امام حسین (علیہ السلام) کے قیام کا ہدف امربالمعروف اور نہی عن المنکر تھا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

امام حسین (علیہ السلام) کے قیام کا ہدف امربالمعروف اور نہی عن المنکر تھا

سوال: کیا امام حسین (علیہ السلام) نے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے قیام کیا تھا ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: یقینا امام حسین علیہ السلام اس میدان کے مرد مجاہد تھے ۔ آپ نے قلبی وزبانی امربالمعروف کے علاوہ عمل سے بھی اس کام کو کمال کے آخری درجہ تک پہنچایا اوراس مرحلہ کا آخری مرحلے کو طے کیا اور بہت ہی ہمت وحوصلہ کے ساتھ سب کے سامنے اعلان کیا:
ایھا الناس ! فمن کان منکم یصبر علی حد السیف وطعن الاسنه فلیقم معنا و الا فلینصرف عنا ۔ ایے لوگوں ! تم سے جوشخص بھی تلوار کی دھار کی تیزی اورنیزوں کے زخم کے مقابلے میں صبر کرسکتا ہو وہ یہاں ہمارے ساتھ رہ جایے اور جو برداشت نہیں کر سکتا وہ ہم سے جدا ہوجایے (١) ۔
روایات کے مطابق تلوار سے جنگ کرنا امر بالمعروف ونہی از منکر کے عالی ترین و پر فضیلت ترین مرحلوں میں سے ایک مرحلہ ہے جس کو امام حسین نے انجام دیا ۔
امیرالمومنین امربالمعروف اورنہی از منکر کے تینوں مراحل(قلب،زبان اور عمل) بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وافضل من ذلک کلہ کلمه عدل عند امام جایر۔ لیکن ان سب سے اہم بات وہ ہے جو ستمگر حاکم کے مقابلے میں کہی جایے (٢) ۔
امام حسین نے صرف زبان سے بنی امیہ کی جنایت کو آشکار کیا بلکہ تلوار سے ان کے خلاف جنگ کی اور اپنی آخری سانس تک ان کے مقابلے میں کھڑے رہے اور اپنی اس تحریک کو ""امر بالمعروف ونہی از منکر اور معاشرہ کے امور کی اصلاح سے تعبیر کیا اور اپنی باتوں میں کیی مرتبہ اس بزرگ فریضہ کو یاد کیا اور بہت ہی وضاحت کے ساتھ اپنی تحریک کے اہداف میں سے ایک ہدف اس اہم کو بتایا ۔
اب ہم اس سلسلہ میں آپ کے اور آپ کے اصحاب کے اہم ترین بیانات کو یہاں بیان کریں گے ۔
١۔ امام حسین علیہ السلام نے معاویہ کی ہلاکت سے دوسال پہلے منی کے میدان میں بہت سارے مہاجرین و انصار کے اس زمانے کے معروف معاشرہ اسلامی کو پہچاننے والوں کے درمیان ایک اہم خطاب میں ان کو امر بہ معروف ونہی از منکرمعاشرہ کے امور کی اصلاح جیسے فریضہ میں سہل انگاری کر نے کی وجہ سے مورد ملامت و سرزنش قرار دیااور فرمایا: کیوں خدا وندعالم کی ان باتوں سے جو اس نے یہودی کی مذمت میں فرمایا ہے نصیحت لیتے ہو؟ پھرفرمایا:
لولا ینھاھم الربانیون و الاحبار عن قولھم الاثم و اکلھم السحت"" کیوں علمایے یہود لوگوں کو گناہ کرنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے تھے؟(٣) (معاشرہ میں فساد وتباہی کو نہیں روکتے تھے) ۔
پھر امام نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہویے فرمایا:
وانما عاب اللہ ذلک علیھم لانھم کانوا یرون من الظلمه الذین بین اظھرھم المنکر والفساد، فلا ینھونھم عن ذلک۔ خدا وند عالم صرف اس وجہ سے ان کے عیب کو پکڑتاہے کہ وہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے سمتگروں کی برایی اور فساد کے شاھد تھے لیکن (کویی عکس العمل ظاہر نہیں کرتے تھے)ان کو منع نہیں کرتے تھے ۔
پھر ان دو امروں کی اہمیت اور عظمت کے متعلق فرماتے ہیں:
اذا ادیت و اقیمت استقامت الفرایض کلھا ھینھا و صعبھا ۔ جب بھی امر بالمعروف و نہی از منکر کا فریضہ صحیح طریقہ سے انجام دیا جایے تو دوسرے فرایض چاہے وہ سخت ہوں یا آسان،انجام دییے جاییں گے (٤) ۔
امام علیہ السلام کا یہ اہم خطبہ ایسے مشکل اور خراب حالات میں ہمیں بتاتا ہے کہ امام ایسے وقت کے منتظر تھے جب اس الہی فریضہ کو اعلی طریقہ سے جامعہ عمل پہناسکیں۔
جس طرح سے معاویہ کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
ایے معاویہ! خدا کی قسم میں جواس وقت تم سے جنگ نہیں کررہا ہوں تو اللہ سے ڈر رہاہوں کہ کہیں خدا کی بارگاہ میں مقصر تو نہیں ہوں(٥) ۔
یعنی میں کسی ایسے وقت کا منتظر ہوں جب تجھ سے جنگ کروں گا ۔
٢۔ معاویہ کی ہلاکت کے بعد جب والی مدینہ نے امام علیہ السلام کو یزید کی بیعت کے لیے بلایا تو امام نے بہت تعجب کیا اور اس کی سختی سے مذمت کی اور رات کو روضہ نبوی پر جاکر راز ونیاز کی باتیں کیں اور اس خالصانہ دعا میں بارہ گاہ الہی میں فرمایا:
اللھم ھذہ قبر نبیک محمد و انا ابن بنت نبیک و قد حضرنی من الامر ما قد علمت الھم انی احب المعروف و انکر المنکر۔ خداوندا! یہ تیرے نبی محمد کی قبر ہے اور میں تیرے نبی کی بیٹی کا فرزند ہوں جو مشکلات میرے سامنے پیش آییں اس سے تو باخبر ہے، خدا وندا! میں معروف کو پسند کرتا ہوں اور منکر سے بیزار ہوں(٦) ۔
در واقع امام علیہ السلام نے اپنے قیام کے اصلی مقصد کو اس چھوٹے سے جملہ میں وہ بھی اپنے جد امجد کے مرقد کے نزدیک مقدس جگہ پر بیان فرمایا اور اس جملہ کو تاریخ کے حوالہ کردیا ۔
٣۔شاید امام کے قیام کے اصلی ہدف اور سبب کو امام علیہ السلام کے اس واضح اور سلیس ترین جملہ میں تلاش کیا جاسکتا ہے جس کو آپ نے اپنے بھایی محمد حنفیہ کے وصیت نامہ میں بیان کیا ہے ۔
امام علیہ السلام نے اپنے قیام کے مقصد کوہوی وہوس او رکسب مقام سے دور بتاتے ہویے فرمایا:
""و انما خرجت لطلب الاصلاح فی امه جدی، ارید ان آمر بالمعروف و انھی عن المنکر و اسیر بسیره جدی و ابی علی بن ابی طالب""۔ میں صرف اپنے دادا کی امت کی اصلاح کی غرض سے قیام کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ اپنے جد اور والد کی روش کو اختیار کروں(٧) ۔
امام نے اس چھوٹی اور گویا عبارت میں شروع سے ہی اپنے مقدس ہدف کو بیان فرمایا کہ آپ کا ارادہ ملک کو پھیلانا اور مال ودولت حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ آپ کا ہدف اسلامی معاشرہ کی اصلاح اور امربالمعروف ونہی از منکر سے کو معاشرہ میں زندہ کرنا ہے ۔
٤۔ جب کوف میںمسلم بن عقیل(کوفہ میں آپ کے سفیر)کو ابن زیاد کے سپاہیوں نے مکرو حیلہ سے گرفتارکر لیااور ابن زیاد نے اپنی تقریر میں جناب مسلم کو فتنہ وفساد پھیلانے کا الزام لگایا تو جناب مسلم نے اس کے جواب میں فرمایا:
ما لھذا آتیت ولکنکم اظھرتم المنکر و دفنتم المعروف…فاتیناھم لنامرھم بالمعروف و ننھاھہم عن المنکر۔ میں ان چیزوں کے لیے کوفہ نہیں آیا جس کو تو بیان کررہا ہے بلکہ تم نے منکرات اور برایی کو کھلے عام انجام دیتے ہو اور معروف و اچھایی کو دفن کردیاہے …اسی وجہ سے ہم کھڑے ہوگیے تاکہ لوگوں کو معروف کی دعوت دیں اور منکرات سے دور رکھیں(٨) ۔
٥۔ جس وقت امام علیہ السلام حر کی فوج کے روبرو ہویے اور کوفیوں کی بے وفایی ظاہر ہوگیی اور امام نے دیکھا کہ میری شہادت اب نزدیک آگیی ہے تو اپنے اصحاب کے درمیان کھڑے ہویے اور اپنی تقریر میں فرمایا:
الا ترون ان الحق لا یعمل بہ و ان الباطل لا یتناھی عنہ لیرغب المومن فی لقاء اللہ محقا ۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہاہے اور باطل سے منع نہیں کیا جارہا ہے ایسے حالات میں مومن پر واجب ہے کہ (قیام کرے اور)اپنے پروردگار سے ملاقات(شہادت) کا خواہاں رہے (٩) ۔
امام علیہ السلام کے اس کلام سے استفادہ ہوتا ہے کہ ایسے شرایط میں اپنی جان سے ہاتھ دھو لینے چاہیے، یعنی جس وقت خطرہ دین و مذہب کو چیلنج کررہا ہو تو اس وقت مالی او رجانی نقصان امربالمعروف ونہی از منکر کے لیے مانع نہیں بن سکتے ۔
٦۔ مورخین کے بقول جس وقت حر، امام علیہ السلا م کی تحریک کے مانع ہوا تو امام نے اپنے ایک خط میں کوفیوں کو لکھا:
فقد علمتم ان رسول اللہ قد قال فی حیاتہ:من رای سلطانا جایرا مستحلا لحرم اللہ، ناکثا لعھداللہ، مخالفا لسنه رسول اللہ، یعمل فی عباد اللہ بالاثم والعدوان، ثم لم یغیر بفعل ولا قول، کان حقیقاعلی اللہ ان یدخلہ مدخلہ۔ تم لوگ جانتے ہو کہ رسول خدا نے اپنی زندگی میں فرمایا: جو بھی ظالم بادشاہ کو دیکھے کہ وہ حلال خدا کو حرام سمجھ رہا ہے اور خدا کے وعدوں کو توڑ رہاہے، سنت پیغمبر کی مخالفت کررہا ہے اور خدا کے بندوں کے ساتھ ظلم وستم کررہا ہے ، لیکن اس کے عملی و زبانی مقابلے کے لیے کھڑا نہ ہو تو اس کے لیے بہتر ہے کہ خدا اس کو اس ظالم بادشاہ کی جگہ(جہنم)بھیجدے (١٠) ۔
امام علیہ السلام نے اپنی ان باتوں کے ضمن میں تمام لوگوں کے وظایف کو بیان کرتے ہویے خصوصا کوفہ کے بزرگ جن کا عزم وارادہ امور کی اصلاح اور بنی امیہ کے ستمگر حکمرانوں سے لڑنے کا اعلان کردیا تھا ۔ آپ نے اس جنگ کو ان لوگوں کی حمایت سے مشروط نہیں کیا بلکہ آپ آمادہ ہیں کہ اپنی جان کو اس راہ میں قربان کردیں لہذا میں آج آنحضرت کے مرقد کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا ہوں:
""اشھد انک قد اقمت الصلاه واتیت الزکاه وامرت بالمعروف و نھیت عن المنکر""۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز کو قایم کیا اور زکات کو ادا کیا اور امر بالمعروف ونہی از منکر کو انجام دیا (١١) ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ گواہی عدالت اورقاضی کے سامنے نہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس حقیقت پر یقین رکھتا ہوں کہ آپ کا قیام امربہ معروف و نہی از منکر اور اسلامی معاشرہ کی اصلاح کے لیے قیام تھا (١٢) ۔
حوالہ جات:

١۔ ینابیع المودة ، صفحہ ٤٠٦۔
٢۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت ٣٧٤ ۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے تینوں مراحل کے بارے میں تفصیل جاننے کے لئے کتاب ""جواہر الکلام، جلد ٢١ ، صفحہ ٣٧٤ پر مراجعہ کریں ۔
٣۔ سورہ مائدہ ،آیت ٦٣ ۔
٤۔ تحف العقول ، صفحہ ١٦٨ تا ١٧٠ ۔ بحارالانوار ، جلد ٩٧ ، صفحہ ٧٩ ، حدیث ٣٧ ۔
٥۔ مختصر تاریخ دمشق (جلد ٧، صفحہ ١٣٧) میں امام حسین علیہ السلام) کی سوانح حیات میں ملتا ہے کہ امام علیہ السلام نے معاویہ کے خط کے جواب میں لکھا : «...وَ ما اَظُنُّ أَنَّ لِي عِنْدَ اللهِ عُذْراً فِي تَرْكِ جِهادِكَ». احتجاج طبرسی (جلد ٢، صفحہ ٨٩ ، حدیث ١٦٤ ) میں لکھا ہے : : «ما اُرِيدُ لَكَ حَرْباً وَ لاَ عَلَيْكَ خِلافاً، وَايْمُ اللهِ إِنِّي لَخائِفٌ لِلّهِ فِي تَركِ ذلِكَ...» اسی طرح مراجعہ کریں : بحارالانوار، ج 44، ص 212.
٦۔ فتوح ابن اعثم،ج 5، ص 27 ; مقتل الحسين خوارزمى، ج 1، ص 186 و بحارالانوار، ج 44، ص 328.
7. فتوح ابن اعثم، ج 5، ص 33 و بحارالانوار، ج 44، ص 329.
8. فتوح ابن اعثم، ج 5،ص 101 ; ملهوف (لهوف)،ص 71. مراجعه شود به: انساب الاشراف، ص 82.
9. بحارالانوار، ج 44، ص 381 ; تاريخ طبرى، ج 4، ص 305 و مقتل الحسين خوارزمى، ج 1، ص 237.
10. فتوحابن اعثم، ج 5، ص 143; مقتل الحسين خوارزمى، ج 1، ص 234 و بحارالانوار، ج 44، ص 381.
11. زيارت وارث.
12. آیت الله مکارم شیرازی کےزیر نظر کتاب: عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، سے اقتباس ، ص237.
    
تاریخ انتشار: « 1392/11/22 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کے قیام میں کوفیوں کا کردار

اسلامی حکومت کو تشکیل دینے کے لئے امام حسین (علیہ السلام) کے اقدامات

امام حسین (علیہ السلام) کے قیام کا ہدف امربالمعروف اور نہی عن المنکر تھا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 969