آیات الھی میں تفکر

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

آیات الھی میں تفکر

سوال: آیات الھی میں غور فکر کے متعلق قرآن کریم کی دعوت ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: إِنَّ فی خَلْقِ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ ۔۔۔
قرآنی آیات صرف پڑھنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے سمجھنے اور ادراک کے لئے نازل ہوئی ہیں ۔ ان کی تلاوت تو انہیں سمجھنے کی تمہید ہے ۔ اس لئے تو مندرجہ بالا آیت میں آسمان و زمین کی عظمت کا تذکرہ ہے اور فرمایا گیا ہے : آسمان و زمین کی خلقت اور روز وشب کی آمد و رفت میں صاحبان عقل و خرد اور اہل نظر کے لئے واضح نشانیاں ہیں ۔ ۱
یہ کہہ کر لوگوں کو اس عظیم خلقت میں غور و فکر کے لئے ابھارا گیا ہے تا کہ ہر شخص اپنی استعداد اور پیمانہ ٴ فکر کے مطابق بے کنار سمندر سے اپنا حصہ لے اور اسرار آفرینش کے شفاف چشمے سے سیراب ہو ۔ یہ حقیقت ہے کہ جہان آفرینش کے بدیع بقوش ، دلکش تصویریں اور اس پر حاکم خیرہ کرنے والا نظام ایک بڑی کتاب ہے جس کا حرف حرف اور لفظ لفظ اس عالم کے پیدا کرنے والے کے وجود اور اس کی یکتائی کی بہت ہی واضح دلیل ہے ۔ ۲

الَّذینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیاماً وَ قُعُوداً
اس جہان کے گوشہ و کنار کی جو رعنائی اور دلکشی وسیع عالم ہستی میں دکھائی دیتی ہے وہ صاحبان عقل کے دلوں کو یوں جذب کرتی ہے کہ وہ کھڑے ہوں یا بیٹھے ، بستر پر محو آرام ہوں یا پہلو کے بل لیٹے ہوں اس نظام کے خالق اور اس کے اسرار کی یاد میں مگن ہوتے ہیں ۔ لہذا مندرجہ بالا آیت میں ارشاد الہی ہے : عقلمند وہ ہیں جو قیام میں ہوں یا قعود میں یا پہلو کے بل محو استراحت خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کے اسرار میں غور و فکر کرتے رہتے ہیں یعنی ہمیشہ اور ہر حالت میں اس حیات بخش فکر میں غوطہ زن رہتے ہیں ۔
اس آیت میں پہلے ذکر کا تذکرہ ہے اور پھر فکر کا یعنی صرف خدا کو یاد کرنا کافی نہیں ۔ یہ تذکر اس وقت بہترین ثمر کا حامل ہوگا اگر اس کے ساتھ غور و فکر بھی شامل ہو ۔ جیسے آسمان و زمین کی خلقت پر غور کرنے میں یاد خدا شامل نہ ہو تو یہ غور و فکر بھی کسی کام کا نہیں ۔
ایسے کتنے ہی صاحبان علم و دانش ہیں جو فلکیات کا مطالعہ کرتے ہیں اور آسمانی کرات کی خلقت کے باہمی ربط میں عجیب و غریب نظم ضبط کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ یاد خدا سے غافل ہوتے ہیں اور توحید کی عینک ان کی آنکھوں پر نہیں ہے اور وہ عالم ہستی کو مبداء عالم کی شناسائی کے زاوئے سے نہیں دیکھتے لہذا وہ انسانی تربیت کا لازمی نتیجہ اس مشاہدہ سے اخذ نہیں کر پاتے ان لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ایسی غذا کھاتا ہے جو صرف اس کے جسم کو تقویت بخشتی ہے اور اس کی فکر و نظر اور روح پر کوئی اثر نہیں کرتی 3.
حوالہ جات:
۱ ۔ قرآن میں ” اولو الالباب “ زیر نظر آیت کے علاوہ بعض دیگر آیات میں بھی استعمال ہوا ہے ۔ یہ صاحبان عقل کے لئے لطیف اشارہ ہے کیونکہ ” لب “ در اصل ہر چیز کے خالص جوہر کو کہتے ہیں اور انسانی وجود کا جوہر عقل و فکر ہی ہے ۔
۲ ۔اختلاف شب و روز اور اس کے اسرار کے بارے میں سورہ بقرہ کی آیة ۱۶۴ تفسیر نمونہ جلد اول میں بحث کی جا چکی ہے ۔ کائنات کی خلقت میں جو نظم و ضبط موجود ہے وہ خدا شناسی کی روشن ترین دلیل ہے ۔ اس کی مزید توضیح کے لئے ان کتابوں کا مطالعہ کیجئے : آفرید گار جہان ،معمای ہستی اور جستجوی خدا ۔
3. تفسیر نمونه، جلد 3، صفحه 375.
    
تاریخ انتشار: « 1392/01/15 »

منسلک صفحات

آیات الھی میں تفکر

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 702