ٓٓٓآٹھویں فصل : شعلہ ور عشق

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
جوانوں کے جنسی مسائل اور ان کا حل
نویں فصل: عشق کے خطرے فصل ہفتم : شریک حیات کا انتخاب کون کریگا: جوان یا والدین ؟

جوانوں کی زندگی میں ایک پر خطر اور نہایت سخت راستہ
عشق کی عظمت ومنزلت یا عشق کے جنون اوراس کی بیماری کے متعلق بہت زیادہ بحثیں ہوئی ہیںاور شاید بہت کم ایسے الفاظ ہیں جن کے متعلق اتنی کثرت سے مختلف و متناقض ، تعبیرات بیان ہوئی ہیں ۔
چنانچہ بعض مصفین اس کی اہمیت کو بہت بلند و بالا سمجھتے ہوئے کہتے ہیں : عشق زندگی کا تاج اور دائمی خوش نصیبی کا نام ہے ۔(جرمن دانشمندگوئٹا )
” ہزیہ “ کے بقول : عشق معمار عالم ہے ۔
”توماس “نے عشق کی معجز نمائی کے اثر کو بیان کیا ہے اور اس کا عقیدہ ہے : عشق روح کو قوی اورانسان کو زدہ دل رکھتا ہے ۔
مشرقی فلاسفہ کا ایک گروہ اس سے بھی آگے بڑھ گیااور ان کا عقیدہ ہے: دنیا کی ہر حرکات و سکنات کے پیچھے ایک قسم کا عشق کار فرماہے ۔ حتیٰ اجرام فلکی کی حرکات بھی اسی عشق کا سبب ہیں ۔
لیکن اگر اس لفظ کے معنی کو مزید وسیع کر دیا جائے یعنی اگر اس سے ہر قسم کی کشش اور غیر معمولی جاذبیت مراد لی جائے تو ان کے اقوال کی تائید ضروری ہو جاتی ہے ۔
ان بہترین تعبیرات اور توضیحات کے مقابلے میں دوسرے مصنفین اور فلاسفہ نے عشق پر سخت حملے کئے ہیں اورعشق پر بہت سی تہمتیں لگا دی ہیں ۔اور عشق کو ایک بیماری اور نفرت انگیز حقیر شی شمارکیا ہے ۔
ایک معروف مشرقی مورخ کا بیان ہے : عشق کی مثال دق ، کینسر اوربائے گٹھیا جیسی طولانی بیماری کی طرح ہے، جس سے عاقل انسان کوفرار کرنا چاہئے!
کسی زبان کا محاورہ ہے : عشق کی مثال شیمپین شراب کی ہے ۔
دوسرے دانشمند افراد جیسے” کوپرنیک“ جوفلکیات میں بہت معروف ہے اس نے عشق کے حوالے سے خود کو تحقیر کرتے ہوئے بڑی احتیاط کے ساتھ کہا : عشق اگر ایک قسم کا جنون نہیں ہے تو حد اقل ایک ناتواں مغز کا نچوڑ ضرور ہے ۔
آخر کار بعض افراد جیسے کارلایل نے بھی عشق پر اس طرح حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عشق فقط ایک قسم کا جنون نہیں ہے بلکہ کئی قسم کے جنون کا مرکب ہے ۔
اس طرح کی متناقض تفسیر کو کسی ایک واقعہ پر حمل نہیں کرنا چاہیے در حقیقت یہ اختلاف یا تناقض تبصرہ کرنے والوں کے زاویہ نظر کا اختلاف ہے ۔
اسکا مطلب یہ ہے کہ ہر لکھنے والا عشق کے بہت سے چہروں میں فقط ایک چہرے کو اپنی زندگی میں زیادہ دیکھتا ہے اور اسی کو زیر بحث لاتا ہے لہذا اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا : اگر عشق سے مراد دو انسانوں یا کلی طور پر دو موجود کے درمیان ایک غیر معمولی قوی کشش اور جاذبیت ہو جو ایک عظیم ہدف کے لیے ہو ، تواس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے؟!
کیونکہ اس ابتکار کی قوت اس قدر ہوتی ہے کہ اسکی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو وہ اپنے قبضے میں لے لیتا ہے، اور اپنے ہدف کے راستے میں آنے والی تمام مشکلات کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے ۔
عشق کی جو اتنی مدح سرائی کی گئی ہے وہ اسکی خلاقیت اور بے نظیر قوت و قدرت کی وجہ سے ہے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے ادبی، معماری اورفنی شاہکا ر اسی کشش اور جاذبیت کی قوت کا نتیجہ ہیں ۔
لیکن اگر عشق سے مراد ایسی کشش اور جاذبیت کی قوت ہو جو دو انسانوں کو گناہ ، آلودگی اور فحشاء کی طرف لے جائے ، تو اس حالت میں عشق کی مذمت میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کم ہے، کیونکہ کہ اسکے بدنما داغ اس قدر رنگین ہیں جنکا صاف کرنا آسان نہیں ہے ۔
اگر اس کشش و جاذبیت سے مراد دیوانہ کرنے والا ہو جس کے ذریعہ کلی طور پرعقل خراب اور بے کار ہوجائے اور اسکی وجہ سے انسان ہر طرح کے جنون آمیز کام کرنے لگے،تو عشق کی جتنی بھی تحقیر کی جائے بجا ہے ۔
فرانسیسی دانشمند ”اسٹینڈل“ کے بقول : ” عشق سے مربوط مسائل میں اچھائی اور برائی کے درمیان صرف ایک بوسہ (چومنے)کا فاصل ہے !
مختلف نظریوں کے مطابق عشق کا خلاصہ یہ ہے کہ عشق کے مختلف چہرے ہیں اس بنیاد پر اس کی تعریف اور برائی دونوں بجا ہیں ۔
عشق کے شاعرانہ پردے میں:
اس مقام پر قابل توجہ موضوع جو پاکیزہ جوانوں کے لئے بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آج کے دور میں کون سا جرم اور تباہ کاری ایسی نہیں ہے جومقدس عشق کے نام پر انجام نہیں دی جاتی، آج ہر عیب کرنے والا، ہوا و ہوس کا پرستار خود کو سچا عاشق کہتا ہوا نظر آتا ہے ۔
ہر دھوکے باز دیو صفت جنکا ہدف صرف اپنی حیوانی شہوتوں کا پورا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے، یہ لوگ عشق کے پردے میں شاعرانہ انداز کی مدد سے اپنے اس شیطانی رذیل مقصد کو عملی جامہ پہناتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جب اپنے اس شیطانی مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تب انکے چہرے سے گویا پردہ اٹھتا ہے اور تمام کئے وعدے اور وعید کو بھول جاتے ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے پانی سے بھرے ہوئے ایک برتن کو الٹ دیا جاتا ہے اور اس میں کوئی قطرہ باقی نہیں رہ جاتا ، اسی طرح انکا دل محبت و عاطفت اور ہزاروں محبت کے کئے ہوئے وعدوں سے خالی ہو جاتا ہے ۔
ایسی صورت میں معشوق، دل شکستہ اور پشیمان ہو جاتا ہے اور اسکی دنیا میں غم و اندوہ چھا جاتا ہے ۔
جوانوں کو چاہیے بڑی سمجھ بوجھ کے ساتھ ایسے جھوٹے عشق کے دعویداروں سے آگاہ رہیں، اس لئے کہ اس طرح کے فریب کاروں کے پاس جھوٹ اور دھوکے کے علاوہ کوئی سرمایا نہیں ہوتا ، اورظاہری عشق سے بھرے ہوئے دل ایک وقت میں کئی جگہ گروی ڈال دیتے ہیں ، اور دھوکا دھڑی اورفریب کاری کے ذریعے اپنے کو سچا عاشق ثابت کرتے ہیں ۔
توجہ رہے آج کے دور میں بہت سے لوگ اس لباس میں نظر آتے ہیں یہ ہی وہ لوگ ہیں جو بے حیائی کی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ ایک جھوٹ و فریب سے بھرے خط کو قل کرکے کئی لڑکیوں کو ایک ساتھ بھیجتے ہیں اور ہر جگہ عشق کے پاکیزہ لباس کو زیب تن کرکے دھوکا دیتے ہیں ۔ اور اس عشق کے نام پر ہزاروں جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
نہ فقط لڑکیوں کو آگاہ رہنا چاہیے بلکہ لڑکے بھی ہوشیاری سے کام لیں ، اس زمانے میں مختلف قسم کے جال عشق کے نام سے بچھے ہوئے ہیں ایسے جال کہ جس میں پھنسنے کے بعد اس سے رہا ئی بہت مشکل ہوجاتی ہے ۔
اس لئے کہ ایک لمحے کی غفلت یا بیجا خوش بینی کا جبران ممکن ہے تمام عمر ادا نہ ہو سکے ۔
خصوصا ایسے افراد جو محبت کی کمی کا شکار رہے ہیں اور محرومیت کے ساتھ زندگی بسر کی ہے وہ بہت جلدان عشق و محبت کے اظہار میں تسلیم ہوجاتے ہیں،اور یہی محرومیت فریب اور دھوکا کھانے کا سبب بن جاتی ہے، اس طرح کے افراد کو دوسروں کی نسبت زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔
آنے والی بحث ”میں عشق کے خطرے“ کے عنوان سے ضروری اور مہم مطالب پیش کئے جائیں گے جو اس بحث کا تکملہ ہونگے ۔

نویں فصل: عشق کے خطرے فصل ہفتم : شریک حیات کا انتخاب کون کریگا: جوان یا والدین ؟
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma