سوره توبه (برائت)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
ترجمه قرآن کریم

۱۔ خدا اور اس کے رسول کا یہ اعلانِ بیزاری ان مشرکین کے لئے ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا ۔

۲۔ اس کے باوجود چار ماہ (تک تمھیں مہلت ہے کہ) زمین میں (آزادانہ) چلو پھرو (اور جہاں چاہو جاوٴ اور جو چاہو سوچ بچار کرو) اور جان لو کہ تم خدا کو عاجز وناتواں نہیں کرسکتے، (اور اس کی قدرت سے فرار نہیں کرسکتے اور یہ بھی جان لو کہ) خدا کافروں کو ذلیل وخوار کرنے والا ہے ۔

۳۔ یہ اعلان ہے خدا اوراس کے پیغمبر کی طرف سے (تمام) لوگوں کو حجِ اکبر (عید قربان) کے دن کہ خدا اور اس کا رسول مشرکین سے بے آزار ہےپھر بھی تم اگر توبہ کرلو تو یہ  تمھارے نفع میں ہے، اور اگرتم  روگردانی کرو گے تو جان لو کہ تم خدا کو ناتواں اورعاجز نہیں کرسکتے ،(اور اس کی قدرت کی قلمرو سے نہیں نکل سکتے) اور (اے رسول) کافروں کو دردناک سزا اور عذاب کی خوشخبری دے  دو۔

۴۔ مگر مشرکین میں سے وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے اور اس میں ان سے کوئی فروگذاشت نہیں ہوئی نیز تمھارے خلاف انھوں نے کسی کو تقویت نہیں پہنچائی معاہدہ  کی مدت ختم ہونے تک اس کا احترام کرو، کیونکہ خد اپرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔

۵۔ جب حرام مہینے ختم ہوجائیں تو مشرکین کو جہاں کہیں پاوٴ قتل کردو، اور انھیں قید کرلو ،اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر جگہ ان کی گھات بیٹھ جاوٴ، اوراگر وہ توبہ کرلیں ، نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو انھیں چھوڑ دو ،کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

۶۔ اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ  دے  تاکہ وہ الله کا کلام سن سکے (اور اس میں غور وفکر کرسکے) پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچادو کیونکہ وہ بے علم اورآ ناگاہ گروہ ہیں ۔

۷۔ مشرکین کے لئے  اللہ اور اس کے رسول کے ہاں کس طرح عہدو پیمان ہوگا (جبکہ وہ ہمیشہ اپنا معاہدہ توڑنے کے لئے تیار ہوہتے ہیں)؟! مگر وہ کہ جن کے ساتھ تم نے مسجد الحرام کے پاس معاہدہ کیا (یہ انھوں نے اپنے معاہدےکا احترام کیا) لہذاجب تک وہ تمھارے ساتھ وفادار ہیں تم بھی وفاداری کرو ،کیونکہ خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔

۸۔ کس طرح (ان کے معاہدے کی کوئی قدر وقیمت ہوسکتی ہے) حالانکہ اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو نہ تم سے رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ  ہی عہد وپیمان کا،یہ لوگ اپنی زبان سے تو تمھیں خوش رکھتے ہیں لیکن ان کے دل انکار کرتے ہیں، اور ان میں سے اکثر نادان ہیں ۔

۹۔ انھوں نے خدا کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا،! اور (لوگوں کو) اس کی راہ سے منحرف کردیا، وہ بُرے اعمال بجالاتے تھے ۔

۱۰۔ (نہ صرف تمھارے بارے میں بلکہ) ہر با ایمان شخص کے بارے میں وہ رشتہ داری اور عہد وپیمان کا لحاظ نہیں رکھتے اور وہ تجاوز کرنے والے ہیں ۔

۱۱۔ اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی ہیں، اور ہم اپنی آیات کی تشریح ایسے لوگوں کے لئے کرتے ہیں جو جانتے (اور فکر کرتے) ہیں ۔

۱۲۔ اور اگر وہ معاہدے کے بعد عہدو پیمان کو توڑدیں اور تمھارے دین پر طعن وطنز کریں تو آئمہٴ کفر سے جنگ کرو، اس لئے کہ ان کا کوئی عہدو پیمان نہیں، شاید وہ دستبردار ہوجائیں ۔

۱۳۔ کیا تم اس گروہ کے ساتھ جس نے اپنا عہدو پیمان توڑدیا ہے اور جنہوں نے (شہر سے) پیغمبرکے اخراج کا پختہ ارادہ کیاتھا جنگ نہیں کروگے  حالانکہ پہلے انھوں نے (تم سے جنگ کی )ابتداء کی تھی، کیا ان سے ڈرتے ہو جبکہ خدا زیادہ سزاوار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔

۱۴۔ ان سے جنگ کرو کہ خدا انھیں تمھارے ہاتھوں سزا دینا چاہتا ہے، اور وہ انھیں رسوا کرے گا ،اور مومنین کے ایک گروہ کے سینہ کو شفا بخشے گا (اور ان کے دل پر مرہم رکھے گا)

۱۵۔ اور ان کے دلوں کے غیظ وغضب کو لے جائے گا۔ اور خدا جس شخص کی چاہتا ہے (اور اسے اہل سمجھتا ہے) توبہ قبول کرلیتا ہے، اور خدا عالم وحکیم ہے ۔

۱۶۔ کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تمھیں (تمھاری حالت پر) چھوڑ دیا جائے گا جب کہ ابھی خد انے جہاد کرنے والے اور خدا اور اس کے رسول کو چھوڑ کر محرم راز بنانے والوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا ہے ؟ (تمھاری آزمائش ہونا چاہیے تاکہ تمھاری صفیں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں) اور جوکچھ تم کرتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ۔

۱۷۔ مشرکین کو حق نہیں ہے کہ وہ خدا کی مسجدوں کوآباد کریں، حالانکہ اپنے کفر کی خود گواہی دیتے ہیں، انہی کے اعمال نابود (اور بے قیمت) ہو جائیں گے، اور وہ (جہنم کی) آگ میں ہمیشہ رہیں گے ۔

۱۸۔ الله کی مساجد کو صرف وہ شخص آباد کرتا ہے جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہے،  اورنماز قائم کرتا ہے، زکوٰة ادا کرتا ہے اور خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا، ہوسکتا ہے ایسا گروہ نجات پاجائے ۔

۱۹۔ کیا حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے کا عمل اس شخص (کے عمل) کی طرح قرار پاسکتا ہے جو خدا اور روزِ جزا پر ایمان لایا ہے، اور اُس کی راہ میں جہاد کیا، (یہ دونوں) خدا کے ہاں ہرگز برابر نہیں ہیں، اور خدا ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں کرتا ۔

۲۰۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مال وجان سے راہِ خدا میں جہاد کیا، خدا کے ہاں ان کا مقام ومنزلت بلند ہے اور وہی لوگ کامیاب ہیں ۔

۲۱۔ پروردگار انھیں اپنی طرف سے رحمت، خوشنودی اور ایسے باغات بہشت کی بشارت دیتا ہے جن میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں ۔

۲۲۔ وہ ہمیشہ ان باغوں میں (اور ان نعمتوں میں گھرے) رہیں گے کیونکہ خدا کے ہاں عظیم اجر وثواب ہے ۔

۲۳۔ اے ایمان والو! جس وقت تمھارے باپ اور بھائی کفر کو ایمان پر ترجیح دیں تو انھیں اپنا ولی (اور دوست، یاور اور سہارا) قرار نہ دو ،اور جو انھیں اپنا ولی قرار دیں وہ ستمگر ہیں ۔

۲۴۔(اے ہمارےرسول)کہہ دو : اگر تمھارے آباوٴاجداد ، اولاد، بھائی، ازواج اور تمھارا قبیلہ اور وہ اموال جو تمھارے ہاتھ لگے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمھیں ڈر ہے اور تمھارے پسندیدہ گھر ،تمھاری نظر میں خدا، اس کے پیغمبر اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تم پھر انتظار کرو کہ خدا تم پر اپنا عذاب نازل کرے، اورخدا گروہ فاسقین کی ہدایت نہیں کرتا ۔

۲۵۔ خدا نے بہت سے میدانوں میں تمھاری مدد کی (اور تم  نے دشمن پر فتح حاصل کی) اور حنین کے دن (بھی مدد کی) جبکہ تمھارے لشکر کی کثرت نے تمھیں گھمنڈ میں ڈال دیا  تھا،لیکن (اس کثرت نے) تمھاری کوئی مشکل حل نہ کی، اوز مین پوری وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم (دشمن کو) پشت دکھاکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔

۲۶۔ پھر خدا نے اپنی ”آرامش“ اپنے رسول اور مومنین پر نازل کی اور ایسے لشکر بھیجے جنھیںتم نہیں دیکھتے تھے اور کافروں کو عذاب دیا اور یہ ہے کافروں کی جزا ۔

۲۷۔ پھر خدا جس شخص کی چاہے (اور اسے اہل دیکھے) تو اس کی  توبہ قبول کرلیتا ہے، اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

۲۸۔ اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں، لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد الحرام کے قریب نہیں جاسکتے، اور اگرتم فقر وفاقہ سے ڈرتے ہو تو خدا  اگراپنے فضل سے چاہے گا  توتمھیں بے نیاز کردے گا،  بیشک خدا دانا اور حکیم ہے ۔

۲۹۔  اہلِ کتاب میں سے وہ لوگ جو نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز جزا پر اور نہ اسے حرام سمجھتے جسے الله اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، اور نہ دینِ حق قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ ہے خضوع وتسلیم کے ساتھ جزیہ دینے لگیں ۔

۳۰۔ یہودیوں نے کہا کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے ،!اور عیسائیوں نے کہاکہ مسیح الله کا بیٹا ہے،! یہ بات جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں ایسی ہے جو گذشتہ کافروں کی بات کے مشابہ ہے، ان پر خدا کی لعنت ہو، وہ کس طرح حق سے کجی کرتے ہیں ۔

۳۱۔ انھو ں نے خدا کے مقابلے میں علماء اور راہبوں (تارکین دنیا) کو اپنا معبود قرار دیا اور اسی طرح مریم کے بیٹے مسیح کو، حالانکہ انھیں حکم دیا گیا تھا کہ ایک ہی معبود کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں، وہ اس سے پاک ومنزہ ہے کہ جسے اس کا شریک قرار دیتے ہیں ۔

۳۲۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے نور خدا کو بجھادیں، لیکن خدا اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے نور کو کامل کرے اگرچہ کافر اسے ناپسند ہی نہ کریں ۔

۳۳۔ وہ ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غلبہ دے، اگرچہ مشرک ناپسند ہی کیوں نہ کریں ۔

۳۴۔اے ایمان والوں!(اہل کتاب کے) بہت سے علماء اور راہب لوگوں کا مال باطل طور پر کھاتے ہیں، اور (انہیں) خدا کی راہ سے روکتے ہیں، اور وہ جو سونا چاندی کا خزانہ جمع کرکے (اور اسے چھپا کر) رکھتے ہیں، اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔

۳۵۔اس روز کہ جب(ان کے جمع کردہ مال)کو آتش جہنم میں گرم کیا جائے اور اس سے ان کے چہروں، پہلووں اور پشتوں کو داغا جائے گا (اور انہیں کہا جائے گا کہ) یہ وہی چیز ہے جسے تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، لہذااس کے مزہ کوچکھو جسے اپنے لئے تم نے ذخیرہ کیا تھا ۔

۳۶۔ مہینوں کی تعداد خدا کے نزدیک خدا کی (آفرینش کی)کتاب میں یا جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے،بارہ ہے،جن میں سے  چار مہینے ماہ حرم ہیں (اور ان میں جنگ کرنا ممنوع ہے) یہ (اللہ کا) ثابت وقائم قانون  ہے، لہٰذا ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، (اور ہر قسم کی خوں ریزی سے پرہیز کرو) اور مشرکین کے ساتھ (جنگ کے وقت )سب مل کر جنگ کرو، جیسا کہ وہ سب مل کر تم سے جنگ کرتے ہیں اور جان لوں کے خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے

۳۷۔ (حرام مہینوں میں تقدم وتاخر )(مشرکین)کے کفر میں زیادتی  کے علاوہ کچھ نہیں ہے جس کی وجہ سے کافر گمراہ ہوتے ہیں، یہ لوگ ایک سال اسے حلال اور دوسرے سال  حرام کردیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کی تعداد کے مطابق ہوجائے کہ جنہیں خدا نے حرام کیا ہے(اور ان کے خیال میں چار کا عدد پورا ہوجائے) اور اس طرح سے خدا کے حرام کردہ کو حلال شمار کریں، ان کے برے اعمال ان کی نظر میں زیبا ہوگئے ہیںاور خدا کافروں کی جماعت کو ہدایت نہیں کرتا ۔

۳۸۔اے ایمان والوں! جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ راہ خدا میں جہاد کرنے کے لئے نکل پڑو تو کیوں زمین پر اپنا بوجھ ڈال دیتے ہو (اور سستی کرتے ہو)، کیا تم آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی پر راضی ہوگئے ہو حالانکہ حیات دنیا کی متاع آخرت کے مقابلے میں تھوڑی بہت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔

۳۹۔اگر  تم(میدان جہاد کی طرف)حرکت نہیں کرو گے تو خدا تمہیں دردناک عذاب دے گا ،اور کسی دوسرے گروہ کو تمہاری جگہ مقرر کردے گا، اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے ،اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

۴۰۔ اگر تم اس کی (محمدّ) مدد نہیں کرو گے تو خدا اس کی مدد کرے گا (جیسا کہ اس نے مشکل ترین لمحات میں اسے تنہا نہیں چھوڑا)، اس وقت جب کفار نے انہیں (مکہ سے) نکال دیا ،جب کہ وہ دو میں سے ایک دوسرا تھا (ان کے ساتھ صرف ایک شخص اور تھا) جب وہ دونوں غار میں تھے تو وہ  اپنے ہمسفر سے کہہ رہا تھا غم نہ کھاؤ خدا ہمارے ساتھ ہے، تو اس موقع پر خدا نے اپنا سکینہ (اور اطمینان )اس پر بھیجا ،ور اس کی ایسے لشکروں سے تقویت کی جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے ،اور کافروں کی گفتار(اور ہدف ) کو پست کر دیا (اور انہیں شکست سے دوچار کیا) اور  بس خدا کی بات (اور اس کا دین ) بلند (اور کامیاب )ہے  اور خدا عزیر وحکیم ہے ۔

۴۱۔(سب کے سب میدان جہاد کی طرف )چل پڑو چاہے ،ہلکے ہوں بھاری، اور اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرو، اور اگر جانو تو یہ تمہارے نفع میں ۔

۴۲۔(اور ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے کہ ) اگر غنائم  ان کےنزدیک (اور  ان کی دسترس میں )ہوں اور سفر آسان ہو (تو دنیاوی طمع میں) تیری پیروی کرتے ہیں، لیکن اب جب کہ( میدان تبوک کے لئے) راستہ ان کے طویل (اور مشقت والا )ہے (تو روگردانی کرتے ہیں) اور  یہ لوگ عنقریب قسم کھائیں گے کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی توہم تمہارے ساتھ چلتے،!(لیکن  یہ لوگ حقیقت میں ان اعمال اور ایسے صریح جھوٹوں سے ) اپنے آپ کو ہلاک کرتے ہیں ؛اور خدا جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔

۴۳۔ خدا نے تمہیں بخش دیا ۔(لیکن)  کیوں اس سے پہلےتم نے انہیں اجازت  دی سچ بولنے والے تمہارےلئے واضح ہوجائیں اور تم جھوٹوں کو پہچان لو۔

۴۴۔ وہ جو  لوگ خدا اور روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں تم سے کبھی بھی (راہ کی راہ خدا میں)اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے سے رخصت نہیں چاہیں گے، اور خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔

۴۵۔ صرف وہ لوگ تم سے رخصت چاہیں گے جو خدا اور روز جزا پر ایمان نہیں رکھتے ،اور ان کے دل شک وتردد میں ہیں، لہٰذا وہ اپنے تردد میں سرگرداں ہیں ۔

۴۶۔ اگر وہ (سچ کہتے تھے اور ) چاہتے تھے (کہ میدان جہاد کی طرف) نکلیں تواس کے لئے وسیلہ فراہم کرتے؛ لیکن خدا ان کے نکل پڑنے کو ناپسند کرتا تھا، لہٰذا اپنی توفیق ان سے سلب کرلی، اور انہیں (اس کام سے) روک لیا ،اور ان سے کہا گیا کہ قاعدین (جو بچوں، بوڑھوں اور بیماروں پر مشتمل ہیں) کے ساتھ بیٹھے رہو۔

۴۷۔ اگر تمہارے ساتھ (میدان جہاد کی طرف) نکل پڑتے تو اس طرح وہ شک و تردد کے سوا تمہارے لئے کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے، اور بہت جلدی تمہارے درمیان فتنہ انگیزی   برپا کردے (اور تفرقہ اورنفاق پیدا کرتے)؛ اور تمہارے درمیان  کچھ(سست اور کمزور) افراد ہیں جو ان کی بات کو زیادہ قبول کرنے والے ہیں اور خدا ظالموں سے باخبر ہے ۔

۴۸۔انہوں نے اس سے قبل بھی فتنہ انگیزی کے لئے اقدام کیا تھا، اور تمہارے لئے کئی ایک کام دیگر گوں کردئے تھے، (اور انہیں خراب کردیاتھا) یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا فرمان آشکار ہوا( اور تم کامیاب ہوگئے) جب کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے ۔

۴۹۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ہمیں اجازت دو( تاکہ ہم جہاد میں شرکت نہ کریں)، اور ہمیں گناہ میں مبتلا نہ کرو،  آگاہ رہو کہ وہ (ابھی سے )گناہ میں گر چکے ہیں، اور یقیناً جہنم کفار پر محیط ہے ۔

۵۰۔اگر تجھے کوئی اچھائی پہنچے تو وہ ا نہیں بری لگتی ہے، اور اگر تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے سے مصمم ارادہ کر رکھا ہے اور وہ خوش و خرم پلٹ جاتے ہیں ۔

۵۱۔ (اے ہمارے رسول)کہہ دو :کوئی حادثہ ہمارا رخ نہیں کرتا مگر جو کچھ خدا نے ہمارے لے لکھ دیا ہے، وہ ہمارا مولیٰ اور سرپرست ہے، اور مومنین صرف خدا پر توکل کوتے ہےں ۔

۵۲۔(اے ہمارے رسول)کہہ دو: کیا ہمارے بارے میں دونیکیوں میں سے کسی ایک کے علاوہ تمہیں کوئی توقع ہے (یا تو ہم تم پر کامیاب ہوجائیں گے یا جام شہادت نوش کریں گے) لیکن ہم توقع رکھتے ہیں یاتو خدا کی طرف سے تمہیں(آخرت میں)یا ہمارے ہاتھ سے(دنیامیں)عذاب پہنچے گا ،اب جب کہ معاملہ ایسا ہے تو تم بھی انتظار کرو، اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہےں ۔

۵۳۔(اے ہمارے رسول)کہہ دو : تم چاہے  اپنے میلان اور رغبت سے خرچ کرو چاہے جبرواکراہ سے، تم سے ہرگز قبول  نہیں کیا جائے گاکیوں کہ تم فاسق ہو ۔

۵۴۔ان کے انفاق اورخرچ کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی مگر یہ کہ وہ خدا اور اس کے پیغمبرکے منکر تھے،نماز نہیں بجالاتے تھے مگر کسالت اورسستی کے ساتھ، اور انفاق نہیں کرتے مگر کراہت کے ساتھ۔

۵۵۔اور ان کے مال واولاد( کی کثرت )تجھے تعجب میں نہ ڈالے، خدا چاپتا ہے کہ انہیں اس کے ذریعے دنیا کی زندگی میں عذاب کرے، اور وہ حالت کفر میں مرجائیں ۔

۵۶۔وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں؛ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں،اور یہ وہ لوگ ہے جو ڈرتے ہیں(اور  اس چیز سےوحشت زدہ ہیں کہ کہیں ان کا راز فاش نہ ہو جائے لہذاجھوٹ بولتے ہیں) ۔

۵۷۔اگر انہیں کوئی پناہ گاہ  یا غاریں یا کوئی زیر زمین راستہ مل جائے تو وہ اس کی طرف تیزی سے بھاگ کھڑے ہوں ۔

۵۸۔ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو غنائم (کی تقسیم)کے بارے میں تم پر اعتراض کرتے ہیں، اگر ان میں سے انہیں دے دیں تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ دیں تو ناراض ہوجاتے ہیں(چاہے ان کا حق ہو یا نہ ہو) ۔

۵۹۔لیکن اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ جو خدا اور اس کا رسول انہیں دیتا ہے اور کہیں کہ خدا ہمارے لئے کافی ہے اور عنقریب خدا اور اس کا رسول اپنے فضل میں سے ہمیں عطا کرے  گا اور ہم تو صرف اس کی رضا چاہتے ہیں، اگر ایسے کریں تو ان کے فائدے میں ہے ۔

۶۰۔زکوٰة فقیروں ، مسکینوں اور ان لوگوں کے لئے جو اس کے جمع کرنے میں ہاتھ بٹاتے ہیں، اور ان افراد کے واسطے ہے جن کی تالیف ِ قلوب  (اور دل لبھانے)کے لئے اقدام کیا جائے ۔ غلاموں کی ( آزادی ) کے لئے اور خدا ( کے قوانین کی تقویت ) کی راہ میں اور راستے میں رہ جانے والے مسافروں کے لئے ہے، اور یہ ایک ( اہم ) خد ائی فریضہ ہے، اور خدا دانان اور حکیم ہے ۔

۶۱۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو پیغمبر کو تکلیف پہنچاتے ہیں او رکہتے ہیں :کہ آپ خوش باور اور ہمہ تن گوش ہیں ۔ کہہ دو کہ اس کا خوش فہم ہونا تمہارے فائدے میں ہے؛ ( لیکن جان لو) وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے، اور ( صرف )مومنین کی تصدیق کرتا ہے ،اور تم میں سے ان لوگوں کے لئے رحمت ہے جو ایمان لائے ہیں ،اور جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

۶۲۔ وہ تمہارے سامنے خدا کی قسم کھاتے ہیں تاکہ تمہیں  راضی  رکھیں حالانکہ زیادہ مناسب با ت یہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کو راضی کریں اگر (وہ سچ کہتے ہیں اور ) ایمان رکھتے ہیں ۔

۶۳۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرے ، اس کے لئے جہنم کی آگ ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا،! یہ ایک بڑی رسوائی کی بات ہے ۔

۶۴۔ منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی سورہ ان کے خلاف نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کے بھید وں کی انھیں خبر دے دے ۔ کہہ دیجئے کہ ا ستہزاء او رمذاق کرلو ، جس کا تمہیں ڈر ہے خدا اسے ظاہر کرے گا ۔

۶۵۔ اگر تم ان سے پوچھو ( کہ تم یہ برے کام کیوں کرتے ہو) تو وہ کہتے ہیں : ہم  تومذاق کرتے ہیں، تو کہہ دو کہ کیاتم خدا ، اس کی آیات اور اس کے پیغمبر کامذاق اڑاتے ہو ؟

۶۶۔ ( کہہ دو) معذرت نہ کرو( کیونکہ وہ فضول ہے اس لئے کہ ) تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہو ۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو ( توبہ کرنے کی وجہ سے ) معاف کر دیں، تو دوسرے گروہ کو عذاب میں مبتلا کریں گے کیونکہ وہ مجرم تھے ۔

۶۷۔ منا فق مرد اور عورتیں سب ایک ہی گروہ سے ہیں وہ برے کاموں کا حکم دیتے ہیں ،اور اچھے کوموں سے روکتے ہیں، اور اپنے ہاتھوں کو ( سخاوت اور بخشش سے ) باندھ لیتے ہیں، انھوں نے خدا کو فراموش کردیا ہے، اور خدا نے بھی ان کو بھلا دیا ہے، ( اس نے اپنے رحمت ان سے منقطع کرلی ہے ) یقینا منافق فاسق ہیں ۔

۶۸۔ خدا نے منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لئے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ وہی ان کے لئے کافی ہے اور خدا نے انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے ۔

۶۹۔ ( تم منافق لوگ ) ان افراد کی طرح ہو جو تم سے پہلے تھے ،( اور انھوں نے نفاق کا راستہ اختیار کیا تھا ) وہ تم سے زیادہ طاقت ور تھے، اور مال اور اولاد کے لحاظ سے تم سسے بڑ چڑھ کر تھے ۔ انھوں نے ( دنیا میں ہواو ہوس او رگناہ کے ذریعے ) اپنے حصے سے استفادہ کیا ۔ تم نے بھی ( اسی طرح ) اپنے حصے سے استفادہ کیا ہے جیسا کہ انھوں نے استفادہ کیا تھا تم ( کفر ، نفاق او رمومنین کا مذاق اڑانے میں ) مگن ہو جیسے وہ مگن تھے، ( لیکن آخر کار ) ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں ملیامیٹ ہوگئے اور وہ خسارہ میں ہیں ۔

۷۰۔ کیا انھیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ۔ قومِ نوح ۔، عاد ثمود اور براہیم کی قوم اور اصحاب مدیَن ( قوم ِ شعیب ) اور وہ شہر جو تہ و بالا ہوئے تھے ( قوم ِ لوط) کہ جن کے پیغمبر ان کی طرف روشن اور واضح دلیلوں کے ساتھ آئے تھے ( لیکن انھو ں نے پیغمبروں کی کوئی بات نہ مانی )خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔

۷۱۔ ایماندار مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ولی (دوست اور مدد گار) ہیں ،وہ اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں، اور زکاۃدیتے ہیں، اور خدا و رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔ خدا عنقریب ان پر رحمت  نازل کرے گا ،بے شک خدا تواناوحکیم ہے ۔

۷۲۔ خدا  نے مومن مردوں اور عورتوں سے ایسے جنت کے باغوں کا وعدہ کیا ہوا ہے جن کے ( درختوں کے )نیچے نہریں جاری ہیں ،وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے، اور عدن کی جنتوں میں ( ان کے لئے ) پاکیزہ مساکن ہیں اور خدا کی رضا ( اور خشنودی ان سب سے ) برتر و بہتر ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

۷۳۔ اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کرو، ان پر سختی کرو، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، او ران کا انجام کیسا برا ہے ۔

۷۴۔منافق خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ( پیغمبر کے پس پشت) انھوں نے ( تکلیف وہ )باتیں نہیں کیں ۔ حالانکہ یقینا انھوں نے کفر آمیز باتیں کی ہیں، او راسلام لانے کے بعد وہ کافر ہو گئے ہیں، اور انھوں نے ( ایک خطر ناک کام کا) ارادہ کیا تھا جسے وہ نہ کرسکے ،وہ صرف اس بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول نے انھیں صرف اپنے فضل ( اور کرم ) سے بے نیاز کردیا ہے ،( اس کے باوجود ) اگر وہ تو بہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے ، اور اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو خدا انھیں دنیا و آخرت میں دردناک سزا دے گا ،اور وہ روئے زمین پر نہ ان کا کوئی ولی و حامی ہے اور نہ ہی کوئی  یار و مدد گار ۔

۷۵۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے میں جنھوں نے خدا سے وعدہ کیا ہے کہ اگر خدا ہمیں اپنے فضل و کرم سے رزق دے تو ہم یقینا صدقہ  اور زکاۃ دیں گے ،اور شکر گذاروں میں سے ہوں گے ۔

۷۶۔ لیکن جب اس نے اپنے فضل سے انھیں بخش دیا تو انھوں نے بخل کیا او رنافرمانی کی اور وہ رو گرداں ہو گئے ۔

۷۷۔ اس عمل نے ان کے دلوں میں نفاق ( کی روح ) کو اس دن تک کے لئے پھونک دیاجب تک  وہ خدا کے سامنے پیش ہوں گے  یہ سزا اس کے عہد کو توڑنے کی وجہ سے ہے جو انھوں نے خدا سے باندھا تھا ، نیز اس جھوٹ کی سزا ہے جو انھوں نے بولا تھا۔

۷۸۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے بھیدوں او رسر گوشیوں کو جانتا ہے، خدا  توسب چھپی ہوئی باتو ں سے آگاہ ہے ۔

۷۹۔ جو لوگ فرمانبردار مومنین کے صدقات کی عیب جوئی کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ایسے ہی ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں، جو ( تھوڑٰی سی ) مقدار سے زیادہ کی توان نہیں رکھتے ،(یا رکھو): وہ خدا کا مذاق اڑاتا ہے ( انھیں مذاق اڑانے والوں کی سزا دیتا ہے ) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

۸۰۔(اے رسول) ان کے لئے استغفارکرویا نہ کرو( یہاں تک کہ ) اگر ان کے لئے ستر مرتبہ بھی استغفار کروگے تو خدا انھیں ہر گز نہیں بخشے گا، کیونکہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور خدا فاسقوں کےگروہ کو ہدایت نہیں کرتا ۔ 

۸۱۔ ( جنگ تبوک سے ) کنارہ کشی کرنے والے جو رسول خدا  کی مخالفت سے خوش ہیں اور وہ راہ خدا میں اپنے اموال او رجان سے جہاد کرنے کو ناپسند کرتے تھے ( اور ایک دوسرے سے او رمومنین سے ) کہتے تھے کہ اس موسم گرما میں ( میدان کی طرف ) حرکت نہ کریں ان سے کہہ دو کہ جہنم کی آگ اس سے  بھی زیادہ گرم ہے ، اگر تم میں سمجھ ہے ۔

۸۲ ۔انھیں چاہئیے کہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں (کیونکہ جہنم کی  آگ ان کے انتظا رمیں ہے) یہ ان کا ر کردگیوں کی جزا ہے جو و ہ کرتے تھے ۔

۸۳۔ جب خدا تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تجھ سے ( میدان ِ جہاد کی طرف ) خروج کی اجازت چاہیں تو ان سے کہہ کہ تم کبھی میرے ساتھ خروج نہیں کروگے او رمیری معیت میں کبھی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کروگے  ۔

۸۴۔ ان میں سے جو بھی مر جائے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو اور اس کی قبر پر( دعا اور طلب ِ بخشش کے لئے ) کھڑا نہ ہو کیونکہ انھوں  نےخدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور جب وہ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق تھے ۔

۸۵۔ ان کے اموال اور اولاد تیرے لیے باعث تعجب نہ ہو ں،(کیونکہ یہ ان کے لیے نعمت نہیں بلکہ )خدا چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے انھیں دنیا میں عذاب کرے،! اور ان کی روحیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں ۔

۸۶۔ اور جب کوئی  ایسی سورت نازل ہوتی  ہے کہ خدا پر ایمان لے آوٴ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو ،تو ان ( منافقین ) میں سے جو توانائی رکھتے ہیں تجھ سے اجازت چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھے رہنے والوں ( جن پر جہاد معاف ہے ) کے ساتھ چھوڑ دیجئے ۔

۸۷۔ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوں، اور ان کے دلوں پرمہر لگادی گئی ہے، لہٰذا وہ نہیں سمجھتے ۔

۸۸۔ لیکن رسول اور وہ افراد جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے مال او رجان کے ساتھ جہاد کیا ہے، اور سب نیکیاں ان کے لئے ہیں اور وہی کامیاب ہیں ۔

۸۹۔ اللہ نے ان کے لئے جنت کے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ اس میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے، اور یہ بہت بڑی اورعظیم کامیابی ہے ۔

۹۰۔ اور اعراب میں سے معذور لوگ ( تیرے پاس ) آئے ہیں کہ انھیں جہاد سے تخلف کی اجازت دی جائے، لیکن وہ لوگ جنھوں نے خدا اور اس کے پیغمبر کے ساتھ جھوٹ بولا ہے اور( بغیر کسی عذر کے اپنے گھرمیں ) بیٹھ گئے ہیں ۔ عنقریب ان لوگوں کو جو کافر ہو گئے ہیں ( اور معذور نہیں تھے ) درد ناک عذاب پہنچے گا ۔

۹۱۔ ضعفاء ، بیمار اور وہ جو ( جہاد کی راہ میں ) خرچ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رکھتے ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے ( کہ انھوں نے میدانِ جہاد میں شرکت نہیں ہے ) جب وہ خدا بشرطیکہ  اور اس کے رسول سے خیرخواہی کریں ،( اور جو کچھ طاقت رکھتے ہیں اس سے دریغ نہ کریں ) کیونکہ نیکو کار لوگوں سے موٴاخذہ نہیں ہو تااور خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔

۹۲۔ نیز ان پر بھی اعتراض نہیں ہے جو اس وقت  تیرے پاس آئے کہ تو انھیں ( میدان جہاد کے لئے ) مرکب پر سوار کرے تو تونے کہا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے کہ جس پرتمہیں سوار کرسکو ں، تو وہ ( تیرے پاس سے)اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں اشک بار تھیں کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے وہ راہ خدا میں خرچ کرتے ۔

۹۳۔ موٴخذہ کی راہ  تو بس ان کے لئے کھلی ہے جو تجھ سے اجازت چاہتے ہیں جب کہ وہ  مال دار اوربے نیاز ہیں (اور جہاد کے لئے  کافی ساز و سامان رکھتے ہیں ) ایسے لوگ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ جانے پر راضی ہو گئے ہیں ،اور خدا نے ان کے دلوں پرمہر لگادی ہے ،لہٰذا وہ کچھ نہیں جانتے ۔

۹۴۔(اے ہمارے رسول)جس وقت تم ان کی طرف ( جنھوں نے جہاد سے تخلف کیا ہے ) لوٹ کر آ وٴ گے تو تم سے عذر خواہی کریں گے ،کہہ دو کہ معذرت نہ کرو ہم ہر گز تمہاری بات کا یقین نہیں کریں گے ،کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہاری خبروں سے آگاہ کردیا ہے ،اور عنقریب خدا اور اس کا رسول تمہارے اعمال کو دیکھے گا اور پھر تم اس کی طرف پلٹ جاوٴ گے جو پنہاں اور آشکار سے آگا ہ ہے، اور تمہیں اس سے آگاہ کرے گا (اور اس کی جزا دے گا ) جو کچھ تم انجام دیتے تھے ۔

۹۵۔ جب تم ان کی طر ف لوٹ کرجاوٴ گئے تو وہ تمہارے لئے  اللہ کی قسم کھائیں گے، تاکہ انہیں چھوڑ دو( اور صرف ِ نظر) کرو ۔ تم ان سے چشم پوشی کرو ( اور منہ پھیر لو)کیونکہ وہ پلید ہیں، اور ان کے رہنے کی جگہ جہنم ہے ان کے اعمال کی سزا میں جو وہ انجام دیتے تھے ۔

۹۶۔ قسم کھا کے تم سے چاہتے ہیں کہ تم  ان سے راضی ہو جاوٴ اگر تم ان سے راضی ہو جاوٴ تو خدا فاسقین کے گروہ سے راضی نہیں ہوگا ۔

۷۹۔ بادیہ نشین عربوں کا کفر اور نفاق  سب سےشدید  ہے او رجو کچھ خدا نے اپنے پیغمبر پر نازل کیا ہے اس کی حدود ( اور سر حدوں ) کی جہالت کے وہ زیادہ حق دار ہیں ،اورخدا دانا اور حکیم ہے

۹۸۔ (ان)بادیہ نشین عربوں میں سے ( کچھ لوگ ) جو کچھ ( راہ خدا میں ) خرچ کردیتے ہیں اسے تاوان شمار کرتے ہیں ،اور تمہارے بارے میں دردناک حوادث کی توقع رکھتے ہیں ( حالانکہ) دردناک حوادث ان  ہی کے لئے مناسب ہیں، اور خدا سننے والا او ر دانا ہے ۔

۹۹۔ بادیہ نشنین عربوں میں سے ( کچھ دوسرے لوگ ) خدا اور قیامت کے دن  پر ایمان رکھتے ہیں، او رجو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اسے خدا کے ہاں قرب اور پیغمبر کی دعاوٴں کا باعث سمجھتے ہیں ۔ آگاہ رہو کہ یہ کام  ان کے تقرب کا باعث ہے ۔ خدا بہت جلد انھیں اپنی رحمت میں داخل کردے گا اور یقیناً خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔

۱۰۰۔مہاجرین و انصار میں سے پیش قدمی کرنےو الوں اور نیکی میں ان کی پیروی کرنے والوں سے خدا خوش ہے، اور وہ ( بھی )خدا سے راضی ہیں، اور اس نے ان کے  لئے باغاتِ بہشت فراہم کئے ہیں کہ جن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور  یہ عظیم کامیابی ہے ۔

۱۰۱۔بادیہ نشین اعراب جو تمہار ے اطراف میں ہیں ان میں ایک جماعت منافقین کی ہے، اور ( خود) اہل مدینہ میں سے ( بھی ) ایک گروہ نفاق کا سخت پابند ہے ،انھیں تم نہیں پہچانتے اور ہم انہیں پہچانتے ہیں ۔عنقریب ہم انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے ( ایک اجتماعی رسوائی کا عذاب اور دوسرا موت کے وقت کا عذاب ) اس کے بعد ( قیامت میں ) عذابِ عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے ۔

۱۰۲۔ اور دوسرے گروہ نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اور صالح اور غیر صالح اعمال کو آپس میں ملادیا ہے، امید ہے خدا ان کی توبہ  قبول کرلے ۔ یقیناً اللہ غفور و رحیم ہے ۔

۱۰۳ ۔ انکے اموال سے صدقہ ( زکوٰة ) لے لوتاکہ انھیں اس کے ذریعے پا کرو، اور ان کی تربیت کرو، اور ( زکوٰة لیتے وقت ) انھیں دعا دو کیونکہ تمہاری دعا ان کے سکون کا باعث ہے، اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

۱۰۴۔ کیاوپہ جانتے نہیں کہ صرف خدا ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور صدقات لیتا ہے، اور خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہر بان ہے

۱۰۵۔ (اے ہمارے رسول)کہہ دو ! عمل کر و خدا، اس کا رسول او رمومنین تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں! اور عنقریب اس کی طرف لوٹ کر جاوٴ گے کہ جو پنہاں اور آشکار کو جانتا ہے؛ پھر وہ تمہیں اس چیز کی خبر دے گا جو کچھ تم کرتے ہو۔

۱۰۶۔ ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا (ان کا معاملہ خدا پر ہے)۔ وہ یا تو انھیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرلے گا (جس کے وہ لائق ہو ں گے) خدا دانا اور حکیم ہے ۔

۱۰۷۔ (مزید بر آں  کچھ منافق) لوگ ایسے ہیں جنھوں نے ( مسلمانوں کو ) نقصان پہنچانے اور کفر ( کوتقویت دینے ) کے لئے اور مومنین میں تفرقہ ڈالنے کی خاطر اور ایسے افراد کے لئے کمین گاہ مہیا کرنے کے لئے جنھوں نے پہلے ہی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی بھی ، مسجد بنائی ہے، وہ قسم کھاتے ہیں کہ ہمارا مقصد سوائے نیکی ( اور خدمت) کے اور کچھ نہیں ہے، لیکن خدا گوہای دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔

۱۰۸۔ اس(سجدہ) میں ہر گز  ( او رعبادت  کے لئے ) قیام نہ کرنا ۔ وہ مسجد جو روز اول سے تقویٰ کی بنیاد پربنی ہے زیادہ حق رکھتی ہے کہ تم اس میں قیام ( اور عبادت ) کرو ۔اس میں ایسے مرد ہیں جو پاک او رپا کیزہ رہنا پسند کرتے ہیں،اور خدا پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔

۱۰۹۔ کیا وہ شخص جس نے اس کی بنیادتقویٰ الٰہی اور اس کی خوشنودی پر رکھی ہے بہتر ہے یاوہ شخص جو نے اس کی بنیاد گرنے والی  اورکمزور جگہ پررکھی ہے کہ جو اچانک جہنم کی آ گ میں گرجائے گی، اور خدا  ظالم گروہ کو ہدایت نہیں کرتا ۔

۱۱۰۔ (لیکن ) یہ بنیاد جو انھوں نے رکھی ہے، ان کے دلوں میں ہمیشہ شک اور تردد کی صورت میں باقی رہے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں(اور وہ مر جائیں ورنہ چیز ان کے دلوں سے نہیں نکلے گی ) اور خدا دانا و حکیم ۔

۱۱۱۔ خدا مومنین سے جنت کے بدلے ان کی جانیں اور مال خرید تا ہے ( اس طرح سے کہ ) وہ راہ ِخدا میں جنگ کرتے ہیں ، قتل کرتے ہیں  اور قتل ہوتے ہیں۔یہ سچا وعدہ اس  (خدا)کے ذمہ ہے جو اسنے توریت ، انجیل اور قرآن میں ذکر فرمایاہے، اور خدا سے بڑھ کراپنا وعدہ وفا کرنے والا کون ہے ۔ اب تمہارے لئے خوش خبری ہے اس خرید و فریخت کے بارے میں جو تم نے خدا سے کی ہے، اور یہ ( تمہارے لئے ) عظیم کامیابی ہے ۔

۱۱۲۔ ( مومن وہ ہیں جو ) توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، حمد و ثنا کرنے والے ، سیا حت کرنے والے ، رکوع کر نے والے ، سجدہ کرنے والے ، برائی سے روکنے والے اور خدائی حدود ( اور سر حدوں ) کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ( ایسے ) مومنین کو خوشخبری دو۔

۱۱۳۔ پیغمبر او رمومنین کے لئے مناسب نہیں ہے کہ مشرکین کے لئے ( خدا سے ) بخشش طلب کریں اگر چہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر روشن ہو گیا کہ یہ لوگ اصحاب ِ دوزخ ہیں ۔

۱۱۴۔اور ابراہیم  کی استغفار اپنے ( بمنزلہ) باپ ( چچا آزر) کے لئے صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھی  کہ جو اس سے کیا گیا تھا ،( تاکہ اسے ایمان کی طرف ترغیب دیں )لیکن جب اس پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن ِ خدا ہے تو اس سے بیزاری کی ۔ کیونک ابرہیم  مہر بان او ربرد بار ہے ۔

۱۱۵۔ ایسا نہ ہے کہ خدا کسی قوم کو ہدایت ( اور ایمان ) کے بعد سزا دے ،مگر یہ کہ جس سے انھیں بچنا چاہئیے اسے ان کے لئے بیان کردے( او رو ہ اس کی مخالفت کریں ) کیونکہ خدا ہر چیز کا عالم ہے ۔

۱۱۶۔ آسمانوں اور زمیں کی حکومت اس کے لئے ہے، وہ  زندہ کرتا ہے او رمارتا ہے ،اور خدا کے علاوہ کوئی ولی اور مدد گار نہیں ہے ۔

۱۱۷۔خدا نے اپنی رحمت پیغمبر اور ( اسی طرح ان ) مہاجرین و انصار کے شامل حال کی جنھوں نے عسرت و شدت کے وقت (جنگ تبوک میں اس پیغمبر )ان کی پیروی کی ، جب کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل حق سے منحرف ہو جائیں، ( اور وہ میدان ِ جنگ سے پلٹ آئیں اس کے بعد خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی وہ ان پر مہر با ن اور رحیم ہے ۔

۱۱۸۔ ( اسی طرح) ان تین افراد کہ جو مدینہ میں ) رہ گئے تھے ( اور انھوں نے تبوک میں شر کت نہیں کی تھی اور مسلمانوں نے ان سے قطع روابط کرلیا تھا) یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر سخت ہو گئی تھی، اور (عالم یہ یہ تھا کہ)انھیں اپنے وجود میں بھی کوئی جگہ نہیں ملتی تھی، اور انھوں نے سمجھ لیا تھا کہ خدا کی طرف  کےسوا۔ان کے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ۔ اس وقت خدا نے اپنی رحمت ان کے شامل حال کی اور خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی، کیونکہ خدا تو بہ قبول کرنے والا  اورمہر بان ہے ۔

۱۱۹۔ اے ایمان والو! خدا ( کے  حکم کی مخالفت ) سے ڈرو اور سچوں کا ساتھ دو ۔

۱۲۰ ۔مناسب نہیں کہ اہل مدینہ اور  وہ بادیہ نشین جو اس کے اطراف میں ہیں ، رسول اللہ جدا ہو جائیں، اور اپنی جان بچانے کے لئے ان کی جان سے لاپرواہی کریں، یہ اس لئے ہے کہ انھیں راہ خدا میں نہ پیاس  لگے گی ، نہ خستگی ہو گی ،اور نہ بھوک لگے گی ، نہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے  کہ جو کافروں کے غضب کاسبب ہو او رنہ وہ دشمن سے کوئی چوٹ کھائیں گے مگر یہ کہ ا سکی وجہ سے ان کے لئے اچھا عمل لکھا جائےگاکیونکہ  خدا وند  عالم نیک لوگوں کی اجرت ( او رجزا) ضائع نہیں کرتا ۔

۱۲۱۔ اور وہ کسی چھوٹے یا بڑے مال کو ( راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے اور کسی زمین (اور راستہ) کو ( میدان جہاد کی طرف جاتے ہوئے یا اس سے پلٹتے ہوئے ) طے نہیں کرتے،  مگر یہ کام  ان کے لئے لکھا جاتا ہے تاکہ خدا ان کے بہترین اعمال کے لحاظ سے انہیں جزا دے ۔

۱۲۲۔ مناسب نہیں کہ سب مومنین ( میدان جہاد کی طرف ) کوچ کریں ؛ کیوں ہر گروہ میں سے ایک طائفہ کوچ نہیں کرتا،( اور ایک حصہ باقی نہیں رہتا) تاکہ  دین ( اور اسلام کے معارف و احکام ) سے آگاہی حاصل کریں اور اپنی قوم کی طرف باز گشت کے وقت انھیں ڈرائیں تاکہ وہ ( حکم خدا کی مخالفت سے ) ڈریں اور رک جائیں ۔

۱۲۳۔ اے ایمان والو! (پہلے) ان کفار سے  جنگ کرو جو تمہارے زیادہ قریب ہیں، ( اور دور کا دشمن تمہیں نزدیک کے دشمن سے غافل نہ کردے ) اور وہ تم میں شدت او رسختی کا احساس کریں ،اور جان لو خدا پر ہیز گاروں کے ساتھ ہے ۔

۱۲۴۔ اورجب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض ( دوسروں سے ) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے ۔ (ان سے کہہ دو ) کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ، اس سے ان کا ایمان بڑھا ہے اوروہ ( خد اکے فضل و کرم سے ) خوش ہیں  

۱۲۵۔ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کی ناپاکی ہی کا اضافہ ہوا ہے ،اور وہ دنیا سے اس حالت میں گئے ہیں کہ وہ کافر تھے ۔

۱۲۶۔ کیاوہ نہیں دیکھتے کہ سال میں ایک یا دو مرتبہ ان کی آزمائش ہو تی ہے پھر بھی وہ تو بہ نہیں کرتے اور متوجہ نہیں ہوتے ۔

۱۲۷۔ اور جس وقت کوئی سورت نازل ہوتی ہے تویہ( منافقین )  ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) کیا تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا؟ ( اور اگر ہم بارگاہ پیغمبر سے باہر چلے جائیں تو کوئی ہماری طرف متوجہ  تونہیں ہوگا ) اس کے بعد وہ لوٹ جاتے ہیں، ( اور باہر چلے جاتے ہیں ) خد انے ان کے دلوں کو حق سے پھیر دیا ہے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں ( اور بے علم ہیں ) ۔

۱۲۸۔ (اے ہمارے رسول) تم میں سے تمہاری طرف رسول آیاکہ جسے تمہاری تکالیف اور رنج و الم ناگوار ہیں، اور جو تمہاری ہدایت پر اصرار کرتا ہے اور مومنین پر روٴف و مہر بان ہے ۔

۱۲۹۔ اگر وہ ( حق سے ) منہ پھیر لیں ( تو پریشان نہ ہو جانا )، کہہ دو :کہ بس خدا میرے لئے کا فی ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میں نے اس پر توکل کیا ہے، اور وہ عرش عظیم کا پر وردگار( اور مالک )ہے ۔

12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma