چھٹی فصل : سختی سے کا م لینے والے والدین

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
جوانوں کے جنسی مسائل اور ان کا حل
فصل ہفتم : شریک حیات کا انتخاب کون کریگا: جوان یا والدین ؟فصل پنجم : شادی شدہ زندگی کے سات سخت موانع

اس طرح کے والدین اپنے عزیزبچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں ۔
  اکثر خود غرض والدین جو اپنی جوانی میں بہت سے رنج و غم اور پریشانیوں کا سامنا کر چکے ہیں اسکے با وجود وہ جوانوں کے دلوں میں جنسی شہوتوں کے برپا ہونے والے طوفان کے سوالوں کا صحیح جواب نہیں دے پاتے ہیں ۔ لڑکے لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے والدین حد درجہ سختی سے کام لیتے ہیںیا بے مہری سے کا م لیتے ہیں ۔
یہ بے مہری اور سختی دونوں کی ایک ہی اساس ہے جہاں سے یہ جنم لیتے ہیں کبھی کبھی یہ اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک سال اور پانچ سال کی تاخیر انکی نظر میں ایک سادہ عمل اور قلیل مدت عرصہ شمار ہوتا ہے!< ٹھیک ہے اگر اس سال نہیں تو اگلے سال انشاء اللہ ، یا ابھی نہیں ہوا تو اگلے کچھ سالوں میں ہو جائے گا، ابھی دیر نہیں ہوئی ہے! جبکہ یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ ایک سال تو دور کبھی کبھی ایک مہینے کی تاخیر حساس موقعوں پر جوانی کے نتائج کو متغیر کر سکتی ہے ۔ خدا جانے یہ والدین اپنے ماضی کو کیوں یاد نہیں کرتے ، کیوں اتنی جلدی جوانی کے طوفان و شور کو جو شادی سے پہلے بپا ہوتا تھا بھلا دیا ہے ۔ کیوں خود کو اپنے جوانوں کی جگہ فرض نہیں کرتے ہیں ۔؟
جوانوں کا خاندان کی چار دیواری سے فرار ہونا ، اور انکا خودکشی کرنا، گمراہ ہوجانا اور بیمار ہوجانا وغیرہ اس حقیقت سے عدم توجہی کا ایک سبب ہے ۔ اگر بحث کا عنوان جوانوں کی پرہیزگاری، پاکدامنی اور با ایمان ہونا ہوتا تو ہمارا بیان انکے بارے میں مزید ہو جاتا ۔
والدین کی سہل انگاری یا کوتاہی اس طرح کے افراد کے لیے ظلم سے بڑھ کر ہے اور حقیقت و واقعیت اور عاقبت بینی سے دور ہے ۔
جبکہ والدین اپنے جوانوں کے جنسی بحران و طغیان کی حالت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں لیکن شادی کی مشکلات اور اسکی ذمہ داریاں انکو یہ سب جان بوجھ کر بھلا دینے پر آمادہ کر دیتی ہیں، اور انکو یقین دلاتی ہیں کہ ابھی انکے پاس کافی وقت ہے !۔
اتنی جلدی بازی کی کیا ضرورت ہے ؟!۔۔۔۔
ابھی تو انکے منہ سے دودھ کی بو بھی نہیں گئی !
ابھی تو یہ بچے ہیں شادی کے کیا معنی ؟!
ابھی ابھی ۔
لیکن یہ ” ابھی “ ابھی کہنا جسکا نتیجہ ایسا دردناک ہو سکتا ہے کہ تمام عمر والدین کا دامن اس سے نہیں چھوٹ سکتا ہے اور وہ بھی ایسے موڑ پر کہ اسکے جبران کرنے کا کوئی راستہ نہیں رہ جائیگا ۔
اپنے جوانوں کے شریک حیات کی تلاش میں والدین بہت سختی سے کام لیتے اور بہت بے بنیاد شرائط اور قیود اور کبھی کبھی مضحکہ خیز شرطیں انکی شادی کے لیے معین کر تے ہیں یہاں تک کہ وسواس کی حدوں تک بات چلی جاتی ہے ۔شاید انہیں اسباب کی وجہ سے شادی کی ضرورت کا احساس ختم ہو جاتاہے ۔
اس لیے کہ انسان اگر کسی چیز کی ضرورت کا احساس کرتا ہے تو اسکی شرطوں کو کم اور سبک کردیتاہے ۔ اور چشم پوشی ، در گذر، مدد یہ تمام ارادوں اور بحثوں کی بنیاد ہے ۔ اسکے برعکس اگر انسان کسی چیز کی ضرورت کا احساس نہ کرے تو یہ شئی انسان کو مشکل پسند بنا دیتی ہے اور اسکی طرف مائل ہونے سے روک دیتی ہے ۔
میں نے ایک مقالے میں پڑھا ہے کچھ سخت اور وسواسی قسم کے لوگ گاڑی خریدتے وقت اسکو سونگھتے ہیں جیسے گوشت یا سبزی کو سونگھا جاتا ہے ایسے لوگ جب گاڑی خریدنے میں ناک سے کام لیتے ہیں تو پھر واضح ہے کہ اپنے بچوں کے رشتے کی تلاش میں کیا کیا نہ کرتے ہونگے ۔
دلچسپ بات یہ ہیکہ اسطرح کے شکی والدین اپنے آپ کو گھڑے میں گرا دیتے ہیں اور انکو اسکا سرے سے احساس بھی نہیں ہوپاتا ہے ۔
شاید اسکی نفسیاتی وجہ یہ ہو کہ وہ افراد جو دھوکے باز اور خودنما ہوتے ہیں چال بازی اور چاپلوسی وغیرہ کے ذریعے اور خود کو سبز باغ میں دکھا کر شکی لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں ۔ ورنہ یہ کام ایک شریف اور عام انسان سے نا ممکن ہے اور وہ ہرگز کسی کو اپنی طرف اس طرح جذب نہیں کرتا ہے ۔
صحیح ہے کہ شریک حیات کے انتخاب میں یقینا دقت سے کام لیا جائے کیونکہ شریک حیات کا انتخاب پوری زندگی کے لیے ہوتا ہے <نہ یہ کہ قمیص یا لبا س کی طرح< کچھ دن استعمال کیا اور پھینک دیا ۔
لیکن ” دقت “ اور ”سختی و وسواس “ میں بڑا فرق ہے ۔
اگر مد مقابل شریک حیات آپکے لیے مناسب ہے اور با خبر افراد کی تحقیقات بھی اس کی تائید کرتی ہے تو بغیر کسی تردد کے آپکو قدم آگے بڑھانا چاہےے، اللہ کی مدد کے خواہاں رہیں ، اطمئنان رکھیں اسکا نتیجہ آپکے لیے بہتر ثابت ہوگا ۔
اسلامی دستورات و عقل اور دانشمند افراد کے بڑی تعداد میں تجربات والدین کو وصیت کرتے ہیں کہ اپنے جوانوں کی شادی کے امور میں عجلت سے کام لیں، بے مہری اور بیجا سختیوں سے اجتناب کریں ۔ سختیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کو معمولی شمار نہ کریںاور اپنے عزیز جوانوں کے مستقبل کو خطرے میں نہ ڈالیں ۔
اسبات کو یاد رکھیں کہ جوانوں کی جنسی خواہشات اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ ان کے بارے میں اگر لا پرواہی اور تساہلی سے کام لیا تو کوئی بھی خطرناک حادثہ پیش آسکتا ہے ۔پوری تاریخ انسانیت اور انسان کی روزمرہ کی زندگی اسبات کی گواہ ہے کہ جنسی خواہشات سے پیدا ہونے والے خطرات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ اسکی برابری کوئی اورخطرہ نہیں کرسکتا ۔یقینا یہ مسئلہ ہر چیز سے زیادہ مہم اور اساسی ہوتا ہے ۔

فصل ہفتم : شریک حیات کا انتخاب کون کریگا: جوان یا والدین ؟فصل پنجم : شادی شدہ زندگی کے سات سخت موانع
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma