حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں امام ہادی علیہ السلام کی تعلیمات میں غور وفکر

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں امام ہادی علیہ السلام کی تعلیمات میں غور وفکر

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: طلاب اور خطباء حضرات کو چاہئے کہ اپنی تقریروں میں زیادہ سے زیادہ دسویں امام علیہ السلام کے متعلق بیان کریں کیونکہ آپ پر بہت زیادہ ظلم کیا گیا ہے اور جو لوگ آپ کی توہین کرتے ہیں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے ۔
کلمات کلیدی:

شیعوں کے دسویں امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت کے روز ضروری ہے کہ آپ کی کی شناخت، معرفت اور آپ کی تعلیمات میں زیادہ سے زیادہ غور وفکر کیا جائے اور اس کو سب کے سامنے پیش کیا جائے ،کیونکہ امام ہادی علیہ السلام نے شیعوں کی امامت اور ذمہ داری اس وقت قبول کی ہے جس وقت فشار اور پریشانیاں حد سے زیادہ تھیں (١) ۔

اسی طرح ثقافتی اور تبلیغی کام انجام دینے میں آپ آزاد نہیں تھے ،لیکن آپ نے اسی ماحول میں اعتقادی اعتراض کے جوابات بھی دئیے ، حدیثی اور فقہی میدان میں کام انجام دیا اور بہت سے شاگردوں کی تربیت فرمائی ، فقہی مشکلات کا حل اور سوالات کے جوابات آپ کے علم و دانش پر بہترین گواہ ہیں (٢) (٣) ۔

لہذا امام ہادی علیہ السلام کے برجستہ شاگردوں میں ایوب بن نوح، عثمان بن سعید اہوازی او رعبدالعظیم حسنی (شہر ری میں مدفون) کا نام لیا جاسکتا ہے ، ان میں سے بعض اصحاب کی علمی اور فقہی کتابیں موجود ہیں (٤) ۔

ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی زندگی کے طور طریقوں کی ترقی میں امام ہادی علیہ السلام کی بنیادی تعلیمات کو حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے مخاطبین کے سامنے پیش کریں گے ۔

امام ہادی علیہ السلام کی نظر میں دنیا کی حقیقت

دنیا ،آخرت کا تجارت خانہ ہے

امام ہادی علیہ السلام نے دنیا کو ایک بازار کے عنوان سے پیش کیا ہے جس میں کچھ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور کچھ لوگ نقصان اٹھاتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ''الدنیا سوق ربح فیھا قوم و خسر آخرون '' ۔ دنیا ایسا بازار ہے جس میں ایک گروہ فائدہ اٹھاتا ہے اور دوسرا گروہ نقصان اٹھاتا ہے (٥) ۔

معظم لہ نے امام ہادی علیہ السلام کے اس نورانی کلام کی تفسیر میں فرمایا : امام علی نقی علیہ السلام کی یہ روایت بتاتی ہے کہ دنیا کی طرف فقط ایک آخری ہدف کے عنوان سے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ یہ ایسا وسیلہ ہے جس میں عمل صالح انجام دینے کے بعد آخرت کو حاصل کیا جاسکتا ہے (٦) ۔

معظم لہ نے امام علیہ السلام کے اس کلام کی تفسیر میں فرمایا : یہ دنیا انسان کا اصلی وطن نہیں ہے اور نہ ہی ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے بلکہ ایک بہت بڑا تجارت خانہ ہے جس میں انسان اپنی عمر، طاقت،فکری اور عملی کاموں کے عظیم سرمایہ کو لگانے کے بعد آخرت کی ابدی زندگی کو حاصل کرسکتا ہے (٧) ۔

معظم لہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا : جو لوگ بہت زیادہ کارکردگی انجام دیتے ہیں اور بہت زیادہ ہوشیار اور آگاہ ہیں وہ اس تجارت خانہ کے فنون سے باخبر ہیں ، وہ ایک لمحہ کے لئے آرام سے نہیں بیٹھتے اور ہمیشہ اس کوشش میں ہیں کہ اس سرمایہ کے ذریعہ اپنے لئے اور اپنے معاشرہ کے لئے بہترین زندگی کا انتخاب کرلیں (٨) ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے مغربی افکار کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : مادی تمدن کے منفور نظریات میں تمام چیزیں مرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہیں، اسی وجہ سے ان کی نظر میں اخلاق کا کوئی مفہوم نہیں ہے ،لیکن قرآن اور اسلام کی نظر میں دنیا ، آخرت کیلئے مسابقہ کا میدان ہے (٩) ۔

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس اہم تعلیم کی تشریح میں اپنے دعوی کوثابت کرتے ہوئے فرمایا : دنیا امتحان اور مشکلات کا گھر ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے کا گھر ہے ، اگر دنیا کو آخرت کی کھیتی ، بازار اور یونیورسٹی سمجھیں تو زیادہ سے زیادہ سعی و کوشش کریں گے ، ورنہ مادیوں کی طرح بیکار زندگی بسر کریں گے (١٠) ۔لہذا معظم لہ نے مادی ا ور توحیدی نظر یات کو الگ الگ کرتے ہوئے فرمایا : پاک و پاکیزہ زندگی بسر کرنے کیلئے ہم کچھ خرچ کرنا پڑے گا اور بغیر خرچ کئے ہوئے اس تک نہیں پہنچ سکتے (١١) ۔

دنیا میں عظیم نقصان سے بچنے کیلئے خدا پر تکیہ کرنا ضروری ہے

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے امام ہادی کے کلام کی تفسیر کرتے ہوئے خطرہ اور نقصان سے بچنے کے لئے سورہ عصر کو متوجہ اور متنبہ کرنے والے کے عنوان سے پیش کیا اور فرمایا : ایک بزرگ نے کہا ہے : میں نے اس سورہ (عصر) کے معنی برف بیچنے والے مرد سے سیکھے ہیں ، وہ آواز لگاتا ہوا کہتا تھا : ''ارحموا من یذوب راس مالہ ارحموا من یذوب راس مالہ'' ! اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ گھل رہا ہے ، اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھل رہا ہے ، میں نے اپنے آپ سے کہا : ''ان الانسان لفی خسر'' (١٢) کے معنی یہ ہیں ،زمانہ اس کے اوپر سے گزر جاتا ہے اور اس کی عمر ختم ہوجاتی ہے اوراسے کوئی ثواب حاصل نہیں ہوتا اور وہ بہت ہی نقصان اٹھانے والا ہے (١٣) (١٤) ۔

لہذا اس عظیم خسران سے بچنے کیلئے صرف ایک راستہ باقی رہ جاتا ہے جس کے متعلق خداوندعالم فرماتا ہے : وہ لوگ گھاٹے اور نقصان میں نہیں ہیں جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں اورایک دوسرے کو حق اور صحیح کام کرنے کی سفارش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کوصبر و استقامت کی نصیحت کرتے ہیں ''الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق وتواصوا بالصبر'' (١٥) (١٦) ۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ جو چیز اس عظیم نقصان کو روک سکتی ہے اوراس کوعظیم فائدہ میں تبدیل کرسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں گرانقدر اور قیمتی سرمایہ کو حاصل کرلیں (١٧) ۔

یقینا انسان اگر ایک سانس بھی لیتا ہے تو وہ موت سے نزدیک ہوتا چلا جاتا ہے ،اس بناء پر انسان کا جب ایک مرتبہ دل دھڑکتا ہے تو اس کی عمر کا ایک قدم کم ہوجاتا ہے ، لہذا اس عظیم نقصان کے سامنے ایسے کام کرنا چاہئے تاکہ خالی جگہ پرہوجائے (١٨) ۔

مرجع عالی قدر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے دنیا میں انسان کی زندگی اور عمر کو اس طرح تقسیم فرمایا ہے :

١ ۔  بہت سے لوگ اپنی زندگی اور عمر کے نفیس سرمایہ کے مقابلہ میں بہت کم مال یابہت حقیر اور چھوٹا سا گھر حاصل کرلیتے ہیں ۔

٢ ۔  بہت سے لوگ کسی عہدہ و مقام کو حاصل کرنے کیلئے اس پورے سرمایہ کو ختم کردیتے ہیں ۔

٣ ۔  بہت سے اس سرمایہ کو عیش و نوش اور مادی لذات کے مقابلہ میں کھو دیتے ہیں ۔

٤ ۔  یقینا اس عظیم سرمایہ کی ان میں سے ایک بھی قیمت نہیں ہے ، اس کی قیمت صرف اور صرف خدا کی مرضی اور اس سے تقرب حاصل کرنا ہے (١٩) ۔

اور یہی وجہ ہے کہ قیامت کا ایک نام ''یوم التغابن'' ہے ، جیسا کہ سورہ تغابن کی نویں آیت میں ذکر ہوا ہے : ''ذالک یوم التغابن'' ۔ اس دن معلوم ہوگا کہ کون مغبون ہوا ہے اور کس نے نقصان اٹھایا ہے (٢٠) ۔

لہذا معظم لہ ،امام ہادی علیہ السلام کے کلام کی تفسیر کرتے ہوئے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک طرف وجود انسان کے سرمایہ کوخریدنے والا خداوندعالم ہے ''ان اللہ اشتری من المومنین ...'' (٢١) (٢٢) ۔ اور دوسری طرف خداوندعالم کم سرمایہ کو بھی خریدرہا ہے: ''فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یراہ'' (٢٣) اور ساتھ ہی ساتھ اس کی عظیم قیمت ادا کررہا ہے اور کبھی دس گنا زیادہ اور کبھی سات سو گنا زیادہ اس کے بدلے میں عطا کررہا ہے ''فی کل سنبلة مائة حبة واللہ یضاعف لمن یشاء '' (٢٤) ۔

اس بناء پر اگر چہ خداوندعالم نے اپنے تمام سرمایہ کو ہمیں دیا ہے ، لیکن وہ اس قدر بزرگوار ے کہ اسی سرمایہ کو دوبارہ ہم سے بہت مہنگی قیمت میں خرید رہا ہے (٢٥) ۔

عقلانیت ، دنیوی اور اخروی سعادت کی بنیادی حکمت عملی

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی ، امام ہادی علیہ السلام کی نورانی روایت کی بنیاد پر عقل کو دنیوی اور اخروی نقصان سے بچنے کیلئے بہترین راستہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں : زندگی کے اختتام کے متعلق غور وفکر کرنا اور سفر آخرت کیلئے زاد راہ فراہم کرنا ،عقل او رعقلاء کا کام ہے اور یہ اس بات کا سبب ہوتا ہے کہ بہت سے ظلم و بربریت کو آگے بڑھنے سے روکا جائے (٢٦) ۔

معظم لہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا : وہ دنیا جو مختلف حوادث سے بھری ہوئی ہو ،اس میں اگر انسان آخرت کو فراموش نہ کرے پھر بھی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ ظالم ، مستکبرین اور جرم انجام دینے والے ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی زندگی کے اختتام کے بارے میں نہیں سوچتے کیونکہ اگر وہ ذرہ برابر بھی غور وفکر کرتے تو کبھی ظلم و جور انجام نہ دیتے (٢٧) ۔

اس وجہ سے کہنا چاہئے کہ دنیا ،امتحان ومشکلات کا گھر ہے اور آخرت ہمیشہ کیلئے چین وسکون کا گھر ہے اور اگر دنیا کو آخرت کی کھیتی ، بازارت تجارت اور یونیورسٹی سمجھ لیں تو زیادہ سے زیادہ سعی و کوشش کریں کیونکہ اسلام کی نظر میں دنیا ایک بازار تجارت ہے ، جیسا کہ امام ہادی علیہ السلام کی روایت میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے (٢٨) ۔

تہذیب نفس میں خود شناسی بہترین قانون ہے

معظم لہ نے پہلے مرحلہ میں امام ہادی علیہ السلام کی تعلیمات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : جیسا کہ تہذیب نفس اور اخلاقی مسائل میں خود شناسی بنیادی ترین مسئلہ ہے ، اپنی قدر و منزلت سے جاہل ہونا دوسری چیزوں اور خداوندعالم سے دوری کا سبب ہے ، لہذا ایک حدیث میں امام ہادی علیہ السلام نے فرمایا ہے : ''من ھانت علیہ نفسہ فلا تامن شرہ'' ۔ جس کی نظر میں اپنی کوئی قدر وقیمت نہ ہو اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتے (٢٩) (٣٠) ۔

امام ہادی علیہ السلام کی اس روایت کے مضمون سے اچھی طرح استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ فضائل اخلاقی اور معنوی تکامل کی اصلی پرورش کی بنیاد خود شناسی اور معرفة النفس ہے اور جب تک انسان اس دشوار مرحلہ کو انجام نہیں دے گا ،اس وقت تک معنوی مقام تک نہیں پہنچ سکتا ، یہی وجہ ہے کہ اخلاق کے بزرگ علماء نے اس بات پر بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ اس راستہ پر گامزن ہونے والے اپنے آپ کو پہچانیں اوراس اہم مسئلہ سے غافل نہ ہوں (٣١) ۔

حقیقت میں فساد اور بدکاری کو روکنے والا سب سے اہم سبب ، شخصیت یا کم سے کم اپنی شخصیت کا احساس ہے ، جن لوگوں کی کوئی حیثیت ہے ، یا وہ اپنے لئے کسی شخصیت کے قائل ہیں ، چاہے دوسروں کی نظر میں ان کی کوئی شخصیت نہ ہو ،اپنی شخصیت اور حیثیت کو باقی رکھنے کیلئے بہت سے برے اور غلط کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ، لیکن جیسے ہی ان کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ ان کی نہ کوئی عزت ہے ، نہ احترام اور کوئی شخصیت ہے ،وہ کسی کی پروا ہ نہیں کرتے ۔ لہذا امام ہادی علیہ السلام نے فرمایاہے کہ ایسے افراد سے دور رہیں (٣٢) ۔

خود سازی ، ''جہاد اکبر'' کو ایجاد کرنے کا وسیلہ

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی ،امام ہادی علیہ السلام کی بنیادی روایت کی تفسیر میں ''جہاد اکبر'' کو بہت ہی ضروری سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں : ہم جانتے ہیں کہ ہوائے نفس جو کہ گناہوں کا اصلی سرچشمہ ہے ، سے مقابلہ کرنے کو اسلام میں ''جہاد اکبر'' کے نام سے بیان کیا ہے اور اس سے مقابلہ کرنا بہت سخت ہے لیکن اہم اور سرسخت دشمن سے مقابلہ کرنا آسان ہے کیونکہ یہ جہاد ، خود سازی کا وسیلہ ہے اور جب تک خودسازی نہ ہو ،کامیابی نہیں مل سکتی ، کیونکہ کمزوریوں کے مقابلہ میں انسان کو شکست ہوتی ہے (٣٣) ۔

گناہوں سے آلودہ ماحول میںاس جہاد کی قیمت آشکار اور اس کی اہمیت زیادہ ہے (٣٤) ۔

ادیان آسمانی اور جوامع بشری میں ایک اہم مسئلہ ، قیمتی نظام ہے ۔ عالم مادہ اور عالم معنویت میں ہر چیز کی ایک قیمت ہے ،کچھ امور قیمتی اور کچھ بے قیمت ہیں اور فطری سی بات ہے کہ اگر انسان کس چیز کو کم قیمت تشخیص دے ، بہت ہی آسانی سے اس کو کھو بیٹھتا ہے اور اگر اس کو قیمتی قرار دے تو آسانی سے اس کو نہیں جانے دیتا ، مثال کے طور پر ایک قیمتی گوہر ، بچے کو دیدیا جائے تو وہ اس سے کھیلنے کا کام لے گا اوراس کی نظر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور بہت ہی آسانی سے وہ اس کو کھو دیتا ہے (٣٥) ۔

انسان کی شخصیت بھی یہی ہے ، اگر اس کی قیمت کے قائل ہوجائیں تو آسانی سے نہیں بیچ سکتے ، قرآن کریم نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے : عالم ہستی میں خداوندعالم کی ذات کے بعد سب سے گرانقدر چیز انسان ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ تمام چیزیں اسی کے لئے خلق ہوئی ہیں :

''خلقت الاشیاء لاجلک و خلقتک لاجلی'' ۔ تمام چیزوں کو تیرے لئے خلق کیا ہے اور تجھے اپنے لئے خلق کیا ہے (٣٦) اور خدا کی بہتری مخلوق (فرشتوں) نے انسان کو سجدہ کیا ''فسجد الملائکة کلھم اجمعون'' (٣٧) ، یہاںسے انسان کی اہمیت اور قیمت واضح ہوجاتی ہے ، اس کے علاوہ تمام اشیاء انسان کے لئے مسخر ہوگئی ہیں ،یعنی وہ سب انسان کے لئے کام کرتی ہیں جو کہ انسان کے مقام و مرتبہ کوواضح کرتی ہیں (٣٨) ۔

اب ہمیں اپنے گوہر نفس کو پہچان لینا چاہئے اوراس کو جلدی ختم ہونے والی شہوتوں اور دنیا کے بے قدر وقیمت عہدہ و مقام کے مقابلہ میں نہیں بیچنا چاہئے کیونکہ اگر ہم اپنی اہمیت کونہیں پہچانیں گے تو اپنی شخصیت کو بیچ دیں گے اور ایسے انسان کے شر سے بچنا چائے کیونکہ وہ بہت کم پیسہ کے مقابلہ میں انسان کو قتل کردیتا ہے کیونکہ وہ اپنی اہمیت اور قیمت کا قائل نہیں ہے (٣٩) (٤٠) ۔

امام علیہ السلام کی تعلیمات میں شکر نعمت کی حقیقت

انسانوں کے ردمیان شکر نعمت ایسی چیز ہے جس کی طرف توجہ بہت کم کی جاتی ہے اسی وجہ سے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ایک روایت سے استناد کرتے ہوئے شکر نعمت کی اہمیت کو بیان کیا ہے ،امام ہادی علیہ السلام فرماتے ہیں : ''الشاکر اسعد بالشکر منہ بالنعمة التی اوجبت الشکر لان النعم متاع والشکر نعم و عقبی'' (٤١) ۔ جو شخص شکر نعمت کرتا ہے ، شکر کی وجہ سے اس کی سعادت نعمتوں سے زیادہ ہے کیونکہ نعمتیں اس دنیا کی زندگی کا وسیلہ ہیں اور شکریہ دنیا و آخرت کا سرمایہ ہے ۔

معظم لہ نے امام ہادی علیہ السلام کی تعلیمات میں شکر کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : شکر فقط زبان سے قدر دانی کا نام نہیں ہے بلکہ قدر دانی عملی طور پر ہونا چاہئے اور ہر نعمت کو اس کی جگہ پر استعمال کرنا چاہئے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر نعمت کرنے سے برکتیں اور سعادتیں حاصل ہوتی ہیں جس کے مقابلہ میں نعمتیں کچھ بھی نہیں ہیں ، نعمتوں کو خدا کی مرضی اوراس کے نیک بندوں کی راہ میں خرچ کرنا چاہئے جس سے دنیا اور آخرت دونوں کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے ، انسان اگر نعمت کی طرف غور وفکر کرے تو معلوم ہوجائے گا کہ نعمت ایک مادی ہدیہ ہے لیکن شکر نعمت ، نعمت سے بہتر ہے (٤٢) ۔

اس بناء پر قلبی، زبانی اور عملی شکر بھی شکر ہے ، اگر انسان شکر خدا بجا لائے تو جو چیز اس کے بدلے میں ملنے والی ہے وہ اس سے بھی بالاتر ہے اور افسوس کہ اس طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے (٤٣) ۔

شیعوں کے عظیم الشان مرجع تقلید نے ''ایمان، حلم اور معرفت'' کو شکر نعمت کی برکتوں کے عنوان سے بیان کیا اور فرمایا : سب کو اس بات کی طرف توجہ کرنا چاہئے کہ اگر ہم خدا کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں تو اس کا نتیجہ ہماری ہی طرف پلٹے گا اور خداوندعالم ، انسانوں کی شکر گزاری سے بے نیاز ہے (٤٤) ۔

معظم لہ نے اس دعوی کے اثبات میں امام ہادی علیہ السلام کی سیرت کو پیش کیا اور فرمایا : امام ہادی علیہ السلام کی سوانح حیات میں ملتا ہے کہ آپ کے ایک صحابی جن کا نام ''ابوہاشم جعفری'' تھا ، کہتے ہیں : میرے حالات بہت خراب تھے ،میں امام ہادی علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تاکہ ان سے شکایت کروں ، میرے کچھ کہنے سے پہلے امام نے فرمایا : اے ''ابوہاشم'' تم خدا کی کس نعمت کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو ؟ ابوہاشم کہتے ہیں : میں اس بات سے ناراض ہوگیا اور خاموش رہا اورمیری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دوں ، امام نے خود بات کو آگے بڑھائی اور فرمایا : خداوندعالم نے تجھے ایمان دیا ہے اور اس کے ذریعہ تمہارے بدن پر آتش دوزخ کو حرام قرار دیا ہے ،خداوندعالم نے تجھے سلامتی اور تندرستی دی ہے اور اپنی عبادت میں تیری مدد کی ہے ،خداوندعالم نے تجھے قناعت دی ہے تاکہ لوگوں کے سامنے تیری عزت و اہمیت باقی رہے (٤٥) ۔

اے ابوہاشم ! میں نے اس لئے تم سے پہلے بات شروع کی کیونکہ مجھے خیال تھا کہ تم اس کی شکایت کرنے جارہے ہو جس نے تمہیں یہ سب نعمتیں دی ہیں اور میں نے حکم دیا ہے کہ تجھے سو دینار دئیے جائیں (اور اس کے ذریعہ اپنی مشکل کو حل کرو ) ۔ (٤٦) ۔

آپ کی یہ بزرگواری اور اچھی برخورد اس بات کا سبب بنی کہ وہ راضی و خشنود ہوگیا اورامام کی خدمت میں اپنی شکایت بھی بیان نہ کرسکا (٤٧) ۔

اسی طرح مفسر قرآن کریم صاحب تفسیر نمونہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس زمانہ میں ناشکری کے مصداق کی شرح کرتے ہوئے خاندانوں اور معاشروں میں کے بعض نقصانات کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : مثال کے طور پر خداوندعالم کسی کو اولاد دیتا ہے لیکن وہ اس کی تربیت میں کوتاہی کرتے ہیں اور عملی طور پر خدا کی نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے اور یہ نعمت ،زحمت اور وبال میں تبدیل ہوجاتی ہے ، مثلا وہ بری عادتوں میں پڑ جاتا ہے ۔ اس کے برعکس کوئی شخص بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس پر صبر کرتا ہے اور شکر خدا بجالاتا ہے ،اس طرح اس کی بیماری دور ہوجاتی ہے اور وہ پھر متوجہ ہوتا ہے کہ اگر صحیح و سالم ہوتا تو فلاں پروگرام میںشرکت کرتا اور اس کی وجہ سے میں نیست ونابود ہوجاتا (٤٨) ۔

اس بناء پر مومن انسان کو الہی نعمتوں سے صحیح استفادہ کرتے ہوئے خداوندعالم کا شکر ادا کرنا چاہئے، لیکن منافق انسان فقط اپنے دعوی میں شکر گزاری کرتا ہے لیکن عمل میں شاکر نہیں ہے(٤٩) ۔

آخری بات

یقینا امام ہادی علیہ السلام کے کلمات ، دنیا و آخرت کی سعادت کا وسیلہ ہیں(٥٠) ۔ یقینا تمام ائمہ علیہم السلام کا احترام ہم سب پر واجب ہے اور ہمیں چاہئے کہ صحیح طور طریقہ سے دشمنوں کا جواب دیں ، لیکن طلاب اور خطباء حضرات کو چاہئے کہ اپنی تقریروں میں زیادہ سے زیادہ دسویں امام علیہ السلام کے متعلق بیان کریں کیونکہ آپ پر بہت زیادہ ظلم کیا گیا ہے اور جو لوگ آپ کی توہین کرتے ہیں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے (٥١) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١ ۔  دایرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ١٠٤ ۔

٢ ۔  عیسائی زنا کار جو کہ حد جاری ہونے سے پہلے مسلمان ہوگیا تھا ، کے متعلق امام ہادی علیہ السلام کا فقہی فتوی اور یحیی بن اکثم اور دوسرے درباری فقہاء کے نظریات کی مخالفت میںامام ہادی علیہ السلام کا فتوی بہت اہم ہے (رجوع کریں : وسائل الشیعہ،جلد ١٨ ،صفحہ ٤٠٨ ، ابواب حد الزنا، باب ٣٦) ۔ اسی طرح متوکل کی نذر اور اس کو انجام دینے میں اختلافات اور پھر امام علیہ السلام کا مشکل کو حل کرنا ایک دوسری مثال ہے (مراجعہ کریں : تذکرة الخواص ، صفحہ ٣٦٠) ۔

٣۔  دایرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ١٠٤ ۔

٤ ۔  دایرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ١٠٧ ۔

٥ ۔  بحار الانوار ، جلد ٧٥ ، مواعظ امام ہادی علیہ السلام ، صفحہ ٣٦٦۔

٦ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٢ ،صفحہ ١٨٥ ۔

٧ ۔  یکصد و پنجاہ درس زندگی (فارسی) ، صفحہ ٧٨ ۔

٨۔  یکصد و پنجاہ درس زندگی (فارسی) ، صفحہ ٧٨ ۔

٩ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٤/٣/١٣٩١) ۔

١٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١١ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٢ ۔  سورہ عصر ، آیت ٢ ۔

١٣ ۔  تفسیر فخر رازی ، جلد ٣٢ ،صفحہ ٨٥ ۔

١٤ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ،صفحہ ٢٩٦ ۔

١٥ ۔  سورہ عصر ، آیت ٣ ۔

١٦ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ،صفحہ ٢٩٦ ۔

١٧ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ،صفحہ٢٩٧ ۔

١٨ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ،صفحہ ٢٩٧ ۔

١٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٠ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ،صفحہ ٢٩٨ ۔

٢١ ۔  سورہ توبہ ، آیت ١١١ ۔

٢٢ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ،صفحہ ٢٩٨ ۔

٢٣ ۔  سورہ زلزال ،آیت ٧ ۔

٢٤ ۔  سورہ بقرہ ، آیت ٢٦١ ۔

٢٥ ۔  تفسیر نمونہ ،جلد ٢٧ ، صفحہ ٢٩٨ ۔

٢٦ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢/١١/١٣٩٢) ۔

٢٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٨ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٧ ،صفحہ ٢٩٦ ۔

٢٩ ۔  تحف العقول ،صفحہ ٣٦٢ ۔

٣٠ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ١ ، صفحہ ٣٢٦ ۔

٣١ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ١ ، صفحہ ٣٢٦ ۔

٣٢ ۔  یکصد و پنجاہ درس زندگی (فارسی) ، صفحہ ١٤٢ ۔

٣٣۔  یکصد و پنجاہ درس زندگی (فارسی) ، صفحہ ١٤٣ ۔

٣٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٥ ۔  مشکات ہدایت ، صفحہ ٧١ ۔

٣٦ ۔  جواہر السنة ، صفحہ ٣٦١ ۔

٣٧ ۔  سورہ حجر ، آیت ٣٠ ۔

٣٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٩ ۔  مشکات ہدایت ، صفحہ ٧٢ ۔

٤٠ ۔  مشکایت ہدایت ،صفحہ ٧٣ ۔

٤١ ۔  تحف العقول ، صفحہ ٣٦٢ ۔

٤٢ ۔  یکصد و پنجاہ درس زندگی (فارسی) ، صفحہ ١٥٣۔

٤٣ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٧/٢/١٣٩١) ۔

٤٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤٥ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ٣ ،صفحہ ١٦٠ ۔

٤٦ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤٨ ۔  سوگندھای پر بار قرآن ، صفحہ ٤٢١ ۔

٤٩ ۔  سوگندھای پر بار قرآن ، صفحہ ٤٢٢ ۔

٥٠ ۔ قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٣/٣/١٣٩١) ۔

٥١ ۔  فضائے مجاری میں امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢/٢/١٣٩١) ۔

 
تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:36:08 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 591