حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں عید قربان کے فلسفہ کی تحقیق

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں عید قربان کے فلسفہ کی تحقیق

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: اس عظیم قربانی کی ایک عظمت یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہر سال اس کی وسعت میں ا ضافہ ہوتا جا رہا ہے اور موجودہ زمانہ میں ہر سال لاکھوں لوگ اس عظیم قربانی کی یاد میں قربانی کرتے ہیں اور ان کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں ۔
کلمات کلیدی:

اللہ سے تقرب حاصل کرنے کیلئے عید قربان بہترین موقع ہے ، یہ ایسی عید ہے جس میں تمام انسان عبودیت اور بندگی کے سایہ میں فرمان خدا کی اطاعت کرتے ہیں ، لہذا سر زمین منی پر عیدقربان کے روز ''قربانی اور ذبح'' پرمبنی خداوندعالم کا حکم خود ذبح نفس اور تقوی کی اہمیت بیان کرتا ہے ، اسی وجہ سے  اسلامی تعلیمات میں عیدقربان کے ابعاد و زوایا کو پہچاننا بہت ضروری ہے ۔

 اس مسئلہ کوواضح کرنے کیلئے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے عیدقربان کی مہم ترین خصوصیات کی تحقیق ضروری ہے اور جہاد با نفس و ''جہاد اکبر'' کی راہ میں انسان کے بنیادی اور اہم قدم کے عنوان سے اس مسئلہ کی طرف توجہ ضروری ہے (١) ۔ کیونکہ بہت سے مفسرین نے ''یوم الحج الاکبر'' کو روز عید قربان کے نام سے تفسیر کیا ہے جو کہ ایام حج میں سب سے اہم دن ہے ۔ اہل بیت علیہم السلام اور اہل تسنن سے جو روایات نقل ہوئی ہیں وہ بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں (٢) اس وجہ سے ان تمام تفاسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے عید سعید قربان کی تمام خصوصیات کو معظم لہ کے نظریات کے مطابق قارئین گرامی کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :

عید قربان، ایام حج میں تعظیم اسلام کی نشانی

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی عیدقربان کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : عید قربان کی خصوصیات بہت اہم ہیں جس کی وجہ سے اس دن بہت سی اہم عبادات انجام دی جاتی ہیں (٣) ۔

معظم لہ نے ایام حج میں عظمت اسلام کی نشانی کے عنوان سے عید قربان کے بنیادی کردار کی تصریح کرتے ہوئے فرمایا : ہم مسلمان ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھتے ہیں اور گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اس ماہ کے اختتام پر ان تمام عبادات کے افتخار میں جشن اور عید مناتے ہیں ، خانہ خدا کے زائرین بھی مناسک حج کو بجالانے کے بعد عید مناتے ہیں البتہ ان کے پروگرام صرف ان کے لئے نہیں ہوتے بلکہ وہ اسلام کے لئے ایک عظمت ہوتے ہیں اور خود حج بھی دنیائے اسلام کے لئے عظمت ہے (٤) ۔

عظیم الشان مرجع تقلید نے سرزمین وحی کے حجاج کیلئے عید قربان کو خداوندعالم کی ایک ضیافت قرار دیتے ہوئے فرمایا : عیدقربان کو خداوندعالم کی ضیافت کے عنوان سے انتخاب کیا گیا ہے کیونکہ زیارت خانہ خدا کی رسومات میں تمام زائرین ، خداوندعالم کے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کے بعد جشن منانا ضروری ہے (٥) ۔

پوری دنیا کے مسلمان دس ذی الحجہ کے روز اگرچہ مکہ میں نہیں ہوتے لیکن عید قربان مناتے ہیں اور اس دن خوشی اور جشن مناتے ہیں (٦) ۔

عیدقربان ، توحید کے علمبردار اور مرد مجاہد کی فدا کاروئیوں کا نتیجہ ہے ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے سرزمین وحی پر قربانی کرنے کے فلسفہ کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :حج کے موقع پر دسویں ذی الحجہ کے دن ایک عمل یہ ہے کہ میدان منی میں جانور ذبح کریں اور یہ ایک واجب فریضہ اور اسلام کا واضح حکم ہے ، لیکن اس کا ایک راز یہ ہے کہ توحید کے علمبردار اور مرد مجاہد حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی یاد تازہ ہوجائے (٧) ۔

معظم لہ نے اس فداکاری کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : ابراہیم خلیل کی فدکاری کا واقعہ یہ ہے کہ خداوندعالم نے ان کی فداکاری ، روح و روان کی تکمیل اور آپ کی لیاقت کو ثابت کرنے کیلئے حکم دیا کہ سرزمین منی پر اپنے لخت جگرپا کو خدا کی راہ میں قربان کریں ، اگرچہ اس حکم میں امتحان کا پہلو پایا جاتا تھا اور جب وہ اس اطاعت کو انجام دینے کے لئے آمادہ ہوگئے تو حکم آیا کہ اپنے بیٹے کے بجائے کسی دنبہ کو ذبح کردیں (٨) ۔

لہذا خانہ خدا کے زائرین ، سرزمین منی پر دنبہ کی قربانی کرکے اخلاص، قدرت ایمان اور فدکاری کی یادوں کو زندہ کرتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے کو فداکاری اور جانبازی کا سبق دیتے ہیں اور گویا کہ عملی طور پر یہ کہتے ہیں کہ خدا کا بندہ وہ ہے جو راہ خدا میں سب کچھ دیدے ،یہ سرزمین منی پر قربانی کے راز کا ایک گوشہ ہے (٩) ۔

عیدقربان ، عید اطاعت

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات میں عید قربان ، اطاعت گزاری ا ور خداوندمتعال کی پیروی کی بارز مثال ہے ، معظم لہ نے ایک جگہ فرمایا : عید قربان اسلام کی دوسری عید ہے ، اس دن خانہ خدا کے زائرین ، مناسک حج کے عظیم فرائض کو ا نجام دینے کے بعد سر زمین منی میں عید مناتے ہیں اور تمام مسلمان بھی ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس دن عید مناتے ہیںاور یہ بھی عید اطاعت ہے (١٠) ۔

عیدقربان کے اصول و قوانین میں غور وفکر

طلوع روز عید قربان کی قسم

مفسر بزرگ قرآن کریم عیدقربان کے سلسلہ میں قرآنی نظریات کو پیش کرتے ہوئے لفظ ''والفجر'' کے معنی بیان کرتے ہیں اور فجر عیدقربان کے ساتھ اس کا بہت ہی عمیق ارتباط بیان کرتے ہیں ، آپ فرماتے ہیں : اس آیت میں فجر سے مراد عید قربان کی صبح ہے کیونکہ اس وقت حج کی رسومات میں عجیب و غریب ہنگامہ ہوتا ہے ، مشعر الحرام میں موجود مجمع جو کہ طلوع فجر کا منتظر ہوتا ہے اور سب اپنے خدا کے ساتھ راز و نیاز کرتے ہوئے ہوتے ہیں ، طلوع فجر کے بعد کچھ دیر کیلئے مشعر میں وقوف کرتے ہیں اور پھر گروہ کی شکل میں منی کی طرف حرکت کرتے ہیں اور جوش و خروش کے ساتھ منی کی طرف جاتے ہیں اور رمی جمرات کرنے کے بعد قربانی اور پھر تقصیر کرتے ہیں ۔ جی ہاں ! روز عید قربان کے طلوع فجر کی قسم جس دن وہ عظیم اور یاد رکھنے والا منظر ایجاد ہوتا ہے (١٢) ۔

عید قربان ، اوامر الہی کو قبول کرنے کا دن

اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کی آیات کے پیش عید قربان کے فلسفہ میں غور و فکر کرنے کیلئے روایات اور علمائے اسلام کے نظریات کی تحقیق کرنا ضروری ہے تاکہ حضرت اسماعیل کی قربانی کے واقعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی معرفت واضح ہوجائے ۔

تفسیر نمونہ کے مفسر اس اہم اور بنیادی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ابراہیم علیہ السلام جنہوں نے متعدد مرتبہ امتحان الہی پاس کیا تھا ، ایک مرتبہ پھر فرمان حق کے سامنے امتحان کیلئے تیار ہوگئے اور اس بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قربان کرنے کیلئے تیار ہوگئے جس کا بہت دنوں تک انتظار کیا تھا اوراس وقت ایک بہترین جوان تھا (١٣) ۔

لیکن چونکہ اس وقت حضرت اسماعیل ١٣ سال کے تھے اور وہ ان کی مستقل شخصیت اور ارادہ کی آزادی کے قائل تھے لہذا انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی اس عظیم امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے شریک کرلیا تاکہ وہ بھی اپنے والد کی طرح تسلیم و رضا کی لذت حاصل کرسکیں (١٤) ۔

دوسری طرف فرزند بھی چاہتا ہے کہ ان کے والد اپنے عزم و ارادہ میں راسخ رہیں لہذا حضرت اسماعیل یہ نہیں کہتے کہ مجھے ذبح کردو بلکہ کہتے ہیں آپ کو جو حکم دیا گیا اسے انجام دیں ، میں اس کے حکم کو قبول کروں گا اور حضرت اسماعیل اپنے والدد کو ''یا ابت'' (اے والد !) کے عنوان سے خطاب کرتے ہیں (١٥) تاکہ معلوم ہوجائے کہ باپ اور بیٹے کی محبت ذرہ برابر بھی کم نہیں ہوئی کیونکہ ہر چیز پر خداوندعالم کا حکم حاکم ہے (١٦) ۔

معظم لہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کامیابی اور فتح مندی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام ، خدا کی بارگاہ میں بہت زیادہ ادب و ا حترام کی رعایت کرتے ہیں اور کبھی بھی اپنے ایمان اور ارادہ کی طاقت پر تکیہ نہیں کرتے بلکہ خدا کی مشیت اور ارادہ پر تکیہ کرتے ہیں اوراس عبارت کے ساتھ خدا سے استقامت کی توفیق طلب کرتے ہیں ۔

اور اس طرح باپ اور بیٹا آزمایش الہی کے اس پہلے مرحلہ کو کامیابی کے ساتھ طے کرتے ہیں (١٧) ۔

عیدقربان یعنی نفسانی تعلقات سے آزادی

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی ، حضرت ابراہیم کے لخت جگر کی قربانی کو اس طرح بیان کرتے ہیں : حساس اور سخت وقت آپہنچا ، خدا کے حکم کو ا نجام دینا ضروری تھا ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی تسلیم و رضا کو دیکھ لیا تو ان کو اپنی آغوش میں لیا اور ان کو پیار کیا ، پھر دونوں گریہ و زاری کرنے لگے ، ایسا گریہ جس سے محبت اور خدا سے ملاقات کا شوق نظر آرہا تھا (١٨) ۔

قرآن کریم مختصر عبارت میں اس طرح فرماتا ہے : ''فَلَمَّا أَسْلَما وَ تَلَّہُ لِلْجَبینِ'' ۔  پھر جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا ... (١٩) ، (٢٠) ۔

مفسر بزرگ قرآن کریم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : بعض علماء نے کہا ہے کہ اس جملہ '' تَلَّہُ لِلْجَبینِ'' (٢١) سے مراد یہ ہے کہ بیٹے کی پیشانی کو خود بیٹے کی پیش نہاد کی وجہ سے خاک پر رکھا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ  ان کی آنکھیں بیٹے کے چہرہ پر پڑ جائیں اور باپ کی محبت ہیجان میں آجائے اور خدا کا حکم اجراء نہ ہونے پائے، بہر حال حضرت ابراہیم نے بیٹے کی پیشانی کو خاک پر رکھااور چاقو چلا دیا ، لیکن بیٹے کے گلے پر اس چاقو کا کوئی اثر نہیں ہوا ! ... (٢٢) ۔

ابراہیم علیہ السلام کو بہت تعجب ہوا اور انہوں نے دوبارہ چاقو چلایا ، لیکن پھر بھی کارگر نہیں ہوا ، جی ہاں ابراہیم خلیل چاقو سے کہتے ہیں : گردن کو کاٹ دے ! لیکن خداوند خلیل حکم دیتا ہے کہ اسماعیل کی گردن کو مت کاٹ ! اور چاقو فقط خدا کا حکم مانتا ہے (٢٣) ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بہت مختصر جملہ میں یہ بات بیان کی ، ''اس وقت ہم نے ابراہیم کو آواز دی کہ اے ابراہیم ''وَ نادَیْناہُ أَنْ یا ِبْراہیمُ'' (٢٤) ۔  تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ''قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیا '' (٢٥) ۔ ہم نے ان کو امتحان میں کامیاب ہونے کی توفیق عنایت کی اور ان کے بیٹے کو بھی زندہ و سلامت باقی رکھا ، جی ہاں جو بھی سر سے پیر تک ہمارے حکم کی پیروی کرتا ہے ہم اس کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں ، پھر مزید کہتا ہے  : ''ِنَّ ہذا لَہُوَ الْبَلاء ُ الْمُبینُ'' (٢٦) ۔  بیشک یہ بڑا کھلا ہوا امتحان ہے ۔

عید قربان ، مخلص اور ایماندار بندوں کو اجر و ثواب دینے کی جگہ

معظم لہ نے عید قربان کے فلسفہ کی حقیقت کو پہچاننے کیلئے اہم اور برجستہ ترین تفسیری نکات کو بیان کرتے ہوئے بعض روایات سے استناد کیا اور فرمایا : بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ جس وقت یہ کام (بیٹے کی قربانی) پورا ہوگیا تو جبرئیل نے (بہت ہی تعجب کے ساتھ) آواز دی : اللہ اکبر ، ا للہ اکبراور حضرت ابراہیم کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام نے کہا : ''لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر...'' فداکار مجاہد نے بھی کہا : ''اللہ اکبر و للہ الحمد'' (٢٧) اور یہ وہی تکبیرات ہیں جن کو ہم عیدقربان کے دن پڑھتے ہیں (٢٨) ۔

ذبح عظیم ، امتحان الہی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کامیابی کا اجرو ثواب

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) عیدقربان کی حقیقت اور اس بزرگ سنت کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : خداوندعالم نے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ابراہیم کا کارنامہ ادھورا نہ رہے اور خدا کی بارگاہ میں ان کی قربانی قبول ہوجائے اور ابراہیم کی آرزو بھی پوری ہوجائے ، خداوندعالم نے ایک دنبہ بھیجا تاکہ اسماعیل کی جگہ ذبح ہوجائے اور سرزمین منی اور مناسک حج میں ایک سنت قرار پائے ، جیسا کہ قرآن مجید نے کہا ہے : ''وَ فَدَیْناہُ بِذِبْحٍ عَظیمٍ '' ۔  اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے (٢٩) ۔

اس بناء پر خداوندعالم نے اس بزرگ امتحان میں حضرت ابراہیم کے کامیاب ہونے کی تعریف کی اور ان کے اس واقعہ کو ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید قرار دیا ، جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے : ''وَ تَرَکْنا عَلَیْہِ فِی الْآخِرینَ '' ۔ اور ہم نے ابراہیم کا نیک تذکرہ آخری امتوں تک باقی رکھا ہے (٣٠) ۔

معظم لہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا : پہلے مرحلہ میں خداوندعالم اپنے بزرگ امتحان میں ابراہیم کی کامیابی کی تصدیق کرتا ہے اوران کے قبول شدہ کارنامہ پر دستخط کرتا ہے (٣١) ، یہ خود ایک اجر عظیم ہے اور یہ بہت بڑا تحفہ تھا جو خدا نے ابراہیم علیہ السلام کو دیا ، پھر ''ذبح عظیم کو فدا کرنے'' ، ان کے نام کو ہمیشہ باقی رکھنے اور ان کے اوپر درود و سلام بھیجنے کو بیان کیا ہے اور اس طرح خداوندعالم نے حضرت ابراہیم کو تین عظیم اجر عنایت فرمائے (٣٢) ۔

عید قربان، فقرا اور ضرورت مندوں کی مدد کا دن

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے عید سعید قربان کی اہم خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے قربانی کے گوشت کو فقراء اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ قربانی کے گوشت کے متعلق اسلام کا نظریہ کیا ہے اور کیا اس سلسلہ میں مسلمانوں کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟

اس جواب کے لئے اپنی آسمانی کتاب قرآن مجید میں مراجعہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میدان منی میں مناسک حج ادا کرنے والوں کو حکم دیتا ہے : ''وَ أَطْعِمُوا الْبائِسَ الْفَقیرَ'' ۔اور پھر تم اس(قربانی) میں سے کھاؤ اور بھوکے محتاج افراد کو کھلاؤ ۔نیز فرماتا ہے : ''فَکُلُوا مِنْہا وَ أَطْعِمُوا الْقانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ''۔ اس میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے سب غریبوں کو بھی کھلاؤ(٣٤ ) ، (٣٥) ۔

عیدقربان کے معنوی فوائد کی تکمیل کیلئے صحیح استعمال

مرجع تقلید شیعہ نے قربانی کے گوشت کو صحیح طریقہ سے استعمال کرنے اور مسلمانوں کے معنوی فوائد کو کامل کرنے کے متعلق فرمایا : توضیح المسائل میں حکم دیتے ہیں کہ خانہ خدا کے زائرین ،قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کریں : اس کا ایک حصہ خود کھائیں ، ایک حصہ مومنین کو دیں اور ایک حصہ ضرورت مندوں اور فقراء کو دیں ۔

یہ صریح اور واضح حکم اس بات کو بیان کرتا ہے کہ حیوانات کو ذبح کرنے میں معنوی فوائد کے علاوہ ایک حکم یہ ہے کہ اس کا صحیح استعمال ہو اور اسراف نہ ہو (٣٦) ۔

عیدقربان اور اسلامی حکومتوں کی ذمہ داری

معظم لہ نے عیدقربان کے دن پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے قربانی کے گوشت کو صحیح استعمال کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا : اس وقت حجاج اور اسلامی حکومتوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قربانی کے گوشت کو صحیح طریقہ سے استعمال کریں اور یہ اسلامی ذمہ داری تمام اہداف کے ساتھ انجام پائے ، آج کے زمانہ میں برودت کے وسائل تیار کرکے اس عظیم گوشت کو خاک میں دفن کرنے سے بچائیں تاکہ قرآن مجید کے بتائے ہوئے طریقوں میں آہستہ آہستہ ان کا استعمال ہوسکے (٣٧) ۔

گزشتہ زمانہ میں جب حجاج کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھی تو قربانی کا گوشت اسی وقت صحیح طریقہ سے استعمال ہوجاتا تھا ،لیکن اس وقت راستہ کی آسانی کی وجہ سے زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے ، لہذا جدید وسائل کے ذریعہ اس گوشت کو خراب ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور اس سلسلہ میں زائرین اور اسلامی اہداف کو مدنظر رکھنا چاہئے اور یہ اسلامی حکومتوں اور مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اسلامی قوانین کو عملی جامہ پہنائیں اور ہر طرح کے اسراف سے پرہیز کریں (٣٨) ۔

آخری بات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس مقالہ کے اختتام پر عید قربان کی اہم خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : اس عظیم قربانی کی ایک عظمت یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہر سال اس کی وسعت میں ا ضافہ ہوتا جا رہا ہے اور موجودہ زمانہ میں ہر سال لاکھوں لوگ اس عظیم قربانی کی یاد میں قربانی کرتے ہیں اور ان کی یاد کو زندہ رکھتے ہیں (٣٠) ۔

لہذا خداوندعالم قرآن کریم میں فرماتا ہے : ''سَلام عَلی ِبْراہیمَ ''(٤٠) ۔سلام ہو ابراہیم علیہ السّلام  (مخلص اور پاک و پاکیزہ بندہ) پر۔ جی ہاں ،'' کَذلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنینَ '' ۔ ہم اسی طرح حسن عمل والوں کو جزا دیا کرتے ہیں ۔(١٤) ، (٤٢) ۔

اس بناء پر یہ کہنا ضروری ہے کہ عید قربان اس بنیادی خصوصیت کی علامت ہے کیونکہ حضرت ابراہیم ،مستقبل میں آنے والوں کے لئے نمونہ عمل بن گئے (٤٣) جو اِن کی سنت کو آنے والے زمانوں میں حج کے عنوان سے انجام دیں گے (٤٤) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١۔  پیام قرآن ، جلد ٣ ، صفحہ ١٧٠ ۔

٢ ۔  پیام قرآن ، جلد ٣ ، صفحہ ١٧٠ ۔

٣ ۔  عید سعید قربان کی مناسبت پر حرم حضرت معصومہ قم کے امام خمینی شبستان میں حضرت آیہ اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٦/٨/١٣٨٩) ۔

٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٦۔  گزشتہ حوالہ

٧ ۔  پاسخ بہ پرسش ھای مذہبی ، صفحہ ٣٣٤ ۔

٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٩ ۔  پاسخ بہ پرسش ھای مذہبی ، صفحہ ٣٣٥ ۔

١٠ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ١٥ ، صفحہ ٤٣٣ ۔

١١ ۔  سورہ فجر ، آیت ١ ۔

١٢ ۔  سوگندھای پر بار قرآن ، صفحہ ١٥٨ ۔

١٣ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٢ ۔

١٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٥ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٢ ۔

١٦ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ١١٣ ۔

١٧ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٣ ۔

١٨ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٤ ۔

١٩ ۔  ''تلہ'' کا مادہ ''تل'' ہے اور اس کے معنی بلند جگہ کے ہیں ، '' و تلہ للجبین'' کا مفہوم یہ ہے کہ چہرہ کا ایک حصہ زمین کے بلند حصہ پر رکھیں ''جبین'' چہرہ کا ایک حصہ ہے اور دنوں طرف کو ''جبینان'' کہتے ہیں ۔

٢٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢١ ۔  سورہ صافات ،آیت ١٠٣ ۔

٢٢ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٤ ۔

٢٣ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٤ ۔

٢٤ ۔  سورہ صافات ، آیت ١٠٧ ۔

٢٥ ۔  سورہ صافات ، آیت ١٠٥ ۔

٢٦ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ١١٥ ۔

٢٧ ۔  تفسیر قرطبی ، و تفسیر روح البیان ۔

٢٨ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٦۔

٢٩ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٦ ۔

٣٠ ۔  سورہ صافات ، آیت ٧٨ ۔

٣١ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ١١٧ ۔

٣٢۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ١١٨ ۔

٣٣ ۔  سورہ حج ،آیت ٢٨ ۔

٣٤ ۔  سورہ حج ، آیت ٣٦ ۔

٣٥ ۔  پاسخ بہ پرسش ھای مذہبی ، صفحہ ٣٣٥ ۔

٣٦ ۔  پاسخ بہ پرسش ھای مذہبی ، صفحہ ٣٣٦ ۔

٣٧ ۔  گزشتہ حوالہ۔

٣٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٩ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٦ ۔

٤٠ ۔  سورہ صافات ، آیت ١٠٩ ۔

٤١ ۔  سورہ صافات ، آیت ٨٠ ۔

٤٢ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٧ ۔

٤٣۔  راہنما ، مقتدا۔

٤٤ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ،صفحہ ١١٧ ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:41:52 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1208