مومن کی علامتیں :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
مشکات ہدایت
قال رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
«یَا عَلِی یَنْبَغِی أنُ یَکُونَ لِلْمُؤْمِنِ ثَمَانُ خِصَال: وَقَارٌ عِنْدَ الهَزَاهِزِ وَ صَبْرٌ عِنْدَ البَلاَء وَ شُکْرٌ عِنْدَ الرَّخَاءِ وَ قُنُوعٌ بِمَا رَزَقَهُ اللهُ لاَیَظْلِمُ الأعْدَاءِ وَ لاَیَتَحَامِلُ لِلاْصْدِقَاءِ بَدَنُهُ مِنْهُ فِی تَعَب وَالنَّاسُ مِنْهُ فِی رَاحَة».(
1)
رسول اکرم (ص) نے فرمایا : اے علی (ع) ایک مومن میں آٹھ صفتوں کا ہونا ضروری ہے : طوفان حوادث میں باوقار ، بلائوں میں صابر، چین و سکون میں شاکررہے اور جو کچھ خداوندعالم نے اسے دیا ہے اس پر قانع رہے ، اپنے دشمنوں کے ساتھ صحیح سلوک کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کے ساتھ سختی کو جائز نہیں جانتا، اس کا جسم زحمت میں رہتا ہے اور لوگ اس سے خوش رہتے ہیں ۔


حدیث کی وضاحت :
اس حدیث کے مطابق پیغمبرا کرم (ص) نے مومن کے آٹھ صفات بیان کئے ہیں :


١۔ طوفان حوادث میں باوقار
سیاسی، اقتصادی یا اعتقادی حوادث ممکن ہے انسان کو مشکلات میں گھیر لیں، لیکن مومن طوفان حوادث میں ہوا کے ساتھ ہر طرف متمایل نہیں ہوتا ،بلکہ اس میں وقار پایا جاتا ہے، فکری شبہات ، اخلاقی تحریکات اور سیاسی حوادث اس پر موثر نہیں ہوتے اوریہ ایک پہاڑ کی طرح ڈٹا ہوا کھڑا رہتا ہے ۔


٢۔ بلائوں اورمصیبتوں میں صبر کرتا ہے
جس وقت کوئی بلاء اور مصیبت آتی ہے تو مومن صبر کرتا ہے ، دنیا کی زندگی زلزلوں، بیماری، امراض اور سیلاب وغیرہ جیسی بلائوں سے خالی نہیں ہے ،مومن وہ ہے جو زندگی کی سختیوں میں ثابت قدم اور صابر رہے اور استقامت کرے کیونکہ یہ استقامت اس کے ایمان کی دین ہے ۔
اس سلسلہ میں حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں :
الصبر من الایمان کالراس من الجسد و لا خیر فی جسد لا راس معہ و لا فی ایمان لا صبر معہ ۔ صبر کی ایمان سے نسبت ایسی ہی ہے جیسی سر کی بدن سے ہے ، جس طرح سے سر کے بغیر بدن کی کوئی اہمیت نہیں ہے اسی طرح ایمان کی صبر کے بغیر کوئی اہمیت نہیں ہے (٢) ۔
٣۔ چین و سکون کے وقت شکر کرنے والا ہے
آرام و چین کی زندگی میں مومن ،خدا کو فراموش نہیں کرتا ، بہت سے ایسے لوگ ہیں جس وقت وہ سختیوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے ہیں فَاِذا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللَّہَ مُخْلِصینَ لَہُ الدِّینَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذا هُمْ یُشْرِکُون (٣) ۔ پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو ایمان و عقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھر جب وہ نجات دے کر خشکی تک پہنچادیتا ہے تو فورا شرک اختیار کرلیتے ہیں ۔
یا جس وقت قیدخانہ میں ہوتے ہیں تو دعا، نماز اورزیارت عاشورا میں مشغول ہوتے ہیں لیکن جس وقت قیدخانہ سے چھوٹ جاتے ہیں تو دوبارہ گمراہ ہوجاتے ہیں ۔
مومن انسان کو جس وقت خدا نعمت دیتا ہے تو وہ خدا کو فراموش نہیں کرتا ۔ اس کی مثال بالکلایاز کی طرح ہوتی ہے کہ جس وقت ایاز ، بادشاہ کا وزیر ہوگیا تو اس نے جانوروں کو چرانے کا لباس اٹھا کر رکھ لیااور ہمیشہ اس لباس کی طرف نظر کرتا تھا اور کہتا تھا : تو وہی چرواہا ہے جو آچ بادشاہ کا وزیر ہوگیا ہے اور خداوندعالم نے تجھے اس مقام تک پہنچایا ہے ۔
٤۔ خدا کی روزی پر قانع ہے
مومن قانع ہوتا ہے حریص نہیں ہوتا ، اپنے سے اوپر والے کی طرف نظر نہیں کرتا بلکہ اپنے سے نیچے کی طرف دیکھتا ہے اوردیکھتا ہے کہ وہ کس حالت میں ہیں ، کوشش کرتا ہے لیکن حرص نہیں کرتا ،قانع ہوتا ہے لیکن کوشش بھی کرتا ہے ، روایات میں ہے کہ حقیقی طور پرغنی وہ ہوتا ہے جو قناعت کرتا ہے جو کہ داخلی طور پر غنی ہوتا ہے ۔
٥۔ دشمن کے سامنے عدالت
حضرت یہ نہیں فرمارہے ہیں کہ مومن، مسلمان یا لوگوں پر ظلم نہیں کرتا یعنی یہ تو معلوم ہے کہ مسلمانوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اپنے دشمنوں پر بھی ظلم نہیں کرتا اور اس آیت وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلی أَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوی (٤) ۔ اور خبردار کسی قوم کی عداوت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ انصاف کو ترک کردو -انصاف کرو کہ یہی تقوٰی سے قریب تر ہے۔کے مصداق بنو ۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ فیصلہ کرتے وقت اپنی دشمنی کی وجہ سے دشمنوں کے حق میں غلط فیصلہ کرو ، مقام قضاوت میں جس وقت سب سے بڑے دشمن اور سب سے زیادہ نزدیک دوست کو لایا جاتا ہے تو اگر حق ،دشمن کے ساتھ ہوتا ہے تو مومن ظلم نہیں کرتا ،یہاں تک کہ اپنے دشمن کے حق میں بھی ظلم نہیں کرتا ۔
آسایش دو گیتی تفسیر این دو حرف است
با دوستان مروت بادشمنان مدارا (٥) ۔


٦۔ دوستوں پر کسی کام کو نہ تھونپنا
مومن اپنے دوستوں کو کسی کام کی زحمت نہیں دیتا ، مثال کے طور پر جن لوگوں کے ساتھ وہ زندگی بسر کرتا ہے اگر وہاں پر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اورکسی کام میں مدد نہ کرے تو یہ کام کو دوسروں پر حمل کرنا ہے اوریہ صحیح نہیں ہے ،ایک مشہور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں اپنے دوستوں اور اصحاب کے ساتھ کسی جگہ پر قیام پذیر ہوئے،ان کے ساتھ ایک بھیڑ بھی تھی جس کو ذبح کرکے کھانا تیار کرنا تھا ،ان میں سے ایک نے کہا : بھیڑ کو ذبح کرنا میری ذمہ داری، دوسرے نے کہا اس کی کھال اتارنا میری ذمہ داری ،تیسرے نے کہا کہ اس کو پکانے کی ذمہ داری میری ہے ، پیغمبر اکرم (ص) نے لکڑیاں (ایندھن) اکھٹا کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ، ساتھیوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ص) ! ہم آپ کی خدمت میں موجود ہیں ، آنحضرت (ص) نے فرمایا : خداوندعالم کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی شخص کچھ لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرے اور وہ انتظار کرے کہ سب لوگ اس کی خدمت کریں ۔


٧ و ٨ ۔ زحمت کو برداشت کرنا اور دوسروں کو آرام دینا
مومن خود کو زحمت میں ڈالتا ہے اور لوگ اس کے ہاتھ سے چین و سکون میں رہتے ہیں ، یعنی زحمتوں کو برداشت کرتا ہے اور شکایت نہیں کرتا تاکہ لوگ ناراض نہ ہوں اور دردوں کو اپنے اندر چھپا لیتا ہے ۔
اب ہم میں سے ہر ایک شخص کو اس حدیث کی کسوٹی پر پرکھنا چاہئے کہ ان صفات میں سے کتنی صفتیں اس کے اندر پائی جاتی ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ کس قدر مومن ہے ، مومن کا دعوی کرنا آسان ہے لیکن مومن کے صفات اپنے اندر جمع کرنا آسان نہیں ہے ۔
١۔ بحارالانوار ، جلد ٦٤ ، صفحہ ٢٩٤ ۔
٢۔ نہج البلاغہ ، کلمہ قصا ر ٨٢ ۔
٣۔ سورہ عنکبوت، آیت ٦٥ ۔
٤۔ سورہ مائدہ ، آیت ٨ ۔
٥۔ حافظ ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma