پہلی فصل : جوان اور جنسی کجروی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
جوانوں کے جنسی مسائل اور ان کا حل
دوسری فصل:جنسی انحرفات کے مہلک نتائجتیرہویں فصل : ہوا وہوس کی شادیاں
ہر طرف دردناک فریاد بلند ہیں!

ہم جانتے ہیں کہ جوانی آشفتگی کے زمانے میں جنسی طبیعت سے مخصوص ہوتی ہے،
جنسی سرشت کی اگر صحیح طریقے سے راہنمائی نہ کی جائے توجوانوں کی خوش نصیبی اور سعادت مندی کو اپنی شدید ضربت سے منہدم کر دیتی ہے، اور ان کے مقدر کوچور چورکر دیتی ہے ۔
ان کی خدا دصلاحیتوں کو جو ابھی ابھی کلی کی مانند ہیںنیست و نابود کردیتی ہے، ان کے ابتکار اورنبوغ کوجو ممکن ہے آنے والے وقت میں ان کے لئے یا معاشرے کے لئے سر چشمہ افتخاربن جائے،بے کار بنا دیتی ہے ۔
اس راہ میں قربان ہونے والے جوانوں کی تعداد کم نہیں ہے ۔اسی طرح جو افراد اس خواب سے بیدار ہونے کے بعد اپنی روح میں دردناک افسوس و ندامت کا احساس لئے ہیں، بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو عدم رہنمائی کے سبب آنے والے نقصانات کا جبران زندگی بھر نہیں کر سکیں گے ۔
اب تک اس راہ میں قربان ہونے والے افراد کے بے شمار خطوط ہم تک پہنچے ہیں جن کے ذریعے اس وحشتناک راز سے پردہ اٹھ گیا ہے ، اور اسی وجہ سے ہم بھی اس خطرناک موضوع کو زیر بحث لا رہے ہیں ۔
ان خطوط میں لکھنے والوں نے نا قابل بیان اسرار اور دردناک واقعیت کا پردہ فاش کیاہے، اور اپنی نجات اور راہ حل کا مطالبہ کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم بھی اس قدر اس خطرے کی اہمیت سے آگاہ نہیں تھے ،لیکن معلومات کی وجہ سے مجبور ہو گئے کہ اپنی توان اورکوشش بھر جوانوں کو اس خطرے سے آگاہ کریں، اور ان کو اس خطرے کے اصلی اسباب کی طرف متوجہ کریں ۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اور جوانوں کو اس امر میں اپنی مدد سے محروم نہ رکھے ۔
ابتداء میں ان خطوط کو آپ کے سامنے بعینہ پیش کرتے ہیں :

پہلا خط

” ...چونکہ جناب عالی نے اپنے بیان میں جوانوں کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی مختلف مشکلات کی تشریح کریں، لہذا میں اس خط کو بھیجنے میں عجلت کر رہا ہوں:
...جس پریشانی کی وجہ سے میںہمیشہ غم زدہ رہتا ہوں در حقیقت وہ جنسی اور شہوات کے حوالے سے ہیں ،ممکن ہے یہ مجھے جلدی ہی ہلاک کر ڈالیں ۔ میں اپنی مشکلات کی وضاحت پیش کرتاہوں :
میری عمر ۲۳ سال ہے اور میں ایک جوان طالب علم ہوں ، جب سے میں نے بلوغ کی منزل میں قدم رکھا ہے ، صحیح تربیت کے نہ ہونے اور لا علمی کی وجہ سے ایک قسم کی جنسی کج روی کا شکار ہوگیا ہوں ، اور سات سال سے اس کو مسلسل انجام دے رہا ہوں!
اور ابھی تک اس خانہ خراب بلا میں گرفتار ہوں اس کو ترک کرنے کی ہرچند کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا ۔اس کے نقصانات جو میںنے کتابوں میں پڑھے ہیں اس کے علاوہ اپنے جسم میں بھی محسوس کر رہا ہوں ، میری آنکھیں ضعیف ہوچکی ہیں ، اعصاب کی کمزوری ، خون کی کمی ِ ، جسم میںکمزوری و لرزہ ، اور افسردگی نے مجھے بے چارہ بنا دیا ہے!
ایک زمانے میں مجھ میں کافی قابلیت پائی جاتی تھی، پڑھائی کرتا تھا ، لیکن اس وقت میری قابلیت کم ہو چکی ہے، مطالب کو صحیح طریقے سے درک نہیں کر پاتا ہوں ، لیکن زور زبردستی سے پڑھائی کو جاری رکھے ہوئے ہوں...
جس وقت میں قلم اٹھاتا ہوں لکھنے کی طاقت نہیں ہوتی آخر کار قلم کو رکھ دیتا ہوں یہاں تک کہ جب ہاتھوں میں کچھ طاقت آتی ہے تو دوبارہ لکھتا ہوں!
مجھ میں ایمان کا ضعف بھی بڑھ گیاہے میرا وجدان ہمیشہ مجھے سرزنش کرتاہے ۔
بے بس ہو کرکسی گوشہ میں بیٹھ جاتا ہوں دیرتک روتا ہوں آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، لیکن مجھ بیچارہ اور بدبخت کوکوئی مددگار نہیں ملتا !!!
شاید آپ یہ جاننا چاہتے ہوں گے کہ جب میں اس کے نقصانات کا مشاہدہ کر رہا ہوں تو اس کو ترک کیوں نہیں کرتا ؟
اس کا جواب بھی میرے پاس ہے !آج اس کا چھوڑنا میرے لئے( تقریبا)محال ہو گیا ہے، اس لئے کہ جب اس شہوت میں تحریک ہوتی ہے تو قوت ارادہ مجھ سے سلب ہو جاتی ہے،اور جب سب کچھ ہوچکا ہوتا ہے تو پھر صرف رونا اور آنسو بہانا ہوتاہے!...
کبھی میں خدا سے دعا کرتا ہوں اور ائمہ (علیہم السلام) کی درگاہ میں توسل کرتا ہوں ... لیکن جس قدر بھی التماس اور دعا کرتا ہوں اتنا ہی اس کا نتیجہ کم ہوتا ہے ۔
کبھی میں سوچتا ہوں خدا اور ائمہ اطہار مجھ جیسے ناپاک افراد کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے ؟! ... مجھ جیسے بے سہارا لوگ اس قدر بے چارہ ہیں کہ اپنا درد دل اپنے کسی عزیز سے بھی بیان نہیں کر سکتے ، آخر ہم کس کا دامن پکڑیں! ؟
میرے صبر کا جام لبریز ہو چکا ہے ، جان لبوں پر آچکی ہے ۔خدا را مجھ پر رحم فرمائیں، راہ نجات کی ہدایت فرمائیں،اگر طبی طریقے آپ کی نظر میں ہیں تو بھی مجھے مطلع فرمائیں،یقینا آپ جانتے ہیں کہ اگر میں آپ کی قدر دانی کروں تو آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے ، معاشرہ کو آپ کی قدردانی کرنا چاہئے ،بے شک خدا آپ کو اجر دینے والا ہے ۔“

دوسرا خط :

” ... جوانوں کی راہنمائی کے لئے جس مقدس جہاد کا جناب عالی نے آغاز کیا ہے اس کے لئے ہم آپ کے شکر گزار ہیں... جیسا کہ میرے لئے واضح ہے کہ بہت سی لکھنے والوں (اگر ان کو لکھنے والا کہا جائے)کے برخلاف جناب عالی کے نوشتہ جات، جوانوں کے لئے خوش بختی کا ایک عظیم سامان ہیں ۔
بہر حال میری عمر ۱۷ سال ہے اور میں ایک جوان طالب علم ہوں ،پڑھائی کے دوران میرا شمار کلاس کے ممتازشاگردوں میں ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی میں بلوغ کی منزل تک پہنچا کچھ خاص اسباب کی وجہ سے پر آشوب جال میں پھنس گیاجنہیں آپ اچھی طرح جانتے ہیں ۔
اگرچہ یہ مشکل تنہا میری نہیں ہے میرے بہت سے ہم عمر بھی اس مصیبت میں گرفتار ہو گئے ہیں ۔
ہائی اسکول کے پہلے سال میں اس کجروی کا شکار ہو گیا اور ان چار سالوں میں میری تمام فکری صلاحیتیں ختم ہو گئیں ، میں بارہا اس عمل سے توبہ کرچکا ہوں لیکن روز بروز میرے نفس کا ضعف بڑھتا رہا ۔اور اب میں خود محسوس کرتا ہوں کہ میرے جسم کے بہترین حصے جیسے دل ، اور میرے اعصاب ایک خلل سے دوچار ہو گئے ہیں ، یہاں تک کہ میری قوت ارادی بھی حد سے زیادہ خیر باد کہہ چکی ہے،مجھے اپنے آپ میں حقارت کا احساس ہمیشہ رہتاہے،میں نے بات چیت کرنا بہت کم کر دیا ہے، ورزش بھی نہیں کرسکتا،یہاں تک کہ رشتہ داروں کے یہاں مہمانداری میں بھی نہیں جاتا ہوں!--
میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ میراآیندہ بہت اچھا نہیں ہوگ...اس قدر قوت ارادی کھو چکا ہوں کہ اس عمل کا ترک کرنا میرے لئے مشکل ہو گیا ہے ۔
اس کی وجہ کیا ہے ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ برہنہ عورتوں کی تصویریں میرے ہم عمر ساتھیوں کے پاس بہت زیادہ ہیں ۔
مفسد اور سیکسی فلمیں دیکھنا ہمارا کام ہے ،اور فضول کتابیںبہت کم قیمت میں ہمیں مل جاتی ہیں ۔
خدا کے واسطے ہماری راہنمائی فرمائیے کہ کس طرح ہم اس دردناک بلا سے آزاد ی حاصل کریں؟!...

تیسرا خط
” ...کیا آپ جوانوں کے حالات اور ہمارے درد دل سے واقف ہیں؟...

کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت سے جوان بہت بڑی مجرمانہ حرکت انجام دیتے ہیں اور خاص قسم کی کجروی کا شکار ہیں؟...۔
کچھ دن پہلے میں یزد شہر کے ثریای نامی سڑک سے گذر رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک جوان پر پڑی جس کی عمر تقریبا ۲۵ سال تھی ، اس کا جسم بے حس اوروہ انکھوں سے اندھا تھا، اس کے ہاتھ اس کے چھوٹے بھائی کے ہاتھ میں تھااور سڑک پر جا رہا تھا،۔
میں اپنی سائیکل سے اترا اور اس کے بھائی سے میں نے اس کے متعلق سوال کیا کیونکہ میں اس کے بھائی سے پہلے سے آشنا تھا ، میں نے سوال کیا یہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرا بھائی ہے، یہ سن کر میں حیرت میں پڑگی...۔
میںنے اس سے سوال کیا آپ کے بھائی کی یہ حالت کیسے ہوئی ؟ اس نے کہا کہ بیس سال تک اس میں کوئی برائی نہیں تھی، لیکن ایک جنسی برائی کی عادت سے چند سال پہلے اس کی آنکھوں کی روشنی تک چلی گئی ، مگر اب بھی یہ اپنی اس عادت سے باز نہیں اتا ....
جناب عالی کی خدمت میں گزارش ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو جوانوں کو اس نقصان سے بچنے کا راہ حل بیان کریں ۔اور ہمیں اس نجاست سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہیے ۔
مختلف شہروںسے آنے والے یہ چند خطوط تھے جن سے ہم نے لکھنے والوں کے نام اور کچھ غیر ضروری مطالب کو حذف کرکے آپ کے سامنے پیش کیا ہے ۔
یہ خطوط اور ان کے جیسے دوسرے خطوط ہمارے جوانوں کے حالات اور ان کے مستقبل کی”زندہ نشانیاں“اور آئینہ ہیں ۔ یقینا اس کاان کار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکیزہ افرادجو کسی بھی غیر اخلاقی بیماری یا کجروی کا شکار نہیں ہیں بہت زیادہ ہیں لیکن ساتھ ساتھ قربان ہونے والے جوانوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے ۔
اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس کا تماشا دیکھتے رہے تو وہ وقت دور نہیں ہے کہ پاکیزہ افراد بھی اس نجاست میں ملوث ہوجائیں اور جو لوگ اس میں ملوث ہو چکے ہیں وہ بھی کلی طور پر ہاتھ سے نکل جائیں اور اسی طرح ناتواں ، قابل رحم ، شکست خوردہ ،اور بے نواں افراد ایک مجرم کی صورت اختیار کرلیں ۔
لیکن ہمیں امید ہے اگر جوان چاہیں تو اس بلا سے نجات پیدا کرسکتے ہیں ، اور پاکیزہ افراد مزید مراقبت کے ذریعہ خود کو ہر قسم کی جنسی کجروی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔
ہمارا دل ان قربان ہونے والے افرادکی فریاد سے لرز تاہے اور ان کے قلم کی نوک جو گریہ وزاری کے ساتھ مدد کی فریادکرتی ہے اس سے ہر انسان کے دل میں ایک خراش پیداہوجاتی ہے ۔
ہمارے زمانے کی بد بختی یہی ہے کہ آج کی غلط تربیت نے فساد سے بھری ہوئی کتابوں، سیکسی فلموں ،شہوت انگیز تصاویر اور اس طرح کے دوسرے وسائل کے ذریعہ جوانوں کے جنسی مسئلہ کو بڑے خطرناک مرحلے تک پہنچا دیا ہے ۔آزادی کے نام کو غلط استعمال کرکے اس مسئلے کو زیادہ عام کردیا ہے،اگر اس کے مقابلہ میں باقاعدہ جہاد نہ کیا گیا تویقینا جوانوں کا مستقبل بد بختی اور موت سے دوچار ہوجائے ہوجائے گا ۔
اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس راہ میں قربان ہونے والے افراد جن کا ذکر اوپرخطوط میں کیا جا چکا ہے ، (اگرچہ اس کو ابھی قربانی نہیں کہا جاسکتاہے)اور اس کے علاوہ جن کو آپ خود دیکھ چکے ہیں یہ خود ایک معلم کی مانند ہیں جو بہت چیزیں دوسروں کو سکھا سکتے ہیں ۔
لیکن اس موضوع کی اہمیت کے سبب ضروری ہے کہ اس بارے میں گفتگو کی جائے ،اور جوانوںکی زندگی میں اس راستے کے کانٹوں سے سب کو آگاہ اور راہ حل کی وضاحت کی جائے ۔
ہم آپ سب دوستوں کو اس سلسلے میں دقیق مطالعہ اور بحث کی دعوت دیتے ہیں ، اوراطمنان دلاتے ہیں کہ اگر اپنے دل کو ہمارے سپرد کریں اور جوکچھ ہم آپ کے سپرد کریں ، فوراس کو عمل میں لائیںتو یقینا ہر طرح کے خطروں سے رہائی مل جائیگی ۔


دوسری فصل:جنسی انحرفات کے مہلک نتائجتیرہویں فصل : ہوا وہوس کی شادیاں
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma