حجر بن عدی کا تعارف
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حجر بن عدی کا تعارف

سوال: حجر بن عدی کون تھے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ابوعبدالرحمن حجر بن عدی بن معاویہ کندی ، ""حُجرُ الخیر"" (نیک کام کرنے والے حجر) اور ""ابن ادبر"" (١) کے لقب سے مشہور تھے ، انہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں کو درک کیا تھا (٢) ۔ حجر بن عدی ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس گیے (٣) اور ان کے ساتھ زندگی بسر کی (٤) ۔
حجر کا شمار تاریخ اسلام کے نورانی چہروں اور تاریخ تشیع کی بلند شخصیات میں ہوتا ہے ۔
آپ نے اپنی جوانی کے زمانہ میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں شرفیاب ہو کر اسلام قبول کیا ، دنیا سے دوری، نماز و روزہ کے پابند، شرافت ، کرامت ، صحیح کام انجام دینے اور عبادت وغیرہ آپ کی خاص خصوصیات تھیں (٥) ۔
آپ کا زہد و تقوی بہت مشہور تھے (٦) ۔ حُجر کی پاک و پاکیزہ روح ، صحیح کردار اوربہترین طور طریقہ نے آپ کو مستجاب الدعوات بنادیا تھا (٧) ۔
آپ نے کبھی بھی حق کشی اور باطل کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی ، یہی وجہ تھی کہ آپ نے مومنین اور مجاہدین کے ساتھ عثمان کے خلاف شورش کی (٨) اور حضرت علی (علیہ السلام) کی حکومت کو قایم کرنے میں آپ نے بہت زیادہ کوشش کی ،اسی وجہ سے آپ کا شمار حضرت علی (علیہ السلام) کے خاص اصحاب (٩) اور پیروی کرنے والوں (١٠) میں ہوتا تھا ۔
آپ نے حضرت علی (علیہ السلام) کے ساتھ جنگوں میں شرکت فرمایی ۔ جنگ جمل (١١) میں کندی فوج کے کمانڈر تھے (١٢) اور صفین (١٣) میں اپنے قبیلہ کی سرداری فرمارہے تھے (١٤) ، نہروان میں میسرہ کی فوج (١٥) یا مولی علی (علیہ السلام) کی فوج کے میمنہ (١٦) کی کمانڈری آپ کے سپرد تھی ۔
آپ بہت ہی سلیس گفتگو کرتے تھے ،بلاغت و فصاحت کے ساتھ حقایق کو بیان کرتے تھے ۔ حضرت علی (علیہ السلام) کے متعلق آپ کے خوبصورت کلمات اس کی بہترین مثال ہے (١٨) ۔
حضرت علی (علیہ السلام) کے ضربت لگنے سے کچھ لمحے پہلے آپ کو اس فتنہ کی خبر ملی تھی اور آپ نے بہت کوشش کہ حضرت علی (علیہ السلام) کو اس سے آگاہ کریں ،لیکن وہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوسکے (١٩) اورمولی علی (علیہ السلام) کے خون کا غم آپ کے سینہ پر باقی رہ گیا ۔
آپ امام حسن (علیہ السلام) کے بھی بہت ہی غیور اور ثابت قدم صحابی تھے (٢٠) ، جب آپ کو صلح کی خبر ملی تو عزت و غیرت کا خون ان کی رگوں میں دوڑنے لگا اور انہوں نے اس صلح پر اعتراض کیا (٢١) ۔ امام حسن (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : اگر دوسرے افراد بھی تمہاری طرح عزت طلب ہوتے تومیں کبھی بھی اس معاہدہ پر دستخط نہ کرتا (٢٢) ۔
معاویہ کی سیاہ کاریوں سے حجر کا دل بھرا ہوا تھا اورہمیشہ ""حزب الطلقاء"" (فتح مکہ کے آزاد شدہ گروہ) کے بدنام چہروںسے دوری اختیار کرتے تھے اور تمام شیعوں کے ساتھ اس پر لعنت کرتے تھے (٢٣) کیونکہ یہ وہ گروہ تھا جس کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ""ملعون"" سمجھتے تھے ۔
جب بھی مغیرہ (جس کا برایی اور غلط کاموں میں ثانی نہ تھا اور ""حزب الطلقای"" کی حاکمیت کے ذریعہ کوفہ کا حاکم بن گیا تھا ) ، مولی علی (علیہ السلام) اور ان کے چاہنے والوں کو ناسزا کہتا تھا تو حُجر بغیر کسی خوف و ہراس کے کھڑے ہوتے تھے اور اس کی ملامت کرتے تھے (٢٤) ۔ معاویہ ان کی اس حالت ، ثابت قدمی اور سختی سے پریشان ہوگیا تھا لہذا اس نے آپ کو قتل کرنے کا حکم صادر کیا اور ٥١ ہجری میں حجر کو ان کے اصحاب کے ساتھ (٢٥) ""مَرج عذرا"" (٢٦) ، (٢٧) میں شہید کردیا (٢٨) ۔
تمام لوگ حجر کو پسند کرتے تھے ، عوام کے درمیان آپ کی محبوبیت بہت زیادہ تھی ، لہذا ان کی شہادت لوگوںکو بہت مہنگی پڑی (٢٩) اس وجہ سے انہوں نے معاویہ پر اعتراض کیا (٣٢) ۔
معاویہ اپنی تمام تر فریب کاریوں کے باوجود حجر کے قتل کو اپنی غلطیوں میں شمار کرتا تھا اوراس پر ندامت کا اظہار کرتا تھا (٣٣) معاویہ نے مرتے وقت کہا : اگر کویی نصیحت کرنے والے ہوتا تو مجھے حجر کو قتل کرنے سے منع کرتا (٣٤) ۔
حضرت علی (علیہ السلام) نے ان کی شہادت کی خبر دیتے ہویے ان کی اور ان کے اصحاب کی شہادت کو ""اصحاب اخدود"" (٣٥) کی شہادت سے تشبیہ دی تھی (٣٦) ۔
حوالہ جات:

1. الطبقات الکبرى: ج 6، ص 217، سیر أعلام النّبلاء: ج 3، ص 463 الرقم 95، تاریخ دمشق: ج 12، ص 211، تاریخ الإسلام للذهبی: ج 4، ص 33.
2. المستدرک على الصحیحین: ج 3، ص 534 ح 5983، الطبقات الکبرى: ج 6، ص 217، تاریخ دمشق: ج 12، ص 211.
3. المستدرک على الصحیحین: ج 3، ص 532، ح 5974، الطبقات الکبرى: ج 6، ص 217، أنساب الأشراف: ج 5، ص 276، سیر أعلام النّبلاء: ج 3، ص 463، الرقم 95، تاریخ دمشق: ج 12، ص 207، اُسد الغابة: ج 1، ص 697، الرقم 1093.
4. المستدرک على الصحیحین: ج 3، ص 534، ح 5983، سیر أعلام النّبلاء: ج 3، ص 463، الرقم 95، تاریخ الإسلام للذهبی: ج 4، ص 193، الاستیعاب: ج 1، ص 389 الرقم، 505، اُسد الغابة: ج 1، ص 697، الرقم 1093، وفیهما «کان من فضلاء الصحابة» .
5. سیر أعلام النّبلاء: ج 3، ص 463 الرقم 95، البدایة والنهایة: ج 8، ص 50.
6. المستدرک على الصحیحین: ج 3، ص 531، تاریخ دمشق: ج 12، ص 212 ، البدایة والنهایة: ج 8 ص 50.
7. الاستیعاب: ج 1، ص 391، الرقم 505، اُسد الغابة: ج 1، ص 698، الرقم 1093.
8. الجمل: ص 137.
9. الطبقات الکبرى: ج 6، ص 217، اُسد الغابة: ج 1، ص 697، الرقم 1093 وفیه «کان من أعیان أصحابه»، الأخبار الطوال: ص 224 وفیه «کان من عظماء أصحاب علیّ».
10. سیر أعلام النّبلاء: ج 3، ص 463 الرقم 95.
11. المستدرک على الصحیحین : ج 3، ص 532، ح 5974، الطبقات الکبرى: ج 6، ص 218، أنساب الأشراف: ج 5، ص 276، تاریخ دمشق: ج 12، ص 210.
12. الجمل: ص 320؛ الأخبار الطوال: ص 146.
13. المستدرک على الصحیحین: ج 3، ص 532، ح 5974، الطبقات الکبرى: ج 6، ص 218، أنساب الأشراف: ج 5، ص 276، تاریخ دمشق: ج 12، ص 207.
14. وقعة صفّین: ص 117؛ تاریخ خلیفة بن خیّاط: ص 146، سیر أعلام النّبلاء: ج 3، ص 463، الرقم 95 وفیه «شهد صفّین أمیراً».
15. الاستیعاب: ج 1 ص 389 الرقم 505، اُسد الغابة: ج 1 ص 697 الرقم 1093.
16. الأخبار الطوال: ص 210، الإمامة والسیاسة: ج 1 ص 169.
17. الجمل: ص 255.
18. الغارات: ج 2 ص 425؛ تاریخ الطبری: ج 5، ص 135، الکامل فی التاریخ: ج 2 ص 426.
19. الإرشاد: ج 1 ص 19، المناقب لابن شهر آشوب: ج 3 ص 312 .
20. أنساب الأشراف: ج 3 ص 280؛ رجال الطوسی: ص 94 الرقم 928 .
21. أنساب الأشراف: ج 3 ص 365، الأخبار الطوال: ص 220، شرح نهج البلاغة: ج 16 ص 15.
22. أنساب الأشراف: ج 3 ص 365.
23. تاریخ الطبری: ج 5 ص 256 ، الکامل فی التاریخ: ج 2 ص 489.
24. أنساب الأشراف: ج 5، ص 252 ؛ تاریخ الطبری: ج 5 ص 254 ، الکامل فی التاریخ: ج 2 ص 489.
25. المستدرک على الصحیحین: ج 3، ص 532، ح 5978، تاریخ دمشق: ج 12، ص 211، تاریخ الإسلام للذهبی: ج 4، ص 194، مروج الذهب: ج 3 ص 12 وفیه «سنة ثلاث وخمسین» .
26. مَرْج، یعنى «چراگاه». مَرْج عذراء، نام یکى از آبادى هاى نزدیک دمشق است که در دشت خولانْ واقع شده و مقبره حجر در این مکان، اکنون زیارتگاه مسلمانان است .
27. المستدرک على الصحیحین: ج 3، ص 532، ح 5974 ، مروج الذهب: ج 3، ص 12، الاستیعاب: ج 1، ص 390، الرقم 505.
28. تاریخ دمشق: ج 12 ص 217، الاستیعاب: ج 1 ص 389 الرقم 505 .
29. الأخبار الطوال: ص 224 .
30. أنساب الأشراف: ج 5 ص 129، الإمامة والسیاسة: ج 1 ص 203؛ رجال الکشّی: ج 1 ص 252 الرقم 99 ، الاحتجاج: ج 2 ص 90 ح 164.
31. أنساب الأشراف: ج 5 ص 274، تاریخ دمشق: ج 12 ص 226، الإصابة: ج 2 ص 33 الرقم 1634 ; تاریخ الیعقوبی: ج 2 ص 231.
32. المستدرک على الصحیحین: ج 3 ص 534 ح 5984 ، أنساب الأشراف: ج 5 ص 48، تاریخ الطبری: ج 5 ص 279، تاریخ الإسلام للذهبی: ج 4 ص 194، الاستیعاب: ج 1 ص 390 الرقم 505 .
33. سیر أعلام النّبلاء: ج 3 ص 465 الرقم 95، تاریخ دمشق: ج 12 ص 226، تاریخ الطبری: ج 5 ص 279 ، تاریخ الإسلام للذهبی: ج 4 ص 194.
34. أنساب الأشراف: ج 5 ص 275، تاریخ دمشق: ج 12 ص 231 .
35. در سوره بروج، آیه 3، به «اصحاب اُخدود» اشاره شده است؛ مؤمنانى که قومشان آنها را مجبور به رها کردن دینشان نمودند و چون خوددارى ورزیدند، آنها را در گودال هاى آتش افکندند (ر . ک: بحارالأنوار: ج 14 ص 438 «قصّة أصحاب الاُخدود») .
36. محمد محمدى رى شهرى، دانش نامه امیرالمؤمنین، ج 13، ص 149.
    
تاریخ انتشار: « 1392/02/16 »

منسلک صفحات

حجر بن عدی

حجر بن عدی کا تعارف

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 357