عاشورا کی عظیم شجاعت و ہمت کو باقی رکھنے کے لئے ائمہ کا طریقہ کار
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

عاشورا کی عظیم شجاعت و ہمت کو باقی رکھنے کے لئے ائمہ کا طریقہ کار

سوال: عاشورا کی عظیم شجاعت کو باقی رکھنے کے لیے ایمہ (علیہم السلام) نے کیا طریقہ اختیار کیا ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ایمہ اہل بیت (علیہم السلام) نے امام حسین کی یاد کو باقی رکھنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:


١۔ مجالس عزاداری کو برپا کرنا
علقمہ حضرمی نقل کرتے ہیں: امام محمد باقر علیہ السلام روز عاشورا امام حسین علیہ السلام کے لیے اپنے گھر میں عزاداری قایم کرتے تھے ۔
""... ثم لیندب الحسین علیہ السلام و یبکیہ و یامر من فی دارہ ممن لا یتقیہ بالبکاء علیہ… و لیعز بعضھم بعضا بمصابھم بالحسین علیہ السلام، امام باقر علیہ السلام، امام حسین کے غم میں گریہ کرتے تھے اور جو لوگ آپ کے گھر میں ہوتے تھے اور آپ ان سے تقیہ نہیں کرتے تھے ان سے فرماتے تھے: امام حسین کے غم میں آنسو بہاو اور ان سے کہتے تھے کہ امام حسین کی مصیبت پر ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرو (١) ۔
ان کی مجالس سے امت اسلام کو جو برکتیں نصیب ہویی ہیں اور نصیب ہوتی رہیں گی وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں ۔ آیمہ اطہار (علیہم السلام) کی باقی رہنے والی اس سنت کے تربیتی ، تہذیبی اور تعلیمی آثار اس قدر زیادہ ہیں کہ شیعوں کی تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم حصہ ان سے متاثر ہے (٢) ۔


٢۔ مختلف مناسبتوں میں آپ کے مصایب کو یاد کرنا
ایک حدیث میں پڑھتے ہیں کہ امام صادق نے داود رقی سے فرمایا:
انی ماشربت ماء باردا الا و ذکرت الحسین علیہ السلام ، میں نے حب کبھی ٹھنڈا پانی پیا تو امام حسین کو ضرور یاد کیا (3) ۔
ایک دوسری روایت میںآیا ہے کہ جب منصور دوانقی نے امام صادق کے گھر کو آگ لگایی تو آپ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، آپ نے آگ کو بجھایااور گھر کی لڑکیوں اورعورتوں کو جو خوف زدہ تھیں ان کو تسلی دی اس کے اگلے دن کچھ شیعہ امام کی خدمت میں احوال پرسی کے لیے شرفیاب ہویے تو انہوں نے امام کو غمگین اور گریہ کرتے ہویے پایا، ان لوگوں نے امام سے پوچھا: یہ غم و اندوہ اور گریہ کس وجہ سے ہے؟آیا ان کی گستاخی اور بے حرمتی کی وجہ سے ہے؟ امام نے جواب دیا:
لا، ولکن لما اخذت النار ما فی الدھلیز نظرت الی نسایی وبناتی یتراکضن فی صحن الدار من حجره الی حجره ومن مکان الی مکان ھذا و انا معھن فی الدار فتذکرت فرار عیال جدی الحسین علیہ السلام یوم عاشورا من خیمه الی خیمه ومن خباء الی خباء، امام نے فرمایا : میں ہرگز اس کے لیے گریہ نہیں کررہا ہوں بلکہ میرا گریہ اس لیے ہے کہ جب آگ بلند ہویی تو میں نے دیکھا کہ میری بیٹیاں اور بیویاں اس کمرہ سے اس کمرہ میں اور اس جگہ سے اس جگہ پناہ لے رہی تھیں جب کہ (یہ تنہا نہیں تھیں)ان کے پاس موجود تھا اس واقعہ کو دیکھ کر مجھے عاشور کے دن اپنے جد امجد امام حسین علیہ السلام کی یاد آگیی کہ وہ ایک خیمہ سے دوسرے خیمہ اور ایک پناہ گاہ سے دوسری پناہ گاہ میں جارہی تھیں(اور ان کے سب مرد شہید ہوگیے تھے) ۔


٣۔رونا اور رلانا
قیام عاشورا کو باقی رکھنے کے لیے آیمہ اطہار کی تدابیر میں سے ایک موثر تدبیر امام حسین علیہ السلام پر گریہ ہے ۔ امام سجاد علیہ السلام اپنی امامت کے دوران ہمیشہ واقعہ عاشورا پر عزاداری مناتے رہے اور اس مصیبت پر آپ اتنا رویے کہ ""بکایین عالم"" (بہت گریہ کرنے والا)آپ کا لقب پڑ گیا (4) ۔
آپ فرماتے تھے : انی لم اذکر مصرع بنی فاطمه الا خنقتنی العبره، جب بھی مجھے اولاد فاطمہ کی قتل گاہ یاد آتی ہے تو آنسوں گلو گیر ہوجاتے ہیں(5) ۔
ہر مناسبت پر امام کاگریہ کرنا اس بات کا باعث بن گیا کہ عام لوگ بیدار ہوجاییں اور شہدایے عاشورا کو کویی بھلانہ سکے ۔
شیعوں کے امام صرف خودہی سید الشہداء پر گریہ نہیں کرتے تھے بلکہ ہمیشہ لوگوں کو بھی امام حسین کے اوپر رونے کے لیے شوغ ورغبت دلاتے تھے ۔
ایک روایت میں امام رضاعلیہ السلام نے بیان کیا ہے :
""فعلی مثل الحسین فلیبک الباکون، فان البکاء علیہ یحط الذنوب العظام ""،پس امام حسین جیسوں کے اوپر گریہ کرنے والوں کو گریہ کرنا چاہیے کیونکہ آپ پر گریہ کرنے سے بڑے گناہ دور ہوجاتے ہیں(6) ۔
رونے کے متعلق روایات میں بہت زیادہ ثواب بیان کیا گیا ہے، رولانے کیلیے حتی کہ ""تباکی"" رونے کی صورت بنانے کے متعلق بہت زیادہ ثواب بیان کیا گیا ہے ۔
مظلومیت اہل بیت پر گریہ کرنے کے متعلق احادیث میں بیان ہوا ہے کہ:
من بکی وابکی واحدا فلہ الجنه ومن تباکی فلہ الجنه، جو کویی رویے اور اگر فقط ایک آدمی کو رلایے، اس کی جزا بہشت ہے اور جو رونے کی صورت بنایے اس کی جزاء بھی بہشت ہے (7) ۔


٤۔ شاعروں کو مرثیہ پڑھنے کی طرف رغبت دلانا
جو شعراء امام حسین علیہ السلام کے مصایب پر شعر کہتے تھے اور مجالس ومحافل میں ان اشعار کو پڑھتے تھے ان شعراء پر آیمہ معصومیں کی خاص نظر رہتی تھی۔ بہت سے شعراء جیسے کمیت اسدی، دعبل خزاعی، سید حمیری و…کو (شعراء اہل بیت)کہا جاتا تھا اور آیمہ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان ان کا ایک خاص امتیاز پایا جاتا تھا ۔
ہارون مکفوف(امام صادق کے ایک صحابی)کہتے ہیں: امام صادق کی خدمت میںپہنچا، آپ نے فرمایا: مجھے مرثیہ سناو، میں نے ان کو مرثیہ سنایا تو آپ نے فرمایا: لا، کما تنشدون وکما ترثیہ عند قبرہ، اس طرح نہ پڑھو بلکہ جس طرح ان کی قبر کے نزدیک تم مرثیہ پڑھتے ہو ویسے مرثیہ پڑھو۔ میں نے پڑھنا شروع کیا:
امررعلی جدث الحسین
فقل لاعظمہ الزکیه

امام حسین کی قبر کے پاس سے گذرو اور ان کی پاک ہڈیوں سے کہو…
میں نے دیکھا کہ امام صادق رونے لگے میں خاموش ہوگیا، لیکن آپ نے پھر فرمایا: پڑھتے رہو، میں پڑھنے لگا فرمایا: اور پڑھو، میں نے پھر پڑھنا شروع کیا یہاں تک کے جب اس بیت پر پہنچا:
یا مریم قومی واندبی مولاک
وعلی الحسین فاسعدی ببکاک

ایے مریم! اٹھو اور اپنے مولا پر گریہ کرواورامام حسین (علیہ السلام) پر گریہ کے ذریعہ اپنی نجات کو طلب کرو ۔
میں نے دیکھا کہ امام صادق (علیہ السلام) گریہ کررہے ہیں اور عورتیں فریاد کررہی ہیں جب سب خاموش ہوگیے تو حضرت نے فرمایا:
"" یا ابا ہارون من انشدفی الحسین فابکی عشره فلہ الجنه""۔ ایے اباہارون! جو بھی امام حسین پر مرثیہ پڑھے اور دس لوگوں کو رلایے اس کی جزاء بہشت ہے (8) ۔


٥۔ امام حسین علیہ السلام کی تربیت کو اہمیت دینا
اسلام کے دشمن خصوصا بنی امیہ اور بنی عباس کی تمام تر کوشش یہ تھی کہ امام حسین اور ان کے سچے دوستوں کے قیام کو لوگ بھول جاییں اور لوگ اس کے بارے میں کویی بات نہ کریں یہاں تک انہوں نے کوشش کی کہ امام کی قبر کا بھی کویی نشان باقی نہ رہے ۔
اسی وجہ سے بہت سے عباسی خلفاء نے قبر امام حسین کو ویران کرنے کے لیے کیی مرتبہ قدم پڑھا یا (9) لیکن دوسری طرف آیمہ اطہار ہر وقت اس طرح کے واقعوں کے مقابلے میں کھڑے ہوگیے اور امام کی قبرکی مٹی کو بہشت کی مٹی، اور تمام دردوں کے لیے شفاء اوربرکت بناکر پیش کیا ۔ ایک روایت میں امام موسی کاظم سے نقل ہوا ہے:
""لا تاخذوا منتربتی شییا لتبرکوا بہ، فان کل تربه لنا محرمه الا تربه جدی الحسین بن علی علیہ السلام فان اللہ عزوجل جعلھا شفاء لشیعتنا و اولیاینا"، میری تربت کی خاک کو تبرک کے طور پر مت اٹھانا کیونکہ میرے جد کی تربت کے علاوہ سب تربتوں کی مٹی (کو کھانا) حرام ہے، خدا وند عزوجل نے اس کو ہمارے شیعوں اور ہمارے دوستوں کے لیے شفا قرار دیا ہے (10) ۔
امام سجاد کے حالات میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ایک کپڑے میں امام حسین کی قبر کی مٹی رکھتے تھے ۔
""فکان اذا حضرتہ الصلاه صبہ علی سجادتہ وسجد علیہ"" جب نماز کا وقت آتاتھا تو آپ اس مٹی کو اپنے مصلے پر رکھتے تھے اور اس پر سجدہ کرتے تھے (11) ۔
تمام روایتیں جو امام حسین کی تربت کے متعلق وارد ہویی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس پاک تربت کا استعمال بچے کی ولادت کے پہلے دن سے شروع ہوتا ہے اس سے نوزاد بچے کا تالوکھولتے ہیں اور انسان کے مرنے کے بعد اس تربت کو اس کی قبر میں رکھتے ہیں(12) ۔اسی طرح کربلا کی مٹی سے سجدہ گاہ اور تسبیح بناکر اس کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور اس کو تھوڑی سی کھا کر(دال کے دانے کے برابر پانی میں گھول کر پیتے ہیں)اس سے شفا کا قصد کرتے ہیں اور آیمہ اطہار نے اس سے عید فطر کے دن افطار کرنے کی وصیت و ترغیب دلایی ہے (13) ۔


٦۔ امام حسین علیہ السلام کے مرقدکی زیارت کا خاص اہتمام کرنا
آیمہ اطہار خود تو امام حسین علیہ السلام کی قبرکی زیارت کے لیے جاتے ہی تھے لیکن ساتھ ساتھ آپ کی قبر کی زیارت کا عظیم ثواب بیان کر کے شیعوں کو بھی کربلا جانے کاشوق دلاتے تھے اور ان شہداء کی یاد کو تازہ کرتے تھے اور اس طرح دشمنان اہل بیت کے منہ پر زبردست طمانچہ لگاتے تھے ۔
امام صادق نے اس طرح بیان کیا ہے:
""مامن احد یوم القیامه الا وھو یتمنی انہ زار الحسین بن علی علیہماالسلام لما یری لما یصنع بزوار الحسین بن علی علیہما السلام من کرامتھم علی اللہ"" ۔ قیامت کے روز ہر شخص آروز کرے گا کہ وہ امام حسین (علیہ السلام) کا زایر ہوتا ، کیونکہ وہ خداوند عالم کے نزدیک ان کی کرامت کو دیکھے گا ( 14) ۔
ایک دوسری جگہ امام صادق (علیہ السلام) سے نقل ہوا ہے:
""من سرہ ان یکون علی مواید نور یوم القیامه، فلیکن من زوار الحسین بن علی علیہماالسلام"" جو بھی قیامت کے دن نور الہی کے دسترخوان پر بیٹھنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرے (15) ۔
یہاں تک کہ زیارت کی روایات میں امام حسین (علیہ السلام) کی بہت زیادہ زیارت کرنے کی تاکید کی گیی ہے ۔
چھٹے امام فرماتے ہیں:
""من سرہ ان ینظر الی اللہ یوم القیامه، وتھون علیہ سکره الموت، و ھول المطلع، فلیکثر زیاره قبر الحسین علیہ السلام"" ۔ جو شخص بھی یہ چاہتاہے کہ قیامت کے دن رحمت الہی کی طرف دیکھے اور جان کنی کی حالت اس پر آسان ہوجایے اور قیامت کے دن کا ڈر اس کے دل سے ختم ہوجایے تو امام حسین کے روضہ کی بہت زیادہ زیارت کرے (16) (17)۔

حوالہ جات:

1. وسائل الشيعة، ج 10، ص 398. ابواب المزار، باب 66، ح 20.
2. امالى صدوق، ص 142.
3. مأساة الحسين، ص 117 و مجمع مصائب اهل البيت، خطيب هندوبى، ج 1، ص 24 (مطابق نقلِ ره توشه راهيان نور، ويژه محرم 1421، ص 4).
4. وسائل الشيعة، ج 2، ص 922، باب 87، ح 7.
5 . بحارالانوار، ج 46، ص 108 .
6 . بحارالانوار، ج 44، ص 284 و وسائل الشيعة، ج 10، ص 394، ح 8 .
7 . بحارالانوار، ج 44، ص 288.
8 . بحارالانوار، ج 44، ص 287.
9. در بحارالانوار، ج 45، ص 390 بابى تحت عنوان «جور الخلفاء على قبره الشريف» درباره تلاش خلفاى جور براى تخريب قبر آن حضرت آمده است.
10 . وسائل الشيعة، ج 10، ص 414، ح 2 و بحارالانوار، ج 98، ص 118.
11 . بحارالانوار، ج 98، ص 135. براى اطلاع بيشتر مراجعه شود به وسائل الشيعة، ج 10، ص 420، باب 75، (باب استحباب اتّخاذ سبحة من تربة الحسين(عليه السلام)).
12 . از امام صادق(عليه السلام) روايت شده است: «حَنِّكُوا أَوْلادَكُمْ بِتُرْبَةِ الْحُسَيْنِ(عليه السلام); كام نوزادانتان را با تربت امام حسين(عليه السلام) باز كنيد». (وسائل الشيعة، ج 10، ص 410، ح 8).
13 . مراجعه شود به: وسائل الشيعة، ج 10، ص 414، باب 72 و ص 408، باب 70.
14 . بحارالانوار، ج 98، ص 72 ; وسائل الشيعة، ج 10، ص 330، ح 37.
15 . بحارالانوار، ج 98، ص 72; وسائل الشيعة، ج 10، ص 330، ح 38.
16 . بحارالانوار، ج 98، ص 77; وسائل الشيعة، ج 10، ص 331، ح 40.
17. آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا سے اقتباس ، صفحہ49 ۔
    
تاریخ انتشار: « 1392/06/29 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا

عزاداری میں سر وسینہ پیٹنا

عزاداری میں نوحہ پڑھنا

مجالس عزاداری منعقد کرنے کی وصیت

عزاداری میں سیاہ کپڑے پہننا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1747