢ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٥٤۔

٥٣ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ٥٦۔

٥٤ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٦٧۔

٥٥ ۔  سورہ مائدہ ، آیت ٦٧ ۔

٥٦ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران روز عید سعید غدیر خم ، حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٠/٧/١٣٩٣) ۔

٥٧ ۔  پیام امام امیرالمومنین علی علیہ السلام ، جلد ١٥ ، صفحہ ٤٣٣ ۔

٥٨ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران روز عید سعید غدیر خم ، حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٠/٧/١٣٩٣) ۔

٥٩ ۔  مسجد اعظم قم میں فقہ کے درس خارج کے دوران روز عید سعید غدیر خم ، حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٠/٧/١٣٩٣) ۔

٦٠۔  گزشتہ حوالہ ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:43:26 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 538