سورة نساء

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
ترجمه قرآن کریم

                             شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا اور مہربان ہے ۔

۱۔ اے لوگو ! اپنے پالنے والے سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی انسان سے پیدا کیا، اور اس کی بیوی کو بھی اس کی جنس سے خلق فرمایا، اور ان دونوں سے ان گنت مرد اور عورتیں ( روئے زمیں پر ) پھیلا دیں ۔ اس خدا سے ڈرو جس کی عظمت اور بزرگی کا تم سب اعتراف کرتے ہو ،اور جب کوئی چیز ایک دوسرے سے مانگتے ہو تو اسی کے نام سے لیتے ہو ۔ (نیز ) اپنے رشتہ داروں کے بارے میں ( قطع تعلق کرنے سے ) پرہیز کرو ۔ کیونکہ خدا وند عالم تمہارا نگران ہے ۔

۲۔یتیموں کے مال ( جب وہ بالغ ہو جائیں ) انہیں دے دو اور ( اپنے ) برے مال ( یتیموں کے ) اچھے مال سے تبدیل نہ کرو، اور ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر یا تبدیل کر کے نہ کھاوٴ کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔

۳۔ اور اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہو ( کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کی صورت میں ) ان سے انصاف نہ کر سکو گے تو ( ان سے شادی کرنے سے صرف نظر کرلو اور ) اور دوسری پاک عورتوں سے نکاح کرو، دو یا تین یا چار بیویاں اور اگر تم کو ڈر ہو ( کہ متعدد بیویوں کے بارے میں ) عدل ملحوظ نہ رکھ سکو گے تو پھرایک ہی بیوی پر قناعت کرو اور یا جن عورتوں کے تم مالک ہو ان سے استفادہ کرو ۔ یہ طریقہ بہتر طور پر ظلم و ستم سے محفوظ رکھتا ہے ۔

۴۔ اور عورتوں کا حق مہر (اپنے اوپر بالکل ) ایک قرض سمجھتے ہوئے(یا ایک عطیہ کے طور پر ) انہیں ادا کر دو، اور اگر وہ راضی خوشی اس میں سے کوئی چیز تمہیں بخش دیں تو اسے حلال اور مناسب سمجھتے ہوئے استعمال کرلو۔

۵۔ اور اپنے اموال کہ جنہیں خدا نے تمہاری زندگی کا وسیلہ قرار دیا ہے انہیں بے وقوفوں کے ہاتھ میں نہ دو، اور اس کے منافعہ سے  انہیں روزی دے دو ،اور انہیں لباس پہناوٴ اور ان سے شائستہ طریقہ سے گفتگو کرو۔

۶۔ اور یتیموں کو آزما کر دیکھو یہاں تک کہ جب ( تم دیکھو کہ ) وہ  حدبلوغ کو پہنچ گئے ہیں تو اگر ان میں (کافی ) رشد و شعور پاوٴ تو ان کے اموال ان کے سپرد کردو، اور ان کے بڑے ہونے سے پہلے ان کے اموال جلد بازی یا فضول خرچی کے طور پر نہ کھاوٴ، اور ( سر پرستوں میں سے ) جو شخص بے نیاز (مالدار)ہے وہ ( حق زحمت لینے سے )پر ہیز کرے اور جو شخص ضرورت مند ہے وہ شائستہ طریقہ سے ( اور جو زحمت اس نے اٹھائی ہے اس کے مطابق اس میں سے کھائے اور جب ان کا مال انہیں دے دو تو اس ( ادائیگی )پر گواہ بنا لو ،( اگر چہ ) خدا محا سبہ کے لئے کافی ہے ۔

۷۔ مردوں کے لئے اس میں سے جو کچھ ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے اور عورتوں کے لئے بھی جو کچھ ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے۔ چاہے وہ مال کم ہو یا زیادہ یہ حصہ مقرر اور لازمی ہے ۔

۸۔ اگر میراث کی تقسیم کے وقت رشتہ دار ( اور اس طبقے کے لوگ جن کا میراث سے کوئی تعلق نہیں ہے ) اور یتیم اورمسکین موجود ہوں تو اس مال میں سے کچھ تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے اچھے طریقہ سے بات کرو۔

۹۔ جو لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے بعد نابالغ اولاد چھوڑ جائیں گے تو اس کا آنے والے دور میں کیا حشر ہوگا ،انہیں چاہیے کہ وہ یتیموں پر ظلم کرنے سے ڈریں، اور خدا کی مخالفت سے بچیں ،اور یتیموں سے محبت اور نرمی سے گفتگو کریں۔

۱۰۔ جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و ستم سے کھاتے ہیں وہ صرف آگ کھا رہے ہیں اور وہ بہت جلد جلانے والی آگ میں جلیں گے ۔

۱۱۔ خدا تم کو تمہاری اولاد کے بارے مین وصیت کرتا ہے کہ ( میراث میں سے ) ایک بیٹے کا دو بیٹیوں کے برابر حصہ ہے، اگر تمہاری ( دو یا ) دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو میراث کی دو تہائی  ان کے لئے ہے اور اگر ایک ہو تو اس کے لئے آدھی میراث ہے ۔ اور ( مرنے والے کے ) باپ اور ماںمیں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے، اگر اس کی اولاد ہو ۔ ( بصورت دیگر ) اگر اس کے اولاد نہ ہواور صرف ماں باپ اس کی میراث لیں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے(بقیہ سارا مال باپ کا ہوگا) اور اگر اس کے بھائی موجود ہوں تو اس کی ماں چھٹا حصہ لے گی ،( اور باقی چھ میں سے پانچ حصے اس کے باپ کے لئے ہیں ) یہ سب کچھ )اس وصیت پر عمل کرچکنے کے بعد ہے جو مرنے والا کر گیا ہے  اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد ۔ تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ اور ماوٴں اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہارے لئے زیادہ فائدہ مند ہے ۔ یہ فریضہ الہٰی ہے اور وہ دانا اور حکیم ہے ۔

۱۲۔ اور تمہارے لئے تمہاری بیویوں کی میراث میں سے اولاً آدھا ہے اگر ان کے ہاں اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کی وصیت اور قرض کی ادائگی کے بعد چوتھا حصہ ہے ،اور تمہاری بیویوں کے لئے تمہاری میراث کا چوتھا حصہ ہے ، اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کا تمہاری وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادائیگی کے بعد آٹھواں حصہ ہے ،اور اگر میت  کوئی ایسا شخص ہو کہ کلالہ ( ایک بہن یا ایک بھائی ) اس کی میراث لے یامرنے والی کوئی عورت ہے کہ جس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے ( اگر بھائی اور بہنیں مادری ہوں ) اور ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ وصیت کو پورا کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد تیسرے حصہ میں برابر برابر شریک ہیں ۔ بشرطیکہ (وصیت کے طریقے اور قرض کا اقرار ) انہیں نقصان نہ پہنچائے ۔ یہ خدا کا فرمان ہے اور وہ جاننے والا اور حکیم ہے ۔

۱۳۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی ) سرحدیں ہیں ۔ جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر  کی اطاعت کرے ( اور اس کے قوانین کی سرحدوں کا احترام کرے ) وہ اسے اسی جنت کے باغوں میں بھیجے گا جس کے درختوں کے نیچے پانی کی نہریں جاری رہتی ہیں ،اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے اس میں رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے ۔

۱۴۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی سر حدوں سے تجاوز کرے گا تو وہ اسے ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا؛ اور اس کے لئے ذلت آمیز سزا ہے ۔

۱۵۔ اور تمہاری عورتوں میں سے جو زانی ہوں ، ان پر چار مسلمان مردوں کوگواہ کے طور پر طلب کرو ،اورگر وہ گواہی دیں تو ان ( عورتوں ) کو ( اپنے ) گھروں میں بند کردو ۔ یہاں تک کہ وہ مر جائیں یا خدا ان کے لئے کوئی راستہ کھول دے ۔

۱۶۔ اور وہ مرد اور عورتیں ( جو شادی شدہ نہ ہوں ) اور یہ برا کام کر بیٹھیں انہیں سزا دو( ان پر حد جاری کرو ) اور اگر وہ  سچ مچ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں ( اور گذشتہ حرکت کی تلافی کر لیں ) تو انہیں معاف کر دو، کیونکہ خدا وند عالم توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے ۔

۱۷۔ توبہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جہالت کی وجہ سے برے کام کرتے ہیں، اور اس کے بعد جلدی سے توبہ کر لیتے ہیں ۔خدا ایسے لوگوں کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے اور وہ دانا و حکیم ہے ۔

۱۸۔اور برے کام کرنے والے لوگوں میں سے جب کسی کی موت کا وقت آجاتا ئے اور وہ کہے کہ اب  توبہ کرتا ہوں تو اس کی  یہ توبہ ، قبول نہیں ہے اور ایسے  نہ ان  لوگوں کی توبہ جو حالت کفر میں دنیا سے اٹھ جا تے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

۱۹۔ اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم  عورتوں سےسختی کے ساتھ ( اور انہیں تکلیف پہنچاکر ) میراث لو؛ اور جو کچھ ( بطور حو مہر ) انہیں دیا ہے اس میں کچھ حصہ کو اپنی ملک بنانے کے لئے ان پرسختی نہ کرو ۔ مگر یہ کہ وہ کھلے بندوں کی براکام کریں ۔ اور ان سے اچھا سلوک کرو اگر چہ تم ان سے ( کئی وجوہات کی وجہ سے ) نفرت و حقارت کرتے ہو ( تو فورا علیحدگی کا پختہ ارادہ نہ کرو ) کیونکہ اکثر اوقات تم کسی چیز کو نا پسند کرتے ہو جبکہ  خدا اس میں بہت زیادہ نیکی قرار دیتا ہے ۔

۲۰۔ اگر تمہارا یہ ارادہ ہو کہ اپنی بیوی کی جگہ دوسری بیوی کا انتخاب کرو اور تم اسے ( حق مہر کے طور پر ) بہت زیادہ مال دے چکے ہو تو اس میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لو ۔ کیا تم عورتون سے مہر واپس لینے کے لئے تہمت اور کھلے گناہ کا سہارا لیتے ہو ؟

۲۱۔ اور تم کس طرح اسے واپس لے سکتے ہو جبکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اور پورا پورا میل ملاپ رکھتے ہو ۔ ( چھوڑنے کے باوجود ) وہ تم سے ( شادی کے وقت ) مضبوط وعدہ لے چکی تھیں ۔

۲۲۔ اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہیں ۔ مگر وہ نکاح ہو چکے ہیں ( اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے ) کیونکہ یہ کام برا ، باعث نفرت اور غلط ہے ۔

۲۳۔تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں ، تمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ، تمہاری بھتیجیاں تمہاری بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے ، تمہاری رضاعی بہنیں ، تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جنہوں نے تمہاری گود میں پر ورش پائی ہو اور جو ان بیویوں سے ہیں جن کے ساتھ تمہاری ہمبستر رہی ہے ،اگر ان سے ہمبستری نہیں رہی تو ان کی بیٹیاں تمہارے لئے ممنوع نہیں ہیں ( اسی طرح ) تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری نسل سے ہیں ( نہ کہ منہ بولے بیٹے ) نیز ( تم پر حرام ہے ) یہ کہ دو بہنوں ایک ساتھ نکاح کرو مگر وہ جو گذشتہ زمانے میں ہو چکا ہے خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

۲۴۔ اور شوہر دار عورتیں ( تم پر حرام ہیں ) مگر وہ (عورتیں جو کفار کے ساتھ جنگ میں اسیر ہو گئی ہوں)کہ جن کے تم مالک بن گئے ہو ۔ یہ ایسے احکام ہیں جو خدا نے تم پر مقرر کئے ہیں ، ان ( مذکورہ ) عورتوں کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں، اور جنہیں اپنے مال کے ذریعے اپناوٴ بشرطیکہ تم پاک دامن رہو اور زنا سے بچو، اور جن عورتوں سے متعہ کرو تو ان کا حق مہر جو تم پر واجب ہے ادا کرو، اور تم پر اس کی نسبت کوئی گناہ نہیں جس پر ایک دوسرے کے ساتھ مہر مقرر کرکے موافقت کرلو، خدا دانا و حکیم ہے ۔

۲۵۔ اور جو لوگ (آزاد ) پاک دامن عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کنیزوں میں سے پاک دامن ایماندار عورتوں سے جو ان کی ملکیت میں ہیں نکاح کریں ۔ خدا تمہارے ایمان سے آگاہ ہے اور تم سب ایک ہی پیکر کے مختلف اگزاء ہو ۔ اور ان (کنیزوں )سے ان کے ملکوں کی اجازت سے نکاح کرو ۔ لیکن ان کا حق مہر ان ہی کو اس شرط کے ساتھ دو کہ وہ پاک دامن رہیں ۔ یہ کہ وہ کھلے بندوں زنا کرتی پھریں اور نہ ڈھکے چھپے یار بنائیں، اور جب وہ سہاگن ہوں اور پھر عفت کے منافی کام کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں سے آدھی سزا ہو گی ۔ ( کنیزوں سے نکاح کرنے کی ) یہ اجازت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ( جنسی تقاضوں کے حوالے سے ) سخت تنگ ہوں ۔ اگر صبر وتحمل سے کام لو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور خدا بخشنے والا اورمہربان ہے۔

۲۶۔خدا چاہتا ہے ( کہ ان احکام کے ذریعے نیکی اور خوش قسمتی کی راہیں ) تمہارے لئے واضح کرے اور گزرے ہوئے لوگوں کے (صحیح) طریقوں(درست) اور سنتوں کی طرف تمہاری ہدایت و رہبری کرے ،اور تمہیں گناہوں سے پاک کرے اور خدا دانا و حکیم ہے ۔

۲۷۔ اور خدا چاہتا ہے کہ تمہیں بخش دے ( اور گناہوں سے پاک کردے ) لیکن جو لوگ شہوت کے غلام ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بالکل منحرف ہو جاوٴ۔

۲۸۔ خدا چاہتا ہے ( کنیزوں سے نکاح اور اسی قسم کے دوسرے احکامات کے ذریعے ) تمہارے لئے کام کو آسان کردے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔(اور سنگین وظائف کے مقابلہ میں کم توانائی رکھتا ہے )۔

۲۹۔ اے ایمان والوں ایک دوسرے کے مال باطل ( اور نا جائز طریقے) سے نہ کھاوٴ مگر یہ کہ ایسی تجارت ہو جو تمہاری رضا مندی سے کی جائے اور خود کشی نہ کرو ۔ خدا تم پر مہر بان ہے ۔

۳۰۔ اورجو شخص اس کام کو از روئے ظلم و تجاوز کرے تو اسے ہم بہت جلد آگ میں ڈالیں گے، اور یہ کام خدا وند عالم کے لئے آسان ہے ۔

۳۱۔ اگر تم ان گناہان کبیرہ سےجن سےتمہیں منع کیاگیا ہے بچو گے تو ہم تمہارے چھوٹے موٹے گناہوں کی پردہ پوشی کرلیں گے ،اورتمہیں نہایت عمدہ اور اچھی جگہ داخل کریں گے ۔

۳۲۔ جو فضیلت خدا نے تم سے بعض کو بعض پر دی ہے اس کی تمنا اور آرزو نہ کرو ۔ (یہ طبعی فرق تمہارے معاشرے کے نظام کی حفاظت کے لئے ، حقوق اور عدالت کے عین مطابق ہے ۔ لیکن اس کے باوجودد ، مرد اس سے جو کسب و کوشش کرتے ہیں حصہ پالیتے ہیں اور عورتیں جو کسب اور کو شش کرتی ہیں اس میں حصہ حاصل کرتی ہیں ۔ ( کسی کے حقوق پامال نہیں ہونے چاہئیں ) اور خدا سے اس کے فضل ( اور رحمت و بر کت ) کا سوال کرتے رہو، اور وہ خدا ہر چیز کو جانتا ہے ۔

۳۳۔ ہم نے ہر شخص کے لئے وارث بنایا ہے کہ اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں سے میراث لے ؛ نیز اس طرح ان سے میراث لے کن سے عہد و پیمان کیا ہے ؛ لہٰذا ان کا حصہ انھیں دیدو، خدا وند عالم ہر چیز حاضر و ناظر ہے ۔

۳۴۔ مرد عورت کے سر پرست اور نگہبان ہیں اس برتری کی بناء پر جو خدا وند عالم نے (اجتماعی نظام کو بر قرار رکھتے کے لے) بعض کو بعض  پرعطا کی ہے ، نیز اس خرچ کی بناء پر جو و ہ اپنے مال میں سے عورتوں پر کرتے ہیں ، پس نیک عورتیں وہ ہیں جو متواضع ہیں اور اپنے شوہر (کے پیٹھ پیچھے)اس کے حقوق اور رازوں کی حفاظت کرتی ہیں ان حقوق کے بدلے جو خدا نے ان کے لئے مقرر کئے ہیں ، اور وہ عورتیں جن کی سرکشی اور مخالفت سے ڈرتے ہو تو انھیں وعظ و نصیحت کرو؛(اور اگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہو)تو ان کے ساتھ سونا بند کردو ؛ (اور اگر تشدد کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو )تو انھیں ماروپھر اگر انھوں نے تمہاری پیروی کرلی تو ان پر تعدی کرنے میں چارہ جوئی میں نہ رہو۔(جان لو)!  خداوند عالم بلند مرتبہ اور بڑا ہے (اس کی طاقت سب طاقتوں سے زیادہ ہے)۔

۳۵۔ اور اگر میاں بیوی کے درمیان جدائی سے ڈرتے رہو تو ایک منصف شوہر کے گھروالوں میں سے اور ایک منصف بیوی کے گھر والوں میں سے بناو(تاکہ یہ دونوں کے  درمیان فیصلہ کروادیں)اگر یہ دونوں اپنے درمیان لڑائی ختم کرنا چاہیں خدا ان دونوں کے دلوں کو نذدیک کردےگا، کیونکہ خدا جاننے والا اور آگاہ ہے ۔

۳۶۔خدا کی عبارت کرو؛ اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دو؛ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو؛ نیز اس طرح رشتہ داروں،یتیموں، مسکینوں، نذدیکی پڑوسیوں ، دور کے پڑوسیوں، دوست و ہمنشین ، سفر میں فقیر ہونے والوں اور غلاموں کے ساتھ جن کے تم مالک ہو(نیکی سے پیش آو )کیونکہ خدا وند عالم کسی بھی متکبر اور فخر فروش(اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے سر تابی کرنے والے)کو دوست نہیں رکھتا۔

۳۷۔  وہ ایسے لوگ ہیں جو بخل کرتے ہیں ۔ اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور جو کچھ خدا ند عالم نے اپنے فضل و کرم سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ( حقیقت میں ان کے اس عمل کا سر چشمہ کفر ہے ) اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

۳۸۔ وہ ایسے لو گ ہیں جو اپنا مال دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں، اور خدا اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ( کیونکہ شیطان ان کا دوست اور ساتھی ہے ) اور جس کا ساتھی شیطان ہو اس نے  اپنابر ا ساتھی چنا ہوا ہے ۔

۳۹۔ کیا اچھا ہوتا اگر وہ خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتے اور خدا ند عالم نے جو روزی انہیں عطا فرمائی ہے ( اس میں سے اس کی راہ میں) خرچ کرتے؛ اور خدا تعالیٰ ان سے آگاہ ہے ( اور انہیں پوری طرح سزا دے گا)۔

۴۰۔خدا وند عالم کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ،اور اگر نیک کام ہو تو اسے کئی گنا کردیتا ہے ( اور اس کے بدلے ) اجرعظیم دیتا ہے ۔

۴۱۔ اس دن ان کی کیا حالت ہو گی جب ہم  ان کے اعمال پر ہر امت میں سے ایک گواہ  لائیں گے اور آپ کو( رسول اللہ کو) ان پر  گواہ بناکر لائیں گے ۔

۴۲۔ اس دن وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے اور پیغمبر کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑےہوئے یہ تمنا کریں گے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ( وہ مٹی ہوتے اور) ان کی خاک زمین کی سطح سے ملی ہوتی( اور وہ بالکل محو خاموش ہوجاتے )اور اس دن ( سب گواہوں کے ہوتے ہوئے) خدا سے کوئی بات نہ چھپاسکیں گے ۔

۴۳۔ اے ایمان والو!جب تم نشے میں ہوتو نماز کے قریب نہ جاوٴ ۔ جب تک تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم کیا کررہے ہو؛ اور اسی طرح جب تم جنابت کی حالت میں ہو جب تک غسل نہ کرلو مگر یہ کہ عالمِ مسافرت میں ہو ، اب اگر تم بیمار یا مسافر ہو یا قضائے حاجت کی ہے اور یا عورتوں سے مباشرت کی ہے اور اس حالت میں تمہیں ( وضو یا غسل کے لئے ) پانی نہ ملے تو پاک مٹی “سے تیمم کرو ۔ اس طرح سے کہ اپنے چہروں اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو۔ خدا بخشنے والا اور مغفرت کرنے والاہے ۔

۴۴۔ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں(خدا کی ) کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا  ( اس کی بجائے کہ وہ اس سے اپنی اور دوسروں کی ہدایت کرتے ) اس سے اپنے لئے گمراہی خرید تے ہیں، اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاوٴ۔

۴۵۔ خدا تمہارے دشمنوں سے آگاہ ہے ،( وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتے ) کافی ہے کہ خدا تمہارا ولی ہو اور کافی ہے کہ وہ تمہارا ناصر و مدد گار ہو۔

۴۶ ۔ بہت سے یہودی باتوں کو ان کے مقام سے بدل دیتے ہیں ؛ اور (اور اس کے بجائے کے کہیں : کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی)کہتے ہیں : ہم نے سنا اور مخالفت کی نیز کہتے ہیں : سنو (جیسا کہ)ہر گز نہیں سنا(اور بروی تمسخر کہتے ہیں :)راعنا(ہمیں احمق بنا)تاکہ حقائق  کو بدل دیں اور دین خدا میں عیب نکالیں ؛ اوراگر وہ (اس ہٹ دھرمی کی بجائے )کہتے ہم نے سنا اور اطاعت کی اور ہماری باتوں کو سنو اور ہمیں مہلت دو (تاکہ حقائق کو درک کریں ) ۔ تو ان کے لئے بہتر استوار تھا ۔ لیکن خدا نے انھیں ان کے کفر کی وجہ سے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ؛ اس بناپر تھوڑے بہت کے علاوہ ایمان نہیں لائیں گے۔

۴۷۔ اے وہ لوگوں جنہیں اللہ کی کتاب دی گئی ہے : جو کچھ ہم نے ( اپنے رسول پر ) نازل کیا ہے اور جو ان نشانیوں سے ہم آہنگ بھی ہے جو تمہارے پاس ہیں ایمان لے آوٴ ، اس سے پہلے کہ چہروں کو مسخ کردیں، اور پھر انہیں پشت کی طرف پھیر دیں ،یا انہیں اپنی رحمت سے دور کردیں؛ جیسا کہ ہم نے اصحاب سبت کو دور کردیا تھا، اور خدا کا فرمان ہر حالت میں روبہ عمل ہو کے رہتا ہے ۔

۴۸۔ خدا کبھی مشرک کو نہیں بخشے گا اور اس سے نیچے جو کچھ ہے وہ جسے چاہے (( بشرطیکہ وہ اہلیت رکھتا ہو) بخش دے گا، اور جو  شخص کسی کو اللہ کا شریک بنائے وہ عظیم گناہ کا مرتکب ہوا ہے ۔

۴۹۔ کیا تونے انہیں دیکھا جوخود اپنی تعریفیں کرتے ہیں؛ ( ان خودستائیوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ) لیکن خدا جس کی چاہتا ہے تعریف کرتا ہے اور ان پر تھوڑا سا بھی ظلم نہیں ہوگا ۔

۵۰۔دیکھئے وہ کس طرح خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ یہی (بڑا ، اور )واضح گناہ ( ان کی سزا کے لئے ) کافی ہے ۔

۵۱۔ کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں خدا کی کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے کہ وہ( اس کے باوجود ) جبت و طاغوت (= بت اور بت پرستوں ) پر ایمان رکھتے ہیں، اور مشرکین سے کہتے ہیں: کہ ہم ان لوگوں سے جو ایمان لاچکے ہیں زیادہ ہدایت یافتہ ہیں ۔

۵۲۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں خدا وند عالم نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ،اور جسے خدا اپنی رحمت سے دور کردے اس کا تجھے کو ئی بھی مدد گار نہیں ملے گا ۔

اکثرمفسرین مندرجہ بالا آیتوں کی شانِ نزول کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جنگ احد کے واقعہ کے بعد یہودیوں کے بزرگوں میں سے ایک شخص جس کانام کعب بن اشرف تھا

۵۳۔ کیا ان یہودیوں کا حکومت میں کوئی حصہ ہے ( جو وہ چاہتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کریں ) حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ لوگوں کو ان کا کوئی حق نہ دیتے( اور تمام چیزیں اپنے ہی دائرہ اختیار میں رکھتے)۔

۵۴۔ یا یہ کہ وہ لوگوں کے ساتھ (= پیغمبر اور ان کے اہل بیت  سے ) اس کے بدلے میں جو خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے انہیں مرحمت فرمایا ہے حسد کرتے ہیں؟ ( وہ کیوں حسد کرتے ہیں ) حالانکہ ہم نے آل ابراہیم کو ( کہ یہودی بھی اسی خاندان سے ہیں ) کتاب و حکمت عطا کی اور انہیں(=بنی اسرائیل کے پیغمبران )ایک عظیم حکومت عطا کی ۔

۵۵۔ ان میں سے ایک جماعت تو اس پر ایمان لے آئی، لیکن ایک گروہ نے اس کے راستے میں رکاوٹ پید اکردی ،اور جہنم کی آگ کا بھڑکتا شعلہ ان کے لئے کافی ہے ۔

۵۶۔ وہ لوگ جو ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں عنقریب ہم انہیں آگ میں ڈال دیں گے ۔ جب بھی  ان کی کھال جل جائے گی ہم انہیں دوسری کھال دیں گے؛ تاکہ وہ سزا کا مزہ چکھتے رہیں ، بیشک خدا توانا قادر اور حکیم ہے ( وہ گناہوں کے مطابق سزا دے گا)

۵۷۔ اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے وہ عنقریب باغاتِ بہشت میں داخل ہوں گے،جب کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور ہم  انہیں گھنے سایوں میں لے جائیں گے۔

۵۸۔ خدا وند عالم تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو؛ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ خدا تمہیں اچھی نصیحت اور وعظ کرتا ہے ۔ خدا سننے والا اور جاننے والاہے ۔

۵۹۔ اے ایمان والو! خدا کی اطاعت کرو ،اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو اور جب کسی چیز میں جھگڑو تو اگر خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوتو اسے خدا اور پیغمبر کی طرف لوٹا دو ۔ یہ تمہارے  لئے اچھا،ہے اور اس کا انجام و اختتام بہت اچھا ہے ۔

۶۰۔ کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ان ( کتبِ آسمانی) پر جو تم پر اور تم سے پہلے والوں پر نازل ہوئی ہیں ایمان لے آئیں ہیں،لیکن وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت اور حکام باطل سے فیصلہ کرائیں، جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ طاغوت کا انکار کریں؛ اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بری طرح گمراہ کردے اور ( انہیں گمراہی کے دور دراز راستوں میں پھینک دے )۔

۶۱ ۔اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ : اس کی طرف آو جو خدا نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف آو، تم منافقین کودیکھتے ہو کہ تمہاری (دعوت کو قبول )کرنے سے کس شدت سے منھ موڑتے ہیں ۔

۶۲ ۔ پھر وہ کس طرح تمہارے پاس آتے ہیں جب ان پر اپنے کئے ہوئے گذشتہ گناہوں کی وجہ سے مصیبت آن پڑتی ہے ( اور)اللہ کی قسم کھاتے ہیں ،(اور کہتے ہیں ) (دوسروں کے پاس فیصلہ کرنے لئے جانے سے )ہمارا مقصد نیکی اور (دروغ نزاع )کے درمیان اتفاق کرانے کے سوا کچھ اور نہیں تھا؟! ۔

۶۳۔یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں موجود چیزوں کو خدا جانتا ہے لہٰذا انھیں (سزا )دینے صرف  سے نظر کرجاو؛ اور انہیں نصیحتیں کرو؛ اور بلیغ و رسا بیان سے انہیں (ان کے نتائج  اعمال سے )آگاہ کردو۔

۶۴ ۔ ہم نے کسی بھی رسول کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ ا سکی بہ اذان خدا اطاعت کی جائے۔ اور اگر یہ مخالفین جب انھوں نے اپنے اوپر ظلم کرلیا تھا (اور فرمان کی حرمت کا کوئی پاس نہیں رکھا تھا)تمہارے پاس آجاتے ، اور خدا سےبخشش طلب کرتے، اور پیغمبر بھی ان کے لئے استغفار کرتے ، تو وہ خدا کوتوبہ قبول کرنے والا اور مہر بان پاتے۔

۶۵ ۔ تمہارے پر وردگار کی قسم! وہ ہر گز اس وقت ایمان نہیں لاسکتے، جب تک اپنے اختلافات میں تمہیں فیصلہ ، اور داوری کے لئے طلب نہ کرلیں؛ اورپحر تمہاری داوری سے اپنے اندر نارضائی کا احساس نہ کریں ، اور کامل طور سے تسلیم ہو جائیں۔ (تمہارے فیصلہ کےسامنے سر جھکالیں)۔

۶۶۔ ( ہم نے کوئی مشکل فرض ان کے کاندھوں پر نہیں ڈالا) اگر ( بعض گذشتہ امتوں کی طرح) انہیں بھی ہم حکم دےتے کہ ایک دوسرے کو قتل کریں یا اپنے وطن سے نکل جائیں تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے اور اگر وہ ان نصیحتوں پر چلتے تو ان کے فائدہ میں تھا کیونکہ ایسا کرنا ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بنتا ۔

۶۷۔ اور اس صورت میں ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑی جزا اور ثواب عطا فرماتے ۔

۶۸۔ اور انہیں صراط مستقیم کی ہدات کرتے ۔

۶۹ ۔جو خدا اور پیغمبر کی اطاعت کرے گا (قیامت کے دن)ان لوگوں کاہمنشیں ہو گاجو پر خدا وند عالم نے اپنی نعمت کو تمام کیا ہے ؛ وپہ انبیاء ہیں ، صدیقین ہیں ، شہداء ہیں اور صالحین ہیں ۔ اور وہ بہت اچھے دوست ہیں ۔

۷۰ ۔ یہ عطیہ خدا کی طرف سے ہے ، اور کافی ہے کہ (بندوں کے حال اور ن کی نیتوں سے )آگاہ ہے ۔

۷۱۔  اے ایمان والو( دشمن کے مقابلے میں ) اپنی پوری  آمادگی  کرلو ، اور متعددد ستوں میں یا اجتماعی دستہ کی صورت میں ( موجود ہ حالات کے مطابق) دشمن کی طرف پیش قدمی کرو ۔

۷۲۔ تمہارے درمیان کچھ( منافق)لوگ ہیں کہ وہ خود بھی کاہل ہیں اور دوسروں کو بھی سست بناتے ہیں، اگر  تم پرکوئی مصیبت آپہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہم پر احسان کیا کہ ہم ان کے (= مجاہدین) کے ساتھ نہیں تھے کہ ہم  (اس مصیبت) کو دیکھتے ۔

۷۳۔ اور اگر خدا کی جانب سے تمہیں کوئی مالِ غنیمت تمہیں مل جائے تو ٹھیک ،اس طرح کہ جیسےتم میں اور ان میں کوئی مودت و دوستی تھی ہی نہیں ،کہتے ہیں : کاش ! ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے اور نجات اورعظیم کامیابی سے ہمکنار ہوتے ۔

۷۴۔ وہ لوگ جنھوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچی ہے انھیں چاہئیے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص راہ ِ خدا میں جنگ کرے  گا اورقتل ہو جائے گایا غالب آجائے تو ہم اسے اجر عظیم دیں گے ۔

۷۵۔کیوں تم خدا کی راہ میں مردوں عورتوں اور بچوں کے لئے کہ ( جو ستمگروں کے ہاتھوں ) کمزور کردئیے گئے ہیں جنگ نہیں کرتے وہ ( ستم زدہ ) افراد جو کہتے ہیں کہ خدا یا ہمیں اس شہر ( مکہ) سے نکال لے جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے ایک سر پرست مقرر فرما اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مدد گار بھیج ۔

۷۶۔جو صاحبِ ایمان ہیں وہ راہِ خدا میں جنگ کرتے ہیں اورجو کافر ہیں وہ طاغوت ( اور فسادی لوگوں ) کی راہ میں لڑتے ہیں، لہٰذا تم ان شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو ( اور ان سے ڈرو نہیں ) کیونکہ شیطان کا مکرو فریب( اس کی طاقت کی طرح ) ضعیف و کمزور ہے ۔

۷۷۔  کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں ( مکہ میں ) کہا گیا کہ ( وقتی طور پر) جہاد سے دستبردار ہو جاو،ٴ اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو( مگر وہ اس حکم سے رنجیدہ اور غیر مطمئن تھے ) لیکن جس وقت ( مدینہ میں ) انھیں جہاد کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ایسے ڈرتاتھا جس طرح خدا سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہنے لگے پر وردگار! تونے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا ہے؟ کیوں یہ حکم دینے میں تاخیر نہیں کی؟ ان سے کہہ دو زندگانیٴِ دنیا کاسرمایہ ناچیز اور کم تر ہے، اور جو پر ہیز گار ہو اس کے لئے  آخرت بہتر ہے، اور تم پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی نہیں ہوگا۔

۷۸۔ تم جہاں کہیں بھی رہو ، موت تمھیں پالے گی اگر چہ مضبوط برجوں میں جار ہو، او راگر انھیں ( منافقین کو  ئی ) نیکی ( اور کامیابی) حاصل ہونی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگرسیئہ( اور شکست) سے دوچار ہوں تو کہتے ہیں یہ تمہاری طرف سے ہے؛ کہہ دو کہ سب اللہ کی طرف سے ہیں ۔ پس یہ گروہ کیوں تیار نہیں ہوتا کہ حقائق کا ادراک کرے ۔

۷۹۔ جو نیکیاں تجھ پرپہنچتی ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں اور جو برائی تجھے پہنچتی ہے وہ خود تیری طرف سے ہے، اور ہم نے تجھے لوگوں کے لئے رسول بناکر بھبیجا ہے اور اس بارے میں خدا کی گواہی کافی ہے ۔

۸۰۔جس شخص نے پیغمبر کی اطا عت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جو روگر دانی کرے تو تم اس کے جواب دِہ نہیںہو ۔

۸۱۔وہ تیرے سامنے کہتے ہیں کہ ہم فر ما نبردار ہیں؛ لیکن جب وہ تمھاری بز م سے باہرجاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ تمھاری گفتگو کے بر خلاف رات کو خفیہ میٹنگیں تشکیل دیتا ہے جو کچھ وہ ان میٹنگوں میں کہتے ہیں خدا اسے لکھتا ہے ۔

تم ان کی پر واہ نہ کرو (اور ان کے منصوبوںاور سا زشوں سے نہ ڈرو)اور خدا پر تو کل کرو اور کافی ہے کہ وہ تمھارا مدد گاراور حفاظت کرنے والا ہو۔

۸۲۔ کیا قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے کہ اگر وہ غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بہت زیادہ  اختلافات پاتے ۔

۸۳۔ اور جب کامیابی یا شکست کی خبر انہیں ملے تو وہ ( تحقیق کے بغیر)  اسے مشہور کر دیتے ہیں ؛لیکن اگر وہ پیغمبر اور صاحبان امر کی طر ف( جو تشخیص کی کافی اہلیت و قدرت رکھتے ہیں ) پلٹا دیں تو مسائل کی تہہ سے آگاہ ہو جائیں، اور اگر  خدا کا فضل اور رحمت شاملِ حال نہ ہوتی تو سوائے قلیل گروہ کے سب کے سب شیطان کی پیروی کرنے لگتے ۔

۸۴۔راہ خدا میں جنگ کرو ، تم صرف اپنی ذمہ داری کے جواب وہ ہو، او رمومنین کو ( اس کام کا )شوق دلاوٴ۔امید ہے کہ خدا کافروں کی قوت کو روک دے ( چاہے تم اکیلے ہی میدان میں چلے جاوٴ) خدا کی قدرت بہت زیادہ ہے، اور اس کی سزا دردناک ہے۔

۸۵۔جو شخص نیک کام کی شفاعت (= ترغیب)کرے اس میں اس کا حصہ ہوگا، اور جو برے کام کے لئے ابھارے تو اس میں سے ( بھی ) اسے حصہ ملے گا۔ اور خدا ہر چیز کا حساب کرتا اور اسےمحفوظ رکھتا ہے ۔

۸۶۔ جس وقت کوئی شخص تمہیں تحیت( سلام ) کہے تو اس کا جواب بہتر انداز سے دویا ( کم از کم ) اسی طرح کا جواب دو، خدا ہر چیز کا حساب رکھتا ہے ۔

۸۷۔ وہ خدا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تم سب کو یقینی طور پر قیامت کے دن کہ جس میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا ؛اور کون ہے جو خدا سے زیادہ سچا ہو ۔

۸۸۔ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ کیوں ہوگئے ہو ، کچھ ان سے جنگ کرنے کو ممنوع اور کچھ جائز سمجھتے ہو حالانکہ خدا نے ان کے اعمال کی بنا پر ان کے افکار پلٹ کر رکھ دئیے ہیں کیا تم چاہتے ہو ایسے اشخاص کی جنہیں خدا نے ( ان کے برے اعمال کی وجہ سے ) گمراہ رکھا ہے ہدایت کرو، حالانکہ جسے خدا گمراہ رکرے اس کے لئے تمہیں کوئی راستہ نہیں ملے گا ۔

۸۹۔ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کا فر ہو جاوٴ،اور پھر وہ اور تم ایک دوسرے کے برابر ہو جاوٴ۔لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناوٴ۔ مگر یہ کہ ( وہ توبہ کریں اور) خدا کی راہ میں ہجرت کریں ۔ لیکن وہ لوگ اس  کام (ہجرت)سے منہ موڑلیں ( اور تمہارے خلاف اقدامات جاری رکھیں ) انہیں جہاں پاوٴ قید کرلو، اور (ضروری ہو تو ) انھیں قتل کرو ،اور ان میں سے کسی کو دوست او رمدد گار نہ بناوٴ۔

۹۰مگر وہ لوگ جنہوں نے تمہارے ہم پیمان لوگوں سے عہد و پیمان باندھا ہے،یا وہ جو تمہای طرف آتے ہیں، اور تم سے جنگ کرنے یا اپنی قوم سے جنگ کرنے سے عاجز ہیں ؛( نہ تم سے جنگ کرنا چاہتے ہیں او رنہ اپنی قوم سے لڑ نے کی طاقت رکھتے ہیں ) اور اگر خدا چاہے تو انھیں تم پر مسلط کردے تاکہ وہ تم سے جنگ کریں ( اب جبکہ )انہوں نے صلح کی پیشکش کی ہے تو خدا تمہیں اجازت نہیں دیتا کہ ان کے آڑے آو۔

۹۱۔ بہت جلد تم ایسے لوگوں سے ملوگے جو چاہتے ہیں کہ تمہاری طرف سے بھی امان میں ہوں ،اور اپنی قوم کی طرف سے بھی مامون ہوں (یہ مشرک ہیں لہٰذا تمہارے سامنے ایمان کا دعوی ٰ کرتے ہیں ) لیکن جس وقت وہ فتنہ ( اور بت پرستی) کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو وہ سر کے بل اس میں ڈوب جاتے ہیں، اگر وہ تم سے الجھنے سے کنارہ کش نہ ہوئے اور انھوں نے صلح کی پیش کش نہ کی اور تم سے دستبردار نہ ہوئے تو انھیں جہاں کہیں پاوٴ قید کرلو( یا) انھیں قتل کردو اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر ہم نے تمہارا واضح تسلط قرار دیا ہے ۔

۹۲۔ کسی صاحب ایمان فرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی صاحب ایمان کو قتل کرے ؛مگر یہ کہ یہ کام غلطی اور اشتباہ میں اس سے سرزد ہو جائے۔ اور پھر جس نے کسی مومن کو غلطی سےقتل کیا ہے اسے چاہے کہ وہ غلام آزاد کرے اور  اس کے ولی کوخون بہا ادا کرے اور اگر مقتول ایسےگروہ سے ہے جوتمہارے دشمن ہیں ( اور کافر ہیں ) لیکن قاتل خود مومن تھا تو چاہئیے ( کہ صرف) ایک غلام آزاد کرے( اور خونبہا ادا کرنا ضروری نہیں ہے ) اور اگر ایسے گروہ میں سے ہے جن کے ساتھ تمہارامعاہدہ ہو چکا ہے تو چاہئیے کہ اس کا خون بہا اس کے اہل خانہ کو دے اور ایک غلام ( بھی ) آزاد کرے ،اور جو شخص( غلام کے آزاد کرنے پر ) دسترس نہیں رکھتا، وہ مسلسل روزے رکھے ۔ یہ ( ایک قسم کی تخفیف اور ) اللہ کے حضور توبہ ہے اور خدا دانا و حکیم ہے ۔

۹۳۔جو شخص کسی صاحب ایمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ جس میں وہ ہمیشہ کے لئے رہے گا اور خدا اس پر غضب نازل کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے محروم کردیتا ہے اور اس کے لئے اس نے عذاب عظیم تیار کررکھا ہے ۔

۹۴۔اے ایمان لانے والو! جس وقت تم راہِ خدا میں قدم اٹھاتے ہو ( اور جہاد کے لئے آمادہ ہوتے ہو) تو تحقیق کرو،اور اس شخص کو جو صلح اور اسلام کا اظہار کرتا ہے اسے فقط اس بناپر کہ تم دنیا کے ناپایدار سرمایہ کو حاصل کرو، یہ نہ کہو کہ تو مسلمان ( مومن ) نہیں ہے ۔ کیونکہ خدا کے ہاں (تمہارے لئے )بہت زیادہ   غنیمتیں  ہیں۔ تم پہلے ایسے ہی تھے اور خدا نے تم پر احسان کیا( اور تمہاری ہدایت کی ) اس بناپر ( اس عظیم شکرانے کے طورپر)تحقیق کرو، جو کچھ تم عمل کرتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ۔

۹۵۔ وہ صاحب ایمان جو بغیر بیماری اور تکلیف کے جہاد سے دستبردار ہو گئے اور وہ مجاہد جنھوں نے اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد میں حصہ لیا برابر نہیں ہیں ۔ خدا نے ان مجاہدوں کو جنھوں نے جان اور مال سے جہاد کیا ہے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت او ربر تری دی ہے ان دونوںگروہوں میں سے ہر ایک کو ( ان کے نیک اعمال پر ) خدا نیک جزا کا وعدہ کرتا ہے او ر مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت اور اجر عظیم بخشتا ہے ۔

۹۶۔ خدا کی طرف سے (اہم ) درجات اور بخشش و ررحمت( انھیں نصیب ہوگی )۔ اور( اگر ان سے کچھ لغزشیں ہوئی ہیں )تو خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔

۹۷۔وہ لوگ  جنھون نے اپنے اوپر ظلم کرلیا تھاجب کہ ( قابض ارواح) فرشتوں نے  ان کی روح کوقبض کی تو ان سے کہا: کہ تم کس حالت میں تھے ( او رمسلمان ہونے کے باوجود کفار کی صف میں کیوں کھڑے ہوئے؟) تو انھوں نے کہا کہ ہم اپنی سر زمین پر فشار اور دباوٴ میں تھے تو ان ( فرشتوں) نے کہا: تو کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی؟ کہ تم ہجرت کرجاتے  اس کے بعدان ( کے پاس کوئی عذر و معذرت نہیں تھی اور ان ) کے رہنے کی جگہ جہنم ہے، اور ان کا انجام برا ہے ۔

۹۸۔ مگر ایسے مرد ، عورتیں اور بچے جو واقعاً دباوٴ او رجبر کا شکار تھے کہ جن کے پاس ( اس گندے ماحول سے نجات پانے کے لئے )نہ کوئی چارہ نہ تھا اور نہ کوئی راہ ۔

۹۹۔ممکن ہے خدا انھیں عفو کے قابل قرار دے ،اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے

۱۰۰۔ اور جو شخص راہ خدا میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے امن کے خطے اور وسیع امکانات پالے گا۔ او رجو شخص اپنے شہر سے خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرے پھر اسے موت آجائے تو اس کا اجر و ثواب خد اپر ہے اور خدا بخشنے والا او رمہر بان ہے ۔

۱۰۱۔ اور تم جس وقت سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو، اگر تمہیں کافروں کے فتنے کا ڈر ہو ، کیونکہ کافر تمہارے واضح دشمن ہیں ۔

۱۰۲ ۔ اور جب تم ان کے ساتھ (میدان جنگ ) میں ہو اور انہیں نماز پڑھاو تو ان میں سے ایک حصہ تمہارے ساتھ نماز کے لئے کھڑاہو، اور وہ اپنے اسلحہ کو بھی اپنے ساتھ رکھیں ، اور جب وہ سجدہ کرلیں تو تمہارے پیچھے چلے جائیں یعنی میدان جنگ میں پلٹ جائیں ، اور اب وہ دستہ جس نے نما ز نہیں پڑھی تھی ( جنگ میں مصروف تھا)آئے اور تمہارے ساتھ نماز پڑھے؛ اور اپنے اسلحوں اور جنگی ساز و سامان سے غافل ہو ئے ، اچانک تم پر حملہ کردیں، اور اگر تم بارش سے پریشان ہو یا بیمار (اور زخمی)ہوتو تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ اپنے اسلحہ کو زمین پر رکھ دو؛ لیکن دوسرے وسائل (جیسے زرہ اور خود)کو پہنے رہو ۔ بیشک خدا نے کافروں کے ذلیل کرنے والا عذاب تیار رکھا ہے ۔

12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma