قرآن کی مخالفت
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

قرآن کی مخالفت

سوال: مشرکین نے قرآن کریم کی نورانی آیات کی مخالفت کیوں کی تھی ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اریخ اسلامی سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سخت ترین دشمن تک باطنا آپ کی صداقت اور راست بازی سے معتقد تھے، ان میں سے ایک یہ واقعہ ہے کہ ایک دن ابو جہل نے پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ملاقات کی اورآپ سے مصافحہ کیا ، تو کسی نے اس پر اعتراض کیا: تم اس شخص سے مصافحہ کیوں کررہے ہو ، اس نے کہا: خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ پیغمبر ہیں لیکن کیا ہم کسی زمانے میں ”عبد مناف“ کے تابع اور پیرو رہے ہیں! یعنی اس کی دعوت کو قبول کرنا اس بات کا سبب بن جایے گا کہ ہم ان کے قبیلہ کے تابع ہوجایےں (اور یہ بھی تاریخوں میں لکھا ہے کہ) ایک رات ابو جہل ، ابوسفیان اور اخنس بن شریق، جو مشرکین مکہ کے سردار اور رییس تھے، میں سے باہر ہر ایک ایسے مخفی طریقے سے کہ کویی شخص ان کی طرف متوجہ نہ ہو، یہاں تک یہ تینوں افراد بھی ایک دوسرے کی حالت سے باخبر نہیں تھے پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ارشادات سننے کے لیے ایک گوشے میں چھپ کر بیٹھ گیے اور صبح تک آیت قرآن کی تلاوت سنتے رہے، جب صبح کی سفیدی نمودار ہویی تو وہاں سے چلتے بنے لیکن لوٹتے وقت راستہ میں ایک دوسرے کا آمناسامنا ہوگیا تو ہر ایک اپنا عذر دوسرے سے بیان کرنے لگا، پھر انھوں نے عہد کیا کہ اب دوبارہ یہ کام نہیں کریں گے کیوں کہ اگر قریش کے جوانوں کو اس بات کی خبر ہوگیی تو یہ بات ان کے محمد کی طرف جھکاو کا سبب بن جایے گی۔
دوسر ی رات اس گمان سے کہ اس کے ساتھی اس رات نہیں آیے گے ہر ایک آیت قرآن سننے کی غرض سے پیغمبر کے گھر کے قریب یا مسلمانوں کے مجمع کے قریب آگیا لیکن صبح ہوتے ہیں پھر ان کا رازایک دوسرے پر فاش ہوگیا لیکن اتفاق کی بات ہے کہ یہ کام تیسری رات پھر دہرا یا گیا، جب صبح ہویی تو اخنس بن شریق اپنا عصا لیے ہویے ابو سفیان کی تلاش میں نکلا اور اس سے کہنے لگا: مجھے صاف ،صاف بتا کہ تمھارا ان باتوں کے بارے میں جو تم نے محمد سے سنی ہیں کیا عقیدہ ہے، تو وہ کہنے لگا :خدا کی قسم کچھ چیزیں تو میں نے ایسی سنی ہیں جنھیں میں نے اچھی طرح جان لیا ہے اور ان کا مقصود و مضمون اچھی طرح سمجھ لیا ہے لیکن کچھ ایسی آیات بھی سنی ہیں جن کا معنی ومقصد میری سمجھ میں نہیں آیا، اخنس نے کہا خدا کی قسم میں بھی یہی محسوس کرتا ہوں اس کے بعد وہ اٹھا اور ابو جہل کی تلاش میں گیا اور یہی سوال اس سے کیا کہ ان باتوں کے بارے میں جو تم نے محمد سے سنی ہےں تمھاری کیا رایے ہے اس نے کہاتو کیا سننا چاہتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم اور اولاد عبد مناف سرداری کے حصول میں ایک دوسرے کے رقیب ہیں انھوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم نے بھی اس غرض سے کہ کہیں پیچھے نہ رہ جاییں کھانا کھلایا،انھوں نے سواریاں بخشی تو ہم نے بھی سواریاں بخشی، انھوں نے اور دوسری عنایات کیںتو ہم نے بھی اور دوسری عنایات کیںتو اس طرح سے ہم ایک دوسرے کے دوش بدوش تھے، اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں پیغمبر ہے کہ جس پر آسمانی وحی نازل ہوتی ہے لیکن اب ہم اس امر میں ان کی رقابت کس طرح کرسکتے ہیں(واللّٰہ لا نومن بہ ابدا ولانصدقہ) خدا کی قسم ہم کبھی بھی اس پر ایمان نہیں لاییں گے اور نہ اس کہ تصدیق کریں گے،اخنس کھڑا ہوگیا اور اس کی مجلس سے نکل گیا ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دن”اخنس بن شریق“ کا ابو جہل سے آمنا سامنا ہویگا جب کہ وہاں پر اور کویی دوسرا آدمی موجود نہیں تھا، تو اخنس نے اس سے کہا: سچ بتا محمد سچا ہے یا جھوٹا، قریش میں سے کویی شخص سوا میرے وتیرے یہاں موجود نہیں ہے جو ہماری باتوں کو سنے ۔
ابو جہل نے کہا: وایے ہو تجھ پر خدا کی قسم ! وہ میرے عقیدے میں سچ کہتا ہے اور اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن اگر یہ اس بات کی بنا ہوجایے کہ محمد کا خاندان سب چیزوں کو اپنے قبضہ میں کرلے،حج کا پرچم، حاجیوں کو پانی پلانا، کعبہ کی پردہ داری اورمقام نبوت تو باقی قریش کے لیے کیا رہ جایے گا(۱) ۔
ان روایات اور انھیں جیسی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بہت سے سخت ترین دشمن باطنا آپ کی سچایی کے معترف تھے لیکن قبایلی رقابتیں اور اسی قسم کی دوسری باتیں انھیں اجازت نہیں دیتی تھیں یا وہ اس بات کی جراٴت نہیں رکھتے تھے کہ باقاعدہ ایمان لے آییں ۔2
حوالہ جات:
۱۔ مندرجہ بالا روایات تفسیر المنار اور مجمع البیان سے اس آیت کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر سے لی گئی ہیں.
2. تفسیر نمونه، جلد 5، صفحه 264. 
    
تاریخ انتشار: « 1392/01/20 »

منسلک صفحات

قرآن کی مخالفت

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 228