عزاداری ، ظالمین کے خلاف قیام کرنے کا سبب

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عزاداری ، ظالمین کے خلاف قیام کرنے کا سبب

سوال: امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری نے کس حد تک عام لوگوں کو ظالم حاکموں کے خلاف ایک جگہ جمع کیا ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ائمہ اطہار نے امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری کو قائم کرنے کی تاکید کرتے ہوئے عزاداری کی رسومات کو لوگوں میں اتحاد کا اس طرح ملاک قرار دیا ہے جس طرح آج امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کے ایام میں لاکھوں انسان مختلف دین و مذہب رکھنے کے باوجود آپ کی عزاداری کے لئے کھڑا ہوجاتے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے جلوسوں کے نزدیک جمع ہوجاتے ہیں ۔
ہر قوم اپنی بقا اور کامیابی کے لئے ایک اتحاد اور اجتماع کی محتاج ہے، بے شک اہل بیت کے پیروکاروں کے لئے وحدت کابہترین سبب یہی امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری ہے جو بغیر کسی خرچ اور پریشانی کے لاکھوں لوگوں کو اپنے گرد جمع کرلیتی ہے، یقینا اگر ایک ملت ایسی طاقت سے متصل ہوجائے تو وہ بہت کم وقت اور بہت کم تبلیغات سے اپنی بکھری ہوئی طاقت کو اکھٹا کرکے منظم ہوسکتی ہے اور اپنی ترقی کی ہر رکاوٹ کو اکھاڑ کر پھینک سکتی ہے ۔
واقعا ائمہ اطہار نے لوگوں کو مجالس حسینی کی ترغیب وتشویق دلا کرپراکندہ ہونے سے بچا لیا اور بکھرے ہوئے لوگوں کو اکھٹا کرلیا اور ان کے درمیان اتحاد قائم کرکے ایک زبردست طاقت ان کے ہاتھ میں دیدی ۔
ایران کے لاکھوں مسلمان اپنے جوش و جذبہ کے ساتھ ماہ محرم و صفر خصوصا عاشورا کے روز ظالم و جابر حکومت کو لرزہ براندام کردیتی تھی اور یہیں سے ائمہ اطہار کا امام حسین (علیہ السلام) کو ملاک و محور قرار دینے کی تاکید کا راز معلوم ہوجاتا ہے ۔
شاید اگر ہم بھی انقلاب میں ان مجالس کی ذخیرہ شدہ طاقت کا مشاہدہ نہ کرتے تو ہم بھی ائمہ اطہار کی مجالس کو قائم کرنے کی تاکیدکے راز کو درک نہ کرپاتے ۔
جرمن کے ماربین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے :
ہمارے بعض مورخین کی لاعلمی اس بات کا سبب بنی کہ انہوں نے شیعوں کی عزاداری کو جنون اور دیوانگی سے نسبت دیدی ، لیکن انہوں نے یہ بات غلط کہی ہے اور شیعوں پر تہمت لگائی ہے ، ہم نے ملتوں اور قوموں کے درمیان شیعہ جیسی زندہ اور پرجوش قوم نہیں دیکھی ،کیونکہ شیعوں نے امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری کو قائم کرکے عاقلانہ سیاست کو اپنایا ہے اور اس طرح انہوں نے فائدہ مند مذہبی انقلاب پیدا کئے ہیں (١) ۔
امام حسین کی عزاداری کے علاوہ کوئی بھی دوسری چیز مسلمانوں کے درمیان سیاسی بیداری ایجاد نہیں کرسکی (٢) ۔
ان مجالس کو قائم کرنے کے متعلق اسلام کے دشمنوں کی مخالفت اور ان مجالس کو بند کرانے کی کوشش یہاں تک کہ امام حسین (علیہ السلام) کی قبر کو منہدم کرنے اور آپ کی زیارت (٣)سے منع کرنے کی کوشش خود اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ حکومتیں کس حد تک اس عظیم طاقت سے وحشت زدہ تھے اور وحشت زدہ ہیں ۔
آج دین کے دشمنوں کے دلوں میں ان مجالس کے قائم ہونے کی جو وحشت پڑی ہوئی ہے وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ کبھی شیعوں پر اپنے داخلی رشتہ داروں کے ذریعہ ناروا تہمتیں لگا تے ہیں او رکبھی اپنے بٹھائے ہوئے رضا خان جیسے ڈکٹیٹر کو اُکتاتے ہیں اور کبھی ان مجالس کے مضامین کو غلط بتا کر شعائر حسینی کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتے تھے اور کرتے ہیں ۔
پوری تاریخ میں مجالس حسینی اس معاشرہ کے لئے بہت اچھی پناہ گاہ رہی ہیں جن پر ستم ہوتا رہا ہے ، نہ صرف ایران کے اسلامی انقلاب میں بلکہ ہر جگہ پر لوگوں نے مجالس حسینی سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہریمنی طاقتوں کو دندان شکست جواب دیا ہے بلکہ عراق و پاکستان کے استقلال میں یہی مسئلہ سامنے تھا ۔
ہندوستانی انقلاب کے رہبر گاندھی کے مشہور کلام میں ملتا ہے : میں نے سید الشہداء امام حسین (علیہ السلام) کی زندگی کا غور سے مطالعہ کیا اور صفحات کربلا پر پوی توجہ دی اور میرے لئے واضح ہوگیا کہ اگر ہندوستان کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اسے امام حسین (علیہ السلام) کو نمونہ عمل بنانا پڑے گا(٤) ۔
لیکن یہ اس وقت ہوسکتا ہے جب نیت خالص ہو اور یہ مجلسیں وحدت کا مرکز بن جائیں اور ان میں ایثار اور فداکاری کی علامتیں ظاہر ہوں ۔
اور چونکہ عدالت کو جاری کرنا اور ظلم ستیزی صرف دنیائے اسلام میں منحصر نہیں ہے لہذا امام حسین (علیہ السلام) نے کربلا میں نسل بش کو جو تعلیمات دی ہیںوہ سب کے لئے راہ گشا ہیں(٥) ۔
حوالہ جات:

١۔ سید عبدالحسین شرف الدین کی کتاب ""فلسفہ عزاداری حسین بن علی (علیہ السلام)"" سے منقول ، صفحہ ١٠٩۔
٢۔ سیاسة الحسینیہ سے ، صفحہ ٤٤ سے منقول ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حال ہی میں امریکہ میں ایک کتاب ""الہی مکاتب کے درمیان جدائی ڈالنے کا خاکہ"" کے عنوان سے منتشر ہوئی جس میں امریکہ کی مرکزی اطلاعات cia کے معاون ""مایکل برانت"" کے ساتھ مفصل گفتگو نقل ہوئی ہے ، اس نے اپنی اس گفتگو میں شیعوں اور مذہب شیعہ کے خلاف کچھ پروگراموں کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اس گفتگو میں cia اور برطانیہ کی اطلاعات کے نمائندوں کی مخفیانہ مٹینگ کی طرف اشارہ ہوا ہے : ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ اسلامی ایران کے انقلاب کی کامیابی صرف شاہ کی غلط سیاستوں کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اس کے دوسرے اسباب بھی موجود تھے جیسے شہادت کی تربیت سے استفادہ کرنا ۔ اور شہادت کی اس رسم کو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نواسہ امام حسین (علیہ السلام) نے ایجاد کی تھی اور ہر سال ایام محرم میں عزاداری کے ذریعہ اس رسم کی ترویج ہوتی ہے ۔
اس کے بعد انہوں نے اس رسم کا مقابلہ کرنے کی بات کہی : ہمارا ارادہ ہے کہ ہم بعض مقررین ، مصائب پڑھنے والے اور ان رسومات کو انجام دینے والوں کی مالی حمایت کرکے شیعوں کے اصلی عقاید اور بنیادوں کو سست اور متزلزل کردیں ۔ (روزنامہ جمہوری اسلامی ، شمارہ ٧٢٠٣۔ ٥/٣/٨٣۔ صفحہ ١٦ ، خلاصہ کے ساتھ) ۔
٣۔ کتاب تتمة المنتھی ، صفحہ ٢٢٤ تا ٢٣٧ پر مراجعہ فرمائیں ۔
٤۔ ""درسی کے حسین بہ انسان ہا آموخت"" سے منقول ، صفحہ ٢٨٩ ۔
٥۔ کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص72.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

عزاداری ، تعظیم شعائر الہی کے لئے ایک راستہ

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری خودسازی کا سبب

عزاداری ، ظالمین کے خلاف قیام کرنے کا سبب

عزاداری کی وجہ سے مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت

امام حسین (علیہ السلام) کا شکریہ اور عزاداری کا فلسفہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1327