گریہ کا ذاتی حُسن اور فلسفہ عزاداری

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

گریہ کا ذاتی حُسن اور فلسفہ عزاداری

سوال: کیا گریہ کے ذاتی حُسن کو گریہ پر تاکید کا فلسفہ اور امام حسین (علیہ السلام) کے لیے عزاداری سمجھا جاسکتا ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: بعض علماء نے گریہ کے جسمانی اور نفسیاتی مثبت آثار اور انسان کی روح و نفس کی صفایی میں اس کی تاثیرکو مدنظر رکھتے ہویے دعوی کیا ہے کہ ایمہ علیہم السلام نے گریہ کے ذاتی حسن کی وجہ سے مجالس عزاء کو برپا کرنے کی تاکید کی ہے ، کیونکہ گریہ کے ذریعہ ""تاثرات کا اظہار "" انسان کی عطوفت کے متعادل اور اس کی فطری نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ جو لوگ کم گریہ کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ اپنے غموں اور افسردگی کو کم نہیں کرپاتے اور اپنے داخلی گراہوں کو کھول نہیں پاتے وہ متعادل نفسیات اور اچھی روح او رجسم سے برخوردار نہیں ہیں ، اسی وجہ سے ماہرین نفسیات کا عقیدہ ہے : عورتوں کی مشکلات مردوں سے کم ہوتی ہیں کیونکہ وہ بہت جلد اپنی روحی مشکلات کو گریہ کے ذریعہ باہر نکال دیتی ہیں اور بہت کم اس کو اپنے اندر چھپاتی ہیں اور یہ امر سلامتی کے رازوں میں سے ایک راز ہے (١) ۔ نیز ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کے اندر جمع ہویی مشکلات کے فشار کو گریہ کم کردیتا ہے اور انسان کے داخلی بہت سے رنج و آلام کاعلاج ہے ۔ حقیقت میں آنکھوں کے آنسوں اطمینان کے ان لمحات کی طرح ہیں جو مشکل حالات میں انسان کی روح کو معتدل رکھتے ہیں ۔
ان کے عقیدے کے مطابق گریہ کے اسی ذاتی حسن کی وجہ سے حضرت یعقوب نے برسوں برس اپنے بیٹے کی دوری میںآنکھوں سے اشک بہایے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے بیٹے ابراہیم (١) اور اپنے جلیل القدر صحابی عثمان بن مظعون کی موت پر بہت گریہ فرمایا (٢) ۔ اسی طرح اپنے بہت سے اصحاب اور دوستوں کی موت اور اپنے چچا حمزہ کی شہادت پر گریہ فرمایا اور مدینہ کی عورتوں کو اپنے چچا کے جنازہ پر رونے کے لیے دعوت دی (٣) اور یہی وجہ تھی کہ حضرت زہرا (علیہا السلام) اپنے والد گرامی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی وفات پر شب و روز گریہ فرماتی تھیں (٤) اور حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) برسوں برس اپنے والد بزرگوار امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت پر روتے رہے (٥) ۔
انسان کی روح کی صفایی اور اس کو کمال تک پہنچانے میں اگر چہ گریہ کے مثبت آثار اور اس کے طبی فواید سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ایسی تحلیل کبھی بھی ایمہ علیہم السلام) کی اس قدر تاکید اور سفارش کا راز نہیں ہوسکتی ۔ یہ تحلیل ایک بہت بڑی غلطی ہے ، جو بھی اسلامی روایات کو اس سلسلہ میں مطالعہ کرتا ہے وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کام کا ایک بہت اہم ہدف موجود ہے (٦) ۔
حوالہ جات:

1 صد و پنجاه سال جوان بمانيد، ص 134.
2. صحيح بخارى، كتاب الجنائر، ح 1277 و كافى، ج 3، ص 262.
3. كافى، ج 5، ص 495 ; بحارالانوار، ج 79، ص 91 و مسند احمد، ج 6، ص 43.
4. وسائل الشيعة، ج 2، ص 70 و تاريخ طبرى، ج 2، ص 210.
5 . بحارالانوار، ج 43، ص 155 و 175.
6. همان مدرك، ج 44، ص 284.
7. آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے زیر نظر کتاب عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا سے اقتباس ، صفحہ 67.
    
تاریخ انتشار: « 1392/06/31 »

منسلک صفحات

عزاداری ، تعظیم شعائر الہی کے لئے ایک راستہ

امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری خودسازی کا سبب

عزاداری ، ظالمین کے خلاف قیام کرنے کا سبب

عزاداری کی وجہ سے مکتب اہل بیت (ع) کی حفاظت

امام حسین (علیہ السلام) کا شکریہ اور عزاداری کا فلسفہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 960