نویں فصل: عشق کے خطرے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
جوانوں کے جنسی مسائل اور ان کا حل
دسویں فصل : باغی عشق : ٓٓٓآٹھویں فصل : شعلہ ور عشق

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ” عشق “ کے معنی ” غیر معمولی طاقتور کشش اور جاذبیت کے ہیںجو ایک پاکیزہ ہدف تک پہنچنے کا سبب بنتی ہے ۔ ساتھ ساتھ روح انسانی کی بلندترین تجلی اور خلقت کا ایک عظیم شاہکار ہے ۔
یقینا اگر شادی کی بنیاد پاکیزہ محبت اور عشق پر رکھی جائے تو وہ ہمیشہ محکم ، مستحکم ، نقائص سے خالی ، ثمرات سے پر ، قابل اطمئنان اور آرام دہ ثابت ہوتی ہے ۔
لیکن یہ سب جھوٹے اور دھوکے باز عشق سے بالکل مختلف ہے ۔جو غیر معمولی طور پر ظاہرا آتشیں اور جلانے والا ہوتا ہے! یہ زود گزر ہوس اور نا جائز شہوت کے برخلاف ہے جس میں انسان دوسری تمام چیزوں کو بھلا دیتا ہے اور پاک و مقدس عشق کے بجائے دوسری چیزوں میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔
حلانکہ ان پاک اور واقعی عشق و محبت میں بھی عظیم خطرات کا سامنا ہوتا ہے جس سے ہر گز بے توجہ نہیں ہونا چاہیے ۔
عشق کا پہلا خطرہ:
عام طور پر ایک عام محبت شدید وابستگی کے علاوہ عیوب اور نقائص پر پردہ ڈالنے کا کام بھی کرتی ہے، مثال کے طور پر ہر انسان اپنی دو آنکھوں میں ایک رضا اور دوسری نفرت کی نظر رکھتا ہے، عشق کرنے کے بعد انسان کلی طور پر نفرت کی نظر کو بالکل بند کر لیتا ہے یہاں تک کہ معشوق کے بد ترین عیوب کو عجیب و غریب توضیح اور حسن کی بہترین تعجب آور باتوں سے تعبیر کرتا ہے ۔
یہاں تک کہ اگر کوئی ایسے عاشقوں کو نصیحت بھی کرنا چاہے تو اسکا شدید عکس العمل سامنے آتا ہے اور اسکی طرف سے دل میں کینہ پیدا کر لیتے ہیں اور خود یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ نصیحت کرنے والا انکے ساتھ دشمنی ، حسد اور تنگ نظری سے کام لے رہا ہے لہذا اس کے ساتھ لڑائی اور جھگڑے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔
اس طرح کے افراد جو عشق کی سخت تاریکی میں سر گرداں ہو گئے ہیں وہ معمولا خود میں یہ تصور کرتے ہیں کہ انہوں نے اس عشق کے سائے میں ایسی چیز کو درک کر لیا ہے ، جس سے دنیا کے تمام انسان محروم ہیں ، اگر کوئی انہیں نصیحت کرتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نصیحت اسکی لاعلمی اور صحیح ادراک نہ ہونے کا نتیجہ ہے ، فارسی کا مقولہ ہے ”اگر مجنوں کی آنکھ سے دیکھا جائے تو لیلی میں کوئی برائی نہیں مل سکتی“۔
ایسے عاشق کو نصیحت کرنا بے سود ہوتا ہے بلکہ کبھی کبھی خود نصیحت ایک خطرہ بن جاتی ہے ۔
لیکن عام طور پر اس طرح کے عشق جنسی آمیزش کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں اور اچانک تمام پردے ہٹ جاتے ہیں اور عاشق کی حقیقت شناس نظر کام کرنا شروع کر دیتی ہے اس وقت گویا یہ بے قرار عاشق ایک عمیق لذت اور طویل نیند سے بیدار ہوتا ہے اس وقت وہ سمجھتا ہے کہ اس نے اب خیالی دنیا سے نکل کر عالم حقیقی میں قدم رکھا ہے ۔
اسکی نظر میں عشق کی تمام اہمیت اور قیمت ختم ہو جاتی ہے اور ہر چیز نئے رنگ میں نظر آتی ہے، ہر وہ چیز جو سابق میں اس کو بدنما اور داغ دار معلوم ہوتی تھی اچھی لگتی ہے ۔
ایسے موقع پر شرمندگی اور ندامت کے نا قابل بیان سائے اسے گھیر لیتے ہیں اور تاریکی کی مانند پریشانیاں اس کی روح کو بے چین اور وحشت زدہ کر دیتی ہیں ۔
کبھی کبھی ان دو حالتوں کے درمیان ، فاصلہ اتنا طویل ہو جاتا ہے کہ اسکی تمام زندگی اسی میںدفن ہو جاتی ہے اور آخر کار وہ پریشانی اور وحشت سے تنگ آکر خود کشی اختیار کر لیتا ہے ۔
اگر چہ ایسے حالات اورمشکلات سے دامن چھڑانا آسان کام نہیں ہے، اور بے قرار عاشق اور اسکے جیسے دوسرے تمام دوست، عشق کے تمام صفحات کو محو کر دیتے ہیں تاکہ انکی زندگی کے دفتر میں عشق کا کوئی گذر تک نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عقلی اور منطقی دلیل انکے لئے کار مند ثابت نہیں ہوتی ہیں، چہ جائیکہ یہ لوگ ان حالات میںتمام لوگوں سے الگ سوچتے ہیں لہذا اس بنا پر انکی اور دوسروں کی دنیا میں فاصلہ اس قدر زیادہ ہو جاتا ہے کہ اصولی طور پر جو زبان ان کے اور دوسروں کے درمیان افہام و تفہیم کے لئے مشترک ہوتی ہے اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔
اس قدر فاصلہ اس لئے ہوتا ہے کہ کہ ایسے افراد صرف عشق کی زبان سمجھتے ہیں اوربقیہ لوگ عقل اور منطق کی زبان سنتے اور بولتے ہیں ۔
ایسے افراد سے وابسطہ دوست و احباب جن کو اپنے دوست کی خطا اور غلطی کاعلم ہے ،کو نفسیاتی طریقہ اور بہت ہی ہوشیاری کے ساتھ ان کے اندر نفوذ کرنا چاہئے اور غیر مستقیم طریقہ سے مسائل کو ان کے سامنے واضح کرنا چاہئے،اس بات کا خیال کرتے ہوئے کہ ان کو احساس نہ ہوسکے اور ان کے زخم مزید تازہ نہ ہوں ۔ان کی حقیقت ، اعتراضات اوران کی غلط فہمیوں کو سوالیہ انداز میں سمجھائیں ،اور ایسا کام کریں جس سے یہ دیوانہ عاشق جو خودسے عشق کی غلطی میں مبتلا ہواہے ، آہستہ آہستہ اپنے پیروں اس گمراہ وادی سے واپس آجائے ، اور اس طرح تصور کرے کہ اس نے کسی کی مدد کے بغیر حقیقت کو درک کیا ہے اور اپنی مرضی سے اس راستے سے پلٹا ہے ،اورکسی نے اسکی راہ نمائی نہیںکی ہے ۔
تمام جوانوں کو چاہیے عام حالات میں بھی خود کو اس خطرے سے محفوظ رکھیںتاکہ ان کا شکار نہ ہو سکیں کیوںکہ اس کا شکار ہونے کے بعد انسان کا ذہن بند ہوجاتاہے اور عقل و منطق اپنا اثر کھو دیتی ہے لہذا ایسے مواقع پر ان کی مدد کر کے انہیں اس سے نجات دلانا چاہیے ۔
جوانوں کو چاہےے کہ خود تلقین کرتے رہیں، اور ہمیشہ دانشمند افراد اور صاحبان عقل و فہم اور تجربہ کار لوگوں کی نصیحتوں پر عمل پیرا رہیںاور مشکلات سے نپٹنے کے لئے ان افراد کا سہارا لیں ۔
ایسی منزل پر پہونچے ہوئے عاشقوں کے ساتھ معمولی ہمدردی ، ان کے محبوب کی تعریف اور ان کایہ اعتراف کہ انہوں نے انتخاب میں مکمل خطا نہیں کی ہے انہیں اپنی طرف جذب کر سکتا ہے ایسے میں جوان اس نصیحت کرنے والے کی بات پر توجہ دے سکتا ہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایسے افراد کی تحقیر اور سرزنش کرنا منفی اثرات کا سبب بنتا ہے لہذا اس عمل سے شدت سے اجتناب کیا جائے ، اسکے علاوہ یہ بات انصاف کے خلاف بھی ہے کہ ایسے لوگ جو پہلے ہی سے گمراہی اور خطرے میں ہیں انہیں مزید ملامت اور سرزنش کی سزا دی جائے ۔

 

دسویں فصل : باغی عشق : ٓٓٓآٹھویں فصل : شعلہ ور عشق
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma