کتاب « الکافی « کا تعارف

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

کتاب « الکافی « کا تعارف

سوال: کتاب «کافی« کا تعارف کراییں ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: کتاب کافی کا شمار ،حدیث کی اہم کتابوں میں ہوتا ہے اور یہ شیعوںکی کتب اربعہ کی پہلی کتاب ہے جس کو ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی (م ٣٢٩ ق) نے لکھی ہے ۔ کلینی کا شمار دنیایے اسلام کے اہم ترین محدثین میں ہوتا ہے اور ان کو «ثقه الاسلام« کا لقب دیا گیا ہے ، انہوں نے اس گرانبہا اور معتبر کتاب کوتالیف کرنے کے لیے دنیایے اسلام کے مختلف شہروں اور دیہاتوں جیسے خراسان، ایران،شام، عراق اور سعودی عرب کا سفر کیا اور اہل بیت(علیہم السلام) کے شاگردوں کی لکھی ہویی کتابوں کو (جو کہ اصول اربعمایه کے نام سے مشہور تھیں) حاصل کرکے حدیثوں اور اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات کو جمع کیا ۔
حقیقت میں یہ کتاب سب سے پہلی ایسی کتاب ہے جو تمام ابعاد کے لحاظ سے جامع ہے اور اس میں اعتقادی، فقہی ، اخلاقی، تفسیر ، تاریخ سے متعلق تمام مسایل کو جمع کیا گیا ہے ، یہاں تک کہ اس کی روایتوں کی تعداد تمام صحاح ستہ کے برابر بلکہ ان سے زیادہ ہے ۔ کلینی نے اپنی کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے : اصول دین «اصول کافی« ، فروع دین «فروع کافی« اور متفرقہ جس کو «روضہ کافی« کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے ۔
کلینی نے اس کتاب کو بعض ان شیعوں کی درخواست پر لکھا ہے جو کہ متعدد اور مختلف روایتوں کی وجہ سے مسایل اور اسلامی حقایق کو دقیق طور پر تشخیص نہیں دے سکتے تھے ، اس بناء پر انہوں نے اس کتاب کو دین کے تمام علوم کو ایک جگہ جمع کرنے کے ہدف کے ساتھ تالیف کی تاکہ اس کی بنیاد پر اہل بیت (علیہم السلام) کے احکام پر عمل کرنا شیعوں کے لیے آسان ہوجایے اور اسی جامعیت کی وجہ سے اس کا نام «کافی« رکھا ، یعنی دوسری کتابوں سے کفایت کرنے والی کتاب۔
کتاب کے مباحث اور مطالب مندرجہ ذیل ہیں :
کلینی نے تمام کلی مطالب کو «کتاب»  کے نام سے بیان کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کتاب میں موضوع سے متعلق متعدد عناوین کو« باب« کے نام سے ذکر کیا ہے ، انہوں نے کافی کے تمام ابواب کے ذیل میں تقریبا سوالہ ہزار احادیث کو چہاردہ معصومین (علیہم السلام) سے ذکر کیا ہے اور ان سب کو استناد کے ساتھ ذکرکیا ہے ۔
اصول کافی میں ترتیب کے ساتھ مندرجہ ذیل کتابیں ہیں :
١۔ کتاب العقل والجھل ۔ ٢۔ کتاب فضل العلم ، اس میں باییس باب ہیں ۔ ٣۔ کتاب التوحید ، اس میں اعتقادی اہم مسایل سے متعلق چالیس باب ہیں۔ ٤۔ کتاب الحجه ،اس کتاب میں تقریبا ایک سو تیس باب امامت اور ولایت کے مختلف مسایل کے بارے میں بیان کیے ہیں اوراس کے آخر میں بیس باب ایمہ علیہم السلام) کی سوانح حیات کی تاریخ کے متعلق «ابواب التاریخ« کے عنوان سے ذکر کیے ہیں ۔ ٥۔ کتاب الایمان والکفر ،اس میں تقریبا دو سو بیس باب مختلف مسایل جیسے ایمان، اخلاق، تزکیہ نفس اور سیر و سلوک کے بارے میں بیان کیے ہیں ۔ ٦۔ کتاب الدعا ،اس میں تقریبا ساٹھ باب دعایوں کے سلسلہ میں ذکر کیے ہیں ۔ ٧۔ کتاب فضل القرآن ، اس میں تیرہ باب قرآن کریم کی قرایت کی فضیلت اوراس سے متعلق مسایل کے سلسلہ میں بیان کیے ہیں ۔ ٨۔ کتاب العشره (المعاشره) ، اس کتاب میں تقریبا تیس باب آداب معاشرت اور مسلمانوں کے اجتماعی حقوق کے مختلف مسایل کے بارے میں بیان کیے ہیں ۔
فروع کافی میں چھبیس کتابیں ہیں جن میں طہارت سے لے کر دیات تک فقہ کے تمام ابواب موجود ہیں جو کہ پانچ جلدوں پر مشتمل ہیں ۔
روضہ کافی میں وعظ و نصیحت ، خطبہ ، تاریخ اور مختلف احادیث کو بیان کیا گیا ہے اوراس میں تقریبا چھے سو (بطور دقیق ٥٨٦) احادیث کو جمع کیا ہے ۔ مجموعی طور پر کتاب کافی میں چونتیس کتابیں اور تین سو چھبیس باب ہیں ، یہ کتاب اپنی تالیف کے زمانہ سے لے کر آج تک مقبول رہی ہے اور تمام شیعہ اور اہل سنت اس کی تایید کرتے ہیں اور پوری تاریخ میں بزرگ علماء نے اس کی تدریس کی ہے ۔عام لوگوں کے درمیان مشہور یہ ہے کہ اس کتاب کو امام زمانہ (ارواحنافداہ) کے چوتھے نایب (یعنی ابوالحسن علی بن محمد سمری(رضوان اللہ تعالی الیہ) نے امام علیہ السلام کے سامنے پیش کی اورآپ نے اس کی تایید میں فرمایا : «الکافی کاف لشیعتن« (یعنی کتاب کافی ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے ۔ اس بات کو شیعوں کے بزرگ علماء نے قبول نہیں کیا ہے اوراس واقعہ کی کویی اصل و اساس نہیں ہے ، شیعوں کی روایات کے درمیان صرف ایک عبارت ، حرف «کاف« کی تفسیر کے لیے سورہ مریم کی پہلی آیت (کھیعص) کے ذیل میں موجود ہے جس کے متعلق امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا ہے : «کاف،کاف لشیعتن« یعنی اس آیت میں حرف کاف ، ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے اور شاید بعض نادان افراد نے اس عبارت کو تحریف کرکے «الکافی کاف لشیعتن« کردیا ہے ۔
بہر حال یہ کتاب چاہے اس کی امام زمانہ (ارواحنا فداہ) نے تایید کی ہو اور چاہے انہوں نے اس کے متعلق کچھ بیان نہ فرمایا ہو ، اصول اربعہ کی بنیاد پر لکھی گیی ہے اوراس کتاب کا علمی اعتبار ہر روایت کے شروع میں اس کی استناد کے طریقہ تحقیق کے قابل ہے ۔
اس کتاب کی بہت زیادہ شرحیں تعلیقہ اورحواشی جات لکھے گیے ہیں جن میں سب سے اہم مندرجہ ذیل ہیں :
١۔ جامع الاحادیث والاقوال ، شیخ قاسم بن محمد الوندی (م ١١٠٠ ق) ۔
٢۔ الدر المنظوم من کلام المعصوم ، جس کو شہید ثانی کے پوتے شیخ علی بن محمد بن حسن بن زین الدین (م ١١٠٤ ق) نے لکھی ہے ۔
٣۔ مرآه العقول فی شرح اخبار الرسول ، علامہ محمد باقر مجلسی ۔
٤۔ الوافی ، فیض کاشانی ۔
٥۔ شرح ملا صدرا (صدر الدین محمد بن ابراہیم نیشاپوری) اس کتاب کو اصول کافی کے بعض حصوں پر لکھا ہے ۔
٦۔ شرح مولی صالح مازندرانی جو کہ اصول اور روضہ کافی کی شرح ہے ۔
کافی کے متعلق بہت زیادہ کتابیں لکھی گیی ہیں جس کی مفصل وضاحت «کنگرہ شیخ کلینی« کے عنوان سے ایک مجموعہ میں لکھی گیی ہے جس کو دار الحدیث نے شایع کیا ہے ۔
کافی میں ضعیف روایات بھی پایی جاتی ہیں اور ہر روایت کے متعلق اس کی اسناد کی طرف رجوع کیا جایے ۔
الکافی کے عنوان سے اور بھی بہت سی کتابیں شیعہ اوراہل سنت علماء نے لکھی ہیں جن کو اس کتاب کافی سے اشتباہ نہیں کرنا چاہیے ۔
ان میں سے بعض کتابیں یہ ہیں :
١۔ الکافی فی الفقہ ، اس کتاب کو صلاح حلبی نے چوتھی ا ور پانچویں صدی میں اہل بیت (علیہم السلام) کی فقہ میں لکھی ہے ۔
٢۔ الکافی فی فقہ المالکی ، ابن عبدالبر۔
٣۔ الکافی فی فقہ الحنبلی ۔
البتہ اس کتاب پر بعض جاہل اور متعصب وہابیوں نے طعن و تشنیع اور تحریف کی ہے اور اس کی عومانہ اور غیر علمی تحقیق جاہلوں کے سامنے پیش کی ہے جبکہ اہل سنت کے بزرگ علماء جیسے ابن اثیر، سمعانی، خطیب بغدادی، ابن عساکر ، ابن حجر عسقلانی اور ذھبی نے شخصیات اور کتابوں کے متعلق اصولی تحقیقات انجام دی ہیں جن میں کتاب کافی اوراس کے مولف کی تایید کی ہے ۔
یہ کتاب متعدد بار اسلامی ملکوں جیسے لبنان، عراق اور ایران میں شایع ہویی ہے اور آج یہ کتاب تمام علمی مراکزاور کتب خانوں یہاں تک کہ سی ڈی وغیرہ میں موجود ہے ۔
اس کے علاوہ کتاب کافی اپنی خاص اہمیت کی وجہ سے دنیا کے مختلف زندہ زبانوں جیسے فارسی ، انگریزی اور اسپانیا میں ترجمہ ہویی ہے ۔
حوالہ جات:

1ـ خیرالدین زرکلى، الأعلام، بیروت، دارالعلم للملایین، چ 8، 1989م ، ج 7، ص 145.
2ـ شمس الدین ذهبى، تاریخ الإسلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمرى، بیروت، دارالکتاب العربى، چ2، 1413ق، ج 24، ص 250 .
3ـ ابوالقاسم ابن عساکر، تاریخ مدینة دمشق، تحقیق على شیرى، بیروت، دارالفکر، 1415ق، ج 56، ص 297 و بعد .
4ـ شیخ آقا بزرگ تهرانى، الذریعة إلى تصانیف الشیعة، قم، اسماعیلیان، 1408ق، 17، ص 245؛ ج 3، ص 185 ؛ ج 4، ص 310؛ ج 4، ص 415؛ ج 6، ص 21، ص 78؛ ج 13، ص 95، به بعد؛ ج 14، ص 26 .
5ـ آیة الله شیخ جعفر سبحانى، موسوعة طبقات الفقهاء، قم، مؤسسه امام صادق علیه السلام، 1418ق، ج 4 ، ص 480.
6ـ محمد باقر مجلسى، بحارالأنوار الجامعة لدُرر أخبار الأئمة الأطهار، بیروت، مؤسسة الوفاء، 1404ق (110 مجلد) ، ج 89 ، ص 377.
7ـ میرزا حسین نورى، خاتمة المستدرک، گروه پژوهش مؤسسه آل البیت علیهم السلام، قم، مؤسسه آل البیت علیهم السلام، بی تا، مقدمه، ص 39؛ ج 3، ص 470.
8ـ شیخ عبدالرسول الغفار، الکلینی والکافی، قم، مؤسسة النشر الإسلامی، 1416ق.
9ـ هاشم معروف الحسنی، دراسات فی الحدیث والمحدثین، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، چ2، 1398ق، ص 127 به بعد.
    
تاریخ انتشار: « 1392/02/20 »

منسلک صفحات

کتب اربعہ

کتاب « الکافی « کا تعارف

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 3906