عزاداری کی وجہ سے مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عزاداری کی وجہ سے مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت

سوال: امام حسین (علیہ السلام ) پر گریہ اور عزاداری کس حد تک مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت کرنے میں موثر رہی ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: دوست ودشمن اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مجالس عزایے امام حسین لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے اچھا ذریعہ ہے اوریہ ایک ایسا راستہ ہے جس کو ایمہ نے اپنے چاہنے والوں کوسکھایا ہے تاکہ ا س کے ذریعہ سے دین اسلام ہمیشہ باقی رہے ۔
ان مجالس کو برپا کرنے کی اہمیت اور اس کو محفوظ کرنے کی ایمہ کی تاکید کا راز اس وقت روشن ہوجاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جس وقت یہ روایتیں صادر ہویی ہیں اس وقت شیعیان اہل بیت کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھااور اموی وعباسی حکومت کا فشار اس قدر تھا کہ کویی سیاسی یا اجتماعی کام انجام نہیں دے سکتے تھے اور ان کے ختم ہوجانے میں کچھ باقی نہیں رہا تھا لیکن امام حسین کی مجالس عزاداری نے ان کو نجات دی اوراس عزاداری کی پناہ میں ان کو ایک نیی شکل ملی اوراس طرح ان کو اسلامی معاشرہ میں اچھی طرح ظاہر ہونے اور ہمیشہ باقی رہنے کا موقع ملا ۔
اسی وجہ سے روایات میں ان مجالس عزا کو ""امراہل بیت کو باقی رکھنے""کے عنوان سے تعبیر کیا گیا ہے ، امام صادق علیہ السلام نے ان مجلسوں کے متعلق فرمایا:
""ان تلک المجالس احبھا فاحیوا امرنا""۔ میں (تمہاری)اس طرح کی مجلسوں کو پسند کرتاہوں اس طرح ہمارے مکتب کو باقی رکھو(١) ۔
جمہوری اسلامی ایران کے بنیان گذار امام خمینی ایک جامع تعبیر میں فرماتے ہیں :
ہم سب کو جان لینا چاہیے کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا اصل مرکزیہ سیاسی رسومات،ایمہ اطہار خصوصاامام حسین علیہ السلام کی عزاداری ہے جوکہ مسلمان ملت خصوصا شیعیان اثناعشر کی محافظ ہے (٢) ۔
ژوزف فرانسوی اپنی کتاب ""اسلام اور مسلمان"" میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہویے کہ شیعہ، اسلام کی پہلی صدی میں بہت کم تھے اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ حکومت تک نہیں پہنچ پاتے تھے اور دوسرے یہ کہ ظالم وجابر حاکم ان کوقتل کردیتے تھے اوران کے اموال کو غارت کردیتے تھے، لکھتا ہے:
شیعوں کے ایک امام نے ان کو تقیہ کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کی جانیں دوسروں کے گزند سے محفوظ رہیں اور یہی بات سبب بنی کہ آہستہ آہستہ شیعہ قوی ہوتے چلے گیے اور اب دشمن ان کو قتل کرنے اور ان کے اموال کو غارت کرنے کا کویی حیلہ تلاش نہ کرسکا ۔ شیعہ، چھپ کر محفل ومجالس کرتے تھے اور امام حسین کے مصایب پر گریہ کرتے تھے، یہ عطوفت اور یہ قلبی توجہ شیعوں کے دلوں میں مستحکم ہوگیی اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتی چلی گیی ۔ اس ترقی کی سب سے بڑی وجہ امام حسین علیہ السلام کی عزاداری ہے جس نے دوسروں کو بھی مذہب شیعہ کی طرف دعوت دی ،حقیقت میں ہر شیعہ دوسرے لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دیتا ہے اور کویی دوسرا مسلمان اس طرف متوجہ نہیں ہوپاتا بلکہ خود شیعہ بھی (شاید) اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اس میں کتنا فایدہ ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اس میں صرف اخروی فایدہ ہے(٣) ۔
ماربین، جرمن کا تاریخ نگار اپنی کتاب ""سیاست اسلامی"" میں لکھتا ہے :
میرا اعتقاد ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا اصل سبب امام حسین کی شہادت اور دوسرے غم انگیز واقعات ہیں اور مجھے یقین ہے کہ مسلمانوں کی عاقلانہ سیاست اور زندگی ساز پروگراموں کو اجرا کرنا امام حسین کی عزاداری کی وجہ سے ہے(٤) ۔ (٥) ۔
حوالہ جات:
١۔ وسائل الشيعة، ج 10، ص 391-392، ح 2.
٢۔ وصيّت نامه الهى ـ سياسى امام خمينى(قدس سره) ـ صحيفه نور، ج 21، ص 173.
٣۔ به نقل از فلسفه شهادت و عزادارى حسين بن على(عليه السلام)، علاّمه سيد عبدالحسين شرف الدين، ترجمه على صحت، ص 92.
٤۔ فلسفه شهادت و عزادارى حسين بن على(عليه السلام)، ص 109.
٥ . کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص70.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

عزاداری ، تعظیم شعائر الہی کے لئے ایک راستہ

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری خودسازی کا سبب

عزاداری ، ظالمین کے خلاف قیام کرنے کا سبب

عزاداری کی وجہ سے مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت

امام حسین (علیہ السلام) کا شکریہ اور عزاداری کا فلسفہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 870