شام میں بنی ا میہ کا پہلے سے موجود ہونا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

شام میں بنی ا میہ کا پہلے سے موجود ہونا

سوال: بنی امیہ کا شام میں پہلے سے موجود ہونا کس زمانہ کی طرف پلٹتا ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: تاریخ میں ہاشم کی اولاد""بنی ہاشم"" سے اور عبدشمس کی اولاد ""بنی امیہ"" کے نام سے مشہور ہوئی ۔
ہاشم کی کرامت و جوانمردی اور لوگوں کی زندگی کو اچھا بنانے کے لئے آپ کی بخشش و اخراجات اور مکہ کے تاجروں کو تجارت میں آگے بڑھانے کے لئے آپ نے امیر غسان سے معاہدہ ، اسی طرح آپ کا قریش کے لئے ایسا پروگرام بنانا جس سے وہ گرمیوں میں شام سے تجارت کریں اور سردیوں میں یمن سے تجارت کریں ، ان سب چیزوں کی وجہ سے لوگ آپ کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے ۔
عبد شمس کا بیٹا امیہ(ہاشم کا بھتیجا) اپنے چچا کی اس عزت ووقار سے رشک کرتا تھا اور لوگ اس کو کوئی عزت نہیں دیتے تھے جس کی وجہ سے امیہ نے اپنے چچا کی بدگوئی کرنی شروع کردی، لیکن وہ جتنی بھی بدگوئی کرتا تھا اتنا ہی جناب ہاشم کی عزت وتوقیر میں اضافہ ہوتا تھا ۔ آخر کار امیہ نے حسادت کی آگ میں جل کر اپنے چچا کو مجبور کیا کہ وہ دونوں مل کر ایک کاہن(عرب کے مشہور عالم)کے پاس جائیں اور وہ جس کا بھی احترام کرے گا تمام کاموں کی ذمہ داری اس کودیدی جائیگی ۔ جب امیہ نے زیادہ ہی اصرار کیا تو جناب ہاشم نے اس کی پیشنہاد کو دو شرطوں کے ساتھ قبول کرلیا:
١۔ جو بھی اس فیصلہ میں محکوم ہوگا وہ حج کے دنوں میں سو اونٹ قربانی کرے گا ۔
٢۔ جو شخص محکوم ہوگا وہ دس سال تک مکہ کو چھوڑ کر جلاوطنی کی زندگی بسر کرے گا ۔
اس توافق کے بعد عسفان (مکہ کے نزدیک ایک جگہ کا نام)کاہن کے پاس گئے، لیکن امیہ کی توقع کے خلاف جیسے ہی کاہن کی نظر جناب ہاشم پر پڑی تو اس نے جناب ہاشم کی مدح و ثنا کرنی شروع کردی، جس کی وجہ سے امیہ کو دس سال کے لئے مکہ چھوڑ کر شام میں زندگی بسر کرناپڑی(1) ۔
یہ واقعہ نہ فقط ان دو خاندانوں کی دشمنی کو بتا تا ہے بلکہ اس سے شام میں امویوں کے نفوذ کی وجوہات بھی مل جاتی ہیں کہ کس طرح امویوں کے دیرینہ روابط نے بعد میں ان کی حکومت کو برقرار کرنے میں مدد کی (2) ۔
حوالہ جات:
١۔ برگرفته از كامل ابن اثير، ج 2، ص 17.
٢ . گردآوری از کتاب: عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص96.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

شام میں بنی ا میہ کا پہلے سے موجود ہونا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 619