عزاداری میں سر وسینہ پیٹنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عزاداری میں سر وسینہ پیٹنا

سوال: کیا امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں سر و سینہ پیٹنا صحیح ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: امام حسین علیہ السلام کے غم میں سروسینہ پیٹنا ایک عام اور فطری امر ہے جیسا کہ مرسوم ہے کہ لوگ اپنے عزیزوں کی موت پر اپنا سروسینہ پیٹتے ہیں اگر چہ ضروری ہے کہ بیکار اور نادرست کاموں سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
بہت سے افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتاہے کہ بہت سے لوگ امام حسین کی عزاداری میںایسے کام انجام دیتے ہیں جن کا برا اثر پڑتاہے اور قوم کے عاقل لوگوں کو چاہئے کہ انہیں ایسے کام سے روکیں ۔
تاریخ میں ملتاہے کہ جب ہاشمی خاندان کی عورتوں اوربچوں کو شام سے مدینہ لے جایا جارہا تھا تو راستے میں قافلہ کے راہنماسے کہا گیا کہ ان کو کربلا کے راستے سے لے کرجائے تاکہ شہدائے کربلا کا دوبارہ دیدار کرسکے، جس وقت یہ قافلہ اس سرزمین پرپہنچا تو دیکھا کہ جابر بن عبداللہ انصاری اور کچھ بنی ہاشم امام حسین کی قبر کی زیارت کے لئے کربلا آئے ہوئے ہیں، ان دونوںقافلوں نے جب آپس میں ملاقات کی تو انہوں نے غم واندوہ ، گریہ اور سرو صورت کو پیٹا اور اس طرح ایک غم انگیز ماتم اس سرزمین پر برپا ہوا(٦) ۔
اگر چہ روایات میں(جہاں تک ہم نے تلاش کیا)اہل بیت کے غم میں سینہ زنی کرنے کے متعلق کچھ نہیں ملالیکن ""لطم"" کی تعبیر ظاہرا سینہ زنی کو بھی شامل ہوتی ہے ۔
حوالہ جات:
1. ... فَوَجَدُوا جابِرَ بْنَ عَبْدِاللهِ الاَْنصارِي وَ جَماعَةً مِنْ بَنِي هاشِمَ وَ رَجُلا مِنْ آلِ رَسُولُ اللهِ ; قَدْ وَرَدُوا لِزِيارَةِ قَبْرِ الْحُسَيْنِ(عليه السلام)، فَوافَوْا فِي وَقْت واحِد، وَ تَلاقَوْا بِالْبُكاءِ وَ الْحُزْنِ وَ اللَّطْمِ، وَ أَقامُوا الْمَأْتَمَ الْمُقْرِحَةَ لِلاَْكْبادِ (بحارالانوار، ج 45، ص 146).
2 . گردآوری از کتاب: عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص84.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا

عزاداری میں سر وسینہ پیٹنا

عزاداری میں نوحہ پڑھنا

مجالس عزاداری منعقد کرنے کی وصیت

عزاداری میں سیاہ کپڑے پہننا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 970