بنی ہاشم کا ممتاز ہونا اور بنی امیہ کا بغض و حسد کرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

بنی ہاشم کا ممتاز ہونا اور بنی امیہ کا بغض و حسد کرنا

سوال: بنی ہاشم کو بنی امیہ پر کیا امتیاز ات حاصل تھے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: بنی امیہ کا بنی ہاشم سے فقط ظاہری مسایل میں اختلاف نہیں تھابلکہ چونکہ خاندان بنی ہاشم آشکارا معنویت سے برخوردار تھے جس کی وجہ سے بنی امیہ ہمیشہ ان سے بغض و حسد رکھتے تھے اور یہی نہیں بلکہ آخر کار خاندان بنی ہاشم ایسی جگہ پہنچ گیا کہ نبوت اور امامت کا درخت بھی اسی خاندان میں پروان چڑھا اور ان کا گھر فرشتوں کے آنے جانے کی جگہ بن گیا اور علوم و معارف کا چشمہ ان کے گھر سے جاری ہونے لگا ۔
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے جامع بیان میں فرمایا ہے :
""این الذین زعموا انھم الرسخون فی العلم دوننا کذبا و بغیا علینا، ان رفعنا اللہ ووضعھم و اعطانا وحرمھم و ادخلنا و اخرجھم، بنا یستعطی الھدی و یستجلی العمی، ان الایمه من قریش غرسوا فی ھذا البطن من ھاشم، لا تصلح علی سواھم و لا تصلح الولاه من غیرھم"" ۔
کہاں ہیں وہ لوگ جو راسخون فی العلم ہونے کا دعوی کرتے تھے اور اس دعوی کو ہم پر جھوٹ اور ظلم کرکے بیان کرتے تھے(کہاں ہیں وہ لوگ تاکہ آکر دیکھیں)خدا وند عالم نے ہمیں سب پر برتری دی ہے اور ان کو پست قرار دیا ہے ، خدا نے ہمیں نعمتیں عطا کی ہیں اور انہیں محروم کیا ہے ، ہمیں (اپنی نعمتوں کے مرکزمیں) داخل کیا اور ان کو وہاں سے باہر نکالا ۔ لوگ ہمارے ذریعہ ہدایت حاصل کرتے ہیں اور ہمارے نور سے نابینا لوگ روشنی حاصل کرتے ہیں ،یقینا تمام ایمہ قریش سے تعلق رکھتے ہیں اوراس نسل میں ان کے وجود کا درخت ، ہاشم کی نسل سے پروان چڑھا ہے ، یہ مقام دوسروں کے احسان سے حاصل نہیں ہوا ہے اور ان کے علاوہ دوسرے افراد میں امامت اور ولایت کی لیاقت نہیں پایی جاتی (١) ۔
جس خاندان کی اصالت اور حسب و نسب کوبیان کرنے کے لیے آیه تطہیر نازل ہویی ہو اس خاندان کے بارے میں وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ان کے مقابلے میں بنی امیہ کے مرد و عورتوں کی رنگین زندگی اس قدر زبان زد عام وخاص تھی کہ دسیوں سال مسلمین کے امور کی زمام اپنے ہاتھ میں رکھنے کے بعد بھی اس رسوایی کو اپنے خاندان سے دور نہ کرسکے ۔ بنی امیہ کی ایسی عورتیںجن کے گھروں پر جھنڈا لگار ہتا تھا اور ان کے گھر غیر مردوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے، ایسے انسان جن کے باپ کو معین کرنے کے لیے کیی لوگ آپس میں جھگڑتے ہوں اورہر کویی کہتاہو کہ میں اس کاباپ ہوں(٢) ۔
امیر المومنین اپنے ایک جملہ میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہویے معاویہ کے خط کے جواب میں لکھتے ہیں:
""و اما قولک : انا بنو عبد مناف فکذلک نحن ولکن لیس امیه کھاشم و لا حرب کعبد المطلب ولا ابوسفیان کابی طالب و لا المھاجر کالطلیق ولا الصریح کاللصیق"" (٣) ۔
اور تمہارا یہ کہنا کہ ہم سب عبدمناف کی اولاد ہیں تو یہ بات صحیح ہے لیکن نہ امیہ ، ہاشم جیسا ہوسکتا ہے اور نہ حرب، عبدالمطلب جیسا ۔ نہ ابوسفیان ،ابوطالب کا ہمسر ہوسکتا ہے اور نہ راہ خدا میں ہجرت کرنے والا آزاد کردہ افراد جیسا ، نہ واضح نسب والے کا قیاس باپ سے منسوب کیے جانے والے فرزند پر ہوسکتا ہے! (٤) ۔
ابن ابی الحدید ""ولا الصریح کاللصیق"" جملہ کی وضاحت میں پردہ پوشی کرتے ہویے لکھتا ہے : امام علیہ السلام کی اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ اعتقاد و اخلاص کے ساتھ اسلام لایے وہ لوگ ان کے برابر نہیں ہوسکتے جو خوف یا دنیا اور غنایم جنگی حاصل کرنے کے لیے اسلام لایے تھے(٥) ۔
لیکن علامہ مجلسی اس بات کی تردید کرتے ہویے لکھتے ہیں: کلمہ ""لصیق"" ظاہرا بنی امیہ کے نسب کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ابن ابی الحدید نے معاویہ کی آبرو بچانے کیلیے نادانی کا اظہار کیا ہے، یہاں تک کہ کچھ دانشوروں نے وضاحت کی ہے کہ امیہ، عبد شمس کی نسل سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک رومی کا غلام تھا جس کو عبد شمس نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور زمان جاھلیت میں جوبھی غلام کو اپنے آپ سے نسبت دینا چاہتا تھا وہ اس کو آزاد کرکے عرب کی کسی لڑکی سے اس کی شادی کردیتے تھے اور اس طرح اس غلام کو اپنے خاندان سے ملحق کرلیتے تھے ۔
علامہ مجلسی اس بات سے نتیجہ نکالتے ہویے کہتے ہیں:
اس بناء پر بنی امیہ اصلا قریش سے نہیں ہیں بلکہ قریش سے منسوب ہیں(٦) ۔
بنی ہاشم اپنے معنوی اور اخلاقی فضایل کے علاوہ جوکہ آپ کی رفتار و کردار سے ظاہر تھی، جوانمردی، سخاوت، ایثار، زہد، تقوی، ظاہری آراستگی جیسے خوبصوت، فصاحت اور بہترین بلاغت سے بھی برخوردار تھے اور بنی امیہ کی سخت اور غلط زندگی کے مقابلہ میں یہ جمال وکمال ، بنی امیہ کو بہت زیادہ ناراض کرتا تھا اور حسد کی آگ کو ان کے اندر شعلہ ور کرتا تھا ۔
حضرت علی علیہ السلام نے قریش کے ہر ایک طوایف کی خصوصیت سے متعلق اور عبدشمس کی اولاد(کہ بنی امیہ ان کے خاندان سے ہیں)اور بنی ہاشم کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہویے فرماتے ہیں:
""و اما نحن فابذل لما فی ایدینا و اسمع عند الموت بنفوسنا وھم اکثر و امکر و انکر ونحن افصح و انصح واصبح"" ۔
لیکن ہم بنی ہاشم، قریش کے تمام خاندانوں سے زیادہ بخشنے والے ہیں اور جان کی بازی لگانے کے وقت سب سے زیادہ سخی ہیں، وہ لوگ(بنی امیہ)عدد میں زیادہ، مکار اورفریب میں سب سے آگے اور بد صورت ہیں اورہم لوگ فصیح و بلیغ، مخلص اور خوبصورت ہیں(7) ۔
حوالہ جات:

١۔ نهج البلاغه، خطبه 144.
٢۔ براى اطّلاع بيشتر مراجعه شود به ربيع الابرار زمخشرى، ج 3، باب القرابات و الانساب و شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 1، ص 336 و ج 2، ص 125.
٣۔ نهج البلاغه، نامه 17.
4 . شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد، ج 15، ص 119.
5 . بحارالانوار، ج 33، ص 107.
6. نهج البلاغه، كلمه قصار، 116.
7 . کتاب عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص98.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

یزید کے کلام میں بنی ہاشم سے انتقام لینے اور بغض و حسد کرنے کے آثار

معاویہ کے اقوال میں بنی ہاشم سے انتقام لینے اور بغض و حسد کے آثار

رسول خدا کا بنی ہاشم کو بنی ا میہ کے بغض و حسد سے محفوظ رہنے کی نصیحت

قیام عاشورا کی ایک بنیاد امویوں کا مسلمانوں سے رسول اللہ (ص) کے زمانہ میں شکست کھانا

بنی ہاشم کا ممتاز ہونا اور بنی امیہ کا بغض و حسد کرنا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1010