فصل سوم: ناجائز تعلقات کی فراہمی شادیوں میں قلت کی ایک اہم علت ہے ۔

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
جوانوں کے جنسی مسائل اور ان کا حل
فصل چہارم : وہ وزنجیریں جس نے جوانوں کے ہاتھ پیروں کو جکڑ لیا ہے فصل دوم : شادیوں کی تعداد میں کمی واقع ہونا انسانی معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے ۔

در حقیقت موجودہ زندگی ایک فطری اور حقیقی زندگی سے بالکل الگ ہو چکی ہے جسکی ایک مثال شادیوں میں شدت کے ساتھ کمی کا واقع ہونا ہے ۔اور جوانوں کا غیر شادی شدہ زندگی کو ترجیح دینا ہے ۔
جیسا کہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں شادیوں کی کمی اور مجرد زندگی کی زیادتی بشری نسل پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ ا زندگی کو ایک عجیب رخ دیتی ہے جہاں انسان کسی ذمہ داری کا احساس نہیںکر تاہے ، سماج سے قطع تعلق ہو جاتا ہے ،اور مجتمع و ماحول سے لا پرواہ ہوجاتاہے ۔ یہ بشری معاشرے کے لیے ایک عظیم المیہ ہے ۔
اگر ہم ان اخلاقی فسادات اور برائیوں کو جو اکثر غیر شادی شدہ افراد کو لاحق ہوتی ہیں اس بحث میں شامل کرتے ہیں تو اس مسئلہ کی شکل مزید واضح ہوجاتی ہے ۔
فی الحال قاری کتاب کی توجہ کو اس مسئلہ کے بنیادی اسباب کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو اس خطرناک اجتماعی وبال

کا سبب بنتے ہیں ۔
اگرچہ یہ بات درست ہے کہ یہ حالات اور مشکلات کسی ایک یا دو علت کی ایجاد نہیں ہیں لیکن بہت سی حقیقی علتیں ایسی ہیں جنکی اہمیت دوسری علتوں کہیں زیادہ ہیں، جنمیں ایک علت جوانوں نا جائز تعلقات کی فراہمی ہے ۔
اس لیے ایک طرف جوانوں کو ایسے تعلقات کا آسانی سے فراہم ہو جانا ، اور عورتوں کا آسانی سے فراہم ہو جانا ہے جسکی وجہ سے عورت جوانوں کی نظر میں ایک ذلیل و خوار اور کم قیمت یا کبھی کبھی مفت شئی سمجھی جاتی ہے جسکو وہ بڑی آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں ۔
اس طرح عورت کی جو قیمت و عزت اور وقار سابق معاشرے میں پایا جاتا تھا جو جوانوں کو اپنی طرف جذب کرتا تھا اور جوانوں کو اس کے حاصل کرنے میں غیر معمولی کوشش اور قربانی درکار ہوتی تھی وہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے ۔
عورتوں کی بڑھتی ہوئی برہنگی نے موجودہ دور میں ابتذال اور فحاشی کو بڑھا دیا ہے اگر یہ عمل ابتداء میں ہوسبازوں کی توجہ جذب کرنے کی خاطر رہا ہو تو آخر میں یہ ان کی فحاشی اور ان کی قدر و قیمت میں کمی کا سبب بنی ہے اور یہ ان کے ہدف اور توقع کے منافی ثابت ہوتاہے ۔
یہی وجہ ہے کہ جیسے پاک ،مقدس عشق پرانے زمانے میں دیکھے جاتے تھے جو نکاح و عقد کے مقدمے کا محکم رشتہ بنتے تھے آج کے زمانے میں اس کے کوئی اثرات باقی نہیں رہ گئے ،اسلےے کہ انسان ہمیشہ اس چیز سے عشق کرتاہے کہ جو آسانی سے اسکی دسترس میں نہ آسکتی ہو ۔اور ایک سستی اور بیکار چیز سے انسان کا عشق کرنا کوئی معنی نہیں رکھتاہے ۔
 ۺۺ
ایک طرف بہت سے گستاخ و بے لگام افراد یہ کہتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے کہ ایک عورت کے حصول کے لیے مرد ہزاروں شرائط اور شادی جیسی ذمہ داریوں کے بار کے نیچے آئے جبکہ بغیر کسی شرائط و ذمہ داریوں کے بہت سی عورتیں حاصل کی جاسکتی ہیں ۔!
چونکہ ای-سے لوگ ان غلط نتائج سے ناواقف ہیں جو جنسی و اخلاقی کجرویوں کے سبب حاصل ہوتے ہیں ، شادی اور عورت انکی نگاہ میں ایک جنسی خواہش پورا کرنے کا آلہ ہے شادی اور ایسے تمام شرائط و ذمہ داریوںکو ایک احمقانہ عمل تصور کرتے ہیں اس لیے ایسے افراد اپنی پوری زندگی یا زندگی کا بہترین حصہ بغیر شادی کے گزار دیتے ہیں ۔
مندجہ بالا حقائق (ناجائز تعلقات کا آسانی سے فراہم ہوجانا)کی بنیاد پر شادیوں میں قلت کی وجوہات مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہیں ۔یہی سبب ہے چونکہ مغربی معاشرے میں کوئی قید و بند نہیں ہے ، اور اس طرح کی آزادی زیادہ پائی جاتی ہے لہذا شادیوں کی قلت بھی زیادہ ہو گئی ہے ۔ اگر کوئی شادی ہوتی بھی ہے تو عمردراز ہوجانے کے بعد جبکہ زیادہ عمر میں کی ہوئی شادی بے لطف ہوتی ہے اور زیادہ دنوں تک نہیں چل پاتی ہے، اور غالبا معمولی سے بہانے اور ہنسی ہنسی میں ٹوٹ جاتی ہے ۔

فحاشی اور بدنام اڈوں کے نتائج

مذکورہ بیان کے علاوہ یہ حقیقت بھی قابل بیان ہے کہ اس طرح کا ہر معاشرہ جو مجرد زندگی کو شادی شدہ زندگی پر ترجیح دیتاہے اپنے پہلو میں ایک گندہ اور سڑا ہو ا زخم لیے ہوئے ہے( جسے ہم زنا و فحاشی کا اڈہ نام دے سکتے ہیں )، جو شادیوں میں قلت کی ایک اہم علت ہے اور ساتھ ساتھ (شریف )خاندانوں کی عزت و آبرو خاک میں ملا دیتی ہے ۔
اس طرح کے گندے اور گھناونے اڈے آج ہر غیر سالم معاشرے کے پہلو میں پائے جاتے ہیں جوثابت کرتے ہیں کہ معاشرے کا مزاج سالم نہیں ہے ۔
زناکاری کے یہ بدنام اڈے فقط اس حوالے سے قابل مذمت نہیں ہیں کہ یہاں سے فساد اور ظاہری و باطنی بیماریاں پھیلتی ہیں یا یہ اڈے شادیوں میں قلت اور جوانوں کے غیر شادی شدہ ہنے کا سبب بنتے ہیں، بلکہ ہر مسئلہ اپنے مقام پر مستقل بحث اور غور و فکر چاہتاہے ۔
وہ عورتیں جو ان اڈوں پر جسم فروشی کا کاروبار کرتی ہیں ایسی عورتیں اس بحث کا ایک اہم و دقیق موضوع ہیں ۔
جن حضرات نے اس موضوع کا دقیق مطالعہ کیا ہے اور اپنی وسیع تحقیق کے ساتھ کتابیں لکھی ہیں وہ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایس جسم فروش خواتین قرون وسطی کی ایک دردناک و وحشتناک غلامی کی مجسم مثال ہیں ۔
ایسی مطرود و پست ماندہ اور بے چارہ عورتیں جو ہمیشہ سر سے پیر تک ادھار اور قرض میں گرفتار رہتی ہیں اور دن و رات ایک شمع کی مانند سلگتی رہتی ہیں تاکہ غیر مردوں کی ھوا و ہوس و لذت کو پورا کرسکیںاور دنیا والوں کے چھوڑے ہوئے معاشرے کے حوالے اپنے آپ کو سونپ دیتی ہیں جبکہ انکے مرنے کے بعد انھیں کوئی سپرد خاک کرنے والا بھی نہیں ملتاہے ۔
کون سی عقل و منطق اس بات کو تسلیم کرسکتی ہے کہ جس عصرمیں غلامی کے خاتمہ کا دعوی کیا جاتاہے اسی زمانے میں معاشرے کے پہلو میں بہت سے بے چارہ غلام پائے جاتے ہیں اور کوئی انکی آزادی کے لیے قدم نہ بڑھائے ۔؟
لیکن افسوس کا مقام یہ ہیکہ اس دلسوز غلامی کو آج کے بہت سے بدبخت معاشرے نے عملا رسمی بنا دیا ہے، اس لیے کہ وہ عورتیں جو اس معاشرے کی گندی دلدل میں پہنسی ہیں ہوسکتاہے وہ اسی غیر شرعی اور ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہوں جو درجہ بدرجہ ان بدنام اڈوں تک لائی گئی ہوں ۔ایسی بعض عوتوں کی کہانیاں جو کتابوں میں ذکر کی گئی ہیں یقینا بہت ہی دردناک ووحشتناک حادثات کا سبب ہیں، جو معاشرے کی پیشانی پر ایک بد نما داغ ہے مقام تاسف یہ ہیکہ ان مسائل کو بہت کمی سے زیر بحث لایا جاتا ہے ۔
لہذا خاندانوں کو پامال اور بربادہونے سے بچانے کے لیے!
شادیوں میں قلت کی تیزی کو روکنے کے لیے!
اور ان بے نوا غلاموں کی آزادی کے لیے ہمیں چاہےے کہ اس بے لگام جنسی آزادی اور ناجائز تعلقات کی فراہمی پرروک لگائیں اور کنٹرول کریں ، اس عمل کے لیے ایک صحیح اور منظم سسٹم تیار کریں ورنہ یہ کام نا ممکن ہے ۔
پیارے جوانوں ! مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں خود اپنی اور اپنے دوستوں کی حفاظت میں دقت سے کام لیں اور گمراہی اور فریب دینے والے افراد جواس طرح کی نا پاک آزادی کی طرف کھینچتے ہیں، ان سے اجتناب کریں ۔
وہ لوگ جو ان حالات ،بدنام اور برائی کے اڈوں کو معاشرے کی ضرورت سمجھتے ہیں اور اس کے ذریعے برائی کو ختم کرنا چاہتے ہیںاور ایسے نا مناسب عمل کو خاندانوں کی حفاظت اور جوانوں کی سلامتی کا نام دیتے ہیں وہ یقینا بڑی بھول کا شکار ہیں ۔
کیا ایسی بدبودار کیچڑ کا وجود جو بہت سے اخلاقی فساد کومعاشرے میں پھیلا رہی ہے اور ساتھ ساتھ جسمانی بیماریوں کو بھی پھیلا رہا ہے اور اسی وجہ سے اسکو معاشرے سے الگ بھی رکھا جاتا ہے ۔ اور اس قید خانے کے گرد بلند چاردیواری بنا دینا کیا اس برائی کو گھرانوں میں پھیلنے اور سرایت کرنے سے روک سکتاہے؟ آیا ایسا گندا ماحول کسی سماج

فصل چہارم : وہ وزنجیریں جس نے جوانوں کے ہاتھ پیروں کو جکڑ لیا ہے فصل دوم : شادیوں کی تعداد میں کمی واقع ہونا انسانی معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma