امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں رونے کا مقام
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں رونے کا مقام

سوال: امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں رونے کی اہمیت کیا ہے .؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: قیام عاشورا کو باقی رکھنے کے لیے آیمہ اطہار کی تدابیر میں سے ایک موثر تدبیر امام حسین علیہ السلام پر گریہ ہے ۔ امام سجاد علیہ السلام اپنی امامت کے دوران ہمیشہ واقعہ عاشورا پر عزاداری مناتے رہے اور اس مصیبت پر آپ اتنا رویے کہ ""بکایین عالم"" (بہت گریہ کرنے والا)آپ کا لقب پڑ گیا (١) ۔
آپ فرماتے تھے : انی لم اذکر مصرع بنی فاطمه الا خنقتنی العبره، جب بھی مجھے اولاد فاطمہ کی قتل گاہ یاد آتی ہے تو آنسوں گلو گیر ہوجاتے ہیں(٢) ۔
ہر مناسبت پر امام کاگریہ کرنا اس بات کا باعث بن گیا کہ عام لوگ بیدار ہوجاییں اور شہدایے عاشورا کو کویی بھلانہ سکے ۔
شیعوں کے امام صرف خودہی سید الشہداء پر گریہ نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیشہ لوگوں کو بھی امام حسین کے اوپر رونے کے لیے شوغ ورغبت دلاتے تھے ۔
ایک روایت میں امام رضاعلیہ السلام نے بیان کیا ہے :
""فعلی مثل الحسین فلیبک الباکون، فان البکاء علیہ یحط الذنوب العظام ""،پس امام حسین جیسوں کے اوپر گریہ کرنے والوں کو گریہ کرنا چاہیے کیونکہ آپ پر گریہ کرنے سے بڑے گناہ دور ہوجاتے ہیں(٣) ۔
رونے کے متعلق روایات میں بہت زیادہ ثواب بیان کیا گیا ہے، رولانے کیلیے حتی کہ ""تباکی"" رونے کی صورت بنانے کے متعلق بہت زیادہ ثواب بیان کیا گیا ہے ۔
مظلومیت اہل بیت پر گریہ کرنے کے متعلق احادیث میں بیان ہوا ہے کہ:
من بکی وابکی واحدا فلہ الجنه ومن تباکی فلہ الجنه، جو کویی رویے اور اگر فقط ایک آدمی کو رلایے، اس کی جزا بہشت ہے اور جو رونے کی صورت بنایے اس کی جزاء بھی بہشت ہے (٤) ۔
شاعروں کو مرثیہ پڑھنے کی طرف رغبت دلانا
جو شعراء امام حسین علیہ السلام کے مصایب پر شعر کہتے تھے اور مجالس ومحافل میں ان اشعار کو پڑھتے تھے ان شعراء پر آیمہ معصومیں کی خاص نظر رہتی تھی۔ بہت سے شعراء جیسے کمیت اسدی، دعبل خزاعی، سید حمیری و…کو (شعراء اہل بیت)کہا جاتا تھا اور آیمہ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان ان کا ایک خاص امتیاز پایا جاتا تھا ۔
ہارون مکفوف(امام صادق کے ایک صحابی)کہتے ہیں: امام صادق کی خدمت میںپہنچا، آپ نے فرمایا: مجھے مرثیہ سناو، میں نے ان کو مرثیہ سنایا تو آپ نے فرمایا: لا، کما تنشدون وکما ترثیہ عند قبرہ، اس طرح نہ پڑھو بلکہ جس طرح ان کی قبر کے نزدیک تم مرثیہ پڑھتے ہو ویسے مرثیہ پڑھو۔ میں نے پڑھنا شروع کیا:
امررعلی جدث الحسین
فقل لاعظمہ الزکیه
امام حسین کی قبر کے پاس سے گذرو اور ان کی پاک ہڈیوں سے کہو…
میں نے دیکھا کہ امام صادق رونے لگے میں خاموش ہوگیا، لیکن آپ نے پھر فرمایا: پڑھتے رہو، میں پڑھنے لگا فرمایا: اور پڑھو، میں نے پھر پڑھنا شروع کیا یہاں تک کے جب اس بیت پر پہنچا:
یا مریم قومی واندبی مولاک
وعلی الحسین فاسعدی ببکاک

ایے مریم! اٹھو اور اپنے مولا پر گریہ کرواورامام حسین (علیہ السلام) پر گریہ کے ذریعہ اپنی نجات کو طلب کرو ۔
میں نے دیکھا کہ امام صادق (علیہ السلام) گریہ کررہے ہیں اور عورتیں فریاد کررہی ہیں جب سب خاموش ہوگیے تو حضرت نے فرمایا:
"" یا ابا ہارون من انشدفی الحسین فابکی عشره فلہ الجنه""۔ ایے اباہارون! جو بھی امام حسین پر مرثیہ پڑھے اور دس لوگوں کو رلایے اس کی جزاء بہشت ہے (٥) ۔
حوالہ جات:

1 . وسائل الشيعة، ج 2، ص 922، باب 87، ح 7.
2 . بحارالانوار، ج 46، ص 108 .
3 . بحارالانوار، ج 44، ص 284 و وسائل الشيعة، ج 10، ص 394، ح 8 .
4 . بحارالانوار، ج 44، ص 288.
5 . بحارالانوار، ج 44، ص 287.
6 . آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا سے اقتباس ، صفحہ51 ۔
    
تاریخ انتشار: « 1392/06/29 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا

عزاداری میں سر وسینہ پیٹنا

عزاداری میں نوحہ پڑھنا

مجالس عزاداری منعقد کرنے کی وصیت

عزاداری میں سیاہ کپڑے پہننا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 2766