عزاداری میں رونے کی صورت بنانا (تَبَاکی)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عزاداری میں رونے کی صورت بنانا (تَبَاکی)

سوال: ونے کی صورت بنانے (تَبَاکی) سے کیا مراد ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ""تباکی"" کے معنی یہ ہیں کہ انسان رونے کی صورت بنائے، کیونکہ ممکن ہے کہ کسی وجہ سے کسی چاہنے والے کی آنکھوں سے آنسوں نہ نکلیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کے امام حسین کی مجالس ومحافل میں شرکت نہ کرے ، کیونکہ ممکن ہے اس صورت میں انسان"" تباکی"" کے ذریعہ اپنی غم واندوہ اور گریہ کی حالت بناتے ہوئے عزاداروں میں شامل ہو کر ان کے معنوی ثواب میں شامل ہوجائے اور یہ بھی بھی ظالموں کے ساتھ جنگ کرنے کی ایک علامت ہے، اس لئے کہ امام حسین کا ہدف اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا ۔
رونے کی صورت بنانے کی فضیلت میں جوروایت بیان ہوئی ہے وہ پہلے بیان ہوچکی ہیں ۔
مظلومیت اہل بیت پر گریہ کرنے کے متعلق احادیث میں بیان ہوا ہے کہ:
""من بکی وابکی واحدا فلہ الجنه ومن تباکی فلہ الجنه""، جو کوئی روئے اور اگر فقط ایک آدمی کو رلائے، اس کی جزا بہشت ہے اور جو رونے کی صورت بنائے اس کی جزاء بھی بہشت ہے(١) ۔
حوالہ جات:

١۔ بحارالانوار، ج 44، ص 288.
٢۔ کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص81.

    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا

عزاداری میں سر وسینہ پیٹنا

عزاداری میں نوحہ پڑھنا

مجالس عزاداری منعقد کرنے کی وصیت

عزاداری میں سیاہ کپڑے پہننا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 909