تکوینى اور تشریعى قوانین

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

تکوینى اور تشریعى قوانین

سوال: تکوینى اور تشریعى قوانین سے مراد کیا ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: قرآن نے ایک مرتبہ پھر اسلام کو ایک زیادہ وسیع معنی میں پیش کیا ہے ۔ تمام آسمانوں اور زمین والے یا آسمان و زمین میں موجود تمام موجود تمام موجودات مسلمان ہیں اور وہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہویے ہیں ، زیادہ سے زیادہ طوعاً و کرھاً( اختیار یا جبر سے ) کی تعبیر کا مطلب ہے کہ پروردگار کے فرمان کے سامنے سر جھکا نا کبھی ” اختیاری “ اور ” تشریعی قوانین “ کے ذریعے ہوتا ہے اور کبھی ”اجباری “اور تکوینی قوانین “ کے ذریعے ۔ اس کی وضاحت یوں ہے کہ عالم ہستی میں خدا کے احکام دو طرح کے ہیں ۔ اس کے فرامین کا ایک سلسلہ طبیعی قوانین اور مافوق طبیعی کا ہے جو اس جہان کے مختلف موجودات پر حکومت کرتے ہیں اور سب مجبور ہیں کہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور وہ لمحہ بھرکے لیے بھی ان قوانین سے رو گردانی نہیں کرسکتے اور اگر اخلاد ورزی کریں تو ہوسکتا ہے کہ محو اور نابو د ہو جاییں ۔یہ فرمانِ خد اخدا کے سامنے ” اسلام و تسلیم “ کی ایک قسم ہے ۔ سورج کی شعاییں دیاوٴں پر پڑتی ہیں ، پانی بخارات بن کر اٹھتا ہے ، بادل کے ٹکڑے ایکدوسرے سے مل جاتے ہیں ، بارش کے قطرے آسمان سے گرتے ہیں ، درذخت ان سے نشو و نما پاتے ہیں ان سے پھول کھلتے ہیں ۔ یہ سب کے سب ” مسلمان “ہیں کیونکہ ان میں سے لہر ایک آفرینش وفطرت کے معین کردہ قانون کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہویے ہیں ۔
فرمان خدا کی دوسری قسم کا نام حکم تشریعی ہے یعنی وہ قوانین جو آسمانی شریعتوں اور انبیاء (علیه السلام) کی تعلیمات میں موجود ہیں ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے یعنی ” طو عاً“ مثلاً مومنین اور دوسرا مجبوری کی حالت میں یعنی ” کرھا ً“ مثلاً کافرین تکوینی قوانین کے لحاظ سے ۔ اس بناء پر اگر چہ کفار کچھ احکام خدا کے سامنے اسلام قبول کرنے سے رو گردانی کرتے ہیں لیکن بعض احکام قبول کیے بغیر انہیں کویی چارہ نہیں ، اس لیے خدا کے تمام قوانین دین ِ حق کے سامنے وہ بالکل سر تسلیم خم کیوں نہیں کرتے ۔ ۱
حوالہ جات:
1. تفسیر نمونه، جلد 2، صفحه 146.
    
تاریخ انتشار: « 1392/01/14 »

منسلک صفحات

تکوینى اور تشریعى قوانین

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 609