بچپنے میں امام جواد (علیہ السلام) کی امامت سے دفاع
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

بچپنے میں امام جواد (علیہ السلام) کی امامت سے دفاع

سوال: امام جواد (علیہ السلام) بچپنے میں کس طرح عہدہ امامت پر فایز ہویے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ایمہ (علیہم السلام) کی سوانح حیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمہ کے زمانے خصوصا امام جواد (علیہ السلام)کے زمانہ میں بھی ایمہ کی عمر کے متعلق بحثیں ہوتی تھیںاور وہ استدلال کے ساتھ ان کا جواب دیتے تھے ۔ مثال کے طور پر اس سلسلہ میں ہم یہاں پر تین روایات کو بیان کرتے ہیں :
١۔ امام رضا (علیہ السلام) اور امام جواد (علیہ السلام) کے ایک صحابی علی بن اسباط کہتے ہیں ، میں ایک روز امام محمد تقی (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچا اور آپ کے چہرہ کو دیکھ کر میں حیرت میں پڑ گیا اورآپ کے چہرہ کی طرف دیکھتا رہا تاکہ آپ کی صورت کو اپنے ذہن میں سما لوں، تاکہ مصر واپس جانے کے بعد امام کے چاہنے والوں کو بتا سکوں (١) ۔
اسی وقت امام جواد (علیہ السلام) جنہوں نے گویا کہ میرے ذہن کو پڑھ لیا تھا ،میرے پاس آکر بیٹھ گیے اور میری طرف متوجہ ہو کر خطاب فرمایا : اے علی بن اسباط ! خداوند عالم نے امامت کے متعلق جو کام انجام دیا ہے یہ وہی کام ہے جو نبوت کے بارے میں انجام دیا ہے ، خداوند عالم نے حضرت یحیی (ع) کے متعلق فرمایا : ور ہم نے انہیں (یحیی علیہ السلام کو ) بچپنے ہی میں نبوت عطا کردی (٢) ۔
اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد فرمایا : اور جب یوسف اپنی جوانی کی عمر کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکم اور علم عطا کردیا (٣) ۔
حضرت موسی (علیہ السلام) کے سلسلہ میں فرمایا : اور جب موسٰی جوانی کی تواناییوں کو پہنچے اور تندرست ہوگیے تو ہم نے انہیں علم اور حکمت عطا کردی (٤)۔
اس بنیاد پر جس طرح یہ ممکن ہے کہ خداوند عالم چالیس سال کی عمر میں کسی شخص کو علم اور حکمت عطا کرے اسی طرح ممکن ہے کہ علم و حکمت کو بچپنے میں عطا کردے (٥) ۔
٢۔ امام رضا (علیہ السلام) کے ایک صحابی فرماتے ہیں : خراسان میں امام رضا (علیہ السلام) کی خدمت میں موجود تھے ، ایک شخص نے امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا : اے میرے سید و سردار (خدا نخواستہ ) اگر کویی حادثہ پیش آگیا تو ہم کس کی طرف مراجعہ کریں ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : میرے بیٹے ابوجعفر (٦) کی طرف مراجعہ کرنا ۔ اس وقت اس شخص نے امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ابھی ان کی عمر کم ہے ، امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا : خداوند عالم نے حضرت عیسی (علیہ السلام) کو میرے بیٹے ابوجعفر کی عمر سے کم عمر میں رسول، پیغمبر اور صاحب شریعت قرار دیا تھا (٧) ۔
٣۔ امام رضا (علیہ السلام) نے اپنے ایک صحابی معمر بن خلاد سے فرمایا : میں نے ابوجعفر کو اپنی جگہ پر بٹھادیا ہے اوراپنا جانشین قرار دیا ہے ،ہمارا خاندان ایسا ہے جس میں ہمارے بچے اپنے بزرگوں سے ہر چیز کو میراث میں حاصل کرتے ہیں (٨) (٩) ۔
حوالہ جات:

١۔ ابن اسباط کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مصر میں بھی امام محمد تقی (علیہ السلام) کے چاہنے والے اور طرفدار موجود تھے جو ان کی شکل و شمائل اور جسمی خصوصیات سے آگاہ ہونا چاہتے تھے ۔
(2) . وَ آتَيناهُ الحُكمَ صبِيّاً (سوره مريم:12).
(3) . وَ لَما بَلَغَ أَشدّهُ حُكماً وَ عِلماً (سوره يوسف:22).
(4) . وَ لَما بَلَغَ أَشُدّهُ وَاستَوى آتَيناهُ حُكماً وَ عِلماً (سوره قصص:14).
(5) . كلينى، اصول كافى، تهران، مكتبه الصدوق، 1381 ه".ق، ج 1، ص 384 (باب حالات الأئمه فى السّنّ) و ص 494 و نيز ر. ك به: قزوينى، سيد كاظم، الامام الجواد من المهد إلى اللحد، الطبعه الأولى، بيروت، مؤسسه البلاغ، 1408 ه".ق، ص 232 - مسعودى، اثبات الوصيه، الطبعه الرابعه، نجف، منشورات المطبعه الحيدريه، 1374 ه".ق، ص 211.
٦۔ امام جواد (علیہ السلام) کی کنیت ابوجعفر ہے اور امام باقر (علیہ السلام) کی کنیت بھی ابوجعفر تھی اس لئے آپ کو ابوجعفر ثانی کہا جاتا تھا ۔
(7) . كلينى، وہی كتاب، ج 1، ص 322 و 384 - شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى، ص 319 - فتّال نيشابورى، روضه الواعظين، الطبعه الأولى، بيروت، مؤسسه الأعلمى، 1406 ه".ق، ص 261 - على بن عيسى الاربلى، كشف الغمّه، تبريز، مكتبه بنى هاشمى، 1381 ه".ق، ج 3، ص 141 – طبرسى اعلام الورى ، الطعبه الثالثه، المكتبه الاسلاميه، ص 346.
(8) . شيخ مفيد، همان كتاب، ص 318 - طبرسى، وہی كتاب، ص 346 - على بن عيسى الاربلى، وہی كتاب، ص 141 - مجلسى، بحار الأنوار، تهران، المكتبه الاسلاميه، 1395 ه".ق، ج 50، ص 21 - همان كتاب ص 320.
(9) . سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 537.
    
تاریخ انتشار: « 1392/02/31 »

منسلک صفحات

امام محمد تقی (علیہ السلام) کی شہادت

مامون کا امام جواد (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا ہدف

بنی عباس کے دربار میں امام جواد (علیہ السلام) کے شیعہ

امام محمد تقی (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصر کے شیعہ

امام محمد تقی (علیہ السلام) اور جعلی احادیث سے مقابلہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 898