چوتھی فصل :دس قوانین

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
جوانوں کے جنسی مسائل اور ان کا حل
تیسری فصل :جنسی مشکلات میں ایک بڑی غلط فہمی

جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ جنسی کجروی مخصوصا ”استمناء“ (Masturdation ) جس کو کبھی کبھی تاریخی افسانے کے تناسب سے ” اونانیسم “ بھی کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ یہ نا قابل انکار ہے اس لئے کہ یہ بہت جلد انسان کو اپنا عادی بنالیتاہے ، اور اس کی جڑیں اس قدر پھیل جاتی ہیںجس کی وجہ سے انسان ایک دن میں کئی بار اس کا ارتکاب کرنے لگتا ہے ۔یہاں تک کہ بعض مبتلا افراد نے خود اعتراف کیا ہے کہ کبھی کبھی وہ اس منزل تک پہنچ جاتے ہیں کہ بغیر کسی عمل کے محض تصور اور فکر سے مخصوص خطرات ان کے جسم سے خارج ہو جاتے ہیں ۔
لیکن اس سے کہیں خطرناک اس عادت کے مقابلے میں نا امیدی اور مایوسی ہے ، اس لئے کہ نا امیدی اس بیماری میں مبتلا افرادکی کامیابی کے لئے ایک سد راہ بن جاتی ہے ، اور غیر معمولی نامطلوب نفسیاتی عکس العمل ان کے وجود میں پیدا کردیتی ہے ۔
اس میں مبتلا افراد اگر اس عادت کے مقابلے میں کامیاب اور اس کے تمام اثرات کو اپنے وجود سے نکالنا چاہتے ہیں ہر گز اس فکر کو ذہن میں نہ آنے دیں کہ یہ بیماری یا اس کے اثرات آخری عمرتک دامن گیر رہیں گے ۔
مختصر یہ کہ نہایت ہوشیاری اور پختہ ارادے کے ساتھ آنے والے دستورات پر عمل کرتے ہوئے اس عادت سے مقابلے کے لئے کھڑے ہو جائیں ۔
جو لوگ اس عادت کے چنگل سے نجات پا گئے ہیں انہیں اپنی پاکیزگی کی قدرکرنا چاہیے ،اور اس کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں ۔اور اس راہ کے ہر شیطانی وسوسہ سے ہوشیار رہیں،اور اپنی تقدیر کو کسی بھی قیمت پر گمراہ افراد یا معاشرے کے سپرد نہ کریں ۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی اس بات کا اشارہ کر چکے ہیں کہ ہر قسم کی غلط عادت منجملہ خطرناک جنسی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی شرط ”امید اور کامیابی کا اطمنان رکھنے کے ساتھ“ صمیمانہ اور مستحکم ارادہ ہے ۔ایسا فولادی اور محکم ارادہ جسکا تکیہ ایمان ،شرافت اور وجدان پر ہو ۔
مصمم ،راسخ اور ناقابل عدول ارادہ
آخر کار اگر یہ عزم و ارادہ کسی خاص اسباب کی وجہ سے ٹوٹ بھی جائے تو پھر نئے سرے سے ایک نہ ٹوٹنے والا اور راسخ ارادے کی بنیاد ڈالیں اور اسی امید اور ایمان کے ساتھ اپنے ارادے کی تجدید کریں ۔ اس لئے کہ ان شکستہ ارادوں کے باقی رہ جانے والے اثرات جس وقت جمع ہوجائیں گے اپنی تاثیر ضرور دکھائیں گے ۔
مسلم طور پر اگر یہ مصمم ارادے ٹوٹنے سے رہ جائیں تو بہت جلد اس بدترین عادت کے تمام منفی آثار انسان کے جسم و روح سے نکل جائیں گے ۔
یہ امر بدیہی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے خدا سے رابطہ بر قرار کرلیں اور اپنے پورے وجوداور اس کے ہر ذرہ کے ساتھ اس سے مدد کا مطالبہ کریں، اس کے لطف کی امید کریں یقینا ایمان کے سائے میں بہت جلد نتیجہ حاصل کر سکتے ہیں ۔
اب جب کہ ان مراحل کو طے کر لیا ہے ، مندرجہ ذیل امور کا دقت سے استعمال کریں ۔
شاید یہ امور بعض افراد کی نگاہ میں بہت سادے ہوں لیکن ان پر عمل کرنے سے معلوم ہوگا کہ ان کے اثرات معجزے کی مانند ہیں ۔

 ۱۔ ہرطرح کی مصنوعی تحریک سے پرہیز کرنا ۔

اگر جوان اس انتظار میں ہیں کہ ہر شب سنیما یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر شہوت سے بھر ی سیکسی فلمیں دیکھیں ، اور ہر روز اپنے مہم وقت کا کچھ حصہ عشقیہ ناول پڑھنے اور گمراہ کرنے والے رسالو ں میں شہوت انگیز تصویریں دیکھنے میں صرف کریں اور گلی کوچوں میںبرہنہ عورتوں اورلڑکیوںپر نگاہ ڈالیں اور ان تمام کاموں کے ساتھ کسی طرح کی برائی سے دوچار نہ ہوں ! یہ یقینا ایک بڑی غلط فہمی ہے ۔
اس طرح کی مصنوعی تحریکات جن کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے ، جوانوں کو ان کی زندگی کے بنیادی مسائل سے جداکر دیتی ہے اورشدت اور طغیانی کے ساتھ جنسی مسائل کی طرف کھینچ لیتی ہیں ۔
دن رات بے چینی کی حالت اور دائمی غصہ کی کیفیت ان کے تمام وجود پر سایہ فگن ہو جاتی ہے جو اس کے نامطلوب آثار ہیں ۔
یہ دائمی تحریکات ان کی زندگی کے بہترین حصہ ”یعنی جوانی کے دور “ کو برباد اوران کے اعصاب ( پٹھے اور رگوں ) کوخراب کر دیتی ہیں ۔
تمام جوان! خصوصا وہ افراد جو جنسی عادتوں کا شکارہیں انہیں چاہیے کہ شدت کے ساتھ ان امور سے اجتناب کریں ، فیلمیں نہ دیکھنے ،اور اس طرح کے ناولوں کو مت پڑھیں، اورچوری چھپے ایسے عمل انجام دینے سے پرہیز کریں، اپنی فکر کو اس طرح برباد نہ کریں اور اپنے طاقتور اعصاب کو دائمی ہیجان سے ضعیف نہ بنائیں ۔
اس مسئلہ میں کامیاب رہنے کے لئے اپنے تمام خالی وقت کو صحیح و سالم سرگرمیوں میں مصروف رکھیں،اپنے دوستوں کی مدد سے صحیح پلاننگ کے ساتھ اپنے اوقات کو منظم کریں ۔
یہ سرگرمیاں اختیار کی جاسکتی ہیں:
جسمانی ریاضت کریںچاہے اکیلے یا کسی گروہ کے ساتھ۔
تازی اور آزاد ہوا میں چہل قدمی کریں ۔
اچھی اور مفید کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
گھر میں پھلواریوں کی دیکھ بھال یا کلی طور پر کھیتی باڑی کے کام انجام دیں ۔
اپنے روز مرہ کے کاموں کو خود انجام دیں ۔
اشعار کی جمع آوری ۔
تصویروں اور ٹکٹ کا جمع کرنا اور اس جیسے دوسرے امورکو انجام دینا ۔
مختلف انجمنوں اور علمی یا اخلاقی کانفرسوں میں شرکت کرنا ۔

 

  ۲۔اپنے پورے وقت کو مختصر کاموںسے منظم کرنا

 

جوانوں کو چاہیے کہ حتمی طور پر اپنے تمام شب و روز کے اوقات کو اس طرح منظم کریں کہ ایک گھنٹہ بھی بیکار اور پروگرام سے خالی نہ ہو۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ صرف پڑھائی کرتے رہو یا مسلسل کام کرتے رہو بلکہ اگر تفریح اور ورزش بھی کرنا چاہتے ہو تو وہ بھی پروگرام کے تحت ہونا چاہیے،ایک گھنٹہ بھی پروگرام سے خالی نہ رہنے پائے ۔
ممکن ہے کہ کوئی جوان بے کار ہو اور کام تلاش کررہا ہو۔لیکن اسی حالت میں اپنے دن رات کے خالی وقت کا پروگرام بنائیں ،چاہے وہ تفریح ہو یا مطالعہ ہو ، آرام ہو یا کوئی دوسری سرگرمی۔
ہاں اگر جوان اپنے وقت کو پروگرام کے تحت کچھ زیادہ منظم کرلیں اس طرح کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ان کی فکر بے کار نہ رہے تو زیادہ بہتر ہوگا ،اس لئے کہ فکر کا مصروف رہنا اس عادت بد کو ترک کرنے میں زیادہ فائدے مند ثابت ہوگا ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیگریٹ کے عادی لوگ چھٹی کے دنوں میں کام کے ایام کی بانسبت زیادہ سگریٹ پیتے ہیں ، یہ فرق اسی اثر کا نتیجہ ہے جو فکر اور اعصاب کو مثبت کاموں میں مصروف کرنے کے ذریعہ نامعقول اور نقصان دہ کاموں سے روکتاہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ غلط جنسی عادتوں میں گرفتار لوگ اگر اپنے تمام وقت کو ایک منظم پروگرام کے تحت مشغول نہ کریں تواس عادت کو آسانی سے دور نہیں کر سکتے ہیں ۔اس طرح کے پروگرام کی تشکیل یقینی طور پر اس عادت کو ترک کرنے اور اس کے سبب پیدا ہونے والی اکژ مشکلات کے دور کرنے کے لئے نہایت موثر اورسود مند ثابت ہوتی ہے ۔

 
۳ ۔ ورزش کی طرف خاص توجہ
 

یہ بات معروف ہے کہ ورزش کرنے والے افراد کو جنسی امور سے لگاؤ بہت کم ہوتا ہے ، اس لئے کہ ورزش ، بدن اور فکرکی طاقت کو بڑی مقدار میں اپنے آپ سے مخصوص کر لیتی ہے ، اور فطری طور پر دوسرے باقی مسائل میں کم ہو جاتی ہے ۔
اس بنیاد پر جنسی تحریکات کے طوفان کومسدود کرنے کے لئے جوانوں کو ورزش کے وسیع اور متنوع پروگرام کا انتخاب کرنا چاہیے ۔
اس بری عادت کے شکار غالبا کنارہ کش ، گوشہ نشین، غیر متحرک اور خاموش افراد ہوتے ہیں ،اور یہی کنارہ کشی اور گوشہ نشینی ان کی بیماری میں شدت پیدا کردیتی ہے ۔ اگر یہ لوگ اس عالم سے باہر آجائیں اور اپنی زندگی میںمزید تحرک پیدا کر لیں،یقینی طور پر ان کی حالت میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے اور اس عادت سے چھٹکارا مل سکتا ہے ۔
اس لئے کہ معمولا ان لوگوں کے جسم میں ضعف اوراعصاب کی کمزوری پائی جاتی ہے ۔ مختلف اور مناسب ورزش ان کے اعصاب کی تقویت کے لئے نہایت موثر ہے ۔
ان افراد کے پاس اپنی مشغولیت کے علاوہ جتنا بھی اضافی اور خالی وقت پایا جاتا ہے اس کو کھیل کود، مختلف ورزش یا کھلی فضا میں چہل قدمی میں سے مخصوص کردیں، تاکہ اپنی کھوئی ہوئی سلامتی کو دوبارہ حاصل کر سکیں، اور ساتھ ساتھ جسمانی اور فکری طاقت بھی اس حصہ سے مخصوص ہو جائے گی ۔
جس طرح حرکت اورورزش ان کے لئے فائدہ بخش ہے اسی طرح کنارہ کشی اور گہر ی فکربھی زہرکی طرح قاتل ہے جس سے ہر قیمت پران کو دور رہنا ہے ۔
اس نصیحت کو فراموش مت کریں اور اس کے معجز نما اثرات کا ضرور مشاہدہ کریں ۔دن بھر اس قدر ورزش کریں کہ رات میں جب بستر پر جائیں تو فورا گہری نیند کی آغوش میںچلے جاؤ،اس طرح آپ لاحق ہونے والے خیالات و افکار کے تمام شراور نقصانات سے محفوظ ہو جائیں گے ۔

 
۴۔ایک عادت کو دوسری عادت کا جانشین ہونا چاہیے ۔
 

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے :بری عادت ترک کرنے کے لئے اچھی عادت کا تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ اس کو بری عادت کا جانشین بنایا جا ئے ۔
مثلا جو لوگ جوا کھیلنے کے عادی ہیں حالانکہ وہ اس کے تمام نقصانات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں،اس کے باوجود وہ اس کو نہیں چھوڑتے ہیں ، ان کے بقول جب جوے کا وقت ہوتا ہے وہ نہیں جانتے کہ کون سی طاقت ان کو ایک قیدی کی طرح اس طرف لے جاتی ہے اور ان کا عقل و وجدان بھی اس صورت میں اس کے محکوم ہو جاتے ہیں؟!اس طرح کے افراد جو اس بری عادت کے شکار رہتے ہیں وہ اپنے اس وقت کو مناسب کھیل (ایک سالم ورزشی مقابلہ ) کا جانشین بنائیں تاکہ یہ اچھی عادت اس کی جگہ آجائے ۔
گویا اس وقت میں جو خاص طاقت اس عادت کی تحریک میں پیدا ہوتی ہے اس کا رخ اس اچھی عادت کی طرف موڑ دیا جائے ،اور اس کے نامطلوب رد عمل بھی سامنے نہ آنے پائیں ۔( غور کریں) ۔
جنسی غلط عادتوں کے مقام میں بھی عین اسی وقت جب اس کی تحریک جوانوں میں پیداہوتی ہے ایسے پروگرام کو وقت سے پہلے تلاش اور اس پر عمل کیا جائے جیسے علمی اور ورزشی مقابلہ ،یا کوئی دلچسپ ورزش ، پہاڑوں پر گھومنا ، گھڑ سواری وغیرہ....ان کاموں کو اس قدر مسلسل انجام دیا جائے کہ یہ بری عادت کی جانشین بن جائیں ۔

 
۵۔ ہر حال میں تنہائی سے پرہیز ۔
 

ایسے افراد کو بغیر کسی قید و شرط کے تنہا رہنے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
ہرگز اکیلے نہ رہیں، گھر میں بھی تنہا نہ رہیں، رات کو کمرہ میں اکیلے نہ سوئیں، خلوت میں مطالعہ کے لئے اکیلے نہ جائیں ۔
کسی جگہ پر صرف تنہائی کا احساس ہوتے ہی فورا وہاں سے باہر نکل جائیں ۔
اس طرح کے لوگ اس نکتہ کو کبھی فراموش نہ کریں کہ جیسے ہی اپنے آپ میں گذشتہ عادت کی پہلی تحریک کو محسوس کریں فورکسی دوسرے کام میں مشغول ہو جائیں ۔ اگر چہ اس نکتہ کو فراموش کرنا بہت سخت کام ہے ۔
ہر جوان کی فکر میں اس عادت کو پرورش دینے کے لئے تنہائی بہترین اور کامل راستہ ہے لہذا جو جوان بھی اپنی خوش بختی، سلامتی اور استمناء کے خطروں سے سلامتی کا خواہاں ہے اسے تنہائی سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

 

۶۔ پہلی فرصت میں شادی ۔

 

ان افراد کے پاس اگر امکانات موجود ہیں توپہلی فرصت میں شادی کریں ، یہاں تک کہ اگران کے پاس صرف رشتہ (البتہ عقد شرعی کرنا زیادہ بہتر ہے)کرنے کے امکانات فراہم ہوں تو (لیک عقد شرعی جاری ہوگیا ہو) اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔
مختصر یہ کہ شادی اس جنسی بے راہ روی سے مقابلہ کرنے کے لئے قابل دید تاثیر رکھتی ہے ۔اگرہم توقعات کے دامن کو چھوٹا اور بیجا تشریفات کو حذف کرلیں تو شادی نہایت ہی سادہ اور آسان امر ہے ۔ لیکن افسوس کہ غلط رسم و رواج اورغلط بندشوں نے ہر طبقے( پڑھے لکھے ا ور جاہل لوگوں )کے ہاتھ پیروں میں زنجیریں ڈال دی ہیں ۔
بعض جوان عام طور پر شادی کرنے سے ڈرتے ہیں ۔البتہ یہ وحشت مکمل طور پر بے بنیاد ہے اس لئے کہ تمام قوانین پرعمل پیرا ہونے سے غلط عادتیں بھی آسانی سے چھوٹ جاتی ہیں اور شادی کے تمام مراحل میں بھی وہ کامیاب ہوجاتا ہے ۔


۷۔اپنے نفس کو تلقین اور ارادے کی تقویت ۔
 

” تلقین “( یعنی خود کو آگاہ کرنایا سمجھانا) اس عادت سے مقابلہ کرنے میں بہترین کردار ادا کرتی ہے ۔
اس عادت میں مبتلا افراد کو چاہیے کہ مسلسل خود کو تلقین کرتے رہیں کہ وہ اس غلط عادت کے ترک کرنے پرمکمل طور پر قادر ہیں ۔
کیونکہ تلقین اس بیماری میں مبتلا افراد کے لئے بہت قوی اور سریع اثر رکھتی ہے ، جیسا کہ ایک ماہر نفسیات(ڈاکٹر ویکٹور پوشہ فرانسی) کہتاہے :” اس تلقین کو مندرجہ ذیل صورت میں چند روز تک مسلسل انجام دیں “ ہر دن سکون واطمئنان کی جگہ بیٹھ کر جب اس کاذہن ہر فکر سے خالی ہوتو اپنی فکر متمرکز کرکے ان جملوں کی تکرار کرے :”میں اس عادت کو اپنے سے مکمل طور پر دور کر سکتاہوں، میں اس بات پرقادر ہوں “!اس سادہ تلقین کی تکرار انسان کی روح کی تقویت اور اس عادت بلکہ ہر عادت کے چھوڑنے کے لئے عجیب و غریب تاثیر رکھتی ہے( اگر آپ چاہیں تو آزما سکتے ہیں) ۔
اس کے علاوہ ارادے کی تقویت کے لئے کتابوں کا مطالعہ کریں، کافی کتابیں جو شخصیت کے رشد وتحکیم اور ارادے کی تقویت کے موضوع پر لکھی گئی ہیںموجود ہیں ۔جبکہ اس بات کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ تمام افراد جو اس عادت یا ہر بری عادت کے ترک کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان کا اعتراف ہے کہ اس راہ کا سب سے پہلا قدم” مصمم ارادہ“ ہے ۔


۸۔ مکمل پرہیز
 

اس علاج کے دوران گمراہ اور اس بیماری میں مبتلا افرادکی معاشرت اور ہم نشینی سے کلی طور پر اجتناب کیا جائے ،جیسے کسی وبا میں مبتلا افراد سے فرار کیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ اس عمل کے وحشتناک اور مہلک نتائج سے لاپروا نہ رہیں ، اور وسوسہ پیدا کرنے والی باتوں کو ہر گز گوش گذار نہ کریں ۔
اس بیماری میں مبتلاغلط ساتھی اس راستہ کو جاری رکھنے کے لئے عجیب و غریب کردار ادا کرتے ہیں جو خود گناہ کا احساس نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو اس بدبختی کا شکار کرنا چاہتے ہیں اور اپنی غمگین کہانی میں انکو شریک بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس لئے وہ اس عمل کو ایک لطف اندوز اور بے ضرر عمل ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔لیکن با ہوش جوان ان کے بچھائے ہوئے شیطانی جال میں کبھی نہیں پھنستے ۔


۹۔ عام قوت اور کھانے کی طاقت
 

کامل اور سالم غذا، جسمانی طاقت دینے کے علاوہ جوانوں کو اس عادت سے جو ان کے اعصاب کی کمزوری کا سر چشمہ ہے یا خود اعصاب کی کمزوری کا سبب ہے، ایک عجیب تاثیر عطا کرتی ہے ۔
ٹھنڈے پانی سے نہانا (موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے )اور اس کے بعد بدن کو تولیے سے مساج دینا اس طرح کے افراد کی بہت مدد کرتا ہے ۔
اسی طرح ان کو چست لباس(جو مصنوعی تحریک کا باعث بنتے ہیں ) پہننے سے پر ہیز کرنا چاہیے ۔اس طرح کے لباس اصولی طور پر جوانوں کو نقصان پہنچاتے ہیںاور کبھی کبھی جسم کے فطری رشد و نمو کے لئے مضراور خطرناک ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ وسوسہ اور تحریک جنسی کا سبب بنتے ہیں ۔

 

۱۰۔ ایمان اور عقیدے کی طاقت کا سہارا
 

ایمان اور عقیدے کی طاقت ایسے لوگوں کی بے حد معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے ۔اور ان کو اس عادت کے چنگل سے چھٹکارا دلاتی ہے ۔
اس طرح کے افراد اپنے آپ کوبارگاہ رب العزت میں ذلیل اور مردود شمار نہ کریں،بلکہ ہمیشہ خداوند متعال کے لطف کے امیدوار رہیں، نماز کے وقت اور نماز کے بعد اپنے سر کو سجدے میں رکھ کر اپنے مہربان اور معاف کرنے والے خالق کے ساتھ راز ونیاز کریں ، اپنے مکمل قلبی انہماک اور اپنے وجود کے تمام ذرات کے ساتھ اس کی بارگاہ میںتوسل کریںاور اس بدبختی سے نجات کی دعا کریں ، یقین رکھیں اگرکوئی جوان اس طرح خدا کی بارگاہ میں استمداد کریں تو اس کی مدد ضرور شامل حال ہوگی ، اور زندگی کی اس جنگ میں کامیابی ان کے قدم چوم لے گی ۔
اس کے علاوہ ہر جگہ اور ہر حال میں خدا کو حاضر و ناضر سمجھنا چاہئے اور کبھی بھی اپنے آپ کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ اس کے سامنے غلط کام انجام نہ دیں ۔
ہمیں یقین ہے کہ اگر اس بیماری میں مبتلا حضرات مذکورہ قوانین پر دقت کے ساتھ ایک مہینہ تک عمل کریں تو منحرف راستہ سے نجات حاصل کرلیں گے ۔
قارئین کے فیصلوں کے چند نمونے
اس کتاب کے حوالے سے ہمیں بڑی تعدادمیں جھنجوڑنے والے خطوط موصول ہوئے ، جسکا صرف ایک نمونہ بغیر کسی ردوبد ل کے قاریان کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

خدا کے نام سے شروع کرتا ہوں جس نے جوانوں کو پیدا کیا اور جس نے تمام انسانوں کو پاک پیدا کیا ہے ۔
جیسا کہ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا ، بغیر کسی تمہید کے اپنی داستان آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں تاکہ جوانوں کے لئے عبرت بن جائے ۔
میں ۱۹ سال کا جوان ہوں ، نو جوانی میں قرآن اور امام زمانہ(ع) سے نہایت لگاؤ رکھتا تھا اور ابھی بھی وہ ہی صورت ہے ،نا محرم پر نظر کرنے سے مجھے سخت نفرت تھی اوراس کوگناہ عظیم سمجھتا تھا،کبھی غلط نگاہ سے کسی کی طرف نہیں دیکھتا تھا ۔
جس وقت میں نے بلوغ کی منزلوں میں قدم رکھا اور کالج میں داخل ہوا تو میرے اندر تغیر پیدا ہونا شروع ہو گیا ، اور آہستہ آہستہ شیطان مجھ میں سرایت کرنے لگا،اور مجھے راہ راست سے منحرف کر دیا،یہاں تک کہ نامحرم کو دیکھنا میری عادت بن گئی،اور غلط دوستوں سے آشنائی ہو گئی ، انہوں نے اس عادت سے جو چار سال سے میرے دامن گیر تھی مانوس بنا دیا، کالج کے پورے چار سال تک میں نے اس گندی عادت کو جاری رکھا ، اور ناقابل انکار پڑھائی کی کمی مجھ میں پیدا ہوگئی جس کو کاملا محسوس کرتا تھا،حالانکہ ہائی اسکول کے دوران میں ممتاز طالب علموں میں ہوتا تھا ،لیکن کالج میں مجھے بار بار امتحان دینے پڑے ، چار سال تک میں خدا سے دوراپنے آپ سے غافل اور پستی میں رہا ،یہاں تک کہ ان چار سالوں میں میری تمام صلاحیتیںمن جملہ میری صحت ختم ہوگئی ، اس عمل کے تمام اثرات مجھ میں ظاہر ہو گئے ،جسمانی کمزوری،خون کی کمی ، حافظہ کا فقدان ، ہاتھوں میں رعشہ، انکھوں کا کمزور ہوجانا وغیرہ ۔
کالج کے چوتھے سال میں غفلت کی نیند سے بیدار ہوا اور کوشش کرتا رہا کہ اس عمل سے نجات حاصل کرلوں لیکن میری تمام کوششیں رایگان ہوجاتیں ،دو تین دن تو تحمل کرتا لیکن پھر واپس اسی عادت پر پلٹ آتا ، اس سال گرمیوں تک اس عمل کو ترک کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں کرتا رہا آخر کار ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا،خداوند عالم ، ائمہ، اور امام زادوں سے توسل کیا ،اذان سے پہلے قرآن مجید کی تلاوت سنتا اور آنسو بہاتا ، اس وقت میں خو ن کے آنسو بہاتا مگر میری آنکھوں کے آنسو خشک ہو چکے تھے ،کسی سے میں اپنا درد دل بھی بیان نہیں کر سکتا تھا ۔
اس وقت میں تلاوت قرآن کرتا اور اپنے خالق سے باتیں کرتا اور اس سے مدد طلب کرتا ، ۲ یا ۳ دن تک اس عمل کو انجام دیتا لیکن تیسرے روز پھر اسی عمل کو انجام دیتا اور اس کے بعد گریا و زاری کرتا ، اور حمام جاکر غسل کرتا ، پھر اس کو ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرتا ،لیکن آپ نہیں جانتے کہ جب میں اس عمل کو چھوڑ دیتا تھا تو میں کس قدر خوشی ہوتاتھا کہ گویا اللہ نے میرے تمام گناہوں کو بخش دیا ہے ! لیکن اللہ شیطان پر لعنت کرے پھر---
مختصر یہ کہ غروب سے پہلے قرآن مجید کی تلاوت کو سنتا تھا اور ساتھ ساتھ گریہ و زاری کرتا اور اللہ سے مدد طلب کرتا تھا اور اس کی پناہ کا مطالبہ کرتا ،اس کے بعد نماز پڑھتا اور دعا کرتا کہ اللہ تمام جوانوں کو جو اس عمل کے عادی ہیں اور من جملہ مجھ کو نجات عنایت فرما ۔
میں اپنے دوستوں کو دیکھتا کہ کس درجہ ترقی کر رہے ہیں اور ایک میں ہوں جو بالکل ان کے برعکس ہوں ،پستی کے راستوں کو طے کرتے ہوئے میں نے سن۱۳۷۰ء کے متحانی مقابلہ (compation) میں شرکت کی اوراس میں نا کام ہوا جس کی وجہ میں اسی عادت کو سمجھتا ہوں ،اس دوران کبھی بھی اللہ کا لطف میرے شامل حال نہ ہوا،آخر کار اللہ نے میرے حق میں ایک مہربانی فرمائی کہ ایک دن لائبریری میں میری نظر ایک کتاب پر پڑی جس کا نام ” جوانوں کے جنسی مشکلات اور ان کا حل “ تھا ۔میںنے اس کتاب کو خرید لیا ، یہ کتاب وہی کتاب نجات تھی جس نے مجھے ہلاکت کی پستی سے نجات عطا کردی ۔یہ ہی کتاب ہے جو اکثر جوانوں کو نجات یافتہ بناتی ہے، اگر جوان اس میں بتائے ہوئے دستورات پر عمل کرے تویقینا اس عمل کے ترک کرنے میں حتمی کامیابی نصیب ہوگی ۔میں اپنے خالق کا شکر گزار ہوں کہ اس نے اپنے لطف میں مجھے شامل فرمایا اوریقینی ہلاکت اور پستی سے مجھے نجات بخشی ہے ۔
میں نے کتاب کے تمام مطالب کو اچھی طرح پڑھا ہے اور اس میں ذکر دس دستورات پر مکمل طریقے سے عمل کیا اور اس کے ساتھ نماز کواول وقت ادا کرتا اور اس کے بعد اللہ سے دعا کرتاکہ اللہ تمام جوانوں کو اور مجھ کو اس عادت سے نجات عنایت کرے ۔اور آیة الکرسی کی ہر روز اس قدر تکرار کرتا تھا کہ جب بھی گناہ کی فکر ذہن میں آتی فور آیة الکرسی کی تلاوت کرتا تھا، اور اس کی حیرت کن تاثیر کا مشاہدہ کرتا تھا ۔
ان دو آیتوں کو:
” اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسھم ، ذکرواللہ ، فاستغفروا بھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ، ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعملون“ اور” ان الذین اتقوا اذا مستھم طائف من الشیطان تذکروا فاذاھم مبصرون “ ہمیشہ پڑھتا تھا جس کے نتیجے میں کلی طور پر میرے ذہن سے وہ بدبختی والی فکر خارج ہوگئی، یہ دونوں آیتیں یقینا بہت موثر ہیں ۔
سب سے پہلے میں نے پختہ ارادہ کیا کہ نامحرم عورتوں اور لڑکیوں پر نظر نہیں ڈالوں گا ، اس کے بعد میںنے اپنے پورے دن کا ایک پروگرام بنایا تاکہ مجھے عمل بد انجام دینے کے لئے بالکل فرصت نہ مل سکے وغیرہ۔جسکی مکمل تفصیل کتاب ” جوانوں کے جنسی مشکلات اور ان کا حل “ میں بیان کی گئی ہے ۔ پہلی بارمیں نے اپنے یقین و ایمان کو قوی کیا اور خداوند متعال سے مدد کی درخواست کی جو کہ باقی تمام چیزوں سے مہم ہے ۔میں اس جملے پر جو اس کتاب کے آخر میں ذکر کیا گیا ہے مکمل یقین رکھتا تھا ۔” ہمیں یقین ہے کہ اگر اس بیماری میں مبتلا حضرات مذکورہ قوانین پر دقت کے ساتھ ایک مہینہ تک عمل کریں تو منحرف راستہ سے نجات حاصل کرلیں گے ۔“
مختصر یہ کہ کئی بار م-صمم ارادہ کرنے کے بعد آخر کار میںاس عمل کے ترک کرنے میں کامیاب ہو گیا،اور نجات پا گیا ۔اور اب تک جب میں اس خط کو تحریر کر رہا ہوں ،اس عمل کو چھوڑے ہوئے دو ماہ ہو چکے ہیں ۔آپ نہیں جانتے کہ جب ایک مہینہ ہو گیا تھا تو میں کس قدر خوش تھا، میں نے دورکعت نمازشکر پڑھی اورابھی تک وہ دو رکعت نمازشکر مسلسل پڑھتا ہوں اور پنے پروردگار سے دعا گو ہوں کہ اس احساس کو تمام جوانوں میں پیدا کرے جو اس جنسی عادت میں مبتلا ہیں (انشاء اللہ) ۔
جو جوان اس عمل کو انجام دیتے ہیں اگر وہ اس بات کو جان جالیں کہ یہ عمل کس قدر خطرناک اوراس کے نتائج کتنے بدبخت اور ہلاک کرنے والے ہیں ،تو وہ یقینا اس کو ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرلیں گے اور کتاب میں بتائے گئے دستورات پر عمل کریں گے اوریقینا ایک مہنیے میں اس عادت سے نجات پا جائیں گے ۔ انشاء اللہ۔
دل چاہتا ہے کہ فریاد کروں اور تمام انسانوں کو پکار پکار کر کہوں کہ میں نے بدبختی اور پستی کی موت سے نجات حاصل کر لی ہے ۔
دل چاہتا ہے کہ خون کے آنسوںروؤں، ناکامی کے آنسوں نہیں بلکہ خوشی اور کامیابی کے آنسوں ۔
دل چاہتا ہے کہ گھر والوں سے بہت سی باتیں کروں اور ہنستا رہوں اس لئے کہ دو مہینے پہلے تک اس طرح کی ہنسی جو دل سے نکلتی ہے کبھی میرے لبوں پر نہیں آئی ۔اس وقت میں بہت کم بات کرتا تھا ۔
خدایا تیرا شکر کہ تونے اپنے لطف سے بہرہ مند کیا جو بندہ تجھ سے دور بھاگ رہا تھا ۔
خدایا تیرا شکر کہ تونے مجھے حقیقت سے آشنا کر ایا اورمیری مدد کی کہ میں حقیقت سے پیوستہ ہو جاؤں ۔
عزیز جوانوں! ملک کے مستقبل ساز جوانوں !کوشش کرو اگر پاک ہوتوہمیشہ پاک رہو، اگر پاک نہیں ہو تو پاک ہو جاؤ،اور کتاب ” جوانوں کے جنسی مشکلات اور ان کا حل“ کا مطالعہ کرواور اس کے دستورات پر عمل کرو،یقین جانوں کہ اگر آپ اس عادت کا شکار ہیںتو ضرورنجات پا ؤگے ۔اور آپ کو مطمئن ہوناجا چاہیے کیونکہ میری نجات کے آخری لمحے میں میرے دل میں ایک ایسی امید پیدا ہوگئی تھی جس کی وجہ سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ مجھے نجات حاصل ہوگی ۔
عزیز جوانوں! اگر تم نے ارادہ کیا تھا کہ اس عمل کو چھوڑ دو گے اور پھر ناکام ہوگئے ،تودوبارہ پختہ ارادہ کرو اور کبھی بھی ناامید نہ ہوناکبھی یہ مت کہنا کہ اب وقت گذر گیا ہے ،اگر تم نے اس عمل کو بہت زیادہ انجام دیا ہے تو مکرر ارادے کی پختگی سے یقینا کامیاب ہو جاؤگے ۔ مصمم ارادے کی اس وقت تک تجدید کرو جب تک اپنی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو ۔انشاء اللہ، یقینا تم اپنی کامیابی کو اپنی آنکھوںضرور دیکھو گے ، لہذا آئندہ ارادہ کو مصمم ارادے کے ساتھ انجام دو ۔
اس کتاب کے ضمن میں ایک دوسری کتاب ” پریشانیوں اور نا امیدی پرغلبہ کا بہترین راستہ “ (بہترین غلبہ بر نگرانیھا و نا امیدیھا) کا مطالعہ کرنانہایت ہی فایدے مند ہے ۔ (انتشارات نسل جوانان) ۔
اوراے پاکیزہ افراد! آپ نے اس کتاب کولکھ کرخطرناک دلدل میں پھنسے بہت سے جوانوں کو نجات عطا کی ہے اور نجات دے رہے ہیں ، ہم جانتے ہیں کہ آپ کوہم جوانوں کے شکریہ کی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ آپ اپنی محنت اورہمت کا اجر اپنے خداوندعالم سے طلب کرو گے ۔
خدایا ہم جوانوں کو اس عادت کے ترک کرنے میں مدد فرما!تاکہ کامیاب وکامران ہو جائیں ۔
خدایا ہم جوانوں کوہدایت فرما کہ ہم اپنی قدر و قیمت سے آشنا ہو جائیں تاکہ اس طرح کے غلط کاموں کو انجام دینے سے دور رہیں اور نامحرم پر نگاہ کرنے سے دور رہیں، اس لئے کہ ان کاموں سے ہم نہایت پستی میں چلے جائیں گے ۔
خدایا میں جانتا ہوں کہ اس عمل کے ارتکاب سے میرا حافظہ اورفراست ضایع ہو گئی ہے ، میرے گذشتہ حافظہ اور فراست کو واپس پلٹا دے !مجھے یقین ہے کہ اگر میں تیری پناہ میں آجاؤں تو میراکھویا ہوا حافظہ اور فراست واپس مل جائیگی ۔لہذا اے ارحم الراحمین میں تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں!
خدا جن جوانوں نے اس عمل کو ترک کیا ہے، ان کی تو خود مدد فرماتا کہ گذشتہ نقصان کو پورا کرسکیں ۔
خدایا ہمارے گذشتہ اعمال کی توبہ کو قبول فرما !اور ہماری مدد فرما کہ ہم پھر اس جانسوز عمل میں دوبارہ مبتلا نہ ہوں ۔اور ہر وہ جوان جو میری طرح اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو نجات عنایت فرما، چونکہ تمام امور تیرے اختیار میں ہیں ۔
خدایا ! وہ تمام افراد جو جوانوں کی راہنمائی کے کوشاں ہیں ان کی مدد فرما تاکہ وہ مزید بہتر طریقے سے اس خدا پسند کام کو انجام دے سکیں ، اوربہشت جاویداں ان کو نصیب فرما ۔

 

خدایا شکر شکر شکرلاکھ مرتبہ شکر
خدا حافظ اور التماس دعا
آپ کا مخلص

تیسری فصل :جنسی مشکلات میں ایک بڑی غلط فہمی
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma