حقیقی مومن

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
مشکات ہدایت
قال ا لامام الصادق (علیہ السلام) :
لا تکون مومنا حتی تکون خائفا راجیا و لا تکون خائفا راجیا حتی تکون عاملا لما تخاف و ترجو
(١) ۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : تم اس وقت تک مومن اور اہل ایمان نہیں ہوسکتے جب تک خدا سے خوف اور اس پر امید نہ ہو اور اس وقت تک ڈرنے والے اور امیدوار نہیں ہوسکتے جب تک یہ خوف اور امید تمہارے عمل میں موثر واقع نہ ہو ۔
حدیث کی وضاحت :
کمال اور اپنے منزل مقصود کی طرف روانہ ہونے کے لئے دو طاقتوں کی ضرورت ہے :
١ ۔ آگے بڑھانے کی طاقت ۔
٢۔ روکنے کی طاقت ۔
آگے بڑھانے والی طاقت وہ ہوتی ہے جو مشین کومنزل مقصود کی طرف آگے دھکیلتی ہے اور روکنے والی طاقت وہ ہوتی ہے جو مشین کو منحرف ہوتے وقت روک لیتی ہے ، وہ تمام مشینیں جن میں مادی یا معنوی حرکت پائی جاتی ہے ان کو ان دونوں طاقتوں کی ایک دوسرے کے ساتھ ضرورت ہوتی ہے تاکہ صحیح و سالم مقصد تک پہنچ جائیں ۔
خوف اور امید آگے بڑھانے اور روکنے کے لئے ایسی دو طاقتیں ہیں جو اخلاقی مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور روایات میں ان کی بہت زیادہ تاکید بیان ہوئی ہے ۔ بعض روایات میں ذکر ہوا ہے کہ تم پوری دنیا کے عابدوں کی عبادت کو انجام دینے کے بعد بھی اپنے عمل سے ناراض رہو اور غرور نہ کرو اور اگر تمام گناہوں کے مرتکب ہوجائو تو پھر بھی امیدوار رہو شاید تمہاری ہدایت ہوجائے ۔
امام علیہ السلام اس روایت میں فرماتے ہیں : تم اس وقت تک باایمان نہیں ہوسکتے جب تک یہ دونوں طاقتیں تمہارے اندر زندہ نہ ہوں ،ان دونوں طاقتوں کی دو نشانیاں ہیں جن کو امام نے بیان کیا ہے اور فرمایا ہے : اگر خدا کے غضب سے ڈرتے ہو تو گناہ نہ کرو ، کیونکہ اگر گناہ کرتے ہو تو تمہارا خوف جھوٹا ہے اوراگر خدا کی رحمت پر امید رکھتے ہو تو ایسا کام کرو جس سے خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہوجائے اوراگر ایسا نہیں کرو گے تو تمہاری امید جھوٹی ہوجائے گی ۔ اس بناء پر اگر ہم با ایمان انسان کو پہچاننا چاہتے ہیں تو اس کی علامت خوف اور امید ہے اور ان دونوں کے ظاہر ہونے کی علامت ظاہری عمل ہے (اس کا عمل اس کی داخلی حالت کو ظاہر کرتا ہے ) ۔
یہ دونوں معیار ، معاشرہ پر بھی صادق آتے ہیں ، یعنی جس طرح سے انسان کو مغرور اور مایوس نہیں ہونا چاہئے اسی طرح معاشرہ کو بھی ہونا چاہئے ،اس کے معنی یہ ہیں کہ معاشرہ کو اپنی کامیابی پر امید رکھنا چاہئے لیکن دشمن کے حملوں سے بھی ڈرتا رہے اور خوف و امید کے درمیان رہے ، کیونکہ اس کا خوف اس کو دشمن کے سامنے کھڑا ہونے کیلئے تیار رکھتا ہے ۔
حضرت علی (علیہ السلام) نے عہدنامہ مالک اشتر میں جو کہ گذشتہ ، آج اور آئندہ کے لئے ہے اور اقوام متحدہ میں بھی اس کو منشور ادارہ جامعہ کے عنوان سے ترجمہ کیا گیا ہے ، فرمایا ہے :
اگر دشمن صلح کرنا چاہتا ہے تو اس کے ساتھ صلح کرو لیکن صلح کے بعد بھی دشمن سے غافل نہ رہو کیونکہ کبھی کبھی وہ اپنے آپ کو نزدیک کردیتا ہے اور پھر غافل کرکے حملہ کرتا ہے ۔
اسلام اور ہمارے ملک کے دشمن ہر سال اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایرانی حکومت کو ختم کرنے کیلئے اس قدر پیسہ معین کیا ہے اور بات سبب بنی کہ ہم خوف اور رجاء کے مسئلہ پر توجہ دیں اور ہم جان لیں کہ ہمارا دشمن ایسا دشمن نہیں ہے جس سے بات کی جاسکے، ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمارا مقابلہ مغرور دشمن سے ہے جو احمقوں کی طرح اپنے کردار کو فاش کرتا ہے اور یہ ہماری بیداری کا سبب بن جاتا ہے ۔
ایسے دشمن سے صلح نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ وضاحت کے ساتھ کہتا ہے کہ ہم تمہاری جڑیں اکھاڑنا چاہتے ہیں اور وہ اس سے بھی بڑھ کر کچھ اور کرنا چاہتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فقط ایران پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس کی نظر میں تمام اسلامی ممالک ہیں ۔
وہ ایسے ملک کو چاہتے ہیں جس کی زمام خود ان کے بٹھائے ہوے انسان کے ہاتھ میں ہو پس دنیائے اسلام کو بیدار هونا چاهئے .
بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ ان کا یہ منشاء ہمارے ملک میں بیکار ہوگیا کیونکہ ہمارے جوان اور معاشرہ کے مختلف افراد بیدار ہیں اور دشمن سے مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ میدان میں کھڑے ہوئے ہیں ۔
 ١۔ بحارالانوار، جلد ٧٥ ،صفحہ ٢٥٣ ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma