پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات

سوال: کیا عقلی تحلیل کی بنیاد پر قرآن کریم کے علاوہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا کویی دوسرا معجزہ بھی تھا ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: اس موضوع کو سب سے پہلی مرتبہ عیساییوں نے بیان کیا ہے ،انہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مقام و عظمت کو کم ظاہر کرنے کے لیے دعوی کیا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس قرآن کریم کے علاوہ کویی دوسرا معجزہ نہیں تھا اور صرف قرآن کریم کے ذریعہ دعوی کرتے تھے اور جب بھی ان سے معجزہ مانگا جاتا تھا تو وہ اپنی کتاب کی طرف اشارہ کرتے تھے ۔
مرحوم فخر الاسلام کہتے ہیں : «مسیوژرژ دوروی « نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سیرت کے سلسلہ میں ایک کتاب لکھی ہے اور اس کے صفحہ نمبر ۱۵۷ پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تصویر بنایی ہے جس میں آنحضرت (ص) اپنے ہاتھ میں ایک کتاب لیے ہویے ہیں اور اس تصویر کے نیچے لکھا ہے :
جب ان بزرگوار سے معجزہ طلب کیا جاتا تھا تو اس کے جواب میں کہتے تھے : معجزہ کا اختیار میرے ہاتھ میں نہیں ہے اور مجھے یہ نعمت نہیں دی گیی ہے (۱) ۔
اس پاپ کا پہلا جملہ بالکل حقیقت ہے اور وہ یہ ہے کہ معجزہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ہاتھ میں نہیں ہے اور جب تک اذن خدا نہیں ہوتا اس وقت تک پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کویی کام نہیں کرتے اور قرآن کریم کی آیت اس بات پر صریح طور سے دلالت کرتی ہے : « وَ ما کانَ لِرَسُولٍ اٴَنْ یَاٴْتِیَ بِآیَهٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّہ....«(سورہ رعد ، آیت ۳۸) ۔
کسی رسول کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کویی نشانی لے آیے۔
لیکن اس کی دوسری بات (مجھے یہ نعمت نہیں دی گیی ہے ) جھوٹی اور تہمت ہے اور آنحضرت (ص) نے کبھی بھی یہ بات نہیں کی ہے ،بلکہ آپ اس نعمت سے برخوردار تھے اور خداوند عالم کے اذن سے معجزہ دکھاتے تھے ۔
ہم اس دعوی کی عقلی تحلیل میں کہتے ہیں :
چاہے پیغمبر اسلام کو خداوند عالم کا منتخب رسول سمجھ لیں،یاان کو ایک اجتماعی مفکر ، ہر حال میں انہوں نے اپنے آپ کو قرآن مجید میں موسی اور عیسی جیسے پیغمبروں کی مانند پیش کیا ہے ، بلکہ اپنے آپ کو ان سے بلند و بالا جانا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت خاتم انبیاء اور ا ن کی کتاب قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے ۔
یہ اللہ کے منتخب ، یا دوسروں کی تعبیر کے مطابق «اجتماعی مصلح« جب گذشتہ انبیاء کی سیرت کو بیان کرتے ہیں تو ان کے لیے بہت سے واقعات اور معجزات کو ثابت کرتے ہیں ۔ مثلا جس وقت وہ موسی کی دعوت کے بارے میں بات کرتے ہیں تواس طرح کہتے ہیں :
«وَ لَقَدْ آتَیْنا مُوسی تِسْعَ آیاتٍ بَیِّنات« (سورہ اسراء ، آیت ۱۰۱) ۔ اور ہم نے موسٰی کو نوکِھلی ہویی نشانیاں دی تھیں۔
پھر دوبارہ ان کے متعلق اس طرح کہا ہے : «وَ اٴَدْخِلْ یَدَکَ فی جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضاء َ مِنْ غَیْرِ سُوء ٍ فی تِسْعِ آیاتٍ إِلی فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِہِ  ....« (سورہ نمل ، آیت ۱۲) ۔
اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈال کر نکالو تو دیکھو گے کہ بغیر کسی بیماری کے سفید چمکدار نکلتا ہے یہ ان نو معجزات میں سے ایک ہے جنہیں فرعون اور اس کی قوم کے لیے دیا گیا ہے۔
جس وقت حضرت عیسی کی دعوت کے طریقہ کو بیان کرتے ہیں تو ان کا اس طرح تعارف کراتے ہیں :
«وَ رَسُولاً إِلی بَنی إِسْراییلَ اٴَنِّی قَدْ جِیْتُکُمْ بِآیَهٍ مِنْ رَبِّکُمْ اٴَنِّی اٴَخْلُقُ لَکُمْ مِنَ الطِّینِ کَہَیْیَهِ الطَّیْرِ فَاٴَنْفُخُ فیہِ فَیَکُونُ طَیْراً بِإِذْنِ اللَّہِ وَ اٴُبْرِءُ الْاٴَکْمَہَ وَ الْاٴَبْرَصَ وَ اٴُحْیِ الْمَوْتی بِإِذْنِ اللَّہِ وَ اٴُنَبِّیُکُمْ بِما تَاٴْکُلُونَ وَ ما تَدَّخِرُونَ فی بُیُوتِکُمْ إِنَّ فی ذلِکَ لَآیَهً لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنینَ« (سورہ آل عمران ، آیت ۴۹) ۔
اور اسے بنی اسراییل کی طرف رسول بنایے گا اور وہ ان سے کہے گا کہ میں تمھارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لیے مٹی سے پرندہ کی شکل بناوں گا اور اس میں کچھ دم کردوں گا تو وہ حکہِ خدا سے پرندہ بن جایے گا اور میں پیدایشی اندھے اور َمبروص کا علاج کروں گا اور حکہِ خدا سے مفِدوں کو زندہ کروں گا اور تمہیں اس بات کی خبردوں گا کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا گھر میں ذخیرہ کرتے ہو- ان سب میں تمہارے لیے نشانیاں ہیں اگر تم صاحبانِ ایمان ہو ۔
آنحضرت (ص) صرف حضرت موسی اور حضرت عیسی جیسے انبیاء کی دعوت کو معجزہ کے ساتھ بیان نہیں کرتے بلکہ دوسرے انبیاء کے لیے بھی معجزوں کوثابت کرتے ہیں ، قرآن کریم میں آسمانی انبیاء کی دعوت کے بارے میں جو آیات نازل ہویی ہیں ان کی طرف مراجعہ کرنے سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے ۔
کیا یہ بات صحیح ہے کہ جوشخص خود نبوت اور رسالت کا دعوی کرتا ہو اور دوسرے تمام انبیاء کی دعوت کو معجزہ کے ساتھ بیان کرتا ہو اور ان کے معجزوں کی خصوصیات کو بیان کرتا ہو اور جب ان سے معجزہ طلب کیا جایے تو خاموش ہوجاییں ؟ معجزہ طلب کرنے کے سامنے یہ تحلیل آنحضرت (ص) کے مقام کو اچھی طرح واضح کردیتی ہے کیونکہ آنحضرت یا تو آسمانی پیغمبر ہیں اور اگر ہیں تو اس صورت میں جب بھی ان سے معجزہ طلب کیا جایے گا وہ لوگوں کی ہدایت کے لیے گذشتہ انبیاء کی طرح معجزہ پیش کریں گے ۔یا پھر وہ ایک اجتماعی مفکر ہیں جو اپنے ذاتی افکار کی وجہ سے بشریت کو نجات دلانا چاہتے ہیں اگر چہ انہوں نے اپنی دعوت کو نبوت کا رنگ اور اپنے منتخب ہونے کو خداوندعالم کی طرف سے کہا ہو لیکن ایسا شخص دوسروں کو ایسا موقع نہیں دے سکتا کہ دوسرے انبیاء کے معجزوں کو ثابت کرے لیکن خود اس کے پاس معجزات نہ ہوں ، یا خاموشی اختیار کرلے ۔
اسی وجہ سے نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ معجزہ کی مخالفت کرتے تھے اور گذشتہ انبیاء کے معجزوں کا انکار کرتے تھے اور جن آیات میں ان کے معجزوں کو بیان کیا گیا ہے ان کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور یہ تمام کوششیں اسی وجہ سے تھیں کہ اپنے آپ کو اس مشکل سے باہر نکالیں، وہ سمجھتے تھے کہ اگر لوگوں نے ان سے معجزہ مانگ لیا تو ان کا عجز اور کمزوری آشکار ہوجایے گی ۔
لیکن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس گروہ کے برخلاف گذشتہ انبیاء کے معجزات کو ثابت کرتے ہیں ، یہاں تک کہ صریح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ انبیاء کی دعوت لوگوں کی طرف سے معجزہ کی درخواست سے جدا نہیں تھی ،اس تعریف کے ساتھ یہ شخص خود کس طرح معجزہ لانے سے انکار کرسکتا ہے ؟
خلاصہ : مذکورہ مختلف پہلووں کو مدنظر رکھتے ہویے یہ نہیں کہا جاسکا کہ آپ کے پاس معجزات نہیں تھے (۱) ۔
حوالہ جات:
۱۔ انیس الاعلام، ج 5، ص 351. 
2. منشور جاوید ، جلد ۷، شیخ جعفر سبحانی ، صفحہ ۲۰۹ تا ۲۲۳ ۔

    
تاریخ انتشار: « 1392/12/05 »

منسلک صفحات

پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1144