حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے کلام میں دعائے عرفہ کا تعارف

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے کلام میں دعائے عرفہ کا تعارف

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: دعائے عرفہ کو حضور قلب اور اس کے مفاہیم کو درک کرتے ہوئے پڑھنا چاہئے اور اس کے بلند و بالا مضامین اور معانی میں غور وفکر کرنا چاہئے اور اس دن کے فیوضات سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
کلمات کلیدی:

نو ذی الحجہ کا دن ، روز عرفہ سے مشہور ہے جس میں امام حسین علیہ السلام کی دعائوں، زیارات اور خاص طور پر دعائے عرفہ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ،اس دعا میں اسلام اور شیعیت کی معنوی تعلیمات کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر موجود ہے ۔

یقینا اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی برکت سے دعائے عرفہ ہمیشہ کے لئے احیاء ہوگئی ، یہ دعا پورے ایران میں بزرگ اجتماع کی صورت میں پڑھی جاتی ہے (١) ۔ اسی وجہ سے ہم نے ضروری سمجھا کہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ ) کے قیمتی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اس دعائے عرفہ کے بے نظیر پیغامات اور مطالب کو قارئین کے سامنے پیش کیا جائے ۔

روز عرفہ کی شان ومنزلت

پہلے مرحلہ میںروز عرفہ کی حقیقت کو بیان کرنا ضروری ہے ، بعض روایات میں روز عرفہ کو عید کہا گیا ہے ، اگر چہ اس دن حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت بھی واقع ہوئی ہے ، لیکن عرفہ کا دن ایسا ہے جس میں ایک آنکھ سے گریہ اور دوسری آنکھ سے خوشی کے آنسوئوں نکلنا چاہئیں(٢) ۔

کیونکہ اس دن خداوندعالم نے اپنے بندوں کو عبادت اور اطاعت کی دعوت دی ہے اور اپنے احسان وکرم کا دسترخوان اپنے بندوں کے لئے بچھایا ہے ، اس دن شیطان ذلیل و خوار اور وحشت زدہ رہتا ہے ۔ اس دن کی دعائوں، احادیث اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خداوندعالم عرفہ کے درن اپنے بندوں پر ایک خاص نظر ڈالتا ہے ۔

دعائے عرفہ کی اہمیت

اسلامی تعلیمات میں دعائے عرفہ کی قرائت کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ، حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے دعائے عرفہ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : عرفہ اور عرفات کی اہمیت کے متعلق جو روایات نقل ہوئی ہیں وہ بہت عجیب ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عجیب سرزمین پر اللہ کی رحمت بہت زیادہ نازل ہوتی ہے اور انسانوں کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں (٣) ۔

دعائے عرفہ ،حقانیت اہل بیت (ع) کی نشانی

معظم لہ نے دعائے عرفہ کو حقانیت اہل بیت (ع) کی اہم ترین نشانی بیان کی اور فرمایا : حقانیت ائمہ علیہم السلام کی ایک دلیل اسی طرح کی دعائیں ہیں (جیسے دعائے صباح، دعائے کمیل، صحیفہ سجادیہ کی دعائیں اور امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ) ۔ اور دوسرے مذاہب میں ایسی دعائیں نہیں پائی جاتی(٤) ۔ کیونکہ عرفات کے بیابان میں امام حسین علیہ السلام کا خدا وندعالم سے راز و نیاز کرنا ، مقدس عشق کی گرانقدر دلیل ہے (٥) ۔

یقینا دعاء انسان کو خداوندعالم سے نزدیک اور شیطان سے دور کردیتی ہے ، انسان کی روح کو ایک خاص لطافت بخشتی ہے ،ایمان کی بنیادوں کو قوی کرنے ، تہذیب نفس اور پرورش اخلاق میں بہت زیادہ موثر ہے (٦) ۔

اس طرح کی دعائیں ، معصومین علیہم السلام کی بلند روح سے وجود میں آئی ہیں لہذا یہ سب دعائیں بہت ہی بلند وبالا ہیں اور علم و آگاہی کے ساتھ ان کی قرائت انسان کو کرامت اور معرفت سے نزدیک کردیتی ہے (٧) ۔

دعائے عرفہ ،توحید اور خدا پرستی کا درس دیتی ہے

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے ایک جگہ فرمایا : معصومین علیہم السلام کی دعائیں تربیت اور اخلاق کے درس سے سرشار ہیں ، مثلا دعائے ''عرفہ'' میں عقاید اور توحید کا کامل درس ہے ،جو توحید اس دعاء میں نظر آتی ہے وہ اوردوسری دعائیںمیں نہیں ملتی (٨) ۔

دعائے عرفہ ،خدا شناسی کا کامل مجموعہ

جہان تشیع کے عظیم الشان مرجع نے دعائے عرفہ کی بلند وبالا تعلیمات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : دعائے عرفہ ، عرفان اسلامی، خدا شناسی،پیامبر شناسی، ولایت اور اخلاق کا ایک کامل مجموعہ ہے ، بلکہ یہ کہا جائے کہ اسلامی اہم مفاہیم اس کے اندر سما گئے ہیں جو دعا کے قالب میں بیان ہوئے ہیں ۔

معظم لہ نے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : دعائے عرفہ میں جو کہ امام حسین علیہ السلام سے ہم تک پہنچی ہے ،خدا شناسی کے تمام مراحل بیان ہوئے ہیں ،سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے مشہور دعائے عرفہ میں خداوندعالم کی نعمتوں اور قدرت کو شمار کرتے ہوئے اس کی خدمت میں اس طرح عرض کیا : ''وابتدعت خلقی من منی یمنی ، ثم اسکنتنی فی ظلمات ثلاث: بین لحم و جلد و دم،لم تشھر بخلقی ،و لم تجعل الی شیئا من امری، ثم اخرجتنی الی الدنیا تاما سویا '' ! میری خلقت کا آغاز منی کے ناچیز قطرات سے کیا ،پھر مجھے گوشت، پوست اور جمے ہوئے خون کی تین تاریکیوں میں رکھا ، میری خلقت کو آشکار نہیں کیا اور اسی مخفی گاہ میں میری خلقت کو جاری رکھا اورمیری زندگی کے کسی بھی امر کو میرے حوالہ نہیں کیا ، پھر مجھے صحیح و سالم دنیا میں منتقل کردیا (٩) ۔

معرفت الہی کی بنیادی کنجی تضروع زاری

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اپنے بیانات میں راز و نیاز اور تضرع و زاری کی ضرورت کو دعائے عرفہ کا بنیادی موضوع قرار دیا ہے ، انہوں نے ایک جگہ فرمایا : ان دنوں درگاہ الہی میں تضرع و زاری کے ساتھ عبادت کرنا چاہئے ، دعا، عبادت اور تضروع زاری کے لئے بہترین ایام ، روز عرفہ ہے (١٠) ۔

معظم لہ نے اس مسئلہ کی تفسیر میں حضرت سید الشہداء (ع) کے نورانی کلام سے استفادہ کرتے ہوئے فرمایا : یہاں پر کہنا چاہئے : اے انسان خداوندعالم کی خلقت کے سامنے تیرا تکبر کیا ہے ؟ واقعا کتنے تعجب کی بات ہے کہ وہ انسان جس کا آغاز نطفہ اور جس کا اختتام مردار ہے اور ان دونوں کے درمیان پایخانہ اور کثافات ہے ، پھر بھی تکبر اور فخرو مباہات کرتا ہے ۔ (وہ ذرہ جس کا حساب نہیں کیا جاسکتا وہ ہم ہیں) ، ہمیں اس بات کا اقرار کرلینا چاہئے کہ معرفت کو امام حسین علیہ اسلام سے سیکھنا چاہئے ، امام حسین علیہ السلام میں اشک بہاتے ہوئے کہتے ہیں : ''الھی انا فقیر فی غنای فکیف لااکون فقیرا فی فقری الھی انا الجاھل فی علمی فکیف لا اکون جھولا فی جھلی '' (١١) ۔ خدایا ! میں بے نیازی کے وقت بھی فقیر ہوں ، پھر اپنے فقر میں کس طرح فقیر نہیں ہوں ، خدایا ! میں عالم ہوتے ہوئے بھی جاہل ہوں ، پھر جہالت کے وقت کیسے جاہل نہیں ہوں ۔ ''الھی من کانت محاسنہ مساوی فکیف لا تکون مساویہ مساوی ''(١٢) ۔ خدایا ! جس کی اچھائی بھی برائی ہے پھر اس کی برائیاں کس طرح بری نہیں ہیں ۔

بیماری تکبر جو کہ جہالت اور معرفت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے ، کا علاج خالق اور دنیا کی معرفت حاصل کرنے سے ہوسکتا ہے ، اس معرفت کا تواضع کے ساتھ مستقیم رابطہ ہے اورمستقیم تواضع کا رابطہ علم اور معرفت سے ہوتا ہے ،امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں : ''مدارک العلم لقاح المعرفة'' ۔ درس اور علم ، معرفت سے وجود میں آتا ہے (١٣) ۔

شکرگزاری، دعائے عرفہ کی اہم خصوصیت

معظم لہ نے فرمایا : امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ کے ایک حصہ میں بیان ہوا ہے : اگر میں تیری شکر گزاری کا ارادہ رکھتے ہوئے سعی و کوشش کروںاور تمام زمانوں میں زندہ رہوں پھر بھی تیری ایک نعمت کا شکر ادا نہیں کرسکتا (١٤) ۔ (١٥) ۔

روز عرفہ ، روز مشہود

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس آیت ''و شاھد و مشھود'' (١٦) کی تفسیرمیں فرمایا ، ''شاھد'' سے مراد عید قربان اور ''مشھود'' سے مراد روز عرفہ ہے کیونکہ اس دن بیت اللہ الحرام کے زائرین اس دن تمام چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں (١٧) ۔

اس وجہ سے روز عرفہ کی اہمیت اور اس میں غور وفکر کرنا اس قدر ضروری ہے کہ اگر چہ روز عرفہ ، روز محشر کے گواہوں اورانسانوں کے اعمال کا سبب ہے ، لیکن اس دن کا اجتماع ، دنیا میں محشر کے میدان سے کم شمار نہیں ہوتا (١٨) ۔

دعائے عرفہ یعنی خدا کی موجودگی کا اعتراف

لہذا ان تفاسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہنا چاہئے کہ دعائے عرفہ میں امام حسین علیہ السلام کے قیمتی کلام کی ایک نشانی خدا کی موجودگی ہے جو حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بیانات میں موجود ہے : امام حسین علیہ السلام دعائے عرفہ میں خدا کے سامنے عرض کرتے ہیں :''عمیت عین لا تراک علیھا رقیبا'' ۔ اندھی ہوجائیں وہ آنکھیں جو تجھے اپنا محافظ نہ پائیں ! (١٩) ۔ (٢٠) ۔

برہان غنی و فقر ، دعائے عرفہ کی بنیادی علامت

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسلامی تعلیمات میں غنی اور فقر کی حقیقت کو دعائے عرفہ کی ایک اہم علامت بیان کرتے ہوئے فرمایا : یقینا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دن کو نور ہدایت سے آغاز کریں ، پھر بہت ہی ہوشیاری سے اس کو دشمنوں کے مقابلہ میں اختتام تک پہنچائیں اور یہ کامیابی ،نور ہدایت کے بغیر ممکن نہیں ہے ! ہم دعائے عرفہ میں پڑھتے ہیں : ''واجعل غنای فی نفسی '' ۔ خدایا ! میری جان کے اندر مجھے بے نیاز بنا دے ! ،اس جملہ سے ہم الہام حاصل کرتے ہیں کہ بی نیازی ایسی چیز نہیں ہے جو خارج میں مال و ثروت جمع کرنے اور بلند و بالا محل بنانے سے سے حاصل ہوتی ہو (٢١) ۔

امام حسین علیہ السلام کی اس دعاء میں ایک جگہ توحید کے متعلق اس طرح بیان ہوا ہے : ''کیف یستدل علیک بما ھو فی وجودہ مفتقر الیک؟ ایکون لغیرک من الظھور ما لیس لک حتی یکون ھو المظھر لک'' ۔ جو موجودات اپنے وجود میں تیری پاک ذات کے محتاج ہیں ،ان سے کس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے ؟ کیا تیرے علاوہ دوسری چیز تجھ سے زیادہ ظاہر ہے جو تیرے وجود کے لئے معرف ہو ؟ (٢٢) (٢٣) ۔

معظم لہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا : دعائے عرفہ میں دوسری جگہ ملتا ہے : ''الھی انا الفقیر فی غنای فکیف لا اکون فقیرا فی فقری'' ۔ خدایا ! میں بے نیاز ہونے کے باوجود فقیر ہوں ، پھر کس طرح فقیری کی حالت میں فقیر نہیں ہوں ؟ ! (٢٤) ۔

اسی دعاء میں ذکر ہوا ہے : ''متی غبت حتی تحتاج الی دلیل یدل علیک و متی بعدت حتی تکون الآثار ھی التی توصل الیک ، غمیت عین لا تراک علیھا رقیبا'' ۔ تو کب پوشیدہ تھا جو دلیل کی ضرورت ہو جس کے ذریعہ تجھے پہچنوایا جائے ؟ اور کب ہم سے دور ہوا ہے تاکہ تیرے آثار ہم تک پہنچ جائیں ؟ اندھی ہوجائیں وہ آنکھیں جو تجھے اپنے نزدیک اور محافظ نہ دیکھیں (٢٥) ۔

معظم لہ نے فرماتے ہیں : دعائے عرفہ میں توجہ کریں اور دیکھیں کہ اس کے جملے کتنے عجیب ہیں ،انسان جب وقت روز عاشورا کی جاں نثاری کو دیکھتا ہے تو تو تعجب کرتا ہے ، لیکن جس وقت دعائے کو پڑھتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ اس معرفت کی وجہ سے یہ جاںنثاری ہے ،کیونکہ اعمال ، اعتقاد اور معرفت کا نتیجہ ہوتے ہیں ، امام علیہ السلام دعائے عرفہ میں عرض کرتے ہیں : ''الھی من لا تکون مساویہ مساوی و من کانت حقائقہ دعاوی فکیف لا تکون دعاویہ دعاوی''۔ خدایا ! یہ ا نسان جس کی نکیوں کو اگر دیکھا جائے اور انہیں کھولا جائے تو حقیقت میں عیب اور نقص ہے ،پھر اس کے عیب کس طرح عیب نہیں ہیں ؟ ! اگر اس انسان کے حقایق اورعلوم کو آشکار کیا جائے تو اس میں جہالت ہی جہالت ہے ، پھر اس کی جہالت کو جہالت کیوں نہیں کہہ سکتے؟ ہماری طاقت کو دیکھا جائے تو پوری کی پوری کمزوری ہے (٢٧) ۔

معظم لہ نے خدا شناسی اور حصول سعادت کے راستوں کو بیان کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ کے بلند وبالا مضامین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: حضرت امام حسین علیہ السلام نے دعائے عرفہ میں عرض کیا : اے میرے خدا ! ، لوگ ان آثار کی طرف آتے ہیں تاکہ تجھے پہچان لیں ، لیکن تو مجھ سے دور ہوگیا ہے جو میں آثار کے ذریعہ سے تجھے تلاش کر رہا ہوں: ''عمیت عین لا تراک و لا تزال علیھا رقیبا و خسرت صفقة عبد لم تجعل لہ من حبک نصیبا'' ۔ اندھی ہوجائیں وہ آنکھیں جو تیرے پاک وپاکیزہ جمال کو نہ دیکھیں اور نقصان اٹھائے گا وہ بندہ جس کے دل میں تیری محبت اور عشق نہیں ہوگا ۔ تو مجھ سے کب دور ہوا ہے جو میں تجھے تلاش کروں ۔

کی رفتہ ای ز دل کہ تمنا کنم تو را

کہ بودہ ای نھفتہ کہ پیدا کنم تو را

با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من

با صد ہزار دیدہ تماشا کنم تو را

اگر ہم خدا،دنیا اور اپنے آپ کو پہچان لیں تو تکبر اور غرور ختم ہوجائے گا اور بندہ ، بندہ ہوجائے گا ،لہذا خدا کی عظمت کو عالم ہستی سے پہنچاننا چاہئے (٢٨) ۔

آخری بات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے دعائے عرفہ کو پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا :  دعائے عرفہ کو حضور قلب اور اس کے مفاہیم کو درک کرتے ہوئے پڑھنا چاہئے اور اس کے بلند و بالا مضامین اور معانی میں غور وفکر کرنا چاہئے اور اس دن کے فیوضات سے فائدہ اٹھانا چاہئے (٢٩) ۔

عرفہ ، دعاء اور عبادت کا دن ہے اور اس دن تمام مسلمان اور مومن پوری دنیا کے مسلمانوں کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے دعاء کریں ، مجھے امید ہے کہ ہم سب دعائے عرفہ کے اجتماع میں شریک ہوں گے اورایک دوسرے کے لئے دعاء کریں گے (٣٠) ۔

لیکن اس دن کی دعاء کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہ دعا ضروری قبول ہوتی ہے (٣١) ۔ خداوندعالم اس دعا اور اس دن کے شہداء مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کے طفیل میں ہماری تمام مشکلات کو حل کردے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ خدمت خلق کرنے کی توفیق عنایت فرمائے (٣٢) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٥/٨/١٣٨٩) ۔

٢ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٣/٧/١٣٩٢) ۔

٣ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٣/٧/١٣٩٢) ۔

٤۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٣/٧/١٣٩٢) ۔

٥ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٤ ، صفحہ ٨١ ٥ ۔

٦ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٤ ، صفحہ ٨١ ٥ ۔

٧ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٨، صفحہ٤٦٤ ۔

٨ ۔  والا ترین بندگان ، صفحہ ٢٣٢ ۔

٩ ۔  دعای عرفہ (مصباح الزائر ابن طاووس) ۔

١٠ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٢/٧/١٣٩٣) ۔

١١ ۔  مفاتیح الجنان و دعای عرفہ ۔

١٢ ۔  مفاتیح الجنان و دعای عرفہ ۔

١٣۔  اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ ، (خطبہ متقین) ،جلد ١ ، صفحہ ١٥٢ ۔

١٤ ۔  مفاتیح الجنان ، اعمال ماہ ذی الحجہ ۔

١٥ ۔  گفتار معصومین (ع) ، جلد ٢ ، صفحہ ١٩٧ ۔

١٦ ۔  سورہ بروج ، آیت ٣ ۔

١٧ ۔  برگزیدہ تفسیر نمونہ ، جلد ٥ ، صفحہ ٤٥٥ ۔

١٨ ۔  تفسیر نمونہ ، جلد ٢٦ ، صفحہ ٣٣٢ ۔

١٩ ۔  کتاب کلمة حول الرویة صفحہ ٤٨ تا ٥٣  (خلاصہ کے ساتھ) ۔

٢٠ ۔  پیام قرآن ،جلد ٤ ، صفحہ ٢٧٦ ۔

٢١ ۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ٣ ، صفحہ ٢٦٥ ۔

٢٢ ۔  اس جملہ سے برہان صدیقین میں بھی استفادہ کیا گیا ہے کہ انشاء اللہ اسی جگہ پر اشارہ کیا جائے گا ۔

٢٣ ۔  پیام قرآن ، جلد ٣ ، صفحہ ٦٥ ۔

٢٤ ۔  پیام قرآن ، جلد ٣ ، صفحہ ٦٥ ۔

٢٥ ۔  پیام قرآن ، جلد ٣ ، صفحہ ١٠١۔

٢٦ ۔  انوار ہدایت ، مجموعہ مباحث اخلاقی ، صفحہ ٣١٠ ۔

٢٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٨ ۔  انوار ہدایت ،مجموعہ مباحث اخلاقی ، صفحہ ٣١٠ ۔

٢٩ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٣/٧/١٣٩٣) ۔

٣٠ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٢/٧/١٣٩٣) ۔

٣١ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٢ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (٢٥/٨/١٣٨٩) ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 8:33:54 PM »
Tags
CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 931