آنکھ اور کان
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

آنکھ اور کان

سوال: معنوی آنکھ اور کان سے مراد کیا ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: سننے اور دیکهنے کی بھی دو قسمیں ہیں : مادی اور معنوی،
شاید اس بات کی وضاحت کرنے کی کویی ضرورت نہ ہو ”موتی“ (مردے) سے مراد اوپو والی آیت میں جسمانی طور پر مردے نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد باطنی ومعنوی مردے ہیں کیوں کہ ہم دو قسم کی موت وحیات رکھتے ہیں، ایک حیات وموت مادی اور دوسری موت وحیات معنوی ، اسی طرح شنوایی اور بینایی بھی دو قسم کی ہیں ایک مادی اور دوسری معنوی، اسی دلیل سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایسے اشخاص کے بارے میں کہ جو آنکھیں بھی رکھتے ہیں ،کان بھی رکھتے ہیں یا زندہ وسالم تو ہیں لیکن وہ حقایق کو نہیں سمجھتے، کہتے ہیں کہ وہ اندھے بہرے ہیں یا بالکل مردہ ہےں، کیوںکہ جو ردعمل ایک بینا و شنوا یا ایک زندہ انسان سے ہونا چاہیےے وہ حقایق کے سامنے نہیں دکھاتے، قرآن مجید میں ایسی تعبےرات کثرت سے نظر آتی ہے اور ان میں ایک خاص کشش پایی جاتی ہے بلکہ قرآن حیات مادی اور ظاہری زندگی کو، جس کی نشانی صرف کھانا، سونا اور سانس لینا ہے، کچھ اہمیت نہیں وہ ہمیشہ حیات معنوی وانسانی پر جو ذمہ داری وجوابدہی اور احساس ودرد اور بیداری وآگاہی کے ساتھ ملی ہویی ہو، انحصار کرتا ہے ۔
اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بینایی وشنوایی اور معنوی موت خود ان کی اپنی وجہ سے ہے، وہ خود ہی وہ لوگ ہیں کہ جو بار بار گناہ کرنے اور اس پر اصرار اور ہٹ دھرمی کرنے کے سبب سے اس مرحلہ تک پہنچ جاتے ہیں کیوں کہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسا کہ اگر کویی انسان ایک مدت تک اپنی آنکھ کو بند کیے رکھے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بینایی اور نظر کو گوا بیٹھے گا اور شاید ایک روز بالکل اندھا ہوجایے، جو اشخاص اپنے دل کی آنکھوں کو حقایق کی طرف سے بند کرلے تو وہ تدریجا اپنی معنوی بصارت کی قوت کو زایل کردے گا ۔
حوالہ جات:

    
تاریخ انتشار: « 1392/01/19 »

منسلک صفحات

کان اور آنکھیں

آنکھ اور کان

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 243