فصل چہارم : وہ وزنجیریں جس نے جوانوں کے ہاتھ پیروں کو جکڑ لیا ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
جوانوں کے جنسی مسائل اور ان کا حل
فصل پنجم : شادی شدہ زندگی کے سات سخت موانع فصل سوم: ناجائز تعلقات کی فراہمی شادیوں میں قلت کی ایک اہم علت ہے ۔

صحیح ہے کہ ہماری شادی کے مناسب اور طبیعی وقت کو گزرے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ،لیکن ہمارے پاس گھر ہونے کی صورت میں ہم شادی کیسے کرسکتے ہیں؟ ابھی ہمارا اپنا گھر بھی نہیں ہے ابھی اپنی گاڑی بھی نہیں ہے ، ابھی اچھی آمدنی والا کام بھی ہمارے پاس نہیں،ابھی بے شمار پیسے بھی نہیں جوشادی کے سنگین اخراجات ،اور دلہن اور رشتہ داروں کے لیے ہدایا اور سوغات کے لیے ضروری ہوں ۔ ابھی تک بڑی مناسب اور آبرومند جگہ بھی نہیں دیکھی جسمیںشادی کا پروگرام منعقد ہو سکے، ابھی ۔۔ ابھی۔۔!
ہم اپنی بیٹی کی شادی کیسے کر دیں جبکہ ابھی تک اسکے لیے ایک آئیڈیئل شوہر اچھی آمدنی والا ،اچھے اور آبرومند کام والا، اچھی پوسٹ والا ، اچھے گھر والا،اچھی پر سانلٹی والا، اچھی فیملی والا، رشتہ نہیں آیا، حالانکہ رشتے آتے ہیں مگر ایک دو شرطیں اسمیں نہیں پائی جاتی ہیں ۔اسکے علاوہ ابھی تک ہم نے اسکے لیے ضروری جہیز کا بھی انتظام نہیں کیا جیسے گھر کا سامان ،فرش،صوفا،فریج،واشنگ مشین،کھانوں کے برتن کے مختلف سیٹ ،استری ،الیکٹرک جھاڑو، کیڑے سینے کی مشین وغیرہ اور جہیز کے دوسرے بعض سامان فراہم نہیں ہو سکے ہیں ۔
اگر ہم اس حال میں اپنی بےٹی کی شادی کریں تو سوائے آبروریزی کے کچھ اور نہیں ملنے والا ہے ! کیا کریں کہ معاشرے نے یہ چیزیں ہم پر بار کر دی ہیں،کیا کیا جائے ہمارے گرد کی سخت و پریشان کن شرطیں جیسے کچھ کرنے نہیں دیتی ہیں ۔
اس طرح کا درد دل یا صحیح عذر اوربنی اسرائیل جیسے بہانے جو بہت سے جوان لڑکے لڑکیاںاور والدین کی جانب سے بیان ہوئے ہےں ، جو شادی کے امور میں اقدام میں مانع ہوتے ہیں ۔
عقلمندی کہتی ہے : زندگی کے دو حصے ہوتے ہیں پہلا آدھا حصہ دوسرے آدھے حصے کی امید میں اور دوسرا آدھا حصہ پہلے آدھے حصے کے افسوس میں گزر تا ہے ۔ امید کے بجائے خواب اگر لفظ خواب استعمال کریں تو مفہوم مزید واضح ہو جاتاہے ، کہ زندگی کا پہلا آدھا حصہ دوسرے آدھے حصے کے خواب میں گزر جاتاہے اور دوسرا آدھا پہلے آدھے حصے کے افسوس میں تلف ہو جاتاہے اور اس کی بہترین مثال ہمارے جوانوں کی شادیوں کا مسئلہ ہے جنکی پہلی آدھی عمر بہترین شریک حیات کی تلاش اور خواب میں گزر جاتی ہے اور باقی آدھی زندگی اسکے افسوس میں برباد ہوجاتی ہے ۔
بہرحال ان جوانوں اور والدین سے گذارش ہے ان حالات اور قید و بند کی زنجیروں کو پیدا کرنے کا ذمہ دار سوائے تمہارے خود کے کوئی اور نہیں ہے ، تم نے خود ہی ان حالات و شرائط اور قید و بند کی زنجیروں کو اپنے ہاتھ اور پاؤں میں ڈالا ہے ۔
خود تم نے ہی شادی شدہ زندگی کے لیے اس طرح کا ایک کھوکلا اور خیالی مفہوم ایجاد کر لیا ہے ۔اور اپنے لیے خیالی، واقعی خوش بختی اور سعاد ت مندی کی راہیں بند کر لی ہیں ۔
اپنی خوش نصیبی کی جو راہیں تم نے ہموار کی ہیں وہ ہرگز تم کو منزل تک نہیں پہنچا سکتی ، اس لیے تمام تجربوں اور تحقیقات نے اس حقیقت کو ثابت کیا ہے ۔
رقیبوں کی نظر بد ، ایک دوسرے کی اندھی تقلید ، غیر اہم امور کا اہم بنانا، یہ گمراہ کرنے والے نظریات اور یہ نہ پوری ہونے والی آرزوئیں، اور جھوٹے خواب یہ ہی وہ حقیقتیں ہیں کہ جنہوں نے تمہارے ہاتھ پیروں میں بھاری زنجیریں ڈال دی ہیں ، جو تم کو ایک جوان کے اہم کام سے روکتی ہیں ۔
اے میرے عزیز جوانوں اور والدین! اگر تم لوگ ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنے پیروں میں پڑی ان زنجیروں کو نکال دو اور ان گمراہ کرنے والے بتوں کو توڑ ڈالو تو اس وقت تم کو احساس ہوگا کہ تم نے روحانی طور پر کتنی عظیم آزادی حاصل کر لی ہے اور اپنی زندگی کو کس درجہ خوش نصیب اور سعادتمند بنا لیا ہے ۔
 سچ تو یہ ہے کہ آپ نے کسے یکھا ہے جس نے آغاز جوانی میں ہی گُر اور زندگی کے آسائش و آرام کی تمام اشیاء فراہم کر لی ہوں ۔ جو آپ کے ہم سفر کے بارے میں یہ توقع رکھتے ہیں ۔ تمام لوگ اپنی زندگی کی ابتداء سے سفر سے شروع کرتے ہیں، ہاں جو لوگ خاندانی اور موروثی صاحب ثروت و مال ہیں ، ممکن ان کے ساتھ ایسا نہ ہواہو۔البتہ چونکہ وہ لوگ جو خود غالبا اپنی محنت سے اس منزل تک نہیں پہنچے ہیں وہ چاہے خوشی کے ساتھ یہ بات کہوں یا افسوس کے ساتھ ان مال و ثروت کی حفاظت پر قادر نہیں ہوتے ۔
اپنے کاموں کو آسان جانو! جیسے ہی شادی کے لیے سادہ اور عاقلانہ شرائط فراہم ہو جائیں فوری اقدام کردیں ۔
ہماری نظر میں نہایت سادہ اور بے جا انتظامات کے بغیر شادی کرنا حتی اگرتعجب نہ کریں تو زمان تحصیلی کے ساتھ ( پڑھائی کے دوران ) بھی نہایت سازگار ثابت ہوتی ہے ۔ بشرطیکہ دونوں فریق شادی کے صحیح معنی سے آشنا ہوں، اور اس بات کو بھی محسوس کرتے ہوں کہ دنیا ہر چیز کی خلقت تدریجی ہے ، اور زندگی کے شرائط بھی درجہ بدرجہ فراہم ہوتے ہیں اور آرزوئیں بھی امکانات کے مطابق ہوں ۔
وہ جوان افراد جو ان بے جا انتظامات اور خوابوں کے پورا کرنے میں سرگرداں رہتے ہیں ایسے جوان شادی کے اہم اور اصلی مسئلہ کو فراموش کردیتے ہیں، اور وہ دو انسانوں کا ایک دوسرے کو درک کرنا ، زندگی کے صحیح معنی کو سمجھنا اور اس بنیاد پر عشق و محبت کی گرہ لگاناہے ۔
اگر یہ دو اصلی رکن یعنی یہ دو انسان صحیح طریقے سے ایک دوسرے کو درک کرلیں تو باقی تمام چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے ۔ اور اگر ایک دوسرے کا ادراک نہ کرسکیں تو باقی تمام چیزیں بھی ان کی زندگی میں کوئی خوش بختی نہیں لا سکتی ہیں ۔
یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے مذہب کے دستورات اور قوانین کے مطابق شادی میں سوائے دو عاقل انسانوں کے جو ایک مشترک زندگی کے خواہشمند ہیں کوئی اور شرط ضروری نہیں ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہیکہ اس قدر سادے مسئلہ پر آج کیسا وقت آگیا ہے؟۔

اہم نکتہ:

علوم دینیہ کے طلاب کی نہایت سادہ زندگی آج کے جوانوں کے لیے ایک نمونہ عمل ہے < توجہ فرمائیں
حوزہ علمیہ کے ۹۹ فی صد طلاب تحصیل< پڑھائی کے دوران شادی کے اقدامات کرتے ہیں جبکہ درسی پروگرام یا کلاسوں کا شیڈیول سبھی حوزات علمیہ میں نہایت ہی سخت ہوتا ہے جوکہ طلاب کے پورے وقت کو مشغول رکھتاہے ۔ چونکہ زندگی کی بنیاد اس ماحول میں الہام اور اسلامی دستورات کے مطابق اور سادگی کے ساتھ ہوتی ہے ۔ مختصر خرچ جو حوزہ علمیہ کے بیت المال سے انہیں دیا جاتاہے یا بعض طلاب کھیتی باڑی یا معمولی کا م جو وہ گرمیوں کی چھٹی کے زمانے میں کرتے ہیں اسکے ذریعہ اپنی زندگی کو نہایت ہی سادگی اور پاکیزگی کے ساتھ چلاتے ہیں بجائے اسکے کہ غیر شادی شدہ زندگی کے بد ترین نتائج سے سامنا کریں ۔ لہذااس حوالے حوزہ علمیہ کے طلاب آرام و سکون اور خوش بختی کا مکمل احساس حاصل کرلیتے ہیں ۔


فصل پنجم : شادی شدہ زندگی کے سات سخت موانع فصل سوم: ناجائز تعلقات کی فراہمی شادیوں میں قلت کی ایک اہم علت ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma