سوره انعام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
ترجمه قرآن کریم

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱۔ تمام حمد وستائش اس خدا کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا،اور تاریکیوں اور نور کو ایجاد کیا، لیکن کافر خدا کے لیے شریک و شبیہ قرار دیتے ہیں ،حالانکہ اس کی توحید اور یکتائی کی دلیلیں تخلیق کائنات میں ظاہر وعیاں ہیں ۔

۲۔ وہ وہی ذات ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اس نے ایک مدت مقرر کی(تاکہ انسان درجہ کمال کو پہنچ جائے) اورحتمی اجل اس کے پاس ہے (اور وہ اس سے آگاہ ہے)اس کے باوجود تم(مشرک لوگ اس کی یکتائی یا اس کی قدرت میں )شک وشبہ رکھتے ہو، اور اس کا انکار کرتے ہو ۔

۳۔ اور آسمانوں اور زمینوں میں خدا تو وہی ہے جو تمہاری پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے، اور آشکار باتوں کو بھی، اور جو کچھ تم( انجام دیتے ہو اور )کسب کرتے ہو اس سے بھی باخبر ہے ۔

۴۔کوئی نشانی اور آیات خدا میں سے کوئی آیت ان تک نہیں پہنچی مگر یہ کہ وہ ان سے منھ پھیر لیتے ہیں ۔

۵۔ انہوں نے حق کا انکار کردیا جب کہ وہ ان کی طرف آیا، لیکن جس بات کا وہ مزاق اڑایا کرتے تھے بہت جلد انھیں اس کی اطلاع مل جائے گی؛ اور وہ اپنے اعمال کے نتائج سے آگاہ ہوجائیں گے ۔

۶۔کیا انھوں نے دیکھا نہیں ہے کہ ہم نے کتنی گذشتہ اقوام کو ہلاک کیا ہے ،وہ قومیں کہ (جو تم سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں اور )جنھیں ہم نے ایسی توانائیاں عطا کی تھیں جو تمھیں نہیں دی ہیں ، ہم نے ان کی طرف پے در پے بارشیں بھیجیں، اور ان کی (آبادیوں) کے نیچے نہریں جاری کیں؛(لیکن جب انھوں نے سرکشی اور طغیانی کی تو ) ہم نے  انھیں ان کے گنا ہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا ، اور ان کے بعد ہم دوسری قوم کو وجود میں لے آئے ۔

۷۔اگر ہم کاغذ پر(لکھی ہوئی کوئی)کتاب تجھ پر نازل کرتے اور وہ(دیکھنے کے علاوہ) اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے بھی تو پھر بھی کفار یہی کہتے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

۸۔ انھوں نے کہا کہ اس کے اوپر فرشتہ کیوں نہ نازل نہیں ہوتا (تاکہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دینے میں اس کی مدد کرتا) لیکن اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے (اور اصل امر محسوس طور پر مشاہدہ میں آجاتا) تو پھرتو معاملہ صاف ہوجاتا (اور ایسی صورت میں اگر وہ مخالفت کریں گے)تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی( اور وہ سب کے سب ہلاک ہوجائےں گے) ۔

۹۔اور اگر ہم  اسے فرشتہ قرار دے دیتے تو یقینا اسے بھی ایک مرد کی صورت میں ہی لاتے، پھر بھی (ان کے خیال کے مطابق تو) ہم معاملہ کو ان پر مشتبہ ہی چھوڑ دیتے جیسے وہ دوسروں پر معاملہ مشتبہ بناتے ہیں ۔

۱۰۔ (اس حالت سے پریشان نہ ہو )تجھ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑا گیا تھا، لیکن آخر کار جس چیز کا وہ مذاق اڑا تے تھے اسی نے ان کا دامن پکڑ لیا( اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہوگیا) ۔

۱۱۔ (اے رسول ) کہہ دو کہ تم زمین میں چلو پھرو، اس کے بعد (دیکھو اور) غور کرو جو لوگ آیات خدا وندی کو جھٹلاتے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟۔

۱۲۔کہہ دو کہ وہ چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے کس کی ہیں ، کہہ دو کہ وہ سب خد کی ہیں،جس نے رحمت (اور بخشش) کو اپنے اوپر ضروری قرار دے لیا ہے،(اور اسی دلیل سے ) تم سب کو قطعی طور پر قیامت کے دن کہ جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے جمع کرے گا ،اورصرف وہی لوگ ایمان نہیں لائیں گے جنھوں نے اپنا سرمایہ حیات ضائع کردیاہے اور خسارہ کا شکار ہیں ۔

۱۳۔اور جو کچھ رات اور دن میں ہے وہ بھی سب اسی کے لئے ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

۱۴۔کہہ دوکیا میں غیر خدا کو اپنا ولی بنالوں؟ جب کہ وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہ، وہ ہے کہ جو روزی دیتا ہے اور کسی سے روزی نہیں لیتا، تم کہہ دو کہ میں اس بات پر مامور ہوں کہ میں سب سے پہلے ”اس کے حکم کو تسلیم کرنے والا“(مسلمان) ہوں (اور خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ ) مشرکین میں سے نہ ہونا ۔

۱۵۔ کہہ دو کہ میں بھی اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو بڑے دن (قیامت کے) عذاب سے ڈر تا ہوں ۔

۱۶۔ اس دن جس شخص کے اوپر سے عذاب الٰہی اٹھ جائے (تو یوںسمجھو کہ) خدا نے اپنی رحمت اس کے شامل حال کر دی ہے، اور یہ واضح کامیابی ہے ۔

۱۷۔ اگر تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے ( خدا کے)  علاوہ کوئی بھی اسے برطرف نہیں کرسکتا، اوراگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے(اور ہر نیکی اسی کی طرف سےہوتی ہے)

۱۸۔ وہی ہے جو اپنے تمام بندوں پر قاہر ومسلط ہے، اور وہ حکیم وخبیر ہے ۔

۱۹۔کہہ دو :کہ سب سے بڑی گواہی کس کی ہے ،کہہ دو :کہ خدا وند تعالیٰ تمھارے درمیان گواہ ہے ، (اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ) اس نے یہ قرآن میرے اوپر وحی کیاہے، تاکہ تمھیں اور ان تمام افراد کو ڈراؤں کہ جن تک یہ قرآن پہنچے(اور حکم خدا کی مخالفت کا خوف دلاؤں ) کیا سچ مچ تم یہ گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں، کہہ دو: میں ہر گز اس قسم کی گواہی نہیں دیتا، کہہ دو کہ خدا یگانہ ویکتا ہے اور میں اس سے جو اس کا شریک قرار دے بری و بے زار ہوں ۔

۲۰۔ وہ لوگ کہ جنھیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے، اس (پیغمبر کو) اچھی طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوںکو پہچانتے ہیں،صرف وہ اشخاص ہیں کہ جو اپنا سرمایہٴ وجود کھو بیٹھتے ہیں ایمان نہیں لاتے ۔

۲۱۔ اس شخص سے زیادہ وہ اور کون ظالم ہوگا کہ جس نے خدا پر جھوٹ باندھا ،(اور اس کا شریک قائل ہوا) یا اس کی آیات کو جھٹلایا، یقینا ظالم نجات کا منہ نہ دیکھ پائیں گے ۔

۲۲۔ وہ دن کہ جس میں ہم ان سب کو محشور کریں گے تو مشرکین سے کہیں گے کہ تمھارے وہ معبود کہاں ہیں کہ جنھیں تم خدا کا شریک خیال کیا کرتے تھے( وہ تمھاری مدد کو کیوں نہیں آتے ۔

۲۳۔ پھر ان کا جواب اور عذر اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ وہ کہیں گے کہ اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہیں تھے ۔

۲۴۔ دیکھو وہ کس طرح خود اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتے ہیں اور()اس دن جسے جھوٹ موٹ خدا کا شریک سمجھتے تھے اسے چھوڑ بیٹھیں گے ۔

۲۵۔ ان میں سے کچھ لوگ تیری بات تو سنتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئے ہیں تاکہ وہ انھیں نہ سمجھیں، اورہم نے کانوں کو بوجھل کردیا ہے، اور وہ (اس قدر ہٹ دھرم ہیں ) کہ اگر حق کی تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے؛ یہاں تک کہ وہ جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے جھگڑنے لگتے ہیں، اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے لوگوں کے افسانے ہیں ۔

۲۶۔ وہ دوسروں کو اس سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دوری اختیار کرتے ہیں،  وہ اپنے سوا وہ کسی کو ہلاک نہیں کرتے لیکن سمجھتے نہیں ۔

۲۷۔اگر تم (ان کی حالت) دیکھو جس وقت وہ آگ کے سامنے کھڑے ہوئے کہیں گے کہ کاش ہم (دوبارہ دنیا کی طرف )پلٹادئے جاتے اور اپنے پرور دگار کی باتوں کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین میں سے ہوجاتے ۔

۲۸۔ (حقیقت میں وہ پشیمان نہیں ہیں)بلکہ ان کے وہ اعمال ونیات جنھیں وہ پہلے چھپائے ہوئے تھے ان کے سامنے آشکار ہوگئے ہیں(اور وہ وحشت میں پڑ گئے ہیں۔) اور اگر وہ پلٹ بھی جائیں تو  پھر انھیں اعمال کی طرف پلٹ جائیں گے جن سے انھیں روکا گیا ہے ،اور وہ یقینا جھوٹے ہیں ۔

۲۹۔ انھوں نے کہا : اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور ہم ہرگز دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے نہیں جائیں گے ۔

۳۰۔اگر تم انہیں اس وقت دیکھو جب وہ اپنے پروردگار (کی عدالت)کے سامنے کھڑے ہوں گے تو انھیں کہا جائے گا:کیا یہ حق نہیں ہے؟تو وہ اس کے جواب میں کہیں گے:جی ہاں،ہمارے پروردگار کی قسم(یہ حق ہے)،تو وہ کہے گا:جس بات کا تم انکار کیا کرتے تھے اس کی سزا میں اب عذاب کا مزہ چکھو ۔

۳۱۔جنھوں نے لقائے پروردگار کا انکار کیامسلمہ طور پر انہوں نے نقصان اٹھایا،(اور یہ انکار ہمیشہ رہے گا)یہاں تک کہ قیامت آجائے گی ،تو وہ کہیں گے ہائے افسوس کہ ہم نے اس کے بارے میں کوتاہی کی،وہ اپنے گناہوںکا(بھاری بوجھ)اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے، اور یہ کیسا برُا بوجھ ہوگا جو انھوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہوگا ۔

۳۲۔ اور دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں ہے، اور آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگار ہیں،کیا تم سوچتے نہیں ہو ۔

۳۳۔ہم جانتے ہیں کہ تجھے ان لوگوں کی گفتگو غمگین کردیتی ہے (مگر تم غم نہ کھاؤ اور جان لو) کہ وہ تمھاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ وہ ظالم تو آیات خدا کا انکار کرتے ہیں ۔

۳۴۔تجھ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی گئی ہے مگر انھوں نے ان تکذیبو ں کے مقابلہ میں صبر کیا ، او استقامت سے کام لیا ہے اور (اس راہ میں ) انھوں نے رنج وتکلیف اٹھائی ، یہاں تک کہ ہماری مدد ان تک آن پہنچی (تم بھی اسی طرح رہو اور یہ اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے) اور کوئی چیز اللہ کی سنتوں بدل نہیں سکتی، اورتمھیں گذشتہ پیغمبروں کی خبریں تو پہنچ ہی گئی ہیں ۔

۳۵۔ اور اگر تم(اے رسول) پر ان کا اعراض(روگردانی) کرنا گراں ہے تو اگر تم سے ہوسکے تو نقب لگا لو  یا آسمان میں سیڑھی لگا لو( اور زمین و آسمان کی گہرائیوں میں جستجو کرو) تاکہ کوئی آیت(یا دوسری کوئی اور نشانی ) ان کے لئے لا سکو،( لیکن یہ جان لو کہ یہ ہٹ دھرم پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے)لیکن اگر خدا چاہے تو انھیں (جبرا) ہدایت پر جمع کرسکتا ہے( لیکن جبری ہدایت کا کیا فائدہ ہے) پس تم ہرگزجاہلوں میں سے نہ ہونا ۔

۳۶۔صرف وہ لوگ (تیری دعوت) قبول کرتے ہیں جو سننے والے کان رکھتے ہیں،لیکن مردے (اور وہ لوگ جو روح انسانی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں ایمان نہیں لائیں گے اور ) خدا انھیں(قیامت کے دن) مبعوث کرے گا ،وہ اس کی طرف پلٹ جائیں گے ۔

۳۷۔ اور انھوں نے کہا: کہ کوئی نشانی( اور معجزہ) اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں ہوتا، تم کہہ دو کہ خدا وند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کرے لیکن ان میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں ہے ۔

۳۸۔ کوئی زمین میں چلنے والا جانور اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تمھاری طرح کی امت ہے، ہم نے کسی چیز کو اس کتاب میں فروگذاشت نہیں کیا ہے، پھر وہ سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے ۔

۳۹۔ اور وہ لوگ جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں تاریکیوں میں بہرے اور گونگے قرار پاتے ہیں ، جیسا خدا چاہتا ہے(اور وہ اسی کا مستحق ہوتا ہے) اسے وہ گمراہ کرتا ہے ،اور جسے وہ چاہتا ہے (اور اس کو اس بات کے لائق پاتا ہے) اسے سیدھے راستے پر قرار دیتا ہے ۔

۴۰۔کہہ دو :کیا تم نے کبھی سوچا بھی ہے کہ اگر خدا کا عذاب تم پر نازل ہوجائے یا قیامت آجائے تو کیا تم (اپنی مشکلات کے حل کے لئے) خدا کے سوا کسی اور کو بلاؤ گے اگر تم سچے ہو ۔

۴۱۔نہیں بلکہ تم صرف اسی کو بلاؤ گے اور اگر وہ چاہے گا تو اس مشکل کو جس کے لئے تم نے اسے بلایا ہے برطرف کردے گا، اور جسے (آج ) تم (خدا کا) شریک قرار دیتے ہو( اسے اس دن)بھول جاؤ گے ۔

۴۲۔ہم نے ان امتوں کی طرف جو تم سے پہلےتھیں (پیغمبر بھیجے، اور جب وہ ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے) تو ہم نے انھیں شدت وتکلیف اور رنج وبے آرامی میں مبتلا کردیا، شاید (وہ بیدار ہوجائیں اور حق کے سامنے ) سرتسلیم خم کردیں ۔

۴۳۔جب ہمارا عذاب ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے (خضوع کیوں نہیں کیا ؟) اور سرتسلیم کیوں خم نہ کیا؟، لیکن ان کے دل سخت ہوں گئے ،اور شیطان نے ہر اس کام کو جو وہ کرتے تھے ان کی نظروں میں پسندیدہ کرکے دکھائے۔

۴۴۔ جب (نصیحتوں نے کوئی فائدہ نہ دیا اور ) جو کچھ یا ددہانی کرائی گئی تھی وہ اسے بھول گئے تو ہم نے (نعمتوں میں سے) تمام چیزوں کے دروازے ان کے لئے کھول دئے، یہاں تک کہ وہ (مکمل طور پر) خوشحال ہوگئے،( اور انھوں نے ان کے ساتھ دل لگا لیا ) تو ہم نے یکایک انھیں دھر پکڑا(اور سخت سزا دی) تو اس وقت وہ سب کے سب مایوس ہوگئے( اور امید کے تمام دروازے ان پر بند ہوگئے) ۔

۴۵۔اور (اس طرح سے ) جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا،( اور ان کی نسل منقطع ہوگئی) اور حمدمخصوص ہے اس خدا کے لئے جو عالمین کا پروردگار ہے ۔

۶۴۔کہہ دو: کہ کیا تم نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ اگرخدا تمھارے کان اور آنکھیں تم سے لے لے اور تمھارے دلوں پر مہر لگا دے(کہ تم کوئی بات نہ سمجھ سکو)تو خدا کے سوااور کون ہے کہ جو یہ چیزیں تمھیں دیدے، دیکھو ہم آیات کی کس طرح مختلف طریقوں سے تشریح کرتے ہیں؛ پھر بھی اس کے بعد وہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں ۔

۴۷۔کہہ دو :کہ کیا تم نے یہ بھی غور کیا کہ اگر خدا کا عذاب اچانک (اور پوشیدہ) یا آشکار  طریقے سےتمھارے پاس آجائے تو کیا ظالموں کے گروہ کے سوا اورکوئی ہلاک ہوگا ۔

۴۸۔ اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے سوائے اس کے کہ وہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہوتے ہیں ، پس جو لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کے لئے نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔

۴۹۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، توان کی نافرمانیوں کے سبب خدا وندتعالیٰ کا عذاب انھیں پہنچے گا ۔

۵۰۔کہہ دو: کہ میں یہ تو نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں اور نہ میں غیب سے آگاہ ہوں( سوائے اس کے کہ جو خدا مجھے تعلیم دیتا ہے) اور میں تمھیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں، میں توصرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو خدا کی طرف سے مجھ پر وحی ہوتی ہے، کہہ دو :کہ کیا نا بینا اور بینا برابر ہیں، تم اس پر غور کیوں نہیں کرتے ؟

۵۱۔اس (قرآن) کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈراؤ جو حشر ونشر اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں( وہ دن کہ جس میں ) ان کے لئے یارویاور ، سرپرست اور شفاعت کرنے والا سوائے اس (خدا) کے کوئی اور نہ ہوگا، شاید وہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کریں ۔

۵۲۔ ان لوگوں کو جو صبح شام خدا کو پکارتے ہیں اور اس کی ذات پاک کے علاوہ کسی پر نگاہ نہیں رکھتے اپنے سے دور نہ کر ۔نہ ان کا حساب تجھ پر ہے اور نہ تیرا حساب ان پر ہے، اگر تو ان کو دھتکارے گا تو ظالموں میں سے ہوجائے گا ۔

۵۳۔ اور اس طرح ہم نے ان میں سے بعض کو دوسرے بعض کے ساتھ آزمایا ہے (تونگروں کو فقیروں کے ذریعے) تاکہ وہ یہ کہیں کہ کیا یہ ہے وہ جنھیں خدا نے ہمارے درمیان سے (چنا ہے اور) ان پر احسان کیا ہے (اور انھیں نعمت ایمان سے نوازا ہے)تو کیا خدا شکر کرنے والوں کو بہتر طور پر پہچانتا نہیں ہے؟۔

۵۴۔ اورجب وہ لوگ ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تمھارے پاس آئیں تو ان سے کہو، تم پر سلام ہو تمھارے پرور دگار نے اپنے اوپر رحمت فرض کرلی ہے، تم میں سے جو آدمی نادانی سے کوئی برا کام کرلے اس کے بعد توبہ اور اصلاح (وتلافی) کرلے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

۵۵۔اور ہم اس طرح سے آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (اور واضح کرتے ہیں) تاکہ گنہگاروں کا راستہ آشکار ہوجائے ۔

۵۶۔ تم کہہ دو: کہ مجھے ان کی پرستش سے منع کیا گیا ہےجنھیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو، کہہ دو: کہ میں تمھاری ہویٰ وہوس کی پیروی نہیں کرتا، اگر میں ایسا کروں گا توگمراہ ہوجاؤں گا، اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ ر ہوں گا ۔

۵۷۔ تم کہہ دو: کہ میں اپنے پرور دگار کی طرف سے ایک واضح اور روشن دلیل رکھتا ہوں، اور تم نے اس کی تکذیب کی ہے( اور اسے قبول نہیں کیا) وہ چیز کہ جس کے بارے میں تمھیں زیادہ جلدی ہے وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے،حکم اور فرمان جاری کرنا صرف خدا ہی کے اختیار میں ہے، جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے اور وہ (حق کو باطل سے) بہترین (طریقے پر) جدا کرنے والا ہے ۔

۵۸۔ تم کہہ دو: کہ اگر وہ چیز جس کے بارے میں تمھیں جلدی ہےمیرے پاس ہوتی (اور میں تمھاری درخواست پرعمل کرتا تو عذاب الٰہی تم پر نازل ہوجاتا اور ) میرا اورتمھارا کام انجام کو پہنچ جاتا، اور خدا ظالموں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے ۔

۵۹۔ غیب کی چابیاں صرف اسی کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اسے نہیں جانتا اور خشکی اور دریا میں جو کچھ ہے وہ اسے جانتا ہے کوئی پتہ (کسی درخت سے ) نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ اس سے آگاہ ہے، اور زمین کی پوشیدہ وتاریک جگہوں میں کوئی دانہ ہے اور نہ ہی کوئی خشک وتر چیزوجود رکھتی ہے مگر یہ کہ وہ واضح کتاب ( کتاب علم خدا) میں لکھی ہے ۔

۶۰ ۔وہی وہ ذات ہے کہ جو تمھاری روح کو رات کے وقت (نیند میں) لے لےتا ہے، اور جو کچھ تم نے دن میں کسب کیا (اور انجام دیا) ہے اس سے با خبر ہے، پھر وہ دن میں ( نیند سے) تمھیں اٹھاتا ہے( اور یہ کیفیت ہمیشہ جاری رہتی ہے) یہاں تک کہ معین گھڑی آپہنچے، اس کے بعد تمھاری بازگشت اسی کی طرف ہوگی اور جو کچھ عمل تم کرتے ہو وہ اس کی تمھیں خبر دے گا ۔

۶۱۔وہ اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے ، اور تمھارے اوپر نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی جان لے لیتے ہیں، اوروہ ( بندوں کے اعمال کے حساب کی نگہداری میں ) کوتاہی نہیں کرتے ۔

۶۲۔ اس کے بعد (تمام بندے) خدا کی طرف جو ان کا مولا ئےحقیقی ہے پلٹ جائیں گے، جان لو کہ حکم کرنا اسے کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ سب سے جلدی حساب کرنے والا ہے ۔

۶۳۔ کہہ دو: کہ کون ہے وہ کہ جو تمھیں خشکی اور سمندروں کی تاریکیوں سے رہائی بخشتا ہے جب کہ تم اسے آشکار اور پوشیدہ طور پر (دل ہی دل میں)پکارتے ہو(اور کہتے ہو) اگر تونے ہمیں ان (خطرات اور تاریکیوں) سے رہائی بخش دی، تو ہم شکرگزاروں میں سے ہوجائیں گے۔

۶۴۔ کہہ دو: کہ خدا تمھیں ان چیزوں سے اور ہر مشکل وپریشانی سے نجات بخشتا ہے پھر بھی تم اس کے لئے شریک قرار دیتے ہو(اور کفر کی راہ پر چلتے ہو) ۔

۶۵۔ تم کہہ دو: کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی عذاب یا تو اوپر کی طرف سے تم پر نازل کردے یا تمھارے پاؤں کے نیچے کی طرف سے بھیج دے،یا تمھیں مختلف گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے سے بھڑا دے او رجنگ (وناراحتی) کا ذائقہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے ذریعے چکھا دے، دیکھو ہم طرح طرح کی آیات کو کس طرح ان کے لئے واضح کرتے ہیں شاید وہ سمجھ لیں( اور پلٹ آئیں)

۶۶۔ تیری قوم نے ان کی (آیات کی )تکذیب اور انکار کیا حالانکہ وہ حق ہیں( ان سے ) کہہ دو کہ میں تمھارے بارے میں(قبول کرنے اور ایمان لانے کا) جوابدہ نہیں ہوں( میرا فریضہ صرف ابلاغ رسالت ہے نہ کہ تمھیں ایمان پر مجبور کرنا) ۔

۶۷۔ہر خبر (جوخدا نے تمھیں دی ہے آخر کار اس) کی ایک قرار گاہ ہے (اور وہ اپنی وعدہ گاہ میں انجام پاتی ہیں) اور تم جلدی ہی جان لوگے ۔

۶۸۔جس وقت تم ان لوگوں کو دیکھو کہ جو ہماری آیات کا مذاق اڑاتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لو، یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مشغول ہوجائیں، اور اگر شیطان تمھیں بھلا دے تو جو نہی (اس ) ستمگر گروہ کی طرف تمھاری توجہ ہوجائے تو ان کے پاس بیٹھنے سے کنارہ کشی اختیار کرلو ۔

۶۹۔ اور اگر صاحب تقوی افراد (انھیں ہدایت اور پند ونصیحت کرنے کے لئے ان کے پاس بیٹھ جائیں)تو ان کے حساب (وگناہ) میں سے کوئی چیز ان کے اوپر عائد نہیں ہوگی، لیکن (یہ کام صرف انھیں ) یاددہانی کرانے کے لئے ہونا چاہئے شاید (وہ سنے اور) پرہیزگاری اختیار کرلیں ۔

۷۰۔ تم ایسے لوگوں کو کہ جنھوں نے اپنے فطری دین کو کھیل تماشہ (اور استہزاء) بنا لیا ہے اور دنیاوی زندگی نے انھیں مغرور کردیا ہے، چھوڑ دو، اور انھیں نصیحت کرو تاکہ وہ اپنے اعمال کے (برے نتائج ) میں گرفتار نہ ہوں، (اس دن ) خدا کے سوا نہ ان کا کوئی یارویاور ہوگا اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا، اور (ایسے شخص سے) خواہ وہ کسی بھی قسم کا عوض کیوں نہ دے قبول نہیں کیا جائے گا، وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو ان اعمال میں گرفتار ہوئے ہیں کہ جو انھوں نے انجام دئے ہیں، ان کے پینے کے لئے گرم پانی ہے اور دردناک عذاب ہے، یہ اس سبب سے ہوگا کیوں کہ انھوں نے کفر اختیار کیا ہے ۔

۷۱۔ تم کہہ دو: کہ کیا ہم خدا کے سواکسی اور چیز کو پکاریں، کہ جو نہ ہمارے لئے کوئی فائدہ دینے والی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچانے والی؛اور (اس طرح سے ) ہم پیچھے کی طرف پلٹ جائیں جب کہ خدا نے ہمیں ہدایت کردی ہے، اس شخص کی مانند کہ جسے شیاطین کے وسوسوں نے گمراہ کردیا ہو اور وہ زمین میں حیراں ہو، حالانکہ اس کے لئے ایسے یارومددگار بھی ہیں کہ جو اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں (اور یہ کہتے ہیں) کہ ہماری طرف آؤ، تم کہہ دو: کہ صرف خدا کی ہدایت ہی (اصل ) ہدایت ہے، اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم عالمین کے پروردگار کے سامنے سرتسیلم خم کریں ۔

۷۲۔ اور یہ کہ نماز قائم کرو؛ اور اس سے ڈرو اور وہی ہے وہ ذات کہ جس کی طرف تم محشور ہو گے ۔

۷۳۔ اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، اور اس دن وہ کہے گا’ہوجاتو (جس بات کا ارادہ کیا ہے) وہ ہوجائے گا، اس کاقول حق ہے، اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن  حکومت اسی کے ساتھ مخصوص ہوگی، وہ( تمام )پوشیدہ اور ظاہر وآشکار( چیزوں )سے باخبر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے ۔

۷۴(اور یاد کرو )جب ابراہیم نے اپنے مربی (چچا) آزر سے یہ کہا کہ کیا تم بتوں کو اپنا خدا بناتے ہو، میں تو تمھیں اور تمھاری قوم کو واضح گمراہی میں پاتا ہوں ۔

۷۵۔اس طرح ہم نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت ابراہیم کو دکھائے تاکہ وہ اہلِ یقین میں سے ہوجائے۔

۷۶۔جب رات (کی تاریکی) نے اُسے ڈھانپ لیا تو اُس نے ایک ستارے کو دیکھا تو کہا: یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو کہا کہ میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

۷۷۔اور جب اُس نے چاند کو دیکھا کہ وہ (سینہ افق کو چیر کر) نکلا ہے تو اُس نے کہا: یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اگر میرا پروردگار میری رہنمائی نہ کرے تو میں یقینی طور پر گمراہ جماعت میں سے ہوجاؤں گا۔

۷۸۔اور جب اُس نے سورج کو دیکھا کہ وہ (سینہٴ افق کو چیر کر) نکل رہا ہے تو کہا : کیا یہ میرا خدا ہے؟ یہ تو (سب سے) بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا اے قوم میں اُن شریکوں سے جنھیں تم (خدا کے لیے) قرار دیتے ہو بیزار ہوں۔

۷۹۔میں نے تو اپنا رُخ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ میں اپنے ایمان میں مخلص ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔

۸۰۔ لیکن اُس (ابراہیم) کی قوم نے اُس سے حجت بازی شروع کی تو اُنہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں حجت بازی کیوں کرتے ہو۔ حالانکہ خدانے مجھے (واضح ولائل کے ساتھ) ہدایت کی ہے، اور جسے تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو میں اُس سے نہیں ڈرتا۔ (اور مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) مگر یہ کہ میرا پروردگار کچھ چاہے۔ میرے پروردگار کی آگاہی اورعلم اس قدر وسیع ہے کہ وہ تمام چیزوں پر حاوی ہے، کیا تم متذکر (اور بیدار) نہیں ہوتے۔

۸۱۔ میں تمہارے بتوں سےکس طرح ڈروں جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے خدا کا ایسا شریک قرار دے لیا ہے کہ جس کے بارے میں اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی، (سچ بتاؤ) ان دونوں گروہوں (بت پرستوں اور خدا پرستوں) میں سے کونسا گروہ (سزا سے) اَمن میں رہنے کے زیادہ لائق ہے۔ اگر تم جانتے ہو۔

۸۲۔ ہاں ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کیا، ان کا انجام امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔

۸۳۔ یہ ہمارے دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دیئے تھے۔ ہم جس شخص کے درجات کو چاہتے ہیں (اور اُسے لائق دیکھتے ہیں) اُوپر لے جاتے ہیں۔ تیرا پروردگارحکیم اور دانا ہے۔

۸۴۔ور ہم نے اُسے (ابراہیم کو) اسحاق و یعقوب عطا کیے اور ہم نے ہر ایک کو ہدایت کی، اور نوح کو (بھی) ہم نے (ان سے) پہلے ہدایت کی تھی، اور اس کی ذریت و اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو (ہم نے ہدایت کی) اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے جزا دیتے ہیں۔

۸۵۔ اور (اسی طرح) زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس سب صالحین میں سے تھے۔

۸۶۔ اور اسماعیل، الیسع، یونس اور ہر ایک کو ہم نے عالمین پر فضیلت دی۔

۸۷۔ اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے کچھ افراد کو ہم نے برگزیدہ کیا، اور اُنہیں راہ راست کی ہدایت کی۔

۸۸۔ یہ خدا کی ہدایت ہے کہ جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کی ہدایت کرتا ہے، اور اگر وہ مشرک ہوجائیں تو انھوں نے جو کچھ عمل کیا تھا وہ سب کا سب (ضائع اور) نابود ہوجائے گا۔

۸۹۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنھیں ہم نے کتاب اورحکم ونبوت عطا کی ہے، اور اگر وہ اس کا انکار کریں اور کافر ہوجائیں تو (آئین حق زمین گیر نہیں ہوجائے گا کیونکہ) ہم نے ایسے لوگوں کو اس کا نگہبان بنایا ہے کہ جو اُس کا کفر وانکار کرنے والے نہیں ہیں۔

۹۰۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنھیں خدا نے ہدایت کی ہے، لہذا تم ان کی ہدایت کی اقتدا (وپیروی) کرو، (اور) یہ کہو کہ میں اس (رسالت وتبلیغ) کے بدلے میں تم سے کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا یہ رسالت تو عالمین کے لیے ایک یاد دہانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

۹۱۔ انھوں نے خدا کو جیسا کہ پہچاننا چاہیے تھا، نہیں پہنچانا ،جب کہ انھوں نے یہ کہا کہ اُس نے کسی انسان پرکوئی چیز نازل نہیں کی، تم یہ کہہ دو: کہ وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے، کس نے نازل کی تھی۔ وہ کتاب جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی۔ (لیکن تم لوگوں نے) اُسے پراگندہ کردیا ہے۔ تم اس کے کچھ حصّے کو تو آشکار کرتے ہو اور کچھ کو پوشیدہ رکھتے ہو اور تمھیں ایسے مطالب کی تعلیم دی گئی ہے کہ جن سے تم اور تمہارے آباؤ اجداد باخبر نہیں تھے۔ کہہ دو کہ ,,خدا،،․․․․․․ اور پھر انھیں ان کی ہٹ دھرمی میں چھوڑ دو تا کہ وہ کھیل کود میں پڑے رہیں۔

۹۲۔ اور یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، یہ ایک ایسی بابرکت ہے کہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہیں اُن سب کی تصدیق کرتی ہے؛ (اسے ہم نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم لوگوں کو خدائی جزاؤں کی بشارت دو) اور اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم امّ القریٰ (مکہ) اور اس کے اِردگِرد کے لوگوں کو ڈارؤ ۔ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت ونگرانی کرتے ہیں۔

۹۳۔ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے، یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے حالانکہ اس پر وحی نازل نہ ہوئی ہو، اور وہ شخص کہ جو یہ کہے کہ میں بھی ایسا ہی (کلام) جیسا کہ اللہ نے نازل کیا ہے نازل کروں گا اور اگر تم ان ظالموں کو اُس وقت دیکھو جب کہ یہ موت کے شدائد میں گھرے ہوں گے اور فرشتے ہاتھ پھیلائے انھیں کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جان (اور روح) کو باہر نکالو۔ آج تم اُن دروغ گوئیوں کے بدلے جو تم نے خدا پر باندھی تھیں اور اس کی آیات کے سامنے جو تکبر تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے ذلیل کرنے والے عذاب دیکھو گے۔ (اور اس دن ان کی حالت پرتمھیں افسوس ہوگا)۔

۹۴۔ تم سب ہماری بارگاہ میں اکیلے لوٹ کر آئے ہو اسی طرح جیسا کہ پہلے دن ہم نے تمھیں خلق کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے (دنیا میں) تمھیں عطا کیا تھا اُسے (وہیں دنیا میں ہی) اپنے پسِ پشت ڈال آئے ہو، اور وہ شفاعت کرنے والے کہ جنھیں تم اپنی شفاعت میں شریک سمجھتے تھے انھیں ہم تمہاے ساتھ نہیں دیکھتے۔تمہارے پیوند اور رشتے قطع ہوگئے ہیں، اور وہ تمام چیزیں کہ جنھیں تم اپنا سہارا خیال کرتے تھے وہ تم سے دور اورگم ہوگئے ہیں۔

۹۵۔خدا دانے اور گٹھلی کو چیز نے والا ہے اور زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے ،اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے ، یہ ہے تمھارا خدا، پس تم حق سے کیسے منحرف ہوتے ہو۔

۹۶۔ وہ صبح کو شگافتہ کرنے والا ہے، اور اُس نے رات کو سکون کا باعث اور آفتاب و ماہتاب کو حساب کا ذریعہ قرار دیا ہے، یہ دانا و توانا خدا کی تقدیر ہے۔

۹۷۔ اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمھارے لیے ستار قرار دیئے تاکہ تم خشکی اور دریا کی تاریکی میں اُن کے ذریعہ ہدایت حاصل کرو۔ ہم نے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (اور جو اہلِ فکر ونظر میں) اپنی نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں۔

۹۸۔ اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا حالانکہ بعض انسان پائیدار ہیں (ایمان یا خلقت کامل کے لحاظ سے) اور بعض ناپائیدار ہم نے اپنی آیات اُن لوگوں کے لیے جوسمجھتے ہیں بیان کردی ہیں۔

۹۹۔ اور وہی وہ ذات ہے کہ جس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے طرح طرح کے نباتات اُگائے ۔ اُن سے سبز تنے اور شاخیں نکالیں، اور اُن سے ترتیب کے ساتھ چنے ہوئے دانے اورکجھور کے گچھوں سے باریک دھاگوں کے ساتھ جُڑے ہوئے خوشے باہر نکالے ،اور طرح طرح کے انگور، زیتون اور انار کے باغ (پیدا کئے) جو ایک دوسرے سے مشابہ بھی ہی اور (بعض) غیر مشابہ (ہیں) جب اُن میں پھل آتا ہے تو تم اُس میں پھل لگنے اور اُس کے پکنے کی طرف نگاہ کرو کہ اس میں صاحبانِ ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔

۱۰۰۔ انھوں نے جنوں میں سے خدا کے شریک قرار دیئے ہیں، حالانکہ خدا نے اُن سب کو پیدا کیا ہے، اور انھوں نے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں جھوٹ اورجہالت سے بنا رکھے ہیں، خدا اس بات سے منزہ وبرتر ہے جو یہ اس کی توصیف (میں بیان) کرتے ہیں۔

۱۰۱۔آسمانوں اور زمین کی ابداع کرنے اور (اور انھیں تازہ اورنیا وجود عطا کرنے والا) وہی ہے، کیسےممکن ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو ،حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے، اور سب چیزوں کو اسی نے پیدا کیا ہے، اور وہ سب چیزوں کو جانتا ہے ۔

۱۰۲۔ہاں ! ایسا ہی ہی تمھارا خدا ، تمھارا پروردگار، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ تمام چیزوں کا خالق ہے (تم صرف )اسی کی عبادت کرو، اور وہ تمام موجودات کا حافظ اور مدبر ہے۔

۱۰۳۔آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتی، لیکن وہ سب آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے، اور وہ (طرح طرح کی نعمتوں کا) عطا کرنے والا ہے ، (اور چھوٹے چھوٹے کاموں سے باخبر)اور (تمام چیزوں سے ) آگاہ ہے ۔

۱۰۴۔تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لئے واضح دلیلیں آئی ہیں،لہذا جوشخص (ان کے ذریعہ حق کو) دیکھے تو یہ اسی کے فائدہ میں ہے، اور جو شخص ان کو دیکھنے سے آنکھیں بند کرلے تو خوداسی کا نقصان ہے،میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں( اور میں تمھیں مجبور نہیں کرتا)۔

۱۰۵۔اور ہم آیات کو اس طرح مختلف شکلوں میں بیان کرتے ہیں ، اور انھیں کہنے دو کہ تونے سبق پڑھا ہے(اور تونے ان کوکسی دوسرے سے سیکھا ہے) ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم علم و آگاہی رکھنے والوں کے لئے اسے واضح کردیں۔

۱۰۶۔ جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر وحی ہوئی ہے اس کی پیروی کرو ،اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، اور مشرکین سے منہ پھیرلو۔

۱۰۷۔اگر خدا چاہتا (تو سب جبری طور پر ایمان لے آتے اور کوئی بھی) مشرک نہ ہوتا ، اور ہم نے تجھے ان کے اعمال کا جوابدہ قرار نہیں دیا، اور تیری یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انھیں(ایمان لانے پر) مجبور کرے۔

۱۰۸۔ایسے لوگوں (کے معبود) کو جو خدا کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ (بھی) ظلم وجہالت کی وجہ سے خدا کو گالیاں دےنے لگ جائیں، ہم نے ہر امت کے لئے ان کے عمل کو اسی طرح زینت دی اس کے بعد ان کی بازگشت تو ان کے پروردگار کی طرف ہی ہے، اور وہ انھیں ان کے اس عمل سے جو وہ کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا(اور اس کی جزا یا سزا دے گا) ۔

۱۰۹۔انھوں نے بہت ہی اصرارسے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر کوئی نشانی(معجزہ) ان کے لئے آجائے تو وہ یقینی طور پر اس پر ایمان لے آئیں گے، (اے رسول تم یہ) کہہ دو :کہ معجزات خدا کی طرف سے ہوتے ہیں،( اور یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمھاری خواہش پر معجزہ لے آؤں) اور تم نہیں جانتے کہ وہ معجزات کے آجانے کے باوجود بھی ایمان نہیں لائیں گے۔

۱۱۰۔ اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو اوندھا کردیں گے، کیوں کہ وہ ابتدا میں ایمان لائے تھے، اور  ہم انھیں طغیان وسرکشی کے عالم میں خود ان کی حالت پر چھوڑ دیں گے، تاکہ وہ سرگرداں ہوجائیں۔

۱۱۱۔ اور اگر ہم ان پر فرشتوں کو نازل کردیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اورتمام چیزوں کو ان کے سامنے جمع کردیتے تو بھی وہ ہرگز ایمان نہ لاتے، مگر یہ کہ خدا چاہے ، لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

۱۱۲۔ اس طرح ہم نے ہر نبی کے مقابلے میں شیاطین جن وانس سے کچھ دشمن قرار دئے ہیں کہ جوپر فریب اور بے بنیاد باتیں (لوگوں کو غافل رکھنے کے لئے) مخفی طور (اور کانوں میں ) ایک دوسرے سے کہتے تھے، اور اگر تیرا پرور دگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے،(اور وہ انھیں جبری طور پر روک سکتا تھا لیکن اجبار واکراہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اس بنا پر انھیں اوران کی تہمتوںکو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔

۱۱۳۔ اور(شیطانی وسوسوں اور شیطان صفت افراد کی تبلیغات کا ) نتیجہ یہ ہوگا کہ ان لوگوں کے دل جو روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی طرف مائل ہوجائیں گے،اور وہ اس پر راضی ہوجائیں گے، اور جو گناہ بھی وہ انجام دینا چاہیں گے دیں گے۔

۱۱۴۔ کیا میں( اس حال میں ) غیر خدا کو منصف کے طور پر اپناؤں، حالانکہ وہی وہ ہستی ہے کہ جس نے اس آسمانی کتاب کو جس میں ہر چیز کا تفصیلی بیان ہے نازل کیا ہے، اور وہ لوگ کہ جنھیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تیرے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے، اس بنا پر تم ہرگز شک تردد کرنے والوں میں سے نہ ہونا ۔

۱۱۵۔ اور تیرے پروردگار کا کلام صدق وعدل ساتھ انجام کو پہنچا،(لہذا) کوئی شخص اس کے کمالات کو دیگر گوں نہیں کرسکتا اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۱۶۔اور اگر تم زمین پر رہنے والے لوگوں میں سے اکثر لوگوں کی اطاعت کرو گے تووہ تمھیں راہ خدا سے گمراہ کردیں گے، وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ اٹکل پچو لڑاتے رہتے ہیں۔

۱۱۷۔ تیرا پروردگار ان لوگوں سے بھی خوب اچھی طرح آگاہ ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوگئے ہیں ،اور ان لوگوں سے بھی کہ جو ہدایت یافتہ ہیں۔

۱۱۸۔ اور جس (ذبیح) پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس سے ، (لیکن ان جانوروں کے گوشت سے کہ جن کو ذبح کرتے وقت ان پر خدا کا نام نہیں لیا گیا نہ کھاؤ)اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ۔

۱۱۹۔تم ان چیزوں میں سے کیوں نہیں کھاتے کہ جن پر خدا کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ (خدا وند تعالی نے) جو کچھ تم پر حرام تھا اسے بیان کردیا ہے مگر یہ کہ تم مجبور ہوجاؤ( کہ اس صورت میں اس قسم کے جانور کا گوشت کھانا جائز ہے ) اور بہت سے لوگ (دوسروں کو ) ہوا وہوس اور بے علمی کی وجہ سے گمراہ کردیتے ہیں اور تیرا پرور دگار تجاوز کرنے والوں کو بہتر طور پر پہچانتا ہے۔

۱۲۰۔ آشکار اورمخفی گناہوں کو چھوڑ دو کیوں کہ جو لوگ گناہ کماتے ہیں انھیں ان کے بدلے میں سزا دی جائے گی۔

۱۲۱۔ اور اس (ذبیحہ) سے کہ جس پر خدا کا نام نہیں لیا گیا، نہ کھاؤاور یہ فعل گناہ ہے، اور شیاطین اپنے دوستوں کومخفی طور پر کچھ مطالب القاکرتے رہتے ہیں، تاکہ وہ تم سے مجادلے اور جھگڑے کے لئے کھڑے ہوجائیں،او راگر  تم ان کی اطاعت کرو گے تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے۔

۱۲۲۔ کیاوہ جو کہ مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا، اور اس کے لئے ایک نور قرار دیا کہ جس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتاہے، کیا اس شخص کی مانند ہے کہ جو تاریکیوں میں ہو اور اس سے باہر نہ نکلے، اس طرح کفار کے لئے وہ(برے ) اعمال جو وہ انجام دیتے تھےمزین کر دئے گئے ہیں (او رخوبصورت دکھائی دیتے ہیں)۔

۱۲۳۔اور ہم نے اسی طرح سے ہر ہر شہر اور ہر ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم قرار دئے ہیں، (ایسے افراد کہ ہم نے جن کے اختیار میں ہر قسم کی طاقت دے دی تھی لیکن انھوں نے اس سے غلط فائدہ اٹھایا، اور غلط راستے پر چل پڑے)اور آخر کار ان کا معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ وہ مکر(کرنے اور لوگوں کو دھوکہ دینے) میں مشغول ہوگئے، لیکن (فی الحقیقت ) وہ صرف اپنے آپ کو ہی (دھوکہ اور) فریب دیتے ہیں اور سمجھتے نہیں۔

۱۲۴۔ اورجس وقت کوئی آیت ان کے لئے آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، جب تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی چیز نہ دکھائی جائے جیسی  خدا کے پیغمبروں کو دی گئی ہے،۔خدا ہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے، وہ لوگ جو گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں (اور انھوں نے اپنی حیثیت ومقام کو بچانے کے لئے لوگوں کو راہ حق سے منحرف کیا ہے ) وہ بہت جلدی اپنے مکر( اور فریب اور چالبازی) کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے، بارگاہ خدا وندی میں ذلیل ہوں گے اور عذاب شدید میں گرفتار ہوں گے۔

۱۲۵۔ جس شخص کے لئے خدا چاہتا ہے کہ ہدایت کرے اس کے سینہ کو(اسلام قبول کرنے )کے لئے کشادہ کردیتا ہے، اور جس شخص کو( اس کے برے اعمال کی وجہ سے) گمراہ کرنا چاہے اس کے سینہ کو اس طرح تنگ کردیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے، اس طرح خدا پلیدی ایسے افراد کے لئے قرار دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

۱۲۶۔اور یہ صراط مستقیم (اور ہمیشہ کی سنت) تیرے پروردگار کی ہے، ہم ایسے افراد کے لئے جو پندونصیحت حاصل کرتے ہیں اپنی آیات کو کھول کر بیان کردیتے ہیں۔

۱۲۷۔ ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس امن وامان کا گھر ہوگا او ر وہ ان کا ولی، دوست اور مددگار ہے ان (نیک)اعمال کی وجہ سے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

۱۲۸۔ اور اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع اور محشور کرے گا تو ان سے کہے گا کہ اے گروہ شیاطین وجن تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا ہے ، تو انسانوں میں سے ان کے دوست اور پیروکار کہیں گے اے ہمارے پروردگا ر ہم دونوں(گمراہ پیشواؤں اور گمراہ پیروکاروں) میں سے ہر ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے( ہم ہوس آلودہ اور زود گزر لذات تک پہنچے اور انھوں نے ہم پر حکومت کی) اور جو اجل تونے ہمارے لئے مقرر کردی تھی ہم اس تک پہنچ گئے،(خدا) کہے گا:تمھارے رہنے کی جگہ آگ ہےتم ہمیشہ کے لئے اسی میں رہوگے، مگر جو کچھ خدا چاہے ، تیرا پروردگار حکیم اور داناہے۔

۱۲۹۔ اور اس طرح سے ہم بعض ستمگروں کو بعض (دوسرے ظالموں ) کے سپرد کردیتے ہیں ،یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

۱۳۰۔ (اس دن ان سے کہے گا) اے گروہ جن وانس ! کیا تم ہی میں سے (ہمارے بھیجے ہوئے) رسول تمھارے پاس نہیں آئے تھے، جو ہماری آیات تمھارے سامنے بیان کیا کرتے تھے، اور اس قسم کے دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے، وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (ہاں ہم نے برا کیا) اور انھیں دنیا کی (زرق وبرق) زندگی نے فریب دیا، اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔

۱۳۱۔ یہ اس بنا پر ہے کہ تیرا پروردگار کبھی بھی شہر اور آبادیوں (کے لوگوں) کو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے غفلت اور بے خبری کی حالت میں ہلاک نہیں کرتا(بلکہ پہلے کچھ رسولوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے)۔

۱۳۲۔ اور (ان دونوں گروہوں میں سے ) ہر ایک کے لئے درجات (اور مراتب) ہیں ،ہر اس عمل کے بدلے میں جو انھوں نے انجام دیا ہے، اور تیرا پروردگار ان اعما ل سے جو انھوں نے انجام دئیے ہیں غافل نہیں ہے۔

۱۳۳۔ اور تیرا پروردگار بے نیاز اور مہربان ہے(لہٰذا وہ کسی پرظلم وستم نہیں کرتا بلکہ یہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتتے ہیں ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمھارے بعد تمھاری بجائے جو کچھ چاہے (اور جسے چاہے) تمھارا جانشین بنا دے ،جیسا کہ تمھیں دوسری اقوام کی نسل سے وجود میں لایا ہے۔

۱۳۴۔ جو کچھ تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ آکر رہے گا،اورتم (خدا کو ) عاجز ونوتواں نہیں کرسکتے( کہ اس کی عدلات وسزا سے بچ کر بھاگ جاؤ)

۱۳۵۔ کہہ دو اے قوم !جو کام( تم سے ہوسکتا ہے اور) تمھاری قدرت میں ہے کرگزرو؛ میں (بھی اپنے فریضہ پر) عمل کروں گا، لیکن بہت جلد تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ کس شخص کا انجام نیک ہوگا (اور کامیابی کس کے لئے ہے لیکن) یہ بات مسلم ہے کہ ظالم فلاح ونجات حاصل نہیں کریں گے۔

۱۳۶۔ اور (مشرکین نے ) ان چیزوں میں سے جو خدانے پیدا کی ہیں( یعنی ) زراعت اور چوپایوں میں سے کچھ حصہ خدا کے لئے( بھی ) قرار دیا ہے، اور انھوں نے یہ کہا کہ (ان کے گمان کے مطابق) یہ خدا کا مال ہے ،اور یہ ہمارے شرکاء (یعنی بتوں ) کا مال ہے، جو ان کے شرکاء کا مال تھا وہ تو خدا تک نہیں پہنچتا تھا لیکن جو خداکا مال تھا وہ ان کے شرکاء تک پہنچ جاتا تھا، (اور اگر بتوں کا حصہ کم ہوجاتا تھا تو خدا کامال انھیں دے دیتے تھے لیکن اس کے برعکس کو جائز نہیں سمجھتے تھے، یعنی خدا کا حصہ کم ہوجانے کی صورت میں بتوں کے مال میں سے خدا کو نہیں دیتے تھے)وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں (کہ شرک کے علاوہ خدا کو بتوں سے بھی کم تر سمجھتے تھے)۔

۱۳۷۔اور اسی طرح ان کے شرکاء (یعنی بتوں) نے ان کی اولاد کے قتل کو ان کی نظروںمیں پسندیدہ  بنا رکھا تھا (وہ اپنے بچوں کو بتوں پر قربان کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے) اور اس کام کا انجام یہ ہوا کہ بتوں نے انھیں ہلاکت میں ڈال دیا ،اور ان کے دین کو دگرگوں کردیا اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے( کیوں کہ خدا انھیں جبرا ایسا کرنے سے روک سکتا تھا لیکن جبر کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اس بناپر انھیں اور ان کی تہمتوں کوبھی چھوڑ دو(اور ان کے اعمال کی پرواہ نہ کرو)۔

۱۳۸۔ اور انھوں نے کہا کہ چوپایوں اور زراعت کا یہ حصہ (جو بتوں سےمخصوص ہے یہ سب کے لئے) ممنوع ہے اور سوائے ان لوگوں کے کہ جنھیں ہم چاہیں۔ان کے گمان کے مطابق اس سے کسی کو نہیں کھانا چاہئے ۔اور(وہ یہ کہتے تھے کہ یہ) ایسے چوپائے ہیں کہ جن پر سوار ہونا حرام قرار دیا گیا ہے ،اور وہ چوپائے کہ جن پر خدا کا نام نہیں لیتے تھے اور خدا پر جھوٹ باندھتے تھے (اور یہ کہتے تھے کہ یہ احکام خدا کی طرف سے ہیں ) عنقریب خدا ان کے افتراء  کی سزا  انھیں دے گا۔

۳۹۔ اور انھوں نے کہا کہ جو کچھ ان حیوانات کے شکم میں (جنین اور بچہ) موجود ہے وہ تو ہمارے مردوں کے ساتھ مخصوص ہے، اور وہ ہماری بیویوں پر حرام ہے، لیکن اگر وہ مردہ ہوں (یعنی مردہ پیدا ہوں ) تو پھر سب اس میں شریک ہیں، اورعنقریب (خدا) انھیں اس توصیف (اور جھوٹے احکام) کی سزا  دے گا، وہ حکیم اوردانا ہے۔

۱۴۰۔ یقینا جنھوں نے اپنی اولاد کو حماقت ونادانی کی بنا پر قتل کردیا انھوں نے نقصان اٹھایا ہے، اور جو کچھ خدا نے انھیں رزق دے رکھا تھا اسے اپنے اوپر حرام قرار دے لیا، اور خدا پر انھوں نے تہمت لگائی ہے، اور وہ گمراہ ہوگئے ہیں، اور (وہ ہرگز ) ہدایت نہیں پائیں گے۔

۱۴۱ ۔وہ ذات وہ ہے جس نے تمہارے لئے معروشات باغات(=وہ باغ جن میں بیلیں چڑھا نے کے لئے بلیے گاڑ کر رسی باندھی جاتی ہے)اور بغیر معروشات کے باغات(=وہ باغات جن میں ان کی ضرورت نہیں ہوتی)پیدا کئے؛ایسے ہی خرمے کے درخت اور کھیتیاں جن کے کھانے کے ذائقہ جدا جدا ہیں؛نیز زیتون اور انار کے درخت جو ایک جہت سے ایک دوسرے سے مشابہ اور ایک جہت سے غیر مشابہ ہیں (پتوں اور بناوٹ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مشابہ ہیں لیکن انکا ذائقہ اور میوہ مختلف ہے)ان کے پھلوں کے کھاوٴجب وہ پھل جائیں ،اور ان کے چننے کے واقت ان کا حق ادا کرو؛ اور اسراف نہ کرو؛ کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

۱۴۲۔(اسی نے )تمہارے لئے بوجھ ڈھونے والے چوپاوٴں اور چھوٹے جانوروں کو (جو دوسرے فائدوں کے لئے ہیں )پیدا کیا؛(لہذا)جو اس نے تمہیں روزی دی ہے اس میں سے کھاوٴ؛ اور شیطان کے قدموں کے پیروی نہ کرو، کیونکہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

۱۴۳۔بھیڑ کے آٹھ جوڑوں میں سے دو جوڑے(نر اور مادہ)پھر بکریوں میں سے دو جوڑے (نر اور مادہ تمہارے لئے پیدا کئے)؛کہہ دو: خدا نے ان کے نروں کو حرام کیا ہے یا مادہ کو ؟یا اسے جو ان دو ماداوٴں کے شکموں میں بچے ہیں؟! اگر تم سچ کہتے ہو(اور ان کی حرمت پر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے)تو مجھے علم و آگاہی کے ساتھ بتاو!۔

۱۴۴۔ اور اونٹ کی قسم میں سے دوجوڑے(نر اور مادہ )؛ اور گائے میں سے دو جوڑے (نر اور مادہ )؛ کہہ دو :کیا خدا نے نروں کو حرام کیا ہے یا ماداوٴں کو ؟!یا اسے جو ان ماداوٴں کے شکموں میں بچے ہیں ؟!یا خدا نے جب تمہیں اس مطلب کی وصیت کی تھی تم(ان کی حرمت پر ) گواہ تھے ؟! (بتاوٴ!)اس سےبڑا عالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان لگا تا ہے، تاکہ جہالت کی بناء پر لوگوں کو  گمر اہ  کرے ؟!خدا وند عالم کبھی ظالموں کی ہدایت نہیں کرتا۔

۱۴۵۔ (اے رسول)کہیے:  مجھ پر جو وحی آئی ہے اس میں ،میں کسی  کھانے والے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ چیز مُردار ہویا خون ہو، جو (حیوان یا انسان کے بدن سے) باہر نکلے، یا سُور کا گوشت ہو کہ یہ سب چیزیں گندی  اور پلیدگی ہیں، یا وہ حیوان جن پر بطور گناہ ذبح کرتے وقت غیر خدا (بتوں) کا نام لیا گیا ہو، لیکن وہ لوگ جن کا مقصود لذّت نہ ہو اور نہ وہ حد سے تجاوز چاہتے ہوں مجبور ہوکر کچھ کھالیں تو (اُن پر کوئی گناہ نہیں ہے)کیونکہ تیرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے۔

۱۴۶۔ اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن دار (حیوان جس کےکُھر بغیر شگاف کے ہوتے ہیں) کو حرام کیا، اور گائے بھیڑ میں سے ان کی چکتی اور چربی کو حرام کیا، سوائے اس چربی کے جو اُن میں پیٹھ پر، یا آنتوں کے تہوں میں اور دونوں پہلووٴں میں ہو ،یا وہ چربی جو ہڈیوں میں ملی ہوئی ہو، یہ حکم بطور سزا کے اس ظلم وستم کی وجہ سے تھا جو وہ کیا کرتے تھے اور ہم سچ کہتے ہیں۔

۱۴۷ ۔ اگر یہ تیری تکذیب کریں (اور ان حقائق کو نہ مانیں) تو ان سے کہہ دو: کہ تمھارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے، لیکن اس کے باوجود مجرموں سے اس کی سزا دُور ہونے والی نہیں ہے۔(پلٹنے کا راستہ تمھارے لئے کھلا ہوا ہے اور وہ تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا لیکن اگر اسی طرح اس کے احکام کی خلاف ورزیاں کرتے رہے تو تمھاری سزا حتمی ہے )

۱۴۸۔ عنقریب مشرک لوگ (اپنی گردن خلاصی کے لئے) کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم مشرک ہوتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام کرتے، ان سے قبل جو لوگ تھے، وہ بھی اسی طرح کے جھوٹ بولتے تھے اور آخر کار انھوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا، ان سے کہیے اس بارے میں تم کوئی یقینی دلیل رکھتے ہو؟ اگر ہو تو ہمیں بھی دکھلاؤ، تم فقط بے بنیاد خیالات کی پیروی کرتے ہو اور بے جا اندازے قائم کرتے ہو۔

۱۴۹۔ کہیے :کہ خدا کے لئے (دعوے کو) ثابت کرنے والی (یقینی) دلیل ہے (ایسی کہ جس کے بعدکسی کو بہانہ تراشی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی) اگر وہ چاہے تم سب کو (اجباری طور پر) ہدایت کردے (لیکن جبراً ہدایت کا کوئی  فائدہ نہیں اس لئے وہ یہ کام نہیں کرتا)

۱۵۰۔ کہہ دو :کہ تم اپنے گواہوں کولاؤجو اس بات کی گواہی دے سکیں کہ الله نے ان چیزوں کوحرام کیا ہے،  اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ (ہم آواز نہ ہونا) گواہی نہ دینا، اور ان لوگوں کی ہوا وہوس کی پیروی نہ کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں، اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

۱۵۱۔ کہو کہ آؤ جس چیز کو تمہارے پروردگار نے تمہارے اوپر حرام قرار دیا ہے میں تمھیں پڑھ کر سناؤں، اور وہ یہ کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ ٹھہرانا، اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا، اور اپنی اولاد کو تنگدستی (کے خوف) سے ہلاک نہ کرنا، ہم تمھیں اور انھیں دونوں کو روزی دیتے ہیں، اور بُرے کاموں کے پاس بھی نہ جانا، چاہے وہ نمایاں ہوں یا چھپے ہوئے، جس جان کو اللہ نے محترم قرار دیا ہے اسے نہ مارنا،مگر یہ کہ حق (استحقاق کی بناپر) ہو، یہ وہ (حکم) ہے جس کی اللہ نے تمھیں تاکید کی ہے، تاکہ تم اسے سمجھو۔

۱۵۲۔ اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانامگر یہ کہ بطریقِ احسن (اصلاح کے لیے)ہو، یہاں تک کہ وہ سن تمیز کو پہنچ جائے، اور انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرنا، ہم کسی (بندے) پر اس کی استطاعت سے زیادہ ذمہ داری عائد نہیں کرتے، اور جس وقت کوئی بات کرنا اور فیصلہ کرناتو عدالت کا خیال رکھنا ،چاہے وہ تمہارے قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں، اور اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرو ، یہ وہ چیز ہے جس کی خدا تمہیں وصیت کرتاہے ، تاکہ تمہیں یاد رہے (خواب غفلت میں نہ رہو)۔

۱۵۳ ۔یہ میرا سیدھا راستہ ہے ، اس کی پیروی کرو؛ اور پراکندہ راستوں کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اس کی راہ سے ہٹا دیں گے ، یہ وہ چیز ہے جس کی خدا تمہیں تاکید کرتا ہے ، تاکہ پر ہیز گاری کو اپناوٴ۔

۱۵۴۔ اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو (آسمانی) کتاب دی، جو نیک تھے، ان پر (اپنی نعمت کو) تمام کیا، اور تمام چیزیں (جن کی ان کو ضرورت تھی) ان پر واضح کردیں۔ یہ کتاب ہدایت و رحمت کا سرمایہ تھی، تاکہ وہ (قیامت کے دن) اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔

۱۵۵۔ اور یہ ایک پر برکت کتاب ہے جو ہم نے (تجھ پر) نازل کی ہے۔ اس کی پیروی کرنا، اور پرہیزگاری کو اپنا نا، تاکہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہو۔

۱۵۶۔ (ہم نے ان خصوصیات کی کتاب نازل کی) تاکہ یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے جو دوقومیں (یہود و نصاریٰ) تھیں بس ان پر کتاب آسمانی نازل ہوئی تھی اور ہم اس کے مطالعہ سے بے خبر تھے۔

۱۵۷۔ یا یہ نہ کہو کہ اگر ہم پر بھی آسمانی کتاب نازل ہوئی ہوتی تو ہم ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ (لو) اب یہ آیتیں اور روشن دلیلیں تمہارے پروردگار کی جانب سے آگئی ہیں۔ اسی طرح اس کی ہدایت و رحمت بھی (آگئی ہے)۔ اس صورت میں ان لوگوں سے بڑھ کر کون ستمگار ہوگا جو آیات الٰہی کی تکذیب کرنے لگیں، اور ان سے روگردانی کریں۔ لیکن عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے روگردانی کرتے ہیں، ان کی اس بلاوجہ کی رُوگردانی کے سبب سخت سزا دیں گے۔

۱۵۸۔ کیا انھیں صرف اس بات کا انتظار ہے کہ (موت کے) فرشتے ان کے پاس آئیں یا خدا (خود) ان کے پاس آئے، (یہ توقع کیسی محال ہے!) یا خدا کی آیتوں میں کچھ آیتیں (جو روزِ قیامت کی نشانی ہوں) ان کے پاس آیئیں، لیکن جس روز یہ آئیں اور نشانیاں آجائیں گی اس روز ان لوگوں کا ایمان لانا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں گے، یا انھوں نے کوئی نیک عمل نہ کیا ہوگا، انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائےگا، (اے ہمارے رسول) ان سے کہہ دو :کہ (اب جبکہ تم ایسا بے جا انتظار وتوقع کیے بیٹھے ہو تو پھر) انتظار کرو، ہم بھی (تمھاری سزا کے وقت کا) انتظار کرتے ہیں۔

۱۵۹۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین و آئین میں تفرقہ ایجاد کیا اور وہ مختلف جہتوں (اور مختلف مذہبوں) میں بٹ گئے، تمھیں (اے رسول!) ان سے کوئی واسطہ نہیں، ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے، لہٰذا خدا ہی انھیں ان کے کرتوتوں سے آگاہ کرے گا ۔

۱۶۰۔ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اسے دس گُنا صلہ ملے گا، اور جوشخص کوئی بُرا کام کرے گا اسے اتنی ہی سزا ملے گی (جتنااس بُرا کام کیا ہوگا) اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا ۔

۱۶۱۔(اے ہمارے نبی) کہہ دیجئے: میرے رب نے مجھے راہ راست کی ہدایت کی ہے ،(وہ راہ راست جو) ایک مضبوط اور ثابت رہنے والا دین ہے ،یہ اس ابراہیم کا دین ہے ،جس نے اپنے ماحول کے تمام خرافاتی آئینوں سے روگردانی کی تھی اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے ۔

۱۶۲۔ کہہ دیجئے: میری نماز، میری تمام عبادتیں، میری زندگی، میری موت، یہ سب تمام جہانوں کے پالنے والے کے لئے ہے ۔

۱۶۳۔ اس کا کوئی شریک نہیں،اور اسی کامجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں پہلا مسلمان ہوں ۔

۱۶۴ ۔ (اے ہمارے رسول !)کہددو :کہ کیا میں الله کے علاوہ کوئی اور پر ور دگار مان لوں ،جبکہ وہ تمام چیزوں کا پروردگار ہے، اور کوئی شخص عمل بجا نہیں لاتا سوا ئے اس کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اپنے لئے کرتا ہے، اور کوئی گنہگار دوسرے کے گناہ اپنے ذمہ نہیں لے گا ۔ اس کے بعد تمہاری واپسی تمھارے پروردگار کی جانب ہے،پھروہ تمھیں اس چیز کی خبر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے ۔

۱۶۵۔ وہ (خدا) وہی ہے جس نےتمھیں زمین پر جانشین (اور اپنا نمائندہ) بنایا، اوربعض افراد کو دوسرے افراد پر مرتبوں کی رو سے برتری عطا کی،تاکہ تمھیں ان چیزوں سے جو تمھارے اختیار میں دی ہیں، آزمائے ۔ یقینا تمہارا پروردگار بہت تیز حساب کرنے والا، بخشنے والا اورمہربان ہے (جو لوگ اپنے امتحان میں ناکامیاب ہوں گے ان کا حساب کتاب جلد کرے گا اور جن لوگوں نے راہ حق پر قدم اٹھایا ہے ان کے حق میں مہربان ہوگا) ۔

12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma