حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی نظر میں فریضہ حج کی بنیادی خصوصیات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی نظر میں فریضہ حج کی بنیادی خصوصیات

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: حقیقت میں سفر حج ایک بہت بڑی ہجرت ہے ،حج ، ایک الہی سفر ہے ، خود سازی اور جہاد اکبر کا ایک وسیع میدان ہے ۔
کلمات کلیدی:

جج ، اسلام کا سب سے بڑا فریضہ ، دین کا اہم ترین شعائراور خداوندعالم سے نزدیک ہونے کیلئے بہت ہی قیمتی عمل ہے ، یہی وجہ ہے کہ حج کے عظیم الشان مناسک میں دوسری عبادات کی طرح بہت زیادہ برکتیں پائی جاتی ہیں ، اگر اس سے صحیح طرح استفادہ کیا جائے تو اسلامی معاشرہ میں بہت زیادہ تبدیلیاں آسکتی ہیں (١) ۔

لہذا ہم نے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے قیمتی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے حج کی افادیت کو بیان کرنہایت ضروری سمجھا تاکہ اس عبادی عمل کی برکتوں سے فریضہ کی حکمت عملی کو مخاطبین کے سامنے پیش کیا جاسکے ۔

فریضہ حج کی حقیقت میں غور وفکر

١ ۔  حج اسلام کا بزرگ ترین رکن ہے

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فریضہ حج کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : شیعوں کی نظر میں اسلام کا سب سے اہم رکن حج ہے (٢) ، حج حقیقت میں بدن اور مال کا جہاد ہے ،بلکہ حج معنوی جہاد ہے ، جس طرح جہاد ، حقیقی حج ہوتا ہے اور ان دو اسلامی احکام کے آداب و اسرار میں غور وفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک طرح کی وحدت اور ہماہنگی کا احساس ہوتا ہے (٣) ۔

٢ ۔  وجوب حج کی کیفیت

معظم لہ نے مسلمانوں کے کیلئے اس فریضہ کو انجام دینے کے شرایط بیان کرتے ہوئے فرمایا : اگر عام شرائط جیسے بالغ اور عاقل ہونا اور خاص شرایط جیسے مستطیع ہونا (زاد راہ، سواری، جسم کا صحیح وسالم ہونا اور راستہ کی امنیت) جمع ہوجائیں تو حج پوری عمر میں ایک مرتبہ واجب ہوجاتا ہے ، اگرچہ اس کا واجب ہونا فوری ہے اور اس میں تاخیر نہیں کرسکتے (٤) ۔

٣ ۔  حج ، بندگان الہی کی مساوات کا مظہر

مفسر قرآن کریم اور مرجع جہان تشیع نے اس اہم فریضہ کی تشریح میں فرمایا : حج ایسی عبادت ہے جو سب کے ساتھ انجام دی جاتی ہے اور یہ تمام کپڑے اتارنے کے بعد فقط سادہ دو کپڑوں کو پہننے سے شروع ہوتا ہے اور یہ اس کی بارگاہ میں مساوات کی علامت ہے اور یہ انسانوں کی ایک بہت بڑی آرزو ہے کہ ایک دن وہ آجائے جب انسان برتری کے اسباب جیسے قوم پرستی، زبان، رنگ اور ثروت کو اپنے سے الگ کردیں ،سب کے سب اپنے آپ کو خدا کے سامنے مساوی قرار دیں ۔ اعمال حج ایسی عبادت ہے جس کا ہدف یہی ہے اور یہ اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ مومن افراد ، اجتماعی امتیازات کو اپنی برتری کا وسیلہ نہ سمجھیں(٥) ۔

٤ ۔  حج ابراہیمی کی معرفت کو بیان کرنا

حقیقت میں سفر حج ایک بہت بڑی ہجرت ہے ،ایک الہی سفر ہے ، خود سازی اور جہاد اکبر کا ایک وسیع میدان ہے (٦) ۔

حج کے اعمال ایسی عبادت کو ظاہر کرتے ہیں جس میں حضرت ابراہیم ،ان کے بیٹے اسماعیل اور ان کی بیوی ھاجر کی مجاہدت اور یاد ملی ہوئی ہے اور اگر ہم اسرار حج کا مطالعہ کرتے ہوئے اس نکتہ سے غافل ہوجائیں تو اس کے بہت سے اعمال معمہ بن جائیں گے ،جی ہاں ! اس معمہ کو حل کرنے کی کنجی ان تینوں بزرگوں کی طرف توجہ کرنا ہے (٧) ۔

جس وقت قربانی کے لئے میدان منی میں جاتے ہیں ... تو ابراہیم کی قربانی یاد آتی ہے کہ انہوں نے اپنے عزیز ترین عزیز اور اپنی عمر کے شیرین ترین پھل کو خدا کی راہ میں اس جگہ پر ایثار کیا تھا اور پھر میدان منی میں یہ ان کی سنت بن گئی ۔

جس وقت جمرات (پتھر کے تین مخصوص ستون جن پر حج کے زمانہ میں حاجی پتھر مارتے ہیں اور ہر مرتبہ اس کی خصوصیات کے ساتھ سات پتھر مارتے ہیں...) میں جاتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ یہاں پر توحید کے علمبردار ابراہیم کو شیطان نے وسوسہ دلایا تھا اور وہ تین مرتبہ ان کے راستہ میں آکر کھڑا ہوا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ ابراہیم کو اس میدان جہاد اکبر میں سست کردے ، لیکن ہر مرتبہ حضرت ابراہیم نے اس کو پتھر مار کر بھگایا ۔

جس وقت صفا اور مروہ میں جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ لوگ گروہ در گروہ اس پہاڑ سے اس پہاڑ پر جاتے ہیں اور پھر وہاں سے اس کی طرف واپس آتے ہیں اور اس عمل کی تکرار کرتے ہیں ،کبھی دوڑتے ہیں ، کبھی راستہ چلتے ہیں ... اس ایماندار عورت ھاجر کی سعی و کوشش کو یاد کرتے ہیں جس نے اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کی جان بچانے کیلئے اس خشک اور تپتے ہوئے صحرا میں کس طرح پانی کیلئے سعی و کوشش کی اور پھر خداوندعالم نے ان کو مقصد تک پہنچا دیا، حضرت اسماعیل کے پیروں کے نیچے سے چشمہ زمزم جوش مارنے لگا ، اچانک چرخ زمان پیچھے کی طرف پلٹتا ہے ، پردہ ہٹ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو ھاجر کے نزدیک دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھ سعی وکوشش میں لگ جاتے ہیں ! لہذا ہم نے جو کچھ کہا ہے اس کے متعلق بہت ہی آسانی سے نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ حج کی ان رموز کے ساتھ تعلیمات دینا چاہئے ، اسماعیل، ابراہیم اور ان کی بیوی کی یاد کو قدم قدم پر یاد کرنا چاہئے تاکہ اس کا فلسفہ بھی حاصل ہوجائے اور حجاج کے نفوس میں حج کے اخلاقی اثرات سما جائیں (٩) ۔

٥ ۔  احکام حج میں تفسیری نکات کا خلاصہ

قرآن کریم کے بزرگ مفسر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی ، احکام حج کی بعض تفسیری خصوصیات کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :

خداوندعالم قرآن کریم میں سورہ بقرہ کی ١٩٧ ویں آیت میں احکام حج کو بیان کرتا ہے اور کچھ احکام و قوانین بتاتا ہے ۔

١ ۔  حج معین مہینوں میں واجب ہے ''الحج اشھر معلومات '' ۔ ان مہینوں سے مراد شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ ہے ۔

٢ ۔  پھر مناسک حج میں احرام باندھنے کے متعلق حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے : (جن لوگوں کے اوپر حج واجب ہوگیا ہے اور انہوں نے احرام باندھ لیا ہے ،توحج کے اعمال میں جنسی آمیزش ، گناہ اور جدال نہیں ہے '''' ۔ فمن فرض فیھن الحج فلا رفث و لا فسوق و لا جدال فی الحج '' ۔ لہذا حج کا ماحول جنسی استفادہ، گناہوں، بیہودہ باتوں اور جنگ و جدال سے پاک ہونا چاہئے ،کیونکہ یہ ایسا ماحول ہے جس سے انسان کی روح کو طاقت اور قوت حاصل کرنا چاہئے اور مادی دنیا سے باہر نکل کر عالم ماوراء مادہ کو حاصل کرنا چاہئے اور اس طرح مسلمانوں کے درمیان برادری، اتفاق، اتحاد اورمحبت قائم ہونا چاہئے اور جوکام بھی اس کے برخلاف ہوں وہ سب ممنوع ہیں ۔

٣ ۔  آخری مرحلہ میں حج کے معنوی مسائل اور جو چیزیں اخلاص سے مربوط ہیں ، اشارہ کرتا ہے اور فرماتا ہے : تم جو بھی نیک کام انجام دیتے ہو ، خداوندعالم اس سے آگاہ ہے '' وما تفعلوا من خیر یعلمہ اللہ'' ۔ اور یہ بہت لذت بخش بات ہے کہ اعمال خیر اس کے سامنے انجام پاتے ہیں (٩) ۔

اوراسی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے : زاد راہ آمادہ کرلو اور بہترین زاد راہ تقوی اور پرہیزگاری ہے ''و تزودوا فان خیر الزاد التقوی و اتقون یا اولی الالباب'' ۔ یہ جملہ اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ سفر حج میں معنوی زاد راہ کو آمادہ کرنے کیلئے بہت سے امور موجود ہیں جن سے غفلت نہیں کرنا چاہئے ... جن کی روح بیدار ہے اور ان کی فکر بھی زندہ ہیں وہ اس سفر سے اپنی عمر بھر کیلئے معنوی اور روحانی زادراہ حاصل کرسکتے ہیں (١٠) ۔

فریضہ حج کی عبادی خصوصیات

تقوی اور اخلاص کے ارکان کی تقویت

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فریضہ حج کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے ''تربیت نفوس ، تہذیب اخلاق اور تقوی کے ارکان کی تقویت کو فلسفہ حج کی اصلی صورت شمار کیا اور فرمایا : اخلاقی اور عبادی پہلو جو کہ حج کے اہم فلسفہ کو تشکیل دیتے ہیں ، تربیت نفوس، تہذیب اخلاق ، تقوی اور اخلاص ہے (١١) ۔ روایات میں ایک مشہور تعبیر ذکر ہوئی ہے : ''یخرج من ذنوبہ کھیئتہ یوم ولدتہ امہ'' ۔ جو شخص بھی خانہ خدا کے حج کو (اخلاص، توبہ اور اس کے آداب و اسرار کے ساتھ) انجام دے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جس طرح آج ہی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو (١٢) ۔ حج، انسان کی روح اور جان پر بہت گہرا اثر چھوڑتا ہے ،اس کو آلودگیوں سے پاک کردیتا ہے اور گناہوں کے جو آثار ایک عرصہ سے اس کے دل میں جمے ہوئے تھے ، وہ دور ہوجاتے ہیں اور یہ سب سے بڑا فائدہ ہے جو بیت اللہ الحرام کے زائرین کو ہوتا ہے (١٣) ۔

معظم لہ نے ایک جگہ پر فریضہ حج کو مومنین کے لئے ایک بہترین عمل بیان کرتے ہوئے فرمایا : مومن حج کے لئے جو قدم بھی آگے بڑھاتا ہے وہ اسی قدر خداوندعالم سے نزدیک ہوجاتا ہے اور اپنے حقیقی محبوب اور معبود کو سب جگہ حاضر و ناظر پاتا ہے ۔ جو لوگ حج کو اپنے پورے وجود کے ساتھ درک کرتے ہیں وہ اس کے معنوی اور روحانی آثار کو اپنی آخری عمر تک حس کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ حج پوری عمر میں ایک مرتبہ واجب ہے (١٤) ۔

فریضہ حج کی اخلاقی خصوصیات

١ ۔  اخلاقی تبدیلیاں

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فلسفہ حج کی اہم ترین خصوصیت ،اخلاقی تبدیلیاں بیان کی ہیں جو انسان کے وجود میں پیش آتی ہیں ۔ ''احرام'' انسان کو مادی اشیاء ،ظاہری امتیازات، رنگ برنگے لباس اور زر و جواہر سے باہر نکال دیتا ہے اور لذتوں کو حرام کرکے اس کو مادی دنیا سے الگ کردیتا ہے اور اس کو نور اور روحانیت کی طرف لے جاتا ہے اور جو لوگ اب تک اپنے اندر سنگینی کا احساس کررہے تھے ، ایک دم راحت اور سکون کا احساس کرتے ہیں ،کیونکہ لباس حج ،غرور اور تکبر کو انسان سے دور کردیتا ہے اور تواضع، اخلاص اور صبر و شکیبائی کا درس دیتا ہے (١٦) ۔

٢۔  نفس سے مقابلہ

معظم لہ نے زائرین حرم امن الہی کیلئے مناسک حج کی اخلاقی تعلیمات کے آثار کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : یقینا حج جیسے پروگرام اس لئے رکھے گئے ہیں تاکہ انسان ان پروگراموں کے سایہ میں ہوائے نفس اور شیطانی وسوسوں سے مقابلہ کرسکے اور جب بھی ان پروگرام میں کوئی بہترین منظر نظر آئے گا یہ مقابلہ کم رنگ ہوجائیگا ، لیکن جب بھی زحمت و مشقت اور خشک و سادہ ماحول میں منعقد ہوں گے تو وسوسہ شیطانی اور ہوائے نفس سے مقابلہ زیادہ ہوگااور حج کے تربیتی آثار ظاہر ہوں گے (١٧) ۔

فریضہ حج کی سیاسی خصوصیات

اسلامی امت کا اتحاد ، فریضہ حج میں بنیادی طور طریقہ

یہ بات بھی ظاہر ہے کہ اسلامی امت کو قوی کرنا بہت ضروری ہے ،لہذا اس مسئلہ میں حج کے سیاسی اور عبادی اعمال ، اسلامی امت کے اتحاد کو قائم کرسکتے ہیں۔معظم لہ نے ایک جگہ فرمایا : عبادت کی روح ، خدا کی طرف توجہ کرنا ہے اور سیاست کی روح ،خلق خدا کی طرف طرف توجہ کرنا ہے ، یہ دونوں حج میں اس طرح مل گئے ہیں کہ دونوں ایک ہی چیز کے اجزاء شمار ہوتے ہیں ،لہذا مسلمانوں کی متحد صفوں کے لئے حج بہت موثر ہے (١٨) ۔

نژاد پرستی، قومی تعصبات اور ان کو جغرافیایی حدود بندی میں منحصر کرنے سے مقابلہ کرنے کا نام حج ہے (١٩) ۔

اسلامی روایات میں حج کو کمزور لوگوں کا جہاد بیان کیا گیا ہے ،ایسا جہاد جس میں بوڑھے مرد اوربوڑھی عورتیں ،اسلامی امت کی عظمت کو منعکس کرسکتے ہیں اور خانہ خدا کے ارد گرد نماز کی صفوف میں تکبیروں کے آواز سے دشمنوں کی کمر توڑ سکتے ہیں (٢٠) ۔ اس وجہ سے حج ، مسلمانوں کے اتحاد اور اسلام کی قدرت و طاقت کا سبب قرار دیا گیا ہے (٢١) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١۔  انوار ہدایت ، مجموعہ مباحث اخلاقی ، صفحہ ٤٠١ ۔

٢ ۔  آئین ما (اصل الشیعہ ) ، صفحہ ٢٠١ ۔

٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٥ ۔  پاسخ بہ پرسشھای مذہبی ، صفحہ ٢٨٨ ۔

٦ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ، صفحہ ١٢٧ ۔

٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٨ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٩ ، صفحہ ١٢٧ ۔

٩ ۔  خلاصہ تفسیر نمونہ ، جلد ١ ، صفحہ ١٨٠ ۔

١٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١١ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ١ ، صفحہ ٢٦١ ۔

١٢ ۔  بحار الانوار ، جلد ٩٩ ، صفحہ ٢٦ ۔

١٣ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ١ ، صفحہ ٢٦١ ۔

١٤ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ١ ، صفحہ ٢٦٢ ۔

١٥ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ١٤ ، صفحہ ٧٦ ۔

١٦ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٧ ، صفحہ٤٢٦ ۔

١٧ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ١ ، صفحہ ٤٣٠۔

١٨ ۔  انوار ہدایت ، مجموعہ مباحث اخلاقی ، صفحہ ٤٠٣ ۔

١٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٠ ۔  انوار ہدایت ، مجموعہ مباحث اخلاقی ، صفحہ ٤٠٤ ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:34:59 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 544