عزاداری میں گریہ کی اہمیت
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عزاداری میں گریہ کی اہمیت

سوال: عزاداری میں گریہ کی کیا اہمیت ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: عزاداری اور غم منانے کا عام طریقہ آنسوں بہانا ہے اور یہ ہرانسان میں فطری طورپر پایا جاتاہے کہ جب وہ اپنے کسی عزیز کی جدایی کا غم مناتا ہے تو آنسوں بہاتا ہے ۔
روایات میں ملتاہے کہ جب پیغمبراکرم کے بیٹے ابراھیم کا انتقال ہوا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اس کی موت پر آنسوں بہایے اور جب بعض اصحاب نے آپ کے رونے کاسبب پوچھا تو آپ نے فرمایا:
""تدمع العین، ویوجع القلب ولا نقول ما یسخط الرب ""۔ آنکھیں روتی ہیں اوردل میں درد ہوتا ہے لیکن زبان سے کویی ایسی بات نہیں کہتا جو خدا وند عالم کی ناراضگی کا سبب بنے(١) ۔
اسی طرح نقل ہوا ہے کہ جب آپ کے جلیل القدر صحابی ""عثمان بن مظعون"" کا انتقال ہوا تو آپ بہت دیر تک ان پر گریہ کرتے رہے(٢) اور جعفربن ابی طالب اور زید حارثہ کی شہادت پر بھی آپ نے بہت گریہ کیا(٣) ۔
اسی طرح تاریخ میں ملتا ہے کہ رسول اکرم کی رحلت کے بعد مسلمان بہت زیادہ رویے اور نقل ہوا ہے : جس وقت رسول اکرم کی رحلت ہویی تو بڑے چھوٹے سب آپ کے مرنے سے داغدار ہویے اور آپ پر بہت رویے، لیکن تمام لوگوں اور تمام خاندان والوں کے درمیان سب سے زیادہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا نے گریہ کیا، آپ کا غم اور گریہ ہمیشہ زیادہ ہوجاتا تھا(٤) ۔
امام حسین کے مصایب پر گریہ کرنا عزاداری کا ایک عام طریقہ ہے اور اس طریقہ کی ایمہ علیہم السلام نے تاکید بھی کی ہے ۔
امام رضاعلیہ السلام نے فرمایا:
فعلی مثل الحسین فلیبک الباکون۔ حسین جیسے لوگوں پر گریہ کرنے والوں کو گریہ کرنا چاہیے(٥) ۔
امام حسین پر گریہ کی طرف رغبت دلانے والی احادیث بہت زیادہ ہیں جن میں سے بہت سی احادیث پہلی فصلوں میں بیان ہوچکی ہیں ۔
بہرحال اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس گریہ وزاری کا پہلوذاتی نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ ظالم و جابرسے جنگ کرنے کا کھلا ہوااعلان ہے (٦) ۔
حوالہ جات:

١۔ بحارالانوار، ج 79، ص 91.
2 . بحارالانوار، ج 79، ص 91.
3. بحارالانوار، ج 79، ص 104.
4 . لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ افْتُجِعَ لَهُ الصَّغِيرُ وَ الْكَبِيرُ وَ كَثُرَ عَلَيْهِ الْبُكاءُ... وَ لَمْ يَكُنْ فِي أَهْلِ الاَْرْضِ وَالاَْصْحابِ وَ الاَْقْرَباءِ وَ الاَْحْبابِ، أَشَدُّ حُزْناً وَ أَعْظَمُ بُكاءً وَ انْتِحاباً مِنْ مَوْلاتِي فاطِمَةَ الزَّهْرا(عليها السلام)وَ كانَ حُزْنُها يَتَجَدَّدُ وَ يَزِيدُ وَ بُكاءُها يَشْتَدُّ (بحارالانوار، ج 43، ص 175).
5 . وسائل الشيعة، ج 10، ص 394.
6. کتاب: عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص80.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا

عزاداری میں سر وسینہ پیٹنا

عزاداری میں نوحہ پڑھنا

مجالس عزاداری منعقد کرنے کی وصیت

عزاداری میں سیاہ کپڑے پہننا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1364