سورہ آل عمران

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
ترجمه قرآن کریم

اس خدا کے نام سے جو مہر بان اور بخشنے والا ہے ۔

۱۔ ا لم ۔   ۲۔ خدائے یکتا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ زندہ و پائیدار اور نگہبانی کرنے والا ہے ۔

۳۔ ( وہی ذات ہے ) جس نے تم پر حق کےساتھ کتاب نازل کی ۔ یہ کتاب گزشتہ کتب کی نشانیوں پرمنطبق ہوتی ہے۔اور اس سے قبل تورات اور انجیل کولوگوں کی ہدایت کے لیے اتاراگیا ۔ نیز حق و باطل میں تمیز کرنے والی کتاب ( قرآن مجید) کو نزل کیا ۔

4۔ جو لوگ آیات الہٰی کےمنکر ہو گئے ہیں ان کے لئےسخت عذاب ہے اور خدا بد کاروں اور سرکش کافروں کو عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے، اور وہ انتقام لینے والا ہے ۔

۵۔ زمین و آسمان میں کوئی چیزبھی خدا پرمخفی نہیں رہتی۔ ( اس لئے ان کی تدبیرکرنا بھی اس کے لئے مشکل نہیں ہے ) ۔

۶۔ وہ ،وہ ذات ہے جو ماوٴں کے رحم میں جیسی چاہتا ہےتمہاری صورت بناتا ہے ( اس لئے ) اس توانا اور حکیم خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ۔

۷۔ وہ ذات وہ ہے کہ جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیات محکم ( صریح اور واضح ) ہیں جو اس کتاب کی بنیادیں ہیں ( اور جو پیچیدگی دیگر آیات میں نظر آئے وہ ان کی طرف رجوع کرنے سے بر طرف ہ وجاتی ہے ) اور کچھ آیات متشابہ ہیں ( یہ وہ آیات ہیں جن میں مختلف احتمالی معانی دکھائی دیتے ہیں لیکن محکم آیات کی تفسیر کی طرف توجہ کرنے سے یہ آیات بھی اہل نظر پر واضح ہوجاتی ہیں )لیکن جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ انگیزی کرتے رہیں ( اور لوگوں کو گمراہ کریں ) اور اس کی (غلط)تفسیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ان کی تفسیر اللہ اور علم میں راسخ لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ (راسخون فی العلم ) وہی ہیں جو ( فہم و ادراک رہ کھتے ہیں ، تمام آیات قرآنی کے اسرار و رموز سے آگاہ ہیں( اور الہٰی علم و دانش کے سبب ) کہتے ہیں! کہ ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں ، سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور دانشمندلوگوں کے سوا کوئی یا دہانی نہیں کرتا( اور ان کے علاوہ کوئی ادراکِ حقیقت نہیں کرسکتا )

۸۔ ( راسخین فی العلم کہتے ہیں !)پالنے والے ہمارے دلوں کو سیدھے رہنے کی ہدایت کے بعد منحرف نہ کردے اور اپنی طرف سے ہم پر رحمت فرما کیونکہ توہی بخشنے والا ہے ۔

۹۔ اے ہمارے پروردگار ! تولوگوں کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک و تردّد نہیں ہے، کیونکہ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔( ہم تجھ پر ، تیری رحمت بے پایاں پر اور حشر و نشر اور قیامت کے وعدے پر ایمان رکھتے ہیں ) ۔

۱۰۔ جو لوگ کافر ہوگئے ہیں انہیں مال و دولت اور اولاد خدا سے بے نیاز نہیں کرسکتے ( اور وہ انہیں اس کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتے) اور وہ (جہنم کی ) آگ کا ایندھن ہیں ۔

۱۱۔ (انکار حقائق اورتحریف میں) ان کی عادت آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کی طرح ہے ،انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی، اور خدا نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی اور خدا سخت عذاب دینے والا ہے ۔

۱۲۔ جو لوگ  کافر ہو گئے ہیں(اے رسول) ان سے کہہ دیجئے جنگ احد کی وقتی فتح پر خوش نہ ہو جاوٴ عنقریب تم مغلوب ہو جاوٴ گے ( اور پھر آخرت میں ) جہنم کی طرف محشور ہو گے اور وہ کس قدر بری جگہ ہے ۔

۱۳۔ جب دو گروہ(جنگ بدر میں ) آمنے سامنے آئے تو اس میں تمہارے لئے نشانی اور درس عبرت تھا ۔ ایک گروہ راہ خدا میں جنگ کررہا تھا اور دوسرا کافروں کاگروہ تھا ( جو شیطان اور بتوں کی راہ میں مشغول ِ جنگ تھے ) ان ( کافروں) کو ( مومنین ) اپنی تعداد سے دوگنانظر آرہے تھے ( اور یہ بھی ان کی وحشت و شکست کی ایک وجہ  بن گئی ) اور خدا جسے چاہتا ہے ( اور اہل سمجھتا ہے ) اپنی مدد سے اس کی تائید کرتا ہے؛ اور اس میں صاحبان نظر کے لئے عبرت ہے ۔

۱۴۔ مادی چیزوں میں سےعورتیں ، اولاد اور مال جو سونے چاندی کے ڈھیر وں پرمشتمل ہونجیب اور بہترین گھوڑے ، جانور ار زراعت لوگوں کی نظر میں محبوب  بنادیئے  گئے ہیں۔ ( تاکہ ان کے ذریعے ان کی آز مائش اور تربیت ہو لیکن )یہ چیزیں (اگر انسان کے اصلی مقاصد کے لئے ذریعہ بنیں پھربھی پست  مادی )زندگی کا سرمایہ ہیں؛ اور انجام ِ نیک ( اور عالی زندگی ) خدا کے پاس ہے۔

۱۵۔ (اےرسول)کہہ دیجئے : کیا تمہیں ایسی چیز سے آگاہ کروں جو اس ( مادی  سر مائے ) سے بہتر ہے؟ جنہوں نے پرہیز گاری اختیار کی ہے ( مادی سرمائے سے شرعی طریقے سے حق و عدالت کوملحوظ رکھتے ہوئے استفادہ کیا ہے ) ان کے پروردگار کے پاس ( دوسرے جہان میں) ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور پاکیزبیویاں ( جو ہر ناپاکی سےمنزہ ہیں ) اور خوشنودیٴ خدا انہیں نصیب ہوگی اور خدا ( بندوں کے امور کو ) دیکھنے والا ہے ۔

۱۶۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں ، لہٰذا ہمارے گناہوں کو بخش دے ،اورہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ۔

۱۷۔ وہی لوگ جو ( مشکلات کے مقابلے میں، اطاعت کی راہ میں اور ترکِ گناہ کے راستے میں ) پامردی اور استقامت دکھاتے ہیں ،  سچ بولتے ہیں ، ( خدا کے حضور) خضوع کرتے ہیں ( ا س کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں اور اوقات سحر میں (اور عبادت آخر شب میں ) استغفار کرتے ہیں ۔

۱۸۔ خدا ( جہانِ ہستی کے ہماہنگ نظام کو ایجاد کرکے ) گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اور فرشتے اور اہل علم و دانش ( سب ایک طرح) گواہی دیتے ہیں ، اس عالم میں کہ ( خدا تعالیٰ عالم ہستی میں ) عدالت  کے ساتھ قیام  کیے ہوئے ہے ( اور یہ عدالت بھی اس کی ذات کی یکتائی کی  نشانی ہے ، اس لیے تم بھی ان سب کے ساتھ ہم آواز ہوکرکہوکہ ) اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو کہ غالب بھی ہے اور توانا بھی ۔

۱۹۔ اللہ کے نذدیک دین (فقط)اسلام ہے ۔اور جنہیں آسمانی کتاب دی گئی تھی انہوں نے علم و آگاہی کے بعد بھی اختلاف پید اکیا اور وہ بھی اپنے درمیان ظلم و ستم کی بناء پر اور جو آیاتِ خدا سے کفر اختیار کرے تو ( خدا اس کا محاسبہ کرے گا  کیونکہ ) خدا سریع الحساب ہے ۔

۲۰۔ اگر وہ لوگ  تم سے گفتگو اور جھگڑے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ( تو ان سے مجادلہ نہ کرو ) اور کہہ دو ! میں اور میرے پرو کار خدا کے ( اس کے فرمان کے )سامنےتسلیم ہیں اور جو اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) ہیں نیز  جواَن پڑھے ( مشرکین ) ہیں ان سے کہہ دو: کیا تم بھی تسلیم ہوتے ہو؟ اگر وہ ( فرمان ِ خدا اور دلیل حق کے سامنے ) سر تسلیم خم کردیں تو ہدایت پالیں گے اور اگر روگردانی کریں (تو تم پریشان نہ ہو کیونکہ  تم پر توبس ابلاغ رسالت کی ذمہ داری  ہے اور خدا بندوں کے ( عقائد و اعمال )کو دیکھتا ہے ۔

۲۱۔ جو لوگ آیاتِ خدا سے کفر اختیارکرتے ہیں اور انبیاءکو ناحق قتل کرتے ہیں اور عدل کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کردیتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی بشارت دیجئے ۔

۲۲۔ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے نیک اعمال ( ان کےعظیم گناہوں کی وجہ سے )دنیا اور آخرت میں تباہ ہو گئے ہیں، اور ان کا کوئی یار و مدد گار ( اور شفاعت کرنے والا ) نہیں ہے ۔

۲۳۔ کیا تم نے ان لوگوںکو نہیں دیکھا جن کے پاس ( آسمانی) کتاب کا کچھ حصہ ہے اور ان میں فیصلے کے لئے انہیں کتابِ خدا کی طرف دعوت دی گئی ہے لیکن ( علم و آگہی کے باوجود ) ان میں سے ایک فریق نے روگردانی کی جب کہ وہ ( قبول ِ حق سے ) اعراض کیے ہوئے تھے ۔

۲۴( ان کا ) یہ ( عمل ) اس بناء پرتھا کہ وہ کہتے تھےکہ چند دن کے سوا ( جہنم کی ) آگ ہم تک نہیں پہنچے گی اور ( خدا پر باندھے گئے ) اس افتراء نے انہیں  اپنے دین  میں بہت مغرور کردیا تھا ۔

۲۵۔ پس اس وقت  ان کی کیا حالت ہو گی جب اس دن( قیامت )کہ جس میں کوئی شک نہیں سب جمع ہوں گے اور ہرشخص کو جو کچھ اس  نے اپنے اعمال کے ذریعے ) کمایا ہے  اس کا بطور کامل بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا بلکہ وہ  اپنے اعمال کی فصل ہی کاٹیں گے ۔

۲۶ ۔ (اے رسول )کہہ دیجئے : پر وردگارا اے حکومتوں کے مالک ! تو جسے چاہتا ہے حکومت دیدیتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے حکومت لے لیتا ہے ؛ اور جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے ؛ اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے ۔تمام خوبیاں تیرے ہاتھوں میں ہے ، اور تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

۲۷ ۔ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں؛ اور زندہ کو مر دہ سے نکلالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے اور جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتاہے ۔

۲۸ ۔ ایمان دولوں کو مومنین کی بجائے کافروں کو اپنیا سر پرست نہ بنانا چاہیئے؛ او ر جو ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں رہے گا (اور بطور کامل خدا سے اس کا رابطہ منقطع ہو جائے گا )؛مگر یہ کہ ان کےسا تھ تقیہ کرو(اور ایک اہم مقصد کی خاطر ایمان کو چھپاو )خدا وند عالم تمہیں اپنی نافرمانی سے دور رہنے کو کہتا ہے ؛ اور (تمہاری)واپسی خدا کی طرف ہے ۔

۲۹ ۔(اے رسول)کہہ دیجئے: جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اگر تم اسے ظاہر کرو یاچھپاو خدا اس سے آگاہ ہے ؛ نیز جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس سے بھی باخبر ہے ؛ اور خدا و ند عالم ہر چیز پر قادر ہے ۔

۳۰ ۔ اس روز (قیامت کے دن)جس کسی نے بھی کوئی نیک کام انجام ہوگا اسے اپنے سامنے حاضر دیکھے گا؛ اور آرزو کرے گا کہ اس کے درمیان اور ہر اس کام کے درمیان جو ا س نے انجام دیاہے ایک بڑا  زمانی فاصلہ ہو، خدا وند عالم تمہیں (نافرمانیوں سے)ڈراتا ہے ؛ (اس کے باوجود بھی )خدا بندوں کے اوپر مہر بان ہے ۔

۳۱۔(اے رسول) کہہ دیجئے !  اگر خدا کو دوست رکھتے ہوتو میری پیروی کرو تاکہ خدا بھی تمہیں اپنا دوست بنالے ،اور تمہارے گناہوں کوبخش دے اور خدا بخشنے والا مہر بان ہے ۔

۳۲۔ (اے رسول)کہہ دیجئے!  خدا اور ( اس کے ) رسول کی اطاعت کرو؛ اوراگر تم  روگردانی کروگے، تو خدا کا کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

۳۳۔   اللہ نے آدم ، نوح ، آل ابراہیم اور آل عمران کو سب جہانوں پر منتخب کیاہے ۔

۳۴۔  وہ ایسے فرزند ( خاندان)  تھے جو  ( پاکی،تقویٰ اور فضیلت کے اعتبار سے ) ایسے تھے کہ بعض کو بعض میں سے  انتخاب کیا گیا اور خدا سننے اور جاننے والا ہے ( اور اپنی رسالت کی راہ میں ان کی کاوشوں سے بھی آگاہ ہے ) ۔

۳۵۔   ( وہ وقت یاد کرو ) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا : خداوندا! جو کچھ میرے رحم میں ہے میں اسے تیری نذر کرتی ہوں تاکہ وہ (تیرے گھر کی خدمت کے لئے ) محرّر ( آزاد) ہو، اور تو یہ مجھ سے قبول فرمالے کہ تو سننے اور جاننے والا ہے ۔

۳۶۔ لیکن اس نے  جب اسےجنم دیا تو دیکھا کہ وہ تو لڑکی ہے ) عرض کیا : خدا وندا ! میں نے لڑکی کو جنم دیا ہے لیکن خدا اس سے زیادہ آگاہ تھا کہ اس نے کیا جناہے (پھر اس نے کہا ) لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ( اور لڑکی عبادت گاہ کی خدمت کی ذمہ داری لڑکے کی طرح انجام نہیں دے سکتی ) اور میں نے اس کانام مریم رکھا ہے، اسے اور میں اسے اس کی اولادکو شیطان مردود( کے وسوسوں) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔

۳۷۔ اس کے پروردگار نے اس ( مریم ) کو خوشی سے قبول فرمالیا، اور اس کے وجود ( کے پودے) کو خوب اچھی طرح پروان چڑھا یا ، زکریا کو ان کا کفیل بنایا جب بھی زکریا وہاں داخل ہوتے خاص غذا وہاں موجود پاتے ۔ اس سے پوچھتے: یہ کہاں سے لائی ہو ؛ وہ کہتی : یہ خد اکی طرف سے ہے ، خدا جسے چاہتا ہے بغیر حساب رزق دیتا ہے ۔

۳۸۔جب مریم میں یہ لیاقت واہلیت دیکھی ) اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور عرض کیا : خدا وندا ! اپنی طرف سے مجھے (بھی) پاکیزہ فرزند عطا فرما کہ تو دعا کو سننے وا لا ہے ۔

۳۹۔ جب وہ محراب میں مشغول عبادت تھے تو فرشتوں نے اسے پکار کر کہا : خدا تجھے یحییٰ کی بشارت دیتاہے وہ خدا کے کلمہ ( مسیح -------) کی تصدیق کرے گا ۔ رہبر و رہنما ہوگا، ہوا ہوس سے دور ہوگا، پیغمبر ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا ۔

۴۰۔ انھوں نے عرض کیا : پر وردگار ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے ، جب کہ مجھے بڑھاپے نے آلیا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے ۔ فرمایا : اسی طرح خدا جو کام چاہتا ہے انجام دیتا ہے ۔

۴۱۔ ( حضرت زکریاعلیہ السلام نے ) عرض کیا : پروردگار! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما ۔ ( خدا نے کہا ): تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے فقط اشارے سےگفتگو کروگے ( اور تیری زبان بغیرکسی ظاہری سبب کے  بول نہیں پائے گی) اورتم (اس عظیم نعمت پر شکرانے کے طور پر) اپنے پروردگار کو بہت یاد کرو اور صبح شام اس کی تسبیح کرو ۔

۴۲۔ اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا: اے مریم ! خدا نے تمہیں چنا ، پاک کیا اور تمام جہان کی عورتوں پر برتری اور فضیلت دی۔

۴۳۔ اے مریم!( اس نعمت کے شکرانے کے طور پر ) اپنے پروردگار کے سامنے خضوع کرو ، سجدہ بجا لاوٴاور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔

۴۴۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتارہے ہیں ،اور جب وہ اپنی قلمیں ( قرعہ اندازی کے لئے پانی میں ) پھینک رہے تھے کہ مریم کی کفالت اور سر پرستی کون کرے  گااور اس وقت (بھی)جب اس کی سر پرستی کا افتخار اور منصب حاصل کرنے کے لئے (علماء) آپس میں مصروف کشمکش تھے ، تم موجود نہ تھے ( اور یہ سب باتیں تمہیں وحی کی معرفت بتائی گئی ہیں )۔

۴۵۔وہ وقت ( یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا : اے مریم  ! خدا پنی طرف سے تجھے ایک کلمہ ( اور باعظمت شخصیت ) کی بشارت دیتا ہے ،جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہے ، وہ دنیا و آخرت میں مقام و عظمت کا مالک ہو گانیز مقربین میں سے ہوگا۔

۴۶۔ اور وہ لوگوں سے گہوارہ میں اور ادھیڑ عمر میں گفتگو کرے گا اور وہ صالحین میں سے ہے ۔

۴۷۔ ( مریم  نے ) کہا : پروردگار! مجھ سے بچہ کیوں کر ہوگا جب کہ کسی شخص نے مجھے چھوا نہیں ہے ( جواب میں ) فرمایا : خدا اسی طرح جسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جب وہ کسی چیز کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس کہتا ہے ہو جاتو وہ ہوجاتی ہے ۔

۴۸۔ اور اسے کتاب و دانش اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا ۔

۴۹۔ اور اسے رسول کی حیثیت سے بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا ( جو ان سے کہے گا ) میں پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایاہوں ۔ میں گیلی مٹی سے پرندے جیسی مورت بنا سکتا ہوں ۔ پھر اس میں پھونکتا ہوں تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جاتا ہے ۔ نیز مادر زاد اندھےکو اور برص میں مبتلا لوگوں کو شفا دیتا ہوں ، مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے ہواور اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو ، اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں ۔بیشک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو ۔

مندرجہ بالا آیت میں حضرت مسیح کی ماموریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  خدا وند عالم نے پہلے فرمایاہے : خدا نے اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دی  (” ویعلمہ الکتاب و الحکمة۔ “ اور اس کے بعد کتاب وحکمت کے مصداق کی نشاندھی کی گئی ہے ۔ فرمایا : تو ریت و انجیل سکھائی (” و التوراة  و الانجیل “۔؛) اس کے بعد بنی اسرائیل کے منحرف لوگوں کی ہدایت کے لیے ان کی ماموریت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ،کیونکہ وہ ان دنوں طرح طرح کے خرافات ، آلودگیوں اور اختلافات میں گرفتار تھے ، فرمایا: ” و رسولا ً الیٰ بنی اسرآئیل “۔

مندرجہ بالاآیت میں حضرت مسیح کے معجزات کی تفصیل کے موقع پر سب سے پہلے حکم خدا سے بے جان چیزوں میں زندگی پید اکرنے کا تذکرہ ہے، اور حضرت عیسیٰ  کی زبا نی فرمایا گیا ہے ، میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لے کر آیاہوں ، میں گیلی مٹی سے پرندے کی شکل کی کوئی چیز بناتاہوں اور اس میں پھونکتا ہوں تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جاتا ہے ۔

اس کے بعد ان بیماروں کے علاج کا تذکرہ ہے جن کا علاج بہت مشکل ہےارشاد ہوتا ہے : میں مادرزاد اندھے اور ابرص ، ( برص اور سفید داغ والی بیماری میں مبتلا لوگوں کا علاج کرسکتا ہوں اور مردوں کوبھی لباسِ حیات پہناسکتا ہوں ۔

واضح رہے کہ یہ امورخصوصاً اس زمانے کے اطباء اور علماء کے لیے ناقابل انکار معجزات تھے ۔

بعد کے مرحلے میں لوگوں کے پوشیدہ اسرار کی خبر دینے کی بات کی گئی ہے جناب مسیح  کہتے ہیں : میں ان امور سے آگاہ ہوں او ر تمہیں ان کی خبر دیتا ہوں ۔:۔

آخر میں فرمایا گیا ہے : ان تمام چیزوں میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں اگر تم صاحب ایمان  اورحقیقت کے متلاشی ہو:۔

۵۰۔ اور میں تصدیق کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں اس کی جو تورات میں مجھ سے پہلے تھا اور ( میں آیا ہوں تاکہ ) بعض چیز یں  جو ( ظلم و گناہ کی وجہ سے) تم پر حرام تھیں (جیسے بعض چوپایوں کا گوشت اور مچھلیاں ) انہیں حلال کروں اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایا ہوں ۔ اس لیے تم خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔

۵۱۔خدا میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو( نہ کہ میری یا کسی اور چیز کی ) یہی سیدھی راہ ہے ۔

۵۲۔ جب حضرت عیسیٰ  (علیه السلام) نے ان لوگوں سے کفر( اور مخالفت ) کو دیکھا تو کہا : کون خد اکی طرف ( اور اس کے دین  کی تبلیغ کے لئے ) میرا یاور و مددگار بنے گا ؟ حواریین ( جو ان کے مخصوص شاگرد تھے ) کہنے لگے ہم خدا کے یار و مدد گا رہیں ، اس پر ایمان لاتے ہیں اور آپ ( بھی) گواہ رہیں کہ ہم اسلام لے آئے ہیں ۔

۵۳۔ پروردگار ! جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے ( تیرے) رسول کی پیروی کی ہے ۔(لہٰذا) ہمیں گواہوں کے زمرے میں لکھ لے ۔

۵۴۔ اور یہود اور مسیح کے دشمنوں نے ان کی اور ان کے دین کی بر بادی و نابودی کے لئے ) سازش کی اور خدا نے ( ان کی اور ان کے دین کی حفاظت کے لئے) چارہ جوئی کی اور خدا بہترین چارہ جوئی کرنے والا ہے ۔

۵۵۔ (اس وقت کویاد کرو )جب خدا نے عیسیٰ سے کہا : میں تمہیں لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گااور جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان سے پاک کروں گا، اور جو لوگ تمہاری پیروی کرتے ہیں انہیں ان لوگوں سے قیامت تک کے لئے بر تر قرار دوں گا جو کافر ہو گئے ہیں، پھر تمہاری باز گشت میری طرف ہے اور جس چیز میں تم اختلاف کر تے ہو اس کا تمہارے درمیان فیصلہ کردوں گا ۔

۵۶۔  رہے وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں ( اور انہوں نے حق کو پہچاننے کے باوجود  انکار کر دیا ہے ) انہیں دنیا و آخرت میں سخت عذاب کروں گا ،اور ان کے یار و مدد گا رنہیں ہوں گے ۔

۵۷۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل انجام دئے  توخدا انہیں ان کا پورا پورا اجر و ثواب دے گا،اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ۔

۵۸۔ یہ جو کچھ ہم تیرے لئے پڑھتے ہیں ، تیری حقانیت کی نشانی اور حکیمانہ تذکرہ ہے ۔

۵۹۔ عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک آدم کی سی ہے ، جسے خدا نے مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر اس سے کہا : ہو جا تو وہ ہوجاتو وہ فوراً ہو گیا ( اس لئے باپ کے بغیر مسیح کی ولادت ہرگز  ان کی الوہیت کی دلیل نہیں بن سکتی ) ۔

۶۰۔ یہ چیزیں تیرے پروردگار کی طرف حقائق ہیں؛ لہٰذا تم تردّد و شک کرنے والوں میں سے نہ بنو ۔

۶۱۔ اس علم و دانش کے بعد جو ( عیسیٰ کے بارے میں ) تمہارے پاس پہنچا ہے ، پھربھی کوئی تم سےجھگڑے تو اسے کہہ دو: آوٴ اپنے ہم بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بیٹوں کو بلاوٴ، ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں ، تم اپنی عورتوں کو بلاوٴ اور ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں تم اپنے نفسوں کو بلاوٴ ، پھر ،مباہلہ کریں گے اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں گے ۔

۶۲یہ ( حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی )حقیقی قصے ہیں ( اور ان کی الوہیت اور خدا بیٹا ہونے کی سب باتیں بے بنیاد ہیں ) اور خدائے یگانہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے؛ اور خدا توانا و حکیم ہے ۔

حضر مسیح  (علیه السلام) کی زندگی کے حالات بیان کرنے کے بعد مندرجہ بالا آیت میں کہا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں ہم نے جو تفصیل بیان کی ہے وہ ایک واقعیت اور حقیقت ہے ؛جو پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ کے بارے میں الوہیت ، خدا کا بیٹا یا اس کے بجائے ( معاذ اللہ !)غیر شرعی بچہ قرار دینے کے سب دعوے بے بنیاد اور بے ہودہ ہیں ۔

اس کے بعد تاکید کے طور پر مزید کہا گیا ہے : جو ذات پرستش کے لائق ہے وہ صرف خدا وند تونا و حکیم ہے ؛اور خدا کے علاوہ کسی کے لئے اس منصب کا قائل ہونا غیر مناسب اور خلافِ حقیقت ہے ۔

۶۳۔ اگر ( واضح شواہد کے باوجود وہ قبول ِ حق سے ) روگردانی کرتے ہیں ( تو جان لو کہ وہ حقیقت کے متلاشی نہیں اور ) خدا فساد کرنے والوں سے آگاہ ہے ۔

۶۴۔(اے رسول) کہہ دیجئے: اے اہل کتاب !ایسی بات کی طرف آوٴ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہےکہ سوائے خدائے یگانہ کے کسی کی عبادت نہ کریں؛ اور کسی چیز کو ا سکا شریک قرار نہ دیں؛ اور ہم میں سےبعض خدا کو چھوڑ کر بعض کو خدا کے طور پر قبول نہ کریں ، جب (وہ اس دعوت سے )روگردانی کریں تو تم لوگ کہو: گواہ رہنا کہ ہم تو مسلمان ہیں ۔

۶۵۔اسے اہل کتاب !( حضرت ) ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو( اور تم میں سے ہر ایک انہیں اپنے دین کا پیرو کارسمجھتا ہے)حالانکہ تو ریت اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئی ہیں ، کیا تم عقل و فکر نہیں رکھتے ۔

۶۶۔تم تو وہی ہو جو اس چیز کے بار ے میں بحث اور جھگڑاکرتے تھے جس سے  آگاہ ہوتے تھے، تو اب ان چیزوں کے بارے میں گفتگو اور بحث کیوں کرتے ہو جن سے آگاہ نہیں ہو، خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

۶۷۔ابراہیم یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ مخلص موحّد اورمسلمان  تھے اور وہ ہرگز مشر کین میں سے نہیں تھے ۔

۶۸۔ ابراہیم سے اولویت ( اور زیادہ نسبت ) رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ پیغمبر اور وہ لوگ جو ایمان لائے ابراہیم سے سب سے زیادہ نسبت رکھتے ہیں۔ اور خدا مومنین کا ولی اور سر پرست ہے ۔

۶۹۔ اہل کتاب ( یہود) کا ایک گروہ چاہتا تھا کہ تمہیں گمراہ کردے لیکن ( انہیں جالینا چاہیئے کہ وہ تمہیں گمراہ نہیں کرسکتے) وہ تو بس اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں ،مگر سمجھتے نہیں ہیں ۔

۷۰۔ اے اہل کتاب! کیوں آیات ِ خدا سے کفر کرتے ہو جب کہ ( ان کی صحت و صداقت کی ) گواہی( بھی ) دیتے ہو ۔

۷۱۔ اے اہل کتاب حق کو باطل سے کیوں ملاتے ہو(اور انہیں مشتبہ کرتے ہو تاکہ لوگ سمجھ نہ سکیں اور گمراہ ہوجائیں) اور حقیقت چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے ۔

۷۲۔اہل کتاب ( یہود)کی ایک جماعت نے کہا( جاوٴ اور ) جو کچھ مومنین پر نازل ہوا ہے ( ظاہراً) دن کی ابتداء میں اس پر ایمان لے آوٴاور دن کے آخر میں کافر ہو جاوٴ  شاید وہ (تمہارے اس عمل سے اپنے دین سے ) بر گشتہ ہو جائیں ( کیونکہ وہ تمہیں اہل کتاب اور گذشتہ آسمانی بشارتوں سے آگاہ سمجھتے ہیں اور یہ سازش انہیں متزلزل کرنے کے لئے کافی ہے) ۔

۷۳۔ اور (اور یہ وہی یھود کا گروہ)کہتا ہے:)سوائے اس شخص کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتا ہے اور کسی پر ایمان نہ رکھو۔ (اےرسول کہہ دو) کہ حقیقی  ہدایت  خدا کی ہدایت ہے  ( اور تمہاری یہ سازش اس کے مقابلے میں بے اثر ہے ) ( پھر وہ اپنے ساتھیوں سے مزید کہنے لگے کہ یہ نہ سمجھنا کہ ) کسی کو تمہاری طرح ( آسمانی کتاب) دی جائے گی یا یہ کہ تمہارے پروردگار کے دربار میں کوئی تم سے بحث کرسکے گا ( بلکہ نبوت اور منطق، یہ دونوں چیزیں صرف تمہاری قوم اور نسل سے مخصوص  ہیں )تو پھر کہہ دو :کہ فضل ( نبوت، عقل اور منطق کی عطا کسی میں منحصر نہیں ہے بلکہ وہ ) خدا کے ہاتھ میں ہے اور جسے چاہتا ہے ( اور اس کا اہل سمجھتا ہے ) عطا کرتا ہے اور خدا واسع ( وسیع عطیات و عنایات کا مالک ) اور ( ان کے مناسب مواقع سے ) آگاہ ہے ۔

۷۴۔وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نوازتا ہے اور اللہ عظیم عنایات و فضل کا مالک ہے ۔

۷۵۔ اور اہل کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر تم انہیں بہت سی دولت بطور امانت دو تو وہ تمہیں لوٹا دیں گے، اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر انہیں ایک دینار بھی سپرد کرو تو وہ تمہیں ہرگز واپس نہیں کریں گے، مگر اس وقت تک جب تک تم ان کے سر پر کھڑے  نہ رہو ( اور ان پر مسلط رہو)یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم امیین ( یہودیوں کے علاوہ کسی ) کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں؛ اور خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں حالانکہ  وہ جانتے ہیں ۔

۷۶۔جی ہاں جوشخص اپنے عہد و پیمان پورےکرے اور پرہیز گاری اختیار کرے( خدا اسے دوست رکھتا ہےکیونکہ ) خدا پر ہیز گاروں کو پسند کرتا ہے ۔

۷۷۔ جو لوگ خدا سے باندھا ہوا عہد و پیمان اور (خدا کے مقدس ناموں سے کھائی گئی ) اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت پر فروخت کردیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصّہ نہیں ہوگا ، خدا ان سے بات نہیں کرے گا، قیامت کے دن ا ن کی طرف (رحمت کی ) نظر نہیں کرے گا ، انہیں ( گناہ سے ) پاک نہیں کرے گا ،اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

۷۸۔ ان ( یہود) میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ( خدا کی ) کتاب کی تلاوت کے وقت اپنی زبان یوں پھیرتے ہیں کہ تم گمان کرنے لگوکہ وہ ( جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں ) کتاب خدا میں سے ہے ،حالانکہ وہ کتاب خدا میں سے نہیں ہوتا،کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے ۔ جب کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا، اور وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ حالانکہ جانتے ہیں ۔

۷۹کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ خدا آسمانی کتاب ،حکم اور نبوت  اسے دے اور پھر وہ لوگوں سے کہتا پھر ے کہ خدا کو چھوڑ کر میری عبادت کرو۔ بلکہ( اس کے شایان شان یہ ہے کہ وہ کہے ) خدا والے بنو ؛جیسا کہ تمہیں کتابِ خدا کی تعلیم دی گئی ہے اور جیسا تم نے درس بڑھا ہے ( اور خدا کہ علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو ) ۔

۸۰۔ اور نہ یہ کہ تمہیں حکم دے کہ فرشتوں اور نبیاء کو اپنا پروردگار بنالو ۔ تو کیا وہ تمہیں کفر کی طرف دعوت دیتا ہے جب کہ تم مسلمان ہو چکے ہو ۔

۸۱۔ وہ وقت (یاد کرو )جب خدا نے انبیاء (اور ان کے پیروکاروں سے ) یہ تاکید ی عہد و پیمان لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت دے دوں اس کے بعد تمہارے پا س ایک پیغمبر آئے جو اس کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے تو اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا ( (پھر خدا نے ان سے ) کہا : کیا اس چیز کا قرار کرتے ہو، اور اس پر تاکیدی عہد و پیمان باندھتے ہو ۔ انہوں نے کہا:( جی ہاں ) ہم اقرار کرتے ہیں ۔ ( خدا نے ان سے ) کہا : اس مقدس عہد و پیمان پر ) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ۔

۸۲۔ اس بناء پر جو شخص اس ( مستحکم پیمان )کے بعد منہ پھیر لے وہ فاسقین میں سے ہو گا ۔

۸۳۔کیا وہ لوگ دین خداکے علاوہ کوئی دوسرادین چاہتے ہیں ( اس کا دین تو اسلام ہے ) اور ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اختیار یا مجبوری سے اس کے ( حکم ) کے سامنے تسلیم ہیں، اور وہ اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے ۔

۸۴۔کہہ دو کہ ہم اللہ پر ایمان لائیں ہیں، اور ( اس طرح ) اس پر ( بھی ایمان لائے ہیں ) جو ہم پر ، ابراہیم پر ، اسماعیل پر،اسحاق پر، یعقوب پر اور اسباط پر نازل ہوا ہے، اور اس پر ( بھی ایمان لائے ہیں ) جو موسیٰ ، عیسیٰ اور ( دوسرے) پیغمبر وں کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا ہے ،ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور اس کے ( فرمان ) کے سامنے تسلیم ہیں ۔

۸۵۔ اور جو کوئی اسلام ( اور حکمِ حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے) کے علاوہ اپنے لئے کوئی دین انتخاب کرے تو وہ اس سے قبول نہیں ہوگا ،اور آخرت میں وہ گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔

۸۶۔ خدا ان لوگوں کو کیونکہ ہدایت کرے جو ایمان لانے ، رسول کی حقانیت کی گواہی دینے اور ان کے واضح نشانیاں آجانے کے بعد کفر  اختیارکریں ،اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

۸۷۔ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر اللہ ، ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہے ۔

۸۸۔ وہ ہمیشہ اس لعنت ( پھٹکار ) میں ( مبتلا ) رہیں گے، ان کے عذاب میں تخفیف نہیں دی جائے گی، اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی ۔

۸۹۔ مگر وہ لوگ جو بعد ازاں توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں، ( اور گذشتہ گناہوں کی تلافی کریں تاکہ توبہ قبول ہو) کیونکہ خدا بخشنے والا اور رحیم ہے ۔

۹۰۔ جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اورپھر ( اپنے ) کفر میں بڑھ گئے ہیں ( اور اس راہ میں اصرار کرتے ہیں ) تو ان کی توبہ کبھی بھی( جومجبوری کی بناء پر ہو یا مرتے وقت کی جائے) قبول نہیں ہوگی؛ اور وہ (واقعاً)گمراہ ہیں ( اور وہ خدا کی راہ بھی کھو چکے ہیں اور توبہ کی بھی ) ۔

۹۱ ۔ جن لوگوں نے کفر اختیا رکیا اور اسی حالت میں دنیا سے گئے تو اگر وہ بعنوان فدیہ (اپنی اعمالیوں کاکفارہ)صفحہ زمین کو پرکرنے کے برابر بھی دیں تو میں اسے کسی ایک سے بھی قبول نہیں کیاجائے گا؛ اور ان کی سخت سزائیں  ہیں ؛ اور ان کا کوئی یار و مدد گار بھی نہیں ہے ۔

۹۲۔تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں ( خدا کی راہ میں ) خرچ نہ کردو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا ۔

۹۳۔تمام ( پاک ) غذائیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں سوائے ان کے جنہیں اسرائیل ( یعقوب ) نے تورات کے نزول سے پہلے اپنے لئے حرام قرار دیا تھا ( مثال کے طور پر اونٹ کو گوشت جو ان کے لئے ضرر رساں تھا)ان سے کہوتم (اپنے اعتراض میں ) سچّے ہو تو لاوٴ تورات اور اسے پڑھو( یہ غلط باتیںجو تم گذشتہ انبیاء کی طرف منسوب کرتے ہو تمہاری تحریف شدہ تورات میں بھی نہیں ہیں ۔ (مجمع البیان جلد ۲  صفحہ ۴۷۴۔)

۹۴۔اس کے بعد بھی جو اپنی گھڑی ہوئی جھوٹی باتیں خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں ( اور وہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں ) وہی در حقیقت ظالم ہیں ۔

۹۵۔کہہ دو ، اللہ نے سچ فرمایا ( اور یہ ابراہیم کے پاک دین میں نہیں تھا )لہٰذا تم ابراہیم کے آئین کی پیروی کرو جو حق پسند تھے، اور یقینا ابراہیم شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے ۔

۹۶۔ پہلا گھر جو لوگوں ( اور خدا سے تضرع و خضوع) کے لئے بنایا کیا گیا ہے وہ سر زمین ِ مکہ میں ہے جو بار برکت ہے او ردنیا کے لئے ہدایت و رہبری کا سبب ہے ۔

۹۷۔ اس  میں واضح و آشکار نشانیاں ہیں ، اس میں سے مقام ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہو وہ امان میں ہوگیا، اور جو لوگ اس کی طرف جانے کی قدرت رکھتے ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ خدا کے لئے ( اس کے ) گھر کی زیارت کریں ،اور جو کوئی کفر کرے ( حج ترک کرے ) اس نے اپنے آپ کو نقصان پہنچا یا ، تو پھر خدا تو تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

۹۸۔ ( اے پیغمبر ! ان سے کہو: اے اہل کتاب ! تم کیوں ( دیدہٴ و دانستہ ) اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہو ،حالانکہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کا شاہد حال ہے ۔

۹۹۔ کہو: اے اہل کتاب ! یہ کیا ہے کہ جوکوئی اللہ پر ایمان لانا چاہتا ہے، تم اسے اللہ کی راہ سے روکتے ہواور اسے ٹیڑھی چال چلا نا چاہتے ہو۔ حالانکہ تم حقیقت ِ حال سے بے خبر نہیں ہو ۔ (یاد رکھو) جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے ۔

۱۰۰۔  اے ایماندارو! اگر تم اہل کتاب میں کسی گروہ ( کہ جن کا کام نفاق اور تمہارے درمیان کنیہ و عدالت کی آگ بھڑکانا ہے )کی باتوں پر کار بند ہوگئے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ تمہیں ایمان سے کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔

۱۰۱۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم ( اب پھر ) کفر کی راہ اختیار کرلو، جب کہ تمہارا حال یہ ہے کہ تمہیں اللہ کی آیتیں  سنائی جارہی ہیں، اور اس کا رسول ( تعلیم و رہنما ئی ) کے لئے تم میں موجود ہے ۔ ( لہٰذا خدا سے تمسک رکھو) اور یاد رکھو کہ جو کوئی مضبوطی سے اللہ کا ہو رہا تو بلاشبہ اس پر سیدھی راہ کھل گئی ( پھرنہ تو اس کے لئے لغزش ہے اور نہ بھٹکنے کا اندیشہ)۔

۱۰۲۔اے ایمان والو!جو تقوی اور پر ہیز گاری کا حق ہے اس طرح(اللہ کے فرمان)کی مخالفت سے پر ہیز کرو؛ اور اسلام کے آئین کے علاوہ دنیاسے نہ جاو ۔

۱۰۳۔ اور تم اللہ کی رسی (=قرآن اور الٰہی وحدت کا ہر وسیلہ)کو مضبوطی سے پکڑلو؛ او ر آپس میں پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ کی نعمتوں کویاد کرو کہ تم کس طرح ایک دوسرے کے دشمن تحے، پھر خدا نے تمہارے درمیان محبت قائم کردی تو تم اس کی نعمت کی برکت سے ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔(تم اس وقت آگ میڑھ پر کھڑے تھے خدا نے اس سے تمہیں نجات دے دی، اس طرح خدا وند عالم تمہارے لئے اپنی آیات کو آشکار کرتا ہے ؛ شاید تم ہدایت پاجاو۔

۱۰۴۔ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی باتوں کی طرف دعوت دے ، وہ نیکی کا حکم کرے برائی سے روکے ۔ اور بلا شبہ ایسے ہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں ۔

۱۰۵۔ اور دیکھو! ان لوگوں کی سی چال نہ چلنا جو( خدا کے ایک ہی دین پر اکھٹے رہنے کی بجائے ) الگ الگ ہو گئے ، اور باوجود یہ کہ ( کتاب اللہ ) کی روشن  دلیلیں ان کے سامنے آچکی تھیں انہی لوگوں کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

۱۰۶۔ ایسا روز آئے گا (قیامت)جب کچھ چہرے سفید ہوجائیں گے اور کچھ سیاہ ہو جائیں گے ، اورکچھ سیاہ ہوں گے ،وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں جائیں گے (ان سے کہا جائے گا )کیا تم ایمان (اور سایہٴ اخوت میں آنے )کے بعد کافر ہو گئے تھے، (اب) اپنے کئے ہوئے کفر کے عذاب کا مزہ چکھو۔

۱۰۷۔ لیکن وہ جن کے چہرے سفید ہو ں گے وہ خدا کی رحمت میں ہو ں گے ،اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۱۰۸۔کتاب کی یہ بر حق آیات ہیں جنھیں ہم تیرے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا ہر گز عالمیں کے لئے ظلم و ستم کا ارادہ نہیں رکھتا۔

۱۰۹۔اور( کس طرح ممکن ہے کہ خدا ظلم چاہے جبکہ)جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے وہ اس کی ملکیت  ہے اور تمام کاموں کی بازگشت اسی کی طرف ہے ۔

۱۱۰۔ تم وہ بہترین قوم ہو جسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے (کیونکہ) تم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے  ہو،اور اگر اہل کتاب (اس نظام اور اس روشن آئین پر) ایمان لے آئے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا،لیکن ان میں سے تھوڑے ہی صاحب ایمان ہیں ورنہ اکثر فاسق (اور پرور دگار کی اطاعت سے خارج ) ہیں۔

۱۱۱۔اور وہ (اہل کتاب خصوصاً یہودی ) تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے تھوڑی سی آزارو اذیت کے اور اگروہ تم سے جنگ کریں تو تمہیں پیٹھ دکھا کر (بھاگ)جائیں گے ۔ اس کے بعد کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آئے گا ۔

۱۱۲۔ وہ جہاں کہیں ہوں گے ان پرذلت و رسوائی کی مہر لگی ہوگی مگر یہ کہ وہ خدا سے رابطہ قائم کریں (اور اپنی ناپسندیدہ روش پر تجدید نظر کریں )یالوگوں سے وابستگی کے ذریعہ (ادھر ادھر سے مدد حاصل کرلیں  ۔اور وہ خدا کے غضب میں مبتلا ہوگئے ہیں اور بیچارگی کی مہر ان پر ثبت ہو چکی ہے۔کیونکہ وہ آیات خدا وندی کا انکار کرتے ، اور خدا کے پیغمبروں کو نا حق قتل کرتے تھے ۔یہ سب کچھ ان کے گناہوں کی وجہ سے تھا اور وہ (دوسروں کے حقوق پر) تجاوز کرتے تھے۔

۱۱۳۔ وہ سب برابر نہیں ہیں ۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو (حق و ایمان کے ساتھ ) قائم ہے اور وہ اوقات شب میں مسلسل حالت سجدہ میں آیات خدا کی تلاوت کرتے ہیں ۔

۱۱۴۔وہ خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ۔امر بالمعروف نہی عن المنکر کرتے ہیں اور نیک کاموں کی انجام دہی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں، اور وہ نیک لوگوں میں سے ہیں ۔

۱۱۵۔جو نیک اعمال وہ انجام دیتے ہیں انہیں ہرگزنظر انداز نہیں کیا جائےگا (اور وہ اچھی جزا پائیں گے ) اور خدا پرہیزگاروں کو جانتاہے ۔

۱۱۶۔ جن لوگوں نے کفر اختیار کیاوہ ہر گز اپنے اموال اور اولاد کے ذریعے اللہ کے عذاب و سزا سے نہیں بچ سکیں گے ۔وہ وہل جہنم ہیں اور ہمیشہ کے لئے اس میں رہیں گے ۔

۱۱۷۔ وہ لوگ جو کچھ وہ اس دنیاوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں وہ جلانے والی ( گرم ) ہوا کی مانند ہے جو اس قوم کی زراعت پر چل پڑے جس نے اپنے اوپر ظلم کیا (اور نا مناسب وقت پر زراعت کی )اور وہ اسے نیست و نابود کردے ، خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا ، بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے ۔

۱۱۸۔ اے ایمان والو!اپنوں کے علاوہ کسی کو راز دار نہ بناوٴ،(کیونکہ)۔کوئی بھی تمہیں کوئی نقصان پہنچانے کے بارے میں کوتاہی نہیں کریں گے، وہ تمہاری تکلیف اور رنج پر خوش ہوتے ہیں، ان کے دل کی عداوت اور دشمنی ان کے منہ سے نکل پڑتی ہے ،اور جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی شدید تر ہے ۔ ہم نے آیات ( اور ان سے محفوظ رہنے کی تدابیر ) تمہارے لئے واضح کردی ہیں بشرطیکہ تم عقل اور خرد سے کام لو ۔

۱۱۹۔  تم عجیب لوگ ہو کہ تم  انہیں دوست رکھتے ہو لیکن وہ تمہیں دوست نہیں رکھتے، حالانکہ تم تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو ؛(لیکن وہ تمہاری آسمانی کتابوں پر ایمان نہیں رکھتے ) اور جس وقت وہ تم سے ملتے ہیں تو ( جھوٹ موٹ ) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں لیکن جب وہ تنہائی میں ہوتے ہیں تو شدید غیظ و غضب سے اپنی انگلیاں کاٹنے لگ جاتے ہیں ۔( ان سے ) کہہ دو: کہ تم اپنے غصہ میں جل مرو! بیشک خدا سینوں میں چھپے ہوئے (اسرار) سے آگاہ ہے ۔

۱۲۰۔ اگر تمہیں کوئی راحت ملتی ہے تو انہیں برا لگتاہے، اور اگر تمہیں کوئی نا خوش گوار حادثہ پیش آجائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں لیکن تم اگر (ان کے مقابلہ میں ) ثابت قدمی اور پرہیزگاری اختیار کروگے تو ان کی (خائن) سازشیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ خدا اس چیز پر احاطہ رکھتا ہے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

۱۲۱۔ اور (یاد کرو وہ وقت) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر والوں سے مومنین کے لئے لشکر جنگ انتخاب کرنے باہر نکلے ۔اور خدا سننے اور جاننے والا ہے ( جنگ کے بارے میں جو بات چیت کی گئی اور جو افکار بعضوں کے دماغ میں  پرورش پا رہے ہیں خدا انہیں جانتا ہے )۔

۱۲۲۔  اور (یاد کرو وہ وقت) جب تم میں سے دوگروہوں نےسستی کامظاہرہ کرنے کا مصمم ارادہ کیا ( اور چاہا کہ وہ راستے سے پلٹ جائیں ) اور خداان کا مدد گار تھا(کہ وہ اس فکر سے بعض آجائیں ) اور اہل ایمان کو صرف خدا پر توکل کرنا چاہیے۔

۱۲۳۔ خدا نے بدر میں تمہاری مدد کی ( اور تم خطرناک دشمن پر فتحیاب ہوئے ) جبکہ تم ان کی نسبت ناتواں تھے، پس خدا سے ڈرو (اور دشمن کے مقابلہ میں حکم پیغمبر کی نا فرمانی نہ کرو ،) تا کہ تم اس کی نعمت کا شکر بجا لاو ۔

۱۲۴۔ (اے رسول)جس وقت تم مومنین سے کہتے تھے: کہ کیا یہ کافی نہیں کہ تمہارا پر ور دگار تین ہزار ملائکہ سے  ( آسمان سے اتار کر) تمہاری مدد کرے۔

۱۲۵۔ ہاں!( آج بھی ) اگر تم صبراور استقامت اور پرہیزگاری اختیارکرو اور جب دشمن تم پر چڑھ آئے تو خدا پانچ ہزار مخصوص نشان رکھنے والے فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرےگا ۔

۱۲۶۔لیکن یہ سب تو صرف تمہیں بشارت دینے کے لئے اور تمہارے اطمینان کی خاطر ہے ،ورنہ کامیابی تو فقط خدائے توانا و حکیم کی طرف سے ہے ۔

۱۲۷۔ (یہ وعدہ جو خدا نے تمہارے ساتھ کیا ہے ) اس لئے ہے تا کہ لشکر کفار ایک ٹکڑی کو قطع کر دے یا انہیں ذلت کے ساتھ پلٹائے تاکہ وہ مایوس ہو کر ( اپنے علاقہ کو ) پلٹ جائیں ۔

۱۲۸۔ کسی قسم کا ختیار (کفار اور جنگ سے فرار کرنے والے مسلمانوں کے فیصلہ کے بارے میں) تمہیں نہیں ہے، مگر یہ کہ خدا چاہے کہ انہیں در گذر کردے یا سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں ۔

۱۲۹۔ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے (اور مناسب سمجھتا ہے ) بخش دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے عذاب دے دیتا ہے اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

۱۳۰۔ اے ایمانداروں! (بڑھا چڑھا کر سود ) نہ کھاوٴ خدا سے ڈرو تاکہ فلاح پاجاوٴ۔

۱۳۱۔ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔

۱۳۲۔ اور خدا اور پیغمبر  کی اطاعت کرو تا کہ رحمت (الٰہی ) تمہارے شامل حال ہو۔

۱۳۳ ۔ ایک دوسر ے کی طرف سبقت حاصل کرو اپنے پروردگار کی مغفرت اور جنت جس کی وسعت تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔

۱۳۴۔یہ وہی لوگ  ہیں جو تنگی اور کشادگی میں خرچ کرتے ہیں اور اپنا غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کی خطاوٴں سے در گذر کرتے ہیں اور خدا نیکو کا ر لوگوں کو دوست رکھتا ہے ۔

۱۳۵۔ اور وہ لوگ کہ جب وہ کسی عمل بد کا ارتکاب کرلیتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کربیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں، اور خدا کے سوا گناہوں کو بخشنے والا کون ہے ،اور وہ گناہ پر اصرار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں ۔

۱۳۶ ۔ ان کی جزا ء پروردگار کی بخشش اور وہ باغات بہشت ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ، وہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے، اور یہ عمل کرنے والوں کے لئے کتنا اچھا معاوضہ ہے ۔

۱۳۷۔تم سے پہلے کچھ سنتیں موجود تھیں ( اور ہر قوم کی سزا ئیں ان کے اعمال و صفات کے مطابق تھی اور تمہارا حال بھی ان کا ساہے ) زمین میں چل پھر کر دیکھو ( کہ آیات خدا کی ) تکذیب کرنے والوں کا انجام کیاہوا ۔

۱۳۸۔ یہ بیان اور دھمکی  ہے عام  لوگوں کے لئے،  اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت و نصیحت ہے ۔

۱۳۹۔ اور سست نہ ہو جاوٴ اور حزن و ملال نہ کرو حالانکہ تم ہی بر تر ہو اگر تم ایمان والے ہو ۔

۱۴۰۔ اگر تمھیں ( میدان احد میں ) زخم لگے ہیں ( اور تمہیں نقصان پہنچا ہے ) تو اس گروہ کو بھی (میدان بدر میں ) اسی طرح زخم لگ چکے ہیں اور ہم (شکست و کامیابی کے) ان دنوں کو لوگوں میں الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں ( کیونکہ یہ اس جہان کی زندگی کی خاصیت ہے ) یہ اس لئے  ہے تاکہ خدا ایمان لانے والوں کو مشخص کرلے ، اور (خداوند عالم) تمہارے میں سے گواہ بنا لے ۔اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا ۔

۱۴۱۔اور اس لئے  ہے تاکہ خدا صاحب ایمان لوگوں کو خالص قرار دے (اور وہ الگ ہو جائیں ) اور کافروں کو رفتہ رفتہ نابود کر دے

۱۴۲۔ کیا تمہارا گمان ہے کہ ( تم صرف دعویٰ و ایمان کی بنا پر )جنت میں داخل کر دئے جاوٴ گے جبکہ ابھی خدا نے تم میں سے مجاہدین اور صاہرین کومشخص اور جدا نہیں کیا ۔

۱۴۳۔ اور تم موت ( اور راہ خدا میں شہادت ) کی تمنا کرتے تھے، جبکہ ابھی تمہارا اور اس کا آمنا سامنا نہیں ہوا تھا، اور تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ تمہیں نظر آرہی تھی (لیکن تم اپنے تئیں اس کے  حوالے کرنے کو تیار نہ تھے ، تمہاری گفتار و کردار میں کتنا فرق ہے)۔

۱۴۴۔  محمد صرف خدا کے رسول ہیں، اور ان سے بھی بہت سے رسول گذرے ہیں، کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں قتل کر دیا جائے تو تم الٹے پاوٴں لوٹ جاوٴ گے ( اور ان کے فوت ہونے سے اسلام کو چھوڑ کر کفر و بت پرستی کے زمانہ کی طرف پلٹ جاوٴ گے ) اور جو شخص پلٹ جائے گا وہ ہرگز خدا کو ضرر نہیں پہنچائے گا، اور خدا تعا لیٰ عنقریب شکر گزاروں ( اور استقامت رکھنے والوں ) کو جزا دے گا ۔

۱۴۵۔ اور کوئی شخص حکم خدا کے بغیر نہیں مرتا یہ معین شدہ سر نوشت ہے (اس بنا پر پیغمبر  اوردوسرے لوگوں کی وفات سنت الٰہی ہے ) لہٰذا تو جو شخص بھی دنیا کا ثواب اور جزا چاہیگا ( اور اپنی زندگی میں اس کے لئے کوشش کرتا ہے ) تو اس میں کچھ نہ کچھ ہم اسے دےدیں گے ،اور جو آخرت کا ثواب اور جزا چاہتا ہے تو ہم  اس میں اسے عطا کریں گے اور عنقریب شکر گزاروں کو جزاء دیں گے ۔

۱۴۶۔ اور کتنے پیغمبر  تھے جن کی معیت میں بہت سے خدا والوں نے جنگ کی تو انہوں نے راہ خدا میں پہنچنے والی مصیبت کے مقابلہ میں سستی نہیں کی اور نہ وہ کمزور وناتواں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے سر جھکایا، اور خدا صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔

۱۴۷۔ ان کی گفتگو صرف یہ تھی کہ پروردگار ہمارے گناہوں کوبخش دے اور ہمارے کاموں میں ہماری زیادتی سے صرف نظر فرما، ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمیں کفار پر کامیابی عطا کر۔

۱۴۸۔ لہٰذا خدا نے دنیا کا ثواب اور آخرت کانیک حسن نہیں دیا اور خدا نیکوکاروںسے محبت کرتا ہے ۔

۱۴۹۔اے ایمان والو ! اگر ان لوگوں کی اطاعت کرو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تمہیں پیچھے کی طرف دھکیل دیں گے، اور آخر کار تم نقصان اٹھانے والے ہو جاوٴ گے

۱۵۰۔ ( وہ تمہارا سہارا نہیں ہیں ) بلکہ تمہارا سہارا اور سر پرست خدا ہے اور وہ بہترین مددگار ہے ۔

۱۵۱۔ چونکہ وہ (کفار )بلا دلیل کچھ چیزوں کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں ۔ اس لئے بہت جلد ان کے دلوں پر ہم رعب و خوف طاری کریں گے، اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کا ٹھکانا کس قدر برا ہے ۔

۱۵۲۔خدا نے تم سے اپنا وعدہ ( جنگ احد میں دشمن پر کامیابی کا )سچ کر دکھایا جبکہ (ابتدا ء جنگ احد میں )تم دشمنوں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے (اور یہ کامیابی جاری تھی ) یہاں تک کہ تم سست ہو گئے اور ( مورچوں کو چھوڑنے لگے اور ) آپس میں نزاع کرنے لگے اور جو (دشمن پر غلبہ ) تم چاہتے تھے وہ تمہیں دکھایا لیکن بعد تم نے نا فرمانی کی ۔ تم میں سے بعض دنیا کے خواہش مند تھے اور بعض آخرت کے خواہاں تھے پھر خدا نے تمہیں ان پر غلبہ سے پھر دیا (اور تمہاری فتح شکست سے بدل گئی )تا کہ وہ تمہارا امتحان لے اور اس نے تمہیں معاف کر دیا اور خدا مومنین پر فضل کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔

۱۵۳۔ (یاد کرو وہ وقت ) کوجب تم پہاڑ چڑھ رہے تھے ( اور تمہارا ایک گروہ بیابان میں بکھرا ہوا تھا ) اور تم پیچھے رہ جانے والوں کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے، اور پیغمبر  پیچھے سےتمہیں پکار رہے تھے۔ اس کے بعد اس نے  تم پر پے در ہے مصائب پڑنے کا ثواب اور جزادی اور یہ سب اس لئے تھا (تا کہ جنگی غنائم کے ) ہاتھ سے چلے جانے سے تم غمگین نہ ہو، اور نہ ہی ان آلام کی وجہ  غمگین ہونےسے جو تم پر آ پڑے تھے، اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ۔

۱۵۴۔ پھر اس غم و اندوہ کے بعد امن و امان کا سایہ تم پر نازل کیا اور یہ ایک اونگھ کی صورت میں تھا جو ( واقعہ احد کی بعد آنے والی رات میں ) تم میں سے ایک گروہ کو عارض ہوئی تھی لیکن ایک دوسرے گروہ کو اپنی جان کی فکر تھی (اور انہیں نیند نہیں آئی تھی ) وہ لوگ خدا کے بارے میں زمانہ جاہلیت کے سے برے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا کامیابی کا کچھ حصہ ہمیں بھی نصیب ہوگا۔ کہہ دو : تمام(کامیابیاں اور ) کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ اپنے دل میں کچھ باتیں چھپائے ہوئے ہیں جن کا تمہارے سامنے اظہار نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کامیابی میں ہمار اکوئی حصہ ہوتا تو ہم قتل نہ ہوتے ۔ کہہ دو :اگرتم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو وہ لوگ کہ قتل ہونا جنکی قسمت میں تھا ، وہ ( دشمن ) ان کے بستروں پر آ پڑتے ( اور انہیں قتل کر دیتے ) اور یہ اس لئے ہے تاکہ خدا اس چیز کا امتحان جو تم اپنے سینوں میں چھپائے پھرتے ہو، اس لئے بھی کہ خدا تمہارے سینوں کے اندر جو کچھ(ایمان) ہے اسے خالص کردے اور خدا وند عالم سینے میں چھپے ہوئے رازوں کو جانتا ہے ۔

۱۵۵۔تم میں سے وہ لوگ جو اس روز (روز احد)جنگ شروع ہونے سے پہلے بھاگ کھڑے ہوئے تحے، انھیں شیطان نے ان کے بعض گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ڈگمگادیا تھا ، لیکن خدا نے انھیں معاف کردیا، کیونکہ خدا بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے اور بردبار ہے ۔

۱۵۶۔ اے ایماندارو ! تم کفار کی مانند نہ ہو جاوٴ کہ جب ان کے بھائی سفر پر یا جنگ کے لئے جاتے ہیں (اور مر جاتے ہیں یا قتل ہو جاتے ہیں )تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور قتل نہ ہوتے (تم ایسا نہ کہو ) تا کہ خدا یہ حسرت ان کے دلوں میں رکھ دے اور زندہ کرنے والا اور مارنے والا خدا ہے (اور زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہے ) اور وہ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے ۔

۱۵۷۔ (اب) اگر راہ خدا میں قتل ہو جاوٴ یا مر جاوٴ ( تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے ) کیونکہ خدا کی رحمت اور مغفرت ان تمام چیزوں سے جو انہوں نے (ساری زندگی میں)جمع کیا ہے بہتر ہے۔

۱۵۸۔ اور اگر تم مر جاوٴ یا قتل ہو جاوٴ تو خدا کی طرف پلٹ جاوٴ گے (اورتم پریشان ہو، خدا کی رحمت میں جگہ پاو گے)۔

۱۵۹۔ رحمت الٰہی کے سبب تم ان کے سامنے نرم (اور مہربان ) ہے  اور اگر تم سخت خو ہوتے تو وہ تم سے دور ہو جاتے لہٰذا انہیں معاف کر دو، اوران کے لئے مغفرت طلب کرو ،اور کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرو ،لیکن جب مصمم ارادہ کرلو تو ( پھر ڈٹ جاوٴاور ) خدا پر توکل کرو ،کیونکہ خدا توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔

۱۶۰۔ اگر خدا تمہاری مدد کرے تو کوئی بھی تم پر غلبہ نہیں پا سکتا اور اگر وہ تمہاری مدد سے دست بردار ہو جائے تو اس کے علاوہ کون تمہاری مدد کرنے والا ہے، اور مونین کو صرف خدا پر توکل کرنا چاہیے

۱۶۱۔( تم گمان کرتے ہو کہ ہو سکتا ہے پیغمبر  تم سے خیانت کرے حالانکہ ) ممکن نہیں ہے کہ کوئی پیغمبر خیانت کرے اور جو شخص خیانت کرے گا وہ روزقیامت اسی چیز کے ہمراہ ( میدان حشر میں ) پیش ہو گا پھر ہر شخص کو وہ کچھ دیا جائے گا جو اس نے کمایا (انجام دیا ) ہو گا ( اس بناء پر ) ان پر ظلم نہیں ہو گا ( بلکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ ہی دیکھیں گے ) ۔

۱۶۲۔ وہ جو رضائے خدا کی پیروی کرے کیا وہ اس کی مانند ہے جو خشم و غضب خدا کی طرف لوٹے اور اس کی جائے قرار جہنم ہے اور اس کا انجام بہت ہی برا ہے ۔

۱۶۳۔ ان میں سے ہر ایک کے لئے درگاہ خدا میں درجہ و مقام ہے اور جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں اسے خدا دیکھتا ہے ۔

۱۶۴۔ خدا نے مومنین پر احسان کیا ( انہیں ایک عظیم نعمت بخشی ) جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک پیغمبر کو مبعوث کیا جو ان کے سامنے اس کی آیت پڑھتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگر چہ اس سے پہلے وہ واضح گمراہی میں تھے ۔

۱۶۵۔ (جنگ احد میں ) تم پر مصیبت آئی ( جبکہ بدر میں ) تم نے دشمن پر اس سے دو گنا مصیبت ڈالی تھی ، تو تم کہنے لگے کہ یہ مصیبت کہاں سے آئی ؟ کہہ دو کہ خود تمہاری طرف سے ہے ( کہ تم نے جنگ احد کے میدان میں حکم پیغمبر  کی مخالفت کی ) ۔ بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے ( اور اب بھی اگر تم اپنی اصلاح کر لو تو آئندہ وہ تمہیں کامیابی دے گا ) ۔

۱۶۶۔ اور اس روز ( احد کے دن ) جب دو گروہ ( مومنین و کفار ) آپس میں نبرد آزما ہوئے تو تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ حکم خدا ( اور قانون مکافات ) کے مطابق تھی اور اس بناء پر تھی تا کہ اہل ایمان پہچانے جائیں ۔

۱۶۷۔ اور ( یہ بھی وجہ تھی کہ ) جن لوگوں نے منافقت کی ہے وہ پہچانے جائیں ۔ وہ جنہیں کہہ دیا گیا تھا کہ آوٴ اور راہ خدا میں جنگ کرو یا ( کم از کم ) اپنے حریم کا دفاع کرو۔ انہوں نے کہا اگر ہمیں یقین ہوتا کہ واقعا ً جنگ ہوگی تو تمہاری پیروی کرتے ( لیکن ہمیں تو پتہ ہے کہ جنگ نہیں ہو گی ) ۔ وہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ نزدیک تھے ۔ وہ اپنے منہ سے وہ کچھ کہتے تھے جو ان کے دل میں نہیں ہو تا تھا اور خدا اس چیز کو جانتا ہے  جسے وہ چھپاتے ہیں ۔

۱۶۸۔ ( منافقین ) وہ ہیں جنہون نے اپنے بھائیوں سے ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ  کر کہا: کہ اگر وہ ہماری پیروی کرتے تو قتل نہ ہوتے ۔ کہہ دو ( کیا تم، لوگوں کی پیشین گوئی  کر سکتے ہو تو ) پھر موت کو اپنے آپ ہی سے دور کر لو ، اگر تم سچے ہو ۔

۱۶۹۔ راہ خدا میں قتل ہونے والوں کے بارے میں ہرگز گمان نہ کرو کہ وہ مرد ہ ہیں بلکہ وہ زندا ہیں اور اپنے رب کے ہاں سے روزی پاتے ہیں ۔

۱۷۰۔ وہ خدا کی عطا کردہ فراواں نعمتوں پر خوش ہیں، اور وہ ( مجاہد ) کہ جو ان سے پیچھے رہ گئے ہیں اور ان سے ابھی آ کر نہیں ملے ان کے بارے میں بھی خوش ہیں (کیونکہ وہ اس جہان میں ان کےعظیم مراتب کو دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں ) کہ نہ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ ملال۔

۱۷۱۔ اور وہ خدا کی نعمت اور اس کے فضل سے ( خوش حال و مسرور ہوتے ہیں ) اور (وہ دیکھتے ہیں کہ ) خدا (شہید ہونے والوں اور  شہید ہونے  نہ والے مجاہد ) مومنین کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔

۱۷۲۔ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی خدا اور رسول کی دعوت کو قبول کیا ( اور ابھی ان کے جنگ احد کے زخم تازہ تھے کہ وہ حمراء الاسد کے میدان کی طرف چل پڑے ) ان میں سے نیک عمل کرنے والوں اور تقوی ٰ اختیار کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے ۔

۱۷۳۔ وہ ایسے اشخاص تھے جن  میں سے (بعض ) لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمہارے اوپر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کرلیا ہے ، ان سے ڈرو لیکن ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا ،اور وہ کہنے لگے کہ خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ ہمارا بہترین حامی ہے ۔

۱۷۴۔اسی وجہ سے وہ ( اس میدان سے ) پر ور دگار کی نعمت و فضل کے ساتھ اس عالم میں لو ٹے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور خدا صاحب فضل و بخشش ہے ۔

۱۷۵۔ یہ صرف شیطان ہی ہے جو اپنے پیروکاروں کو ( بے بنیاد باتوں اور افواہوں کے ذریعہ ) ڈراتا ہے ۔ ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو ،اگر ایمان رکھتے ہو ۔

۱۷۶۔ جو لوگ راہ کفر میں دوسرے پر سبقت کرتے ہیں وہ تمہیں غمگین نہ کردیں ،کیونکہ وہ  ہر گز خدا کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔

علاوہ ازیں ) خدا چاہتا ہے ( کہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے اور اس کے نتیجے میں ) آخرت میں ان کاکوئی حصہ قرار نہ دے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ۔

۱۷۷ ۔ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا ہے،(لیکن) وہ خدا کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

۱۷۸۔ جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ( اور انہوں نے راہ سرکشی اختیار کی ہے ) وہ خیال نہ کریں کہ اگر ہم انہیں مہلت دیتے ہیں تو یہ ان کے نفع میں ہے ، ہم تو یہ مہلت انہیں اس لئے دیتے ہیں کہ وہ زیادہ گناہ کر لیں اور ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے ۔

۱۷۹۔ممکن نہ تھا کہ خدا مومنین کو اسی حالت میں چھوڑ دیتا جس میں تم ہو مگر یہ کہ نا پاک کو پاک سے جدا کر دے ۔ نیز ( یہ بھی ) ممکن نہ تھ اکہ خدا تمہیں مخفی رازوں سے آگاہ کرے ،( کہ اس طرح تم علم غیب کے ذریعہ مومنین اورمنافقین میں تمیز کرنے لگو ، کیونکہ یہ طریقہ سنت الہی کے خلاف ہے ) لیکن خدا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا چن لیتا ہے ( اور کچھ مخفی رازوں پر انہیں مطلع کر دیتا ہے جو ان کی رہبری کے لئے ضروری ہوتے ہیں ) ۔ لہٰذا ( جب اب کہ یہ دنیا پاک اور نا پاک میں تمیزکے لئے نہیں ہے ) خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آوٴ ۔ اگر تم ایمان لے آئے اور تم نے تقویٰ اختیار کر لیا تو تمہارے لئے اجر عظیم ہوگا ۔

۱۸۰۔ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور خدانے اپنے فضل و کرم سے جو کچھ انھیں دیا ہے خرچ نہیں کرتے وہ یہ گمان نہ کریں کہ ان کے لئے کوئی اچھی چیز ہے ؛بلکہ ان کے لئے بری چیز ہے ۔ بہت جلدی روز قیامت جن کے بارے میں انہوں نے بخل کیا ہے وہی چیزیں طوق کی مانند ان کی گردن میں ڈال دی جائیں گی۔ اور آسمانوں اور زمین کی میراث خدا کے لئے ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے آگاہ ہے ۔

۱۸۱۔ خدا نے ان لوگوں (=یہود کا ایک گروہ)کی بات سنی ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ انہوں نے جو کچھ کہا یہ ہم لکھ لیں گے اور (اسی طرح ان کا ) پیغمبروں کو نا حق قتل کرنا بھی  ہم نے لکھ رکھا ہے اور ہم انہیں کہیں گے کہ جلانے والا عذاب چکھو ۔

۱۸۲۔ یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی آگے بھیجی ہوئی کمائی ہے اور خدا ( اپنے ) بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔

۱۸۳۔ ( یہ ) وہی (ہیں ) جنہوں نے کہا کہ خدا نے ہم سے پیمان لیا ہے کہ ہم کسی پیغمبر  پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ (معجزہ کے طور پر ) ایسی قربانی نہ کرے جسے (آسمانی ) آگ کھا جائے ۔ ان سے کہئے کہ پھر تم نے مجھ سے پہلے آنے والے انبیاء کو کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو، جبکہ وہ واضح دلائل اور جو کچھ تم کہتے ہو لے کر آئے تھے ۔

۱۸۴ ۔ پس اگر یہ (بہانہ تراش ) تیری تکذیب کرتے ہیں (تو یہ کوئی نئی بات نہیں ) یہ تم سے پہلے پیغمبروں  کی (بھی )تکذیب کر چکے ہیں جبکہ وہ ( پیغمبر )واضح دلائل ، متین و محکم تحریر یں اور ضیاء بخش کتاب لائے تھے ۔

۱۸۵ ۔ ہرشخص موت کا ذائقہ چکے گا  اور تم روز قیامت اپنا اجر مکمل طورپر حاصل کرو گے پس جو لوگ ( جہنم کی ) آگ کی زد سے دور رہے اور بہشت میں داخل ہو گئے وہ سعادت سے ہمکنار ہوئے اور حیات دنیا سرمایہ ٴ فریب کے سوا کچھ  بھی نہیں ۔

۱۸۶ ۔ یہ طے ہے کہ تمہاری اور تمہارے  اموال کی  آزمائش کی جائے گی، اور جن لوگوں (یعنی یہودیوں ) کو تم سے پہلے آسمانی کتاب دی گئی ہے اور ( اسی طرح ) جنہوں نے شرک کی راہ اختیار کر رکھی ہے ان سے تم بہت سی تکلیف دہ اور آزار رساں باتیں سنو گے اور اگر تم نے صبر و استقامت اور تقویٰ اختیار کیا (کہ جو تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے ) تو پھر یہ  چیز  امر محکم اور قابل اطمینان امور میں سے ہے ۔

۱۸۷۔اور وہ وقت (یاد کرو ) جب خدا نے اہل کتاب سے میثاق لیا کہ اسے لوگوں کے سامنے ضرور آشکار کریں چھپائیں نہیں لیکن انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اسے تھوڑی سی قیمت پر فروخت کر دیا ، انہوں نے کیسی بری متاع خریدی ۔

۱۸۸ ۔ یہ گمان نہ کرو کہ جو لوگ اپنے (برے ) اعمال پر خوش ہوتے ہیں اور (دوسری طرف یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایسے ( نیک ) کام کے ضمن میں ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے  انجام نہیں دیا ، وہ عذاب الہی سے امان میں ہیں ( ایسا نہیں ہے بلکہ ) ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

۱۸۹۔اور آسمانوں اور زمین کی حکومت اللہ کے لئے ہے اورخدا ہر چیز پر قادر ہے ۔

۱۹۰۔بے شک زمین و آسمان کی تخلیق اور رات دن کے آنے جانے میں صاحبان عقل کے لئے (روشن ) نشانیاں ہیں ۔

۱۹۱۔ وہ لوگ خدا کو اٹھتے بیٹھتے اور اس وقت جبکہ وہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش کے اسرار میں غور فکر کرتے ہیں اور ( کہتے ہیں ) اے خدا !تو نے ہمیں فضول پیدا نہیں کیا ، تو پاک ہے(لہٰذا) ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ

۱۹۲۔ پالنے والے جس کو تونے ( اس کے اعمال کی وجہ سے ) آگ میں ڈال دیا اسے تو نے ذلیل و خوارکیا اس قسم کے ظالم لوگوں کا کوئی مدد گار نہیں ۔

۱۹۳ ۔ اے پروردگار ! ہم نے( توحید کے) منادی کی آواز سنی ہے ، جو پکار رہا تھا کہ اپنے پالنے والے پر ایمان لاوٴ اور ہم ایمان لے آئے ( اب جبکہ ایسا ہے ) اے خدا ! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری کوتاہیوں کی پردہ پوشی کردے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ ( ان کے راستے پر ) موت دینا ۔

۱۹۴ ۔ اے خالق ! جس چیز کا تونے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں مرحمت فرما ،اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا کیونکہ تو کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔

۱۹۵ ۔خدا نے ان ( صاحبان عقل ) کی درخواست قبول کر لی ہے اور فرمایا ہے کہ میں تم میں سے عمل کرنے والے کے عمل کو چاہے وہ عورت ہو یا مرد ضایع نہیں کروں گا ، تم سب  ایک دوسرے کی جنس ہو(اور ایک آئیں کے پیروہو) ۔ جنہوں میں راہ خدا میں ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دئے گئے اور انہوں نے میری راہ میں تکلیف اور اذیت کا سامنا کیا ہے اور جنگ کی ہے اور مارے گئے ہیں ۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے گناہ بخش دوں گا ،ااور انہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ یہ خدا کی طرف سے ثواب ہے اور ہاں خدا  بہترین ثواب ہے ۔

۱۹۶ ۔ کافروں کا شہروں میں ( فتح و کامیابی کے ساتھ) آنا جانا تمہیں دھوکا نہ دے ۔

۱۹۷ ۔ یہ متاع ناچیز ہے پھر ان کے لئے رہنے کی جگہ دوزخ ہے اور (دوزخ ) کتنی بری جگہ ہے ۔

۱۹۸ ۔ لیکن وہ لوگ ( جو ایمان لے آئے ہیں اور ) اپنے پرور دگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے باغات بہشت ہیں کہ جن کے درختوں تلے نہریں جاری ہیں، اور وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ ان کے لئے خدا کی طرف سے پہلی پذیرائی ہے اور جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہتر ہے ۔

۱۹۹ ۔ اور اہل کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور اللہ کی نازل کردہ چیزوں پر ایمان لائے جو تم پر نازل ہوئیں اور جو ان پر نازل ہوئیں یہ لوگ خد اکے فرمان کے سامنے خاشع ہیں ، آیات خدا کو نا چیز قیمت کے بد لے فروخت نہیں کرتے، ان کی جزا خدا کے پاس موجود ہے ، اور خدا وند عالم جلد ہی حساب چکا تا ہے ۔

۲۰۰ ۔ اے ایمان والو! (مشکلات اور ہوا و ہوس کے مقابلے میں ) استقامت و پا مردی دکھاوٴ اور دشمنوں کے مقالے میں ( بھی ) استقامت کا مظاہرہ کرو ؛اور اپنی سر حدوں کی حفاظت کرو، اور خدا سے ڈرو شاید تم کامیاب ہو جاوٴ ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma