ابن تیمیہ اور عمار کی حدیث کی تضعیف
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

ابن تیمیہ اور عمار کی حدیث کی تضعیف

سوال: ابن تیمیہ نے اس حدیث پر کیا اعتراض کیا ہے جو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے عمار کے متعلق بیان کی ہے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: متواتر احادیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : «تقتل عمارا الفیه الباغیه« ۔ عمار کو ظالم او رباغی گروہ قتل کرے گا ۔
ابن تیمیہ کہتا ہے : «فھھنا للناس اقوال : منھم من قدح فی حدیث عمار « (١) ۔ یہاں پرلوگوں کے لیے کچھ اقوال ہیں انہی میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے عمار کی حدیث پر اعتراض کیا ہے ۔
اس نے ایک دوسری جگہ اس حدیث کے متعلق کہا ہے : «
فبعضھم ضعفہ « (٢) ۔ بعض افراد نے اس کی تضعیف کی ہے ۔
حدیث عمار سے مراد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی وہ حدیث ہے جو آپ نے عمار کے متعلق فرمایی تھی کہ اے عمار ! تجھے ظالم اور باغی گروہ قتل کرے گا، باغی ور ظالم گروہ سے مراد معاویہ کا گروہ ہے ۔
اس کے جواب میں یہ کہنا ضروری ہے کہ اولا : اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس حدیث کی کس نے تضعیف کی ہے ۔
ثانیا : حدیث عمار ،ثابت اورمتواتر حدیث ہے جس کو ٢٤ صحابہ نے نقل کی ہے ،حافظ سیوطی نے بھی کتاب «الخصایص الکبری « میں اس حدیث کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے (٣) ۔
اسی طرح حافظ لغوی مرتضی زبیدی نے کتاب «لفظ اللآلی« میں ، مناوی نے شرح جامع الصغیر میں ، سیوطی اور دوسرے علماء نے اس حدیث کو متواتر کہا ہے (٤) ۔
ابن عبدالبر نے «الاستیعاب « میں عمار کی سوانح حیات میں کہا ہے : «
و تواترت الآثار عن النبی (ص) انہ قال : «تقتل عمارا الفیه الباغیه « و ھذا من اخبارہ بالغیب و اعلام نبوتہ (ص) و ھو من اصح الاحادیث « (٥) ۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے متواتر احادیث میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : عمار کا ظالم اور باغی گروہ قتل کرے گا ۔ اور یہ آنحضرت کی پیشین گویی اور نبوت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اور اس حدیث کا شمار صحیح احادیث میں ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر نے شرح صحیح بخاری میں کہا ہے : «فایده: روى حدیث (
تقتل عماراً الفیه الباغیه) جماعه من الصحابه منهم قتاده بن النعمان کما تقدم، و امّ سلمه عند مسلم و ابوهریره عند الترمذى، و عبدالله بن عمرو بن العاص عند النسایى و عثمان بن عفان و حذیفه و ابوایّوب و ابورافع و خزیمه بن ثابت و معاویه و عمرو بن العاص و ابوالیسر و عمار نفسه. و کلّها عند الطبرى و غیره. و غالب طرقها صحیحه او حسنه. و فیه عن جماعه آخرین یطول عدّهم. و فی هذا الحدیث علم من اعلام النبوه و فضیله ظاهره لعلیّ و لعمّار، وردّ على النواصب الزاعمین انّ علیّاً لم یکن مصیباً فی حروبه»؛ (٦) ۔
فایدہ : اس حدیث «تقتل عمارا الفیه الباغیه « ،عمار کو گروہ باغی قتل کرے گا، کو صحابہ کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے اور جس طرح سے روایت گزری ہے اسی طرح قتاده بن نعمان نے نقل کیا ہے ۔ نیز مسلم نے ام سلمہ سے ، ترمذی نے ابوہریرہ سے نسایی نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ،عثمان بن عفان، حذیفہ ، ابوایوب ، ابو رافع ، خزیمه بن ثابت ،معاویه ، عمرو بن عاص ،ابوالیسیر اور خود عمار نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور یہ پوری حدیث طبری اور دیگر علماء کے پاس موجود ہے اور اس کے اکثر طُرُق صحیح یا حسن ہیں اوراس حدیث میں نبوت کی علامتوں میں سے ایک علامت اور حضرت علی (علیہ السلام) و عمار کے لیے ظاہری فضیلت ہے ، نیز ان ناصبوں کا جواب ہے جو گمان کرتے ہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام) جنگوں میں حق پر نہیں تھے ۔
ابن حجر کی یہ عبارت ابن تیمیہ کی اس بات کا جواب ہے جو اس نے جنگوں کے متعلق حضرت علی (علیہ السلام) پر اعتراض کیا تھا ۔
ثالثا : بخاری نے اپنی صحیح میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : «
ویح عمار تقتلہ الفیه الباغیه یدعوھم الی الجنه و یدعونہ الی النار« (٧) ۔
عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ، عمار ان کو بہشت کی دعوت دیں گے اور وہ عمار کو جہنم کی طرف بلاییں گے ۔
بخاری نے ایک باب میں اس حدیث کو اس طرح نقل کیا ہے : «....
یدعوھم الی اللہ و یدعونہ الی النار « (٨) ۔ وہ اُن کو خدا کی طرف بلاییں گے لیکن وہ عمار کو دوزخ کی دعوت دیں گے ۔
ابن حبان نے اپنی صحیح میں امام سلمہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : «
تقتل عمارا الفیه الباغیه « (٩) ۔ عمار کو ظالم گروہ قتل کرے گا ۔
نیز ابوسعید خدری سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا :
ویح ابن سمیه تقتلہ الفیه الباغیه یدعوھم الی الجنه و یدعونہ الی النار « (١٠) ۔ سمیہ کے بیٹے (عمار) کو باغی و ظالم گروہ قتل کرے گا ، عمار ان کو جنت کی دعوت دیں گے اور وہ عمار کو دوزخ کی طرف بلاییں گے ۔
ابن حجر نے صحیح بخاری کی شرح میں کہا ہے : «
و دل حدیث (تقتل عمارا الفیه الباغیه) علی ان علیا کان المصیب فی تلک الحروب ، لان اصحاب معاویه قتلوہ ...« (١٢) ۔ یہ حدیث(عمار کو ظالم گروہ قتل کرے گا )اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ علی (علیہ السلام) ان جنگوں میں حق پر تھے ، کیونکہ معاویہ کے اصحاب نے عمار کو قتل کیا ہے (١٣) ۔
حوالہ جات:
1. منهاج السنة، ج 2، ص 204.
2- منهاج السنة، ج 2، ص 208.
3 - الخصائص الكبرى، ج 2، ص 140.
4 - لفظ اللآلى، ص 222 و 223؛ فيض القدير، ج 6، ص 366.
5- الاستيعاب در حاشيه الاصابة، ج 2، ص 481.
6 - فتح البارى، ج 1، ص 543.
7- صحيح بخارى، كتاب الصلاة، باب التعاون في بناء المسجد.
8- صحيح بخارى ، كتاب الجهاد و السير، باب مسح الغبار.
9 - الاحسان بترتيب صحيح ابن حبّان، ج 9، ص 105.
10الاحسان بترتيب صحيح ابن حبّان، ج 8، ص 260 و ج 9، ص 105.
11- فتح البارى، ج 13، ص 85 و 86.
12 - على اصغر رضوانى، سلفى گرى و پاسخ به شبهات، ص 89.
    
تاریخ انتشار: « 1392/07/01 »

منسلک صفحات

ابن تیمیہ اور عمار کی حدیث کی تضعیف

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1316