امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا

سوال: امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کیوں کرنا چاہیے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ماتم داری اور عزاداری کی واضح مثالوں میں سے ایک مثال کام وغیرہ کی چھٹی اور بازار وغیرہ کو کرنا ہے، عاشور کے روز دنیوی کام کے لیے سعی وکوشش نہ کرنے سے متعلق کچھ روایتیںوارد ہویی ہیں:
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
من ترک السعی فی حوایجہ یوم عاشورا قضی اللہ لہ حوایج الدنیا والآخره ومن کان یوم عاشورا یوم مصیبتہ و حزنہ وبکایہ، جعل اللہ عز وجل یوم القیامه یوم فرحہ وسرورہ(1) ۔
جو بھی روزعاشورا دنیوی کام کی تلاش وکوشش نہ کرے، خداوندعالم اس کی دنیا وآخرت کی حوایج کو برلایے گا اور جو کویی روز عاشورا کو روز مصیبت و غم قرار دے گا خدا وندعالم قیامت کے دن کو اس کے لیے خوشی وسرور کا دن قراردے گا(2) ۔
حوالہ جات:

1. بحارالانوار، ج 44، ص 284.
2 . گردآوری از کتاب: عاشورا ریشه ها، انگیزه ها، رویدادها، پیامدها، زیر نظر آیت الله مکارم شیرازی، ص85.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری میں کام وغیرہ کی چھٹی کرنا

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 422