معرفت خدا اور حاکمیت حقیقى
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

معرفت خدا اور حاکمیت حقیقى

سوال: کیا قرآن کی آیات روز قیامت بھی خدا وند عالم کی قدرت و حکومت کو آشکار کرے گی ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: موجود ہوجاتی ہے اور اگر اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ چیز تدریجا وجود میں آیے تو اس کا تدریجی پروگرام شروع ہوجا تا ہے ۔
اس کے بعد قرآن مزیدکہتا ہے کہ :خدا کی بات حق ہے، یعنی جس طرح آفرینش کی ابتدا ہدف ونتیجہ اور مصلحت کی بنیاد تھی، قیامت و معاد بھی اسی طرح ہوگی(قَوْلُہُ الْحَقُّ ) ۔
اور اس دن جب صور میں پھونکا جایے گا اور قیامت پرپا ہو جایے گی، تو حکومت وملکیت اسی کی ذات پاک کے ساتھ مخصوص ہوگی(وَلَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنفَخُ فِی الصُّورِ) ۔
یہ صحیح ہے کہ خدا کی ملکیت اور حکومت تمام عالم ہستی پر ابتدا جہاں سے رہی ہے اور دنیا کے خاتمہ تک اور عالم قیامت میں بھی جاری رہے گی اور قیامت کے ساتھ کویی اختصاص نہیں رکھتی لیکن چونکہ اس جہان میں اہداف ومقاصد کی تکمیل اور کاموں کے انجام دینے کے لیے عوامل واسباب کا ایک سلسلہ اثر انداز ہوتا ہے لہٰذا بعض اوقات یہ عوامل واسباب خدا سے جو مسبب الاسباب ہے غافل کردیتے ہیں، مگر وہ دن کہ جس میں تمام اسباب بے کار ہوجاییں گے تو اس کی ملکیت وحکومت ہر زمانے سے زیادہ آشکار وواضح ہوجایی گی، ٹھیک ایک دوسری آیت کی طرح جو یہ کہتی ہے کہ :
لمن ملک الیوم للّٰہ الواحد القھار۔
حکومت اور ملکیت آج(قیامت کے دن) کس کی ہے؟صرف خدایے یگانہ وقہار کے لیے ہے،(سورہ المومن،آیہ ۱۶) ۔
اس بارے میں کہ صور ۔ جس میں پھونکا جایے گا ۔ سے مراد کیا ہے اور اسرافیل صور میں کس طرح پھونکے گا کہ اس سے تمام جہاں والے مرجاییں گے اور دوبارہ صور میں پھونکے گا تو سب زندہ ہوجاییں گے اور قیامت برپا ہوجایے گی، انشاء اللہ ہم سورہٴ زمر کی آیہ ۶۸ کے ذیل میں شرح وبسط کے ساتھ بحث کریں گے کیوں کہ یہ بحث اس آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔
اور آیت کے آخر میں خدا کی صفات میں سے تین صفات کی طرف اشارہ کرتے ہویے کہتا ہے کہ: خدا پنہاں وآشکار سے باخبر ہے ( عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَهِ) ۔
اور اس کے تمام کام حکمت کی رو سے ہوتے ہیں او ر وہ تمام چیزوں سے باخبر ہے( وَھُوَ الْحَکِیمُ الْخَبِیرُ)،قیامت سے مربوط آیات میں اکثر خدا کی ان صفات کی طرط اشارہ ہوا ہے کہ وہ آگاہ بھی ہے اور قادر وحکیم بھی، یعنی اپنے علم وآگاہی کے اقتضاء کے مطابق وہ ہر شخص کو مناسب جزا دیتا ہے ۔۱
حوالہ جات:
1انعام، آیه 73.
2 ـ غافر، آیه 16.
3. تفسیر نمونه، جلد5، صفحه 373.
    
تاریخ انتشار: « 1392/01/21 »

منسلک صفحات

معرفت خدا اور حاکمیت حقیقى

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 277